بین الاقوامی

مودی ایک بار پھر بالاکوٹ حملے سے متعلق بیان پر مذاق کا نشانہ بن گئے

نئی دلی: بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کو بالا کوٹ حملے سے متعلق مضحکہ خیز بیان پر سوشل میڈیا صارفین نے ’مرزا کلاؤڈی‘ کا لقب دیتے ہوئے آڑے ہاتھوں لیا۔ 

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق بھارتی وزیراعظم نے ’نیوز نیشن‘ نامی چینل کو انٹرویو میں انکشاف کیا کہ بالا کوٹ حملے سے قبل مشاورت کے دوران انہوں نے موسم کی خرابی، بارش اور آسمان پر چھائی بادلوں کی چادر کو دیکھ کر کہا کہ ’ بادلوں کے باعث پاکستانی ریڈرا بھارتی طیاروں کو دیکھ نہیں پائیں گے اس لیے ہمیں موسم کی خرابی کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے حملہ کردینا چاہیے۔

حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ٹویٹر اور فیس بک کے آفیشل اکاؤنٹس سے اس انٹرویو کے اقتباسات شیئر کیے گئے تو سوشل میڈیا میں بھارتی وزیراعظم ایک مذاق بن کر رہ گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے ’انٹائر کلاؤڈ کور‘ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا اور ماہرین ہوا بازی نے مودی کو آڑے ہاتھوں لیا جب کہ حماقت سے بھرپور بیان پر مودی کی memes بھی بنائی گئیں۔ غالب کے ایک شعر کی پیروڈی بھی کی گئی۔

اپوزیشن جماعتوں کے اراکین نے بھی وزیراعظم مودی کے بیان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مودی کو اپنی ماہرانہ رائے اپنی پاس رکھنی چاہیے اور بھارتی فضائیہ کے ماہر اور باصلاحیت لوگوں کو ان کا کام کرنے دیں۔

اسد اویسی نے لکھا کے سر آپ تو غضب کے ایکسپرٹ ہیں برائے مہربانی اپنے نام کے ساتھ چوکیدار کا لفظ ہٹا کر ایئرمارشل مودی لکھ دیں۔

سوشل میڈیا پر وزیراعظم مودی کا مذاق بننے کے بعد بی جے پی کے کرتا دھرتاؤں کو حقیقت کا علم ہوا کہ جس بات کو وہ فخریہ پیش کر رہے تھے وہ ایک سطحی اور علم سے عاری بات ہے، اس ادراک کے بعد مودی کے انٹرویو کو سوشل میڈیا سے ہٹا دیا گیا۔

بی بی سی کو موصول ہونے والے ایک واٹس ایپ پیغام میں مراز غالب کے ایک مشہور شعر کی مودی کے بیان کے ساتھ پیروڈی کی گئی اور مودی جی کو غالب کے حلیے میں دکھایا گیا ہے۔

جملہ ہی پھینکتا رہا پانچ سال کی سرکار میں

سوچا تھا کلاؤڈی ہے موسم، نہیں آؤں گا راڈار میں

Mirza Cloudy

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت جاری، مزید 2 نوجوان شہید

سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے سرچ آپریشن کی آڑ میں مزید 2 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے ضلع شوپیاں کے علاقے ستی پورہ میں بھارتی فوج کی 34 راشٹریہ رائفل، سینٹرل ریزرو پولیس فورس اور اسپیشل سروس گروپ کے اہلکاروں نے علاقے میں سرچ آپریشن کے نام پر مشترکہ کارروائی کی۔

کارروائی کے دوران بھارتی فوج اور کٹھ پتلی انتظامیہ کے اہلکاروں نے مزید 2 نوجوانوں کو شہید کردیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں قابض بھارتی فوج کے خلاف شدید اشتعال پایا جاتا ہے، کٹھ پتلی انتظامیہ نے عوامی ردعمل کے خوف سے علاقے میں انٹر نیٹ اور موبائل فون سروس بند کردی ہیں۔

امریکا نے شمالی کوریا کے بحری جہاز کو اغوا کر کے عملے کو یرغمال بنالیا

واشنگٹن: امریکا نے شمالی کوریا کے بحری جہاز کو قبضے میں لیکر عملے کے 24 ارکان کو گرفتار کرلیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا نے شمالی کوریا کے لیے کوئلے کی مال برداری کے لیے استعمال ہونے والا بحری جہاز Wise Honest کو اغوا کرکے عملے کے 24 ارکان کو یرغمال بنا لیا ہے، تاہم جہاز اور عملے کو حراست میں لینے کے مقام اور تاریخ سے آگاہ نہیں کیا گیا ہے۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شمالی کوریا کے بحری جہاز Wise Honest کو عالمی برادری کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا ہے، اس جہاز کے ذریعے عالمی پابندیوں کے برخلاف شمالی کوریا کے لیے کوئلے کی مال برداری کی جا رہی تھی۔

ادھر امریکی محکمہ انصاف کے حکام نے میڈیا کو بتایا کہ ابتدا میں شمالی کوریا کے کارگو شپ Wise Honest کو انڈونیشیا کے حکام نے گزشتہ ماہ اپریل میں روکا تھا، اس وقت بھی جہاز کے عملے کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔

امریکی محکمہ انصاف کے حکام نے یہ اعتراف بھی کیا کہ انڈونیشیا حکام کی تحویل میں بحری جہاز کی مرمت اور تکنیکی ساز و سامان کی خریداری کے لیے ادائیگی امریکی بینک سے اور امریکی کرنسی میں کی گئی اور ایسا غلطی سے ہوا۔

شمالی کوریا نے اپنے بحری جہاز کے زیر حراست ہونے کے معاملے پر شدید تنقید کرتے ہوئے امریکا پر واضح کیا ہے کہ وہ کوئی ایسا اقدام نہ اُٹھائے جس سے عالمی امن خطرے میں پڑ جائے اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکراتی عمل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے۔

افغانستان میں سرچ آپریشن کے دوران 10 طالبان ہلاک، 10 قیدی بازیاب

کابل: افغانستان کے صوبے قندوز میں سیکیورٹی فورسز کے سرچ آپریشن کے دوران 10 طالبان مارے گئے جب کہ 10 قیدیوں کو بازیاب کرالیا گیا۔ 

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان کے صوبے  قندوز کے ضلع چہار ڈارا میں افغان سیکیورٹی فورسز نے سرچ آپریشن کے دوران طالبان کے قبضے سے 10 قیدیوں کو بازیاب کرالیا، سرچ آپریشن کے دوران گھمسان کی جھڑپ میں 10 طالبان مارے گئے اور 15 زخمی ہوئے۔

Afghan News Presenter

دوسری جانب سابق صحافی، مقامی ٹی وی چینلز کی میزبان اور ایوان زیریں کی مشیر برائے کلچر مینا مینگل کو نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے قتل کردیا۔ ملزمان کی تلاش میں چھاپے مارے جارہے ہیں۔ 2018 افغانستان میں صحافیوں کے لیے سب سے برا سال ثابت ہوا تھا اور رواں برس کی ابتدا بھی اچھی نہیں ہوئی ہے۔

ادھر پاک افغان سرحد پر ڈرون حملے میں شدت پسند گروہ کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں کمانڈر اسد اللہ سمیت 5 جنگجو ہلاک ہوگئے۔ یہ گروہ شدت پسند کمانڈر حافظ گل بہادر کی زیر پرستی کاروائیاں کرتا تھا۔

امریکی جنگی طیاروں کے بعد بحری بیڑہ اور فضائی دفاعی نظام بھی مشرق وسطیٰ منتقل

واشنگٹن: امریکا نے فضائی دفاع کے میزائل سسٹم پیٹریاٹ کو جنگی بحری بیڑے ایس ایس آرلنگٹن کے ہمراہ مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کردیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا نے ایرانی دھمکیوں کے جواب میں گزشتہ روز ’ابراہام لنکن ایئرکرافٹ کیریر اسٹرائیک گروپ‘ کے بی-52 ایچ اسٹریٹوفورٹریس طیارے  قطر میں اپنے فوجی اڈے میں بھیجے تھے اور اب بحری بیڑے ایس ایس آرلنگٹن کے ذریعے فضائی دفاع کے میزائل سسٹم ’پیٹریاٹ‘ کو بھی مشرق وسطیٰ کی جانب روانہ کردیا گیا ہے۔

پینٹاگون کا دعویٰ ہے کہ یہ فوجی تعیناتیاں ایران کی جانب سے خطے میں امریکی افواج کو لاحق خطرے کے پیشِ نظر کی جا رہی ہیں لیکن امریکا نے ان دھمکیوں کی نوعیت سے متعلق معلومات فراہم نہیں کی ہیں۔ تاہم امریکا کی جانب سے جنگی تعیناتیاں ایران کے عالمی جوہری توانائی معاہدے 2015 کی بعض شقوں سے دستبرداری کے بعد کی گئی ہیں۔

ادھر ایران پہلے ہی امریکی دعوؤں کو احمقانہ اور جنگی بیڑے کی تعیناتی کو نفسیاتی جنگی حربہ قرار دے چکا ہے۔ سینیئر ایرانی عالم یوسف طباطبائی نے احمدی نژاد کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا  کہ امریکی فوجی بیڑے کو صرف ایک میزائل سے تباہ کیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب پینٹاگون کا کہنا ہے کہ ایران کی سرگرمیوں کی کڑی نگرانی کر رہے ہیں اور کسی ممکنہ حملے کے پیشِ نظر فضائی دفاع کے میزائل سسٹم ’پیٹریاٹ‘ کو بھی تعینات کیا جا رہا ہے۔ یہ میزائل سسٹم بیلسٹک میزائل، کروز میزائل اور جدید جنگی طیاروں کی روک تھام کے لیے بنا ہے۔

واضح رہے کہ بدھ کے روز ایران نے عالمی قوتوں کے ساتھ کیے گئے جوہری توانائی 2015 کی بعض شقوں سے دستبردار ہونے کا اعلان کرتے ہوئے جوہری توانائی کو ایٹمی مقاصد کے لیے استعمال کرنے میں آزاد ہونے کا عندیہ دیا تھا۔

افغانستان میں سیکیورٹی چیک پوسٹوں پر طالبان کے حملوں میں 24 اہلکار ہلاک

کابل: صوبہ بادغیس میں طالبان نے سیکیورٹی چیک پوسٹوں پر حملہ کرکے 24 فوجیوں کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کردیا۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق افغانستان کے افغانستان کے صوبے بادغیس میں طالبان کے سیکڑوں کے لشکر  نے سیکیورٹی چیک پوسٹوں پر حملہ کیا، حملوں کے نتیجے میں 24 افغان فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔

ضلعی سربراہ فاضل صدیق نے فوجی جوانوں کی ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ جمعہ کی صبح  سیکڑوں مسلح شدت پسندوں نے  ضلع بالا مرغاب کے علاقے جار آسیائے میں واقع سیکیورٹی چوکیوں پر دستی بموں اور بڑے جدید ہتھیاروں سے حملہ کردیا، جس کے نتیجے میں 24 اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہوگئے، جب کہ متعدد اہلکار زخمی بھی ہوئے جنہیں افغان فوج کے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے، 11 زخمیوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔

فاضل صدیق کاکہنا تھا کہ حملوں کے جواب میں کئی شدت پسند بھی ہلاک ہوئے تاہم فوج کی اضافی نفری پہنچنے تک طالبان سیکیورٹی فورسز کی دو چیک پوسٹوں پر قبضہ کرچکے تھے۔

مودی کا دوبارہ حکومت میں آنا بھارتی عوام کیلیے سانحہ ہوگا، امریکی جریدہ

واشنگٹن: امریکی جریدے ٹائمز میگزین نے اپنے نئے شمارے میں وزیر اعظم نریندرا مودی کی تصویر کے ساتھ “انڈیاز ڈیوائیڈر ان چیف” کا ٹائٹل دیتے ہوئے لکھا کہ اگر مودی کی حکومت بن گئی تو یہ سانحہ سے کم نہیں ہوگا۔

امریکی جریدے ٹائمز میگزین نے بھارتی وزیراعظم کی تصویر کے ساتھ “انڈیاز ڈیوائیڈر ان چیف” ( بھارت کی تقسیم کا ذمہ دار) کا کیپشن دے دیا، جریدے میں شائع ہونے والے آرٹیکل میں سوال اٹھایا گیا کہ کیا بھارت اگلے پانچ سال بھی مودی جی کی حکومت سہہ سکے گی۔

امریکی جریدے ٹائمز میگزین میں شائع ہونے والے آرٹیکل کے مطابق مودی حکومت کے اگلے پانچ سال کا اندازہ لگانے سے پہلے گزشتہ 5 سال کے اندازِ حکومت پر غور کرنا ضروری ہے، اس تقابل سے واضح ہوتا ہے کہ چاہے بی جے پی کا اقتدار میں آنا ناگزیر ہے لیکن بھارتی عوام کے لیے یہ کسی سانحے سے کم نہ ہوگا۔

آرٹیکل میں مزید لکھا گیا کہ سیکولر بھارت کی دھجیاں اڑانے کے لیے بی جے پی 5 سال قبل اقتدار میں آئی اور انہوں نے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان تناؤ اور تفریق کو بڑھایا اور حالیہ انتخابی مہم کے دوران بھی مودی جی اپنے نعرے ’سب کا ساتھ سب کا ویکاس‘ کی خود دھجیاں اڑا چکے ہیں۔

کالم میں مودی سرکار کی معاشی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بھارت میں بے روزگاری عروج پر ہے۔ مسلمانوں پر مشتعل انتہا پسندوں کے حملے آئے روز کی بات ہو گئی ہے اور ہندو اقلیت دلتوں کے لیے اپنی ہی ملک کی زمین تنگ ہو گئی ہے۔

آرٹیکل میں مزید کہا گیا کہ ابھی گزشتہ ماہ ہی بی جے پی چیف امیت شاہ نے مسلمانوں کو دیمک کے ساتھ تشبیہ دی۔ 2017 میں اترپردیش کے ریاستی انتخابات جیتنے کے بعد یہ جانتے ہوئے بھی کہ ریاست میں مسلمان اکثریت میں ہیں وہاں ایک انتہا پسند یوگی ادیتھیا ناتھ کو وزیر اعلی لگا دیا تھا۔

امریکی جریدے نے بھارت میں بڑھتی نفرت و تعصب کی سیاست پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ سچ تو یہ ہے کہ گزشتہ 5 سال بھارت میں تعصب کے نام پر مظالم عروج پر رہے تو اگلے 5 برسوں میں بھی بی جے پی کی وجہ سے اقلیتوں پر ان کے اپنے ملک کی زمین مزید تنگ ہو جائے گی۔

بابری مسجد کا تنازع حل کرنے کیلئے ثالثی کمیٹی کو 15 اگست تک کا وقت

نئی دہلی: بھارت کی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کے تنازع کے حل کے لیے قائم کردہ ثالثی کمیٹی کو 15 اگست تک مناسب حل نکالنے کا وقت دیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس انجن گوگوئی کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے بابری مسجد تنازع کیس کی مختصر سماعت کی۔

چھ منٹ تک جاری رہنے والی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ ثالثی کمیٹی تنازع کے حل کے لیے پرامید ہے جسے مزید وقت درکار ہے اور ہم اُسے وقت دینے کے لیے تیار ہیں۔

سپریم کورٹ نے ثالثی کمیٹی کو 15 اگست تک تنازع حل کرنے کی ہدایت کی۔

بابری مسجد تنازع کی گزشتہ سماعت پر سپریم کورٹ نے سابق چیف جسٹس ایف ایم خلیف اللہ کی سربراہی میں 3 رکنی ثالثی کمیٹی تشکیل دی تھی جس کے ذمے بابری مسجد کے تنازع کا حل تلاش کرنا تھا۔

ثالثی کمیٹی کے دیگر دو ارکان میں روحانی گرو سری سری روی شنکر اور سینئر وکیل سری رام پانچو شامل ہیں۔

بابری مسجد/ رام مندر کا پس منظر

1528 میں مغل دور حکومت میں بھارت کے موجودہ شہر ایودھا میں بابری مسجد تعمیر کی گئی جس کے حوالے سے ہندو دعویٰ کرتے ہیں کہ اس مقام پر رام کا جنم ہوا تھا اور یہاں مسجد سے قبل مندر تھا۔

برصغیر کی تقسیم تک معاملہ یوں ہی رہا، اس دوران بابری مسجد کے مسئلے پر ہندو مسلم تنازعات ہوتے رہے اور تاج برطانیہ نے مسئلے کے حل کے لیے مسجد کے اندرونی حصے کو مسلمانوں اور بیرونی حصے کو ہندوؤں کے حوالے کرتے ہوئے معاملے کو دبا دیا۔

تقسیم ہندوستان کے بعد حکومت نے مسلم ہندو فسادات کے باعث مسجد کو متنازع جگہ قرار دیتے ہوئے دروازوں کو تالے لگا دیے، جس کے بعد معاملے کے حل کے لیے کئی مذاکراتی دور ہوئے لیکن آج تک کوئی نتیجہ نہ نکل سکا۔

Google Analytics Alternative