بین الاقوامی

برازیل کے اسپتال میں آتشزدگی سے 11 افراد جھلس کر ہلاک

ریو ڈی جنیرو: برازیل کے ایک بڑے اسپتال میں آتشزدگی سے اب تک 11 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔

ریوڈی جنیرو کے مشہورباڈم اسپتال میں رات گئے اچانک آگ بھڑک اٹھی جس سے وارڈ میں دھواں بھرگیا اور 11 کے قریب مریض جھلسنے اور دم گھٹنے سے مرگئے۔

اس کے بعد عملے نے مریضوں کو بستر سمیت اور وھیل چیئر پر باہر نکالا اور سڑکوں تک پہنچایا۔ رات کی درمیانے پہر کو اسپتال میں لگنے والی آگ سے فائر فائٹر لڑ رہے ہیں اور 90 مریضوں کو محفوظ مقامات تک منتقل کیا گیا ہے۔ دوسری جانب تفتیشی ادارے آتشزدگی کی وجہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں۔

آتشزدگی کے بعد اسپتال کے عملے نے مریضوں کو ایسی حالت میں وہاں نکلالا جبکہ ان کی رگوں میں ڈرپ لگی ہوئی تھیں۔ اسی طرح انتہائی نگہداشت میں موجود بزروگ افراد کو بھی اسپتال سے نکالا گیا ہے۔ اس موقع پر مریضوں کے لواحقین بھی جمع ہوگئے اور اپنے پیاروں کا احوال جاننے کے لیے بے تاب تھے۔

ریو ڈی جنیرو کے میئر مارسیلو کرائیویلا نے 11 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

مسئلہ کشمیر کے عالمی فوجی و معاشی اثرات مرتب ہوں گے، امریکی رکن کانگریس

واشنگٹن: امریکی رکن کانگریس ایرک سوال ویل نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے عالمی فوجی و معاشی اثرات مرتب ہوں گے۔

امریکی رکن کانگریس ایرک سوال ویل نے ٹویٹر پر جاری کردہ بیان میں کہا کہ کشمیر کا تنازع صرف بھارت اور پاکستان کے درمیان نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کے دنیا بھر پر فوجی، معاشی اور اخلاقی مضمرات سامنے آئیں گے۔

ایرک سوال ویل نے کہا کہ امریکا کی رہنمائی کے بغیر یہ مسئلہ مزید سنگین ہو سکتا ہے، امریکا کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیئے کہ دونوں ایٹمی ممالک پاکستان اور بھارت میں کشیدگی کم ہو اور وہ اس حد تک نہ جائیں جہاں سے واپسی ممکن نہ ہو سکے۔

امریکی رکن کانگریس کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے سب سے پہلے کشمیریوں کے انسانی حقوق کو یقینی بنانا ہوگا، مقبوضہ کشمیر میں ذرائع مواصلات سے پابندی اٹھانا ہوگی تاکہ کشمیری اپنے رشتہ داروں سے رابطہ کر سکیں جس کے ساتھ ساتھ وہاں جمہوریت کا نفاذ بھی کرنا ہوگا۔

بھارتی اور چینی فوجیوں کے درمیان جھڑپ، سرحدی کشیدگی میں اضافہ

نئی دہلی: بھارتی اور چینی سپاہیوں کے درمیان لداخ کے علاقے میں ہاتھا پائی ہوئی جس کے نتیجے میں سرحدی کشیدگی میں اضافہ ہوگیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارت اور چین کی فوجوں کے درمیان تصادم کا واقعہ مشرقی لداخ میں 134 کلومیٹر طویل پان گونگ ٹسو جھیل کے شمالی کنارے پر علی الصبح پیش آیا۔

بھارتی فوج کے ایک دستے نے گشت کے دوران چین کے علاقے میں دراندازی کی جس پر اس کا سامنا چینی فوج سے ہوا۔ چین کی پیپلز لبریشن آرمی نے اس علاقے میں بھارتی فوج کی موجودگی پر سخت اعتراض اٹھایا۔

اس دوران بھارتی افواج کی جانب سے بلاوجہ اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کیا گیا جس کے نتیجے میں نوبت ہاتھا پائی تک پہنچ گئی اور دونوں افواج کے سپاہی ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہوگئے تاہم انہوں نے اسلحہ کے استعمال سے گریز کیا جس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ دونوں افواج نے علاقے میں اپنی اپنی اضافی نفری طلب کرلی اور شام تک کشیدگی کا یہ سلسلہ برقرار رہا۔

تنازع کو حل کرنے کےلیے بھارت اور چین کے درمیان برگیڈیئر سطح کے مذاکرات ہوئے جس میں کشیدگی کم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت اور چین کے درمیان لائن آف اکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کے بارے میں مختلف نقطہ نظر کی وجہ سے اس طرح کے واقعات پیش آتے ہیں۔

15 اگست 2015 کو بھی دونوں ممالک کی افواج کے درمیان اسی علاقے میں ایک بڑی جھڑپ ہوئی تھی جس میں لاتوں، گھونسوں اور سریوں کا آزادانہ استعمال کیا گیا تھا جس سے متعدد فوجی زخمی ہوگئے تھے۔

بھارتی فوج اگلے ماہ ریاست ارونا چل پردیش میں بڑی فوجی مشقیں ’ہم وجے‘ کرے گی جس میں اپنی نئے فورس انٹی گریٹڈ بیٹل گروپس (آئی بی جیز) کی جنگی صلاحیتوں کی آزمائش کی جائے گی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ان مشقوں میں 15 ہزار فوجی حصہ لیں گے جبکہ چین کو ان فوجی مشقوں سے باضابطہ طور پر آگاہ نہیں کیا گیا ہے، حالانکہ چینی صدر شی جن پنگ ایک اجلاس میں شرکت کے لیے اگلے ماہ بھارت کا دورہ کریں گے۔

مصر میں اخوان المسلمون کے سربراہ سمیت 11 رہنماؤں کو عمرقید

قاہرہ: مصر کی عدالت نے کالعدم سیاسی و مذہبی جماعت اخوان المسلمون کے مرشد عام محمد بدیع سمیت 11 اعلیٰ رہنماؤں کو عمرقید کی سزا سنا دی۔

مصر کی عدالت میں محمد بدیع اور ان کے نائب خیرت الشاطر سمیت اخوان المسلمون کے 11 اعلیٰ رہنماؤں کے خلاف جاسوسی اور دہشت گردی کے مقدمات کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے تمام رہنماؤں کو عمر قید کی سزا سنادی۔ محمد بدیع کو گزشتہ ہفتے بھی ایک کیس میں عمر قید کی سزا سنائی جاچکی ہے۔

عدالت نے مقدمے میں دیگر 3 افراد کو 10 سال اور 2 ملزمان کو 7 سال قید کی سزا سنائی جب کہ 5 کو بری کردیا۔ ان تمام سیاسی رہنماؤں پر فلسطینی تنظیم حماس اور لبنانی تنظیم حزب اللہ کے ساتھ مل کر جاسوسی اور دہشت گردی کی حمایت کے الزامات عائد کیے گئے۔ اخوان المسلمون نے سزا کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے اسے اپنے خلاف سیاسی انتقامی کارروائی قرار دیا ہے۔

مصر میں 2012 میں اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے صدر محمد مرسی اقتدار میں آئے تھے لیکن آرمی چیف عبدالفتاح السیسی نے 2013 میں فوجی بغاوت کرکے محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا۔

فوجی حکومت نے نہ صرف اخوان المسلمون بلکہ اپنے دیگر ناقدین کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کیا جس میں ہزاروں افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے۔ پھر صدر محمد مرسی پر بھی متعدد مقدمات چلاکر قید کردیا گیا اور جیل میں ہی شدید بیماری کی حالت میں ان کا انتقال ہوگیا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی مصر میں ان مقدمات کو سیاسی انتقامی کارروائی قرار دے کر شفافیت اور انصاف یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔

دشمنوں کو زیادہ شدت سے نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھیں گے، صدر ٹرمپ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ گزشتہ 4 روز کے دوران امریکی افواج نے اس قدر شدت کے ساتھ دشمنوں کو نشانہ بنایا ہے جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ 

واشنگٹن ڈی سی میں نائن الیون کی 18ویں برسی کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کے دوران امریکی صدر نے کہا کہ گزشتہ ہفتے طالبان حملے میں ایک امریکی فوجی کی ہلاکت کے بعد سے طالبان سے مذاکرات منسوخ کیے اور ان کے خلاف کارروائیوں میں تیزی لائی گئی ہے۔ گزشتہ چار دن سے امریکی افواج نے ہمارے دشمنوں پر وہ کاری ضرب لگائی ہے جو اس سے قبل نہیں ہوا اور اب یہ عمل جاری رہے گا۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ ہم لڑائی نہیں چاہتے اور اگر جنگ مسلط کی گئی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ اس موقع پر انہوں نے افغان طالبان کے خلاف بھرپور کارروائیوں کا عندیہ بھی دیا۔ اس ضمن میں ان کا اشارہ عراقی جزیرے قانوس کےبارے میں تھا جہاں داعش کے ٹھکانوں پر لگ بھگ 36 ہزار کلوگرام وزنی بم برسائے گئے تھے۔

واضح رہے کہ آج سے 18 برس چار مسافر ہوائی جہازوں کو اغوا کرکے نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگون کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں 3000 کے لگ بھگ لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ اس واقعے کی ذمے داری اسامہ بن لادن اور ان کی تنظیم القاعدہ پر عائد کی گئی تھی۔ بعد ازاں خود اسامہ بن لادن نے بھی ان کارروائیوں کا اعتراف کیا تھا۔اس کے بعد 7 اکتوبر 2011 کو صدر جارج ڈبلیو بش نے امریکی اور برطانوی افواج کی مدد سے افغانستان پر حملہ کردیا تھا۔

اسرائیل کے نئے توسیعی پسندانہ عزائم پر فلسطین اور عرب ممالک کی کڑی تنقید

قاہرہ: فلسطینی رہنماؤں، عرب دنیا اور اقوامِ متحدہ کے افسران نے یک زبان ہوکر اسرائیلی وزیرِ اعظم کے اس متنازعہ بیان پر شدید ردِ عمل ظاہر کیا ہے جس میں انہوں نے انتخابات میں فتح کی صورت میں دریائے احمر اور فلسطین کے مزید علاقوں کو اسرائیل میں شامل کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

قاہرہ میں منعقدہ  اجلاس میں شریک عرب دنیا کے وزرائے خارجہ اور فلسطینی رہنماؤں نے اس عمل کو خطرناک، نئی اسرائیلی جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ عرب دنیا نے اس بیان کو خطرناک اور نسل پرستانہ کہا ہے۔

عرب لیگ کے مشترکہ بیان میں کہا گیا  کہ یہ اسرائیل کا ایک خطرناک عمل ہے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے، جب کہ اسے امن معاہدے کو تارپیڈو سے تباہ کرنے کا عمل قرار دیا گیا، ساتھ ہی اقوامِ متحدہ کے ترجمان نے بھی کہا ہے کہ نتن یاہو کا یہ بیان بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

ڈوبتی ہوئی سیاسی ساکھ کے ساتھ پانچویں مدت کے لیے انتخابات لڑنے والے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نتن یاہو نے ایک روز قبل کہا تھا کہ اگر وہ 17 ستمبر کے انتخابات کے بعد ایک بار پھر وزیرِ اعظم بنتے ہیں تو فوری طور پر بحیرہ مرداراور وادی اردن کو اسرائل میں شامل کرلیں گے۔

واضح رہے کہ اردن وادی اور بحیرہ مردار کا شمالی حصہ مغربی کنارے کا 30 فیصد حصہ بناتے ہیں یہ دونوں علاقے اس وقت سی ایریا میں موجود ہیں جو پہلے ہی اسرائیل کے فوجی اور عسکری کنٹرول میں ہے، یہاں 65 ہزار فلسطینی اور 11 ہزار اسرائیلی رہتے ہیں اور اسرائیلی آبادیوں کو پہلے ہی غیرقانونی قرار دیا جاچکا ہے۔

دہشت گردی کی اصل وجہ ’’نظریہ پاکستان‘‘ ہے، مودی کی زہرافشانی

نئی دہلی: بابری مسجد کی شہادت اور گجرات میں مسلمانوں کے قتلِ عام کے حوالے سے ’’گجرات کا قصاب‘‘ کے نام سے شہرت رکھنے والے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے  دہشت گردی کو بنیاد بناکر پاکستان کے خلاف زہراگلنا شروع کردیا ہے ۔

نریندر مودی نے ’’نائن الیون‘‘ (9/11) کے اٹھارہ سال مکمل ہونے پر دہشت گردی کو ’’عالمی خطرہ‘‘ کہا اور پاکستان کی نظریاتی اساس  کو دہشت گردی کی بنیادی وجہ قرار دیا۔

مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی اور 5 اگست 2019 سے جاری کرفیو اور لاک ڈاؤن کو فخریہ انداز سے بیان کرتے ہوئے  مودی نے کہا کہ پچھلے دنوں میں ان کی حکومت نے دہشت گردوں کے خلاف جرأت مندانہ اقدامات کیے ہیں۔

نریندر مودی نے الزام لگایا کہ پاکستان خفیہ طور پر سیالکوٹ، جموں اور راجستھان سیکٹرز میں بڑی کارروائی کی تیاریاں کررہا ہے۔

امریکا نے ٹی ٹی پی سربراہ سمیت 13 افراد کو عالمی دہشتگرد قرار دے دیا

واشنگٹن: امریکا نے نائن الیون کی 18 ویں برسی پر ٹی ٹی پی کے سربراہ مفتی نور ولی محسود سمیت دیگر کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد کو عالمی دہشت گرد قرار دے دیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے داعش، حزب اللہ، حماس، فلسطین اسلامی جہاد اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تعلق رکھنے والے 13 افراد کو عالمی دہشت گرد قرار دے دیا۔ دوسری جانب امریکی محکمہ خزانہ نے بھی داعش، القاعدہ، حماس اور پاسداران انقلاب سے تعلق رکھنے والے 15 افراد کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے پابندیاں عائد کردی ہیں۔

امریکی دفتر خارجہ کی طرف سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق ان افراد کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کا مقصد انہیں دہشت گردی کی منصوبہ بندی اور حملوں سے روکنا ہے، ان تمام افراد کے اثاثوں اور جائیدادوں پر پابندی لگادی گئی اور لوگوں کو ان افراد کے ساتھ ہر طرح کے لین دین سے روک دیا گیا ہے۔

ٹی ٹی پی نے پاکستان میں متعدد دہشت گرد حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے اور جون 2018 میں ملا فضل اللہ کی ہلاکت کے بعد مفتی نور ولی محسود نے ٹی ٹی پی سربراہ کی ذمہ داری سنبھالی تھی۔

عالمی دہشت گرد قرار دیے جانے گئے دیگر افراد میں فلسطینی تنظیم حماس کی عزالدین قسام بریگیڈ کے نائب کمانڈر مروان عیسیٰ، فلسطین اسلامک جہاد کے نائب سیکرٹری جنرل محمد الہندی، فلسطین تنظیم القدس بریگیڈ کے کمانڈر بہا عبدالعطا، حزب اللہ کے 4 سینئر رہنما علی کاراکی، محمد حیدر، فواد شاکر اور ابراہیم عاقل، داعش کے 3 سینئر رہنما حاجی تیسر، ابو عبداللہ ابن عمر البرناوی اور حاطب حاجان سواد جان جبکہ القاعدہ کے حراس الدین اور فاروق السوری شامل ہیں۔

Google Analytics Alternative