بین الاقوامی

امریکا کوتعلقات کے آغاز سے اب تک ہرچیزکی قیمت ادا کی ہے، محمد بن سلمان

ریاض:سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ہمیں بھیک نہیں دیتا بلکہ ہم جو بھی فوجی ساز و سامان خریدتے ہیں اس کی پوری پوری قیمت ادا کرتے ہیں۔ 

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ جب سے امریکا سے تعلقات کا آغاز ہوا ہے تب سے سعودی عرب ہر چیز کی قیمت ادا کرتا آیا ہے۔

بلومبرگ کو انٹرویو دیتے ہوئے سعودی ولی عہد کا مزید کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ مضحکہ خیز ہے جسے مسترد کرتے ہیں۔ امریکا ہمیں بھیک نہیں دیتا بلکہ ہم امریکا سے فوجی سازوسامان خریدتے ہیں اور اس کی قیمت ادا کرتے ہیں۔

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی صدر ٹرمپ کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ اس بیان سے دونوں ملکوں کے تعلقات خراب نہیں ہوں گے تاہم غلط فہمیوں کو دورکر کے مضبوط تعلقات قائم کئے جاسکتے ہیں۔

محمد بن سلمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اتحادی اپنے اپنے ملکی اور سیاسی مفاد کے تحت ہر قسم کی بات کرتے ہیں اور ایسا ممکن نہیں کہ ہر اتحادی ملک سو فیصد آپ کے حق میں ہو۔

واضح رہے کہ  گزشتہ دنوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسی سپی میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی بادشاہ کو اپنی حفاظت کے لیے امریکا کو معاوضہ ادا کرنا ہوگا اور ہمارے بغیر وہ  دو ہفتے بھی اقتدار میں نہیں رہ سکتے۔

انٹرپول کے صدر مینگ ہونگوی ایک ہفتے سے لاپتہ

لیون: دورہ چین کے لیے جانے والے انٹرپول پولیس کے سربراہ مینگ ہونگوی 25 ستمبر سے لاپتہ ہوگئے ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق انٹرپول کے صدر مینگ ہونگوی 25 ستمبر کو فرانس کے شہر لیون میں اپنے ہیڈ آفس سے چین کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ 25 ستمبر سے اب تک اہل خانہ سمیت کسی سے بھی مینگ ہونگوی کا رابطہ نہیں ہو سکا ہے۔

انٹرپول کے صدر مینگ ہونگوی کی اہلیہ نے اپنے شوہر کی گمشدگی سے متعلق لیون پولیس کو شکایت درج کرائی تھی۔ تاہم فرانسسی حکام کا کہنا ہے کہ سفری دستاویزات سے واضح ہوجاتا ہے کہ مینگ ہونگوی فرانس سے روانہ ہوگئے تھے۔

دوسری جانب ہانگ کانگ کے اخبار ’جنوبی چین مارننگ پوسٹ‘ نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ 64 سالہ انٹرپول سربراہ مینگ ہونگوی کو چین میں ’پوچھ گچھ‘ کے لیے روک لیا گیا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ مقتدر حلقوں نے انہیں کس نوعیت کی انکوائری کے لیے اپنی تحویل میں رکھا ہوا ہے۔

ادھر چین میں برسراقتدار جماعت کمیونسٹ پارٹی کے اعلیٰ حکام نے انٹرپول کے سربراہ مینگ ہونگوی کے حکومتی تحویل میں ہونے پر کسی بھی قسم کے تبصرے سے انکار کردیا ہے۔ حکومتی سطح پر تردید یا تصدیق نہیں کی جا رہی ہے۔

انٹرپول کی جانب سے بھی آج جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ انٹرپول اپنے سربراہ کی گمشدگی سے واقف ہے۔ یہ فرانس اور چین کی حکومت کے درمیان معاملہ ہے جس میں انٹرپول کے جنرل سیکرٹری جیورگین اسٹاک کی لمحہ بہ لمحہ معاونت شامل ہے۔

چین سے تعلق رکھنے والے مینگ ہونگوی نے نومبر 2016 میں انٹرنیشنل پولیس ایجنسی کے سربراہ کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالی تھیں۔ وہ چین کی برسر اقتدار جماعت کمیونسٹ پارٹی کے سینیئر رہنما اور چین کے وزیر برائے عوامی تحفظ بھی رہے۔ وہ سیاست دان ہونے کے علاوہ ایک پولیس افسر بھی تھے جنہوں نے جرائم، انصاف اور پولیس کے شعبوں میں 40 سال گزارے ہیں۔

بھارت کا روس سے دنیا کے خطرناک ترین طیارہ شکن نظام خریدنے کا معاہدہ

دلی: بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی اور روس کے صدر ولادی میر پوتن کے درمیان خطرناک طیارہ شکن نظام ایس – 400 کی خریداری سمیت دفاعی، تجارتی اور خلائی تحقیق سے متعلق معاہدوں پر اتفاق کر لیا گیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارت اور روس کے درمیان خطرناک ترین طیارہ شکن میزائل نظام ایس-400 کے لیے 5 بلین امریکی ڈالر کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔ وزیراعظم مودی اور روس کے صدر پوتن نے معاہدے پر دستخط کردیئے۔

علاوہ ازیں دونوں ممالک کے درمیان 20 سے زائد دفاعی، جوہری توانائی، خلائی تحقیق اور تجارتی معاہدے بھی طے پائے گئے اسی طرح رواں برس ہونے والی مشترکہ فوجی مشقوں اندرا 2018 کے انعقاد پر اہم امور پر بھی اتفاق کرلیا گیا ہے۔

بھارت اور روس کے سربراہان کے درمیان 19 ویں سالانہ اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے صدر ولا دی میر پوتن گزشتہ شب نئی دہلی پہنچے تھے۔ ایئرپورٹ پر مہمان صدر کا پُر تپاک استقبال بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے کیا۔

بعد ازاں روسی صدر ولادی میر پوتن کو وزیراعظم ہاؤس لے جایا گیا جہاں بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی نے مہمان صدر کے لیے عشائیے کا اہتمام کیا تھا۔

وزیراعظم ہاؤس میں دونوں رہنماؤں کے درمیان اہم ملاقات میں دو طرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو کی گئی اور تجارتی و دفاعی تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

آج صبح روس کے صدر ولادی میر پوتن نے مختلف وزارتوں کے اعلیٰ اور اہم حکام سے بھی ملاقات کی اور طے پانے والے دو طرفہ معاہدوں کو حتمی شکل دی گئی تھی۔

بھارت میں اشتہاری ہورڈنگ گرنے سے 4 افراد ہلاک

پونے: بھارتی شہر پونے کی مصروف شاہراہ پر نصب محکمہ ریلوے کا بھاری بھرکم اشتہاری ہورڈنگ گرنے سے 4 افراد ہلاک اور 7 زخمی ہو گئے ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی ریاست مہاراشٹرا کے شہر پونے کی مصروف ترین شاہراہ پر نصب وزنی اشتہاری ہورڈنگ اچانک سڑک پر رواں دواں ٹریفک پر آن گرا جس کی زد میں آکر 4 افراد ہلاک اور 7 زخمی ہو گئے۔

ریسکیو اداروں نے ہلاک اور زخمیوں ہونے والوں کو پونے کے جنرل اسپتال منتقل کیا جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ دو زخمیوں کی سر پر گہری چوٹ لگنے سبب حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔

بھاری بھرکم ہورڈنگ اس وقت زمین بوس ہوا جب گاڑیاں سگنل کھلنے کی منتظر تھیں۔ ہورڈنگ گرنے سے 4 رکشے مکمل طور پر تباہ ہوگئے۔ ہلاک ہونے والے چاروں افراد رکشا ڈرائیور تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اشتہاری ہورڈنگ ریلوے کی ملکیت ہے اور ریلوے کی ہی زمین پر غیر قانونی طور پر نصب کیا گیا تھا۔ ہورڈنگ مقررہ وزن سے کئی گنا وزنی اور سائز میں بڑا تھا۔ محکمے کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

بھارت کا روس سے دنیا کے خطرناک ترین طیارہ شکن نظام خریدنے کا معاہدہ

دلی: بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی اور روس کے صدر ولادی میر پوتن کے درمیان خطرناک طیارہ شکن نظام ایس – 400 کی خریداری سمیت دفاعی، تجارتی اور خلائی تحقیق سے متعلق معاہدوں پر اتفاق کر لیا گیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارت اور روس کے درمیان خطرناک ترین طیارہ شکن میزائل نظام ایس-400 کے لیے 5 بلین امریکی ڈالر کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔ وزیراعظم مودی اور روس کے صدر پوتن نے معاہدے پر دستخط کردیئے۔

علاوہ ازیں دونوں ممالک کے درمیان 20 سے زائد دفاعی، جوہری توانائی، خلائی تحقیق اور تجارتی معاہدے بھی طے پائے گئے اسی طرح رواں برس ہونے والی مشترکہ فوجی مشقوں اندرا 2018 کے انعقاد پر اہم امور پر بھی اتفاق کرلیا گیا ہے۔

بھارت اور روس کے سربراہان کے درمیان 19 ویں سالانہ اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے صدر ولا دی میر پوتن گزشتہ شب نئی دہلی پہنچے تھے۔ ایئرپورٹ پر مہمان صدر کا پُر تپاک استقبال بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے کیا۔

بعد ازاں روسی صدر ولادی میر پوتن کو وزیراعظم ہاؤس لے جایا گیا جہاں بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی نے مہمان صدر کے لیے عشائیے کا اہتمام کیا تھا۔

وزیراعظم ہاؤس میں دونوں رہنماؤں کے درمیان اہم ملاقات میں دو طرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو کی گئی اور تجارتی و دفاعی تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

آج صبح روس کے صدر ولادی میر پوتن نے مختلف وزارتوں کے اعلیٰ اور اہم حکام سے بھی ملاقات کی اور طے پانے والے دو طرفہ معاہدوں کو حتمی شکل دی گئی تھی۔

افغان فضائیہ کی بمباری، 8 جنگجو سمیت 3 خواتین اور کم سن بچہ ہلاک

کابل: افغانستان کے صوبے قندھار میں فضائی بمباری کے باعث 3 خواتین اور ایک کم سن بچہ جاں بحق ہوگئے جب کہ 8 طالبان جنگجو بھی مارے گئے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان کے صوبے قندھار کے ضلع معروف میں طالبان نے پولیس کی چیک پوسٹ پر حملہ کر دیا جس پر پولیس نے افغان فضائیہ سے مدد طلب کی۔ فضائی کارروائی میں طالبان جنگجوؤں کے ساتھ معصوم شہریوں کی بھی ہلاکتیں ہوئیں۔

افغان فضائیہ کے ہیلی کاپٹر نے پولیس چوکی پر حملہ آور طالبان دہشت گردوں کو نشانے بنانے کی کوشش کی تاہم اس دوران بمباری سے 3 خواتین اور ایک کم سن بچہ جاں بحق ہوگئے جب کہ 8 زخمیوں میں 7 خواتین اور ایک بچہ شامل ہیں۔ فضائی کارروائی میں 8 طالبان جنگجو بھی مارے گئے۔

گورنر قندھار کے ترجمان نے کہا ہے کہ طالبان نے مقامی شہریوں کے گھروں میں پناہ لے لی تھی اور خواتین و بچوں کو ڈھال بنالیا تھا۔ معصوم شہریوں کی ہلاکت کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا انسداد دہشت گردی سے متعلق نئی قومی پالیسی کا اعلان

واشنگٹن: امریکا نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے نئی قومی  حکمت عملی کا اعلان کر دیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دہشت گردی سے نبرد آزما ہونے کے لیے ایک نئی قومی حکمت عملی پر دستخط کر دیے ہیں جسے فوری طور پر نافذ العمل سمجھا جائے گا۔

امریکی صدر ٹرمپ کی نئی قومی حکمت عملی کے تحت امریکا کے شراکت دار ممالک کی انسداد دہشت گردی کی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنایا جائے گا اور جدید مربوط نظام کے تحت دہشت گردوں کا کمین گاہوں تک پیچھا کیا جائےگا۔

نئی قومی پالیسی کے تحت دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے منظم اور جدید اقدامات مرتب کیے گئے ہیں تاکہ دہشت گردوں کو حاصل تعاون کی جڑیں کاٹی جاسکیں اور سو فیصد نتائج کا حصول ممکن ہو سکے۔ حلیف ممالک کے درمیان معلومات اور صلاحیتوں کے تبادلے سے ناقابل شکست نظام تشکیل دیا جائے گا۔

پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے امریکی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کا کہنا تھا کہ مذہبی شدت پسند گروپ امریکا کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں جس سے ہر صورت نمٹا جائے گا اور اس حوالے سے صدر ٹرمپ کی پالیسی سابق صدر اوباما سے بالکل مختلف ہے۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ القاعدہ اور داعش جیسے دہشت گرد گروپوں سے ہمیں اور ہمارے اتحادیوں کو خطرات لاحق ہیں۔اس لیے اتحادی ممالک کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کا ساتھ دینا ہوگا۔

امن کا نوبل انعام عراق کی نادیہ مراد اور کانگو کے ڈینس مُکویگے کے نام

اوسلو: امن کا نوبل انعام برائے سال 2018 مشترکہ طور پر جنسی زیادتی کے خلاف جدوجہد کرنے والی عراق کی نادیہ مراد اور کانگو کے ماہر امراض نسواں ڈینس مُکویگے کو دیا گیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق اوسلو میں امن کے نوبل انعام کا اعلان کردیا گیا ہے۔ اس برس نوبل انعام مشترکہ طور پر عراق سے تعلق رکھنے والی نادیہ مراد اور افریقی ملک کانگو کے ماہر امراض نسواں ڈینس مُویگے کو دیا گیا ہے۔

نوبل کمیٹی کے سربراہ بیرٹ رائس اینڈرسن نے ناموں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ  مشترکہ انعام جنسی تشدد کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کرنے کے خلاف جدوجہد کے صلے میں دیا گیا ہے، دونوں جنگ کے دوران خواتین سے جنسی زیادتی کے خلاف شب و روز جدوجہد کر رہے ہیں۔

عراق کی اقلیتی برادری ’یزیدی‘ سے تعلق رکھنے والی نادیہ مراد کا نام 2014 میں سامنے آیا جب وہ داعش جنگجو کے چنگل سے آزاد ہوکر موصل تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئی تھیں اور اب جنگ میں زیادتی کا شکار ہونے والی خواتین کی سب سے توانا آواز ہیں۔

داعش جنگجوؤں کے ہاتھوں زیادتی کا نشانہ بننے اور بازار میں بیچے جانے کے بعد شدت پسندوں کے چنگل سے بھاگنے میں کامیاب ہونے والی نادیہ مراد نے جنگ کے دوران خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے خلاف جدوجہد کا آغاز کیا۔

نادیہ مراد نے اپنی چھوٹی اقلیتی برادری پر داعش جنگجوؤں کے مظالم کے خلاف جدوجہد کو آگے بڑھاتے ہوئے اسے عالمگیر تحریک میں تبدیل کیا اور مظلوم خواتین کی دار رسی کے لیے کئی پروجیکٹس شروع کیے۔

نادیہ مراد اور اُن کے رضاکار جنگ کے دوران زیادتی کا شکار ہونے والی خواتین کے لیے مرہم کا کام کرتے ہیں اور ایسی خواتین کو نفسیاتی و ذہنی دباؤ سے نکالتے اور معاشرے سے ٹھکرائے جانے کے بعد جینے کی نئی راہ دکھاتے ہیں۔

نادیہ مراد کے ساتھ امن کا نوبل انعام مشترکہ طور پر افریقی ملک کانگو کے گائناکالوجسٹ ڈینس مُکویگے کو دیا گیا ہے، ڈاکٹر مُکویگے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر 1999 سے اب تک جنگ کے دوران جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی خواتین کا علاج کر رہے ہیں۔

ڈینس مُکویگے افریقی ملک کانگو کے پسماندہ علاقوں میں بنیادی سہولتوں سے محروم خواتین کو طبی امداد فراہم کر رہے ہیں اوروہ پیچیدہ امراض نسواں میں مبتلا موت کے منہ میں جاتیں غریب خواتین کا جانفشانی کے ساتھ علاج کرنے کے ساتھ  صحت سے متعلق آگاہی پھیلانے میں کلیدی کردار ادا کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ رواں برس امن کے نوبل انعام کے لیے 331 افراد اور اداروں کو نامزد کیا تھا تاہم قرعہ فال نادیہ مراد اور ڈینس مکویگے کے نام نکلا۔

Google Analytics Alternative