بین الاقوامی

شام میں طبی مراکز پر بمباری، جھڑپوں میں مریضوں سمیت 100 سے زائد افراد ہلاک

دمشق: شام میں حکومتی فورسز اور باغی جنگجوؤں کے درمیان ہونے والی تازہ جھڑپوں کے دوران 100 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق شام میں فریقین کے درمیان فائربندی پر اتفاق کے باوجود شمال مغربی حصے میں حکومتی فورسز اور باغی جنگجوؤں کے درمیان گھمسان کی جنگ جاری ہے۔ باغیوں کے حملوں اور حکومتی فورسز کی بمباری کے نتیجے میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

شام میں انسانی حقوق کے مبصر نے میڈیا کو بتایا کہ گزشتہ دو روز کے دوران جھڑپوں میں ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ الشغور نامی علاقے میں درجنوں شہری مارے گئے جن میں بچے بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شامی فورسز کی تازہ کارروائیوں میں حکومتی فورسز نے طبی مراکز پر بھی بمباری کی جس کے نتیجے میں پیرا میڈیکل اسٹاف اور مریض ہلاک ہوگئے۔

واضح رہے کہ شامی  میں 2011 سے جاری خانہ جنگی میں اب تک 3 لاکھ 70 ہزار افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں جب کہ لاکھوں افراد کو اپنے گھر بار اور کاروبار کو چھوڑ کر پناہ گزین کیمپوں میں زندگی بسر کرنا پڑرہی ہے۔

جج ارشد ملک کے الزامات میں رتی برابر سچائی نہیں، مریم نواز

لاہور: نائب صدر مسلم لیگ (ن) مریم نواز کا کہنا ہے کہ جج کو فارغ کرنے کا مطلب ہے کہ اعلیٰ عدلیہ نے حقائق کو تسلیم کرلیا جبکہ جج ارشد ملک کے الزامات میں رتی برابر سچائی نہیں۔

احتساب عدالت اسلام آباد کے جج ارشد ملک کو عہدے سے ہٹادیا گیا ہے اور انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں بیان حلفی جمع کرایا ہے جس میں نواز شریف اور ن لیگ پر دھمکیوں اور رشوت دینے کے الزامات عائد کیے ہیں۔

مریم نواز نے جج ارشد ملک کے بیان حلفی کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جج کے الزامات میں رتی برابر سچائی نہیں، اگر الزامات سچ ہوتے تو دوران مقدمہ وہ عدالت میں نواز شریف کا سامنا کرتے اور پوچھتے کہ آپ مجھے کیوں رشوت آفر کر رہے ہیں، جج ارشد ملک اعلیٰ عدلیہ کو مطلع کرتے اور دباؤ میں لانے پر بھری عدالت میں نواز شریف کی گرفتاری کا حکم صادر فرماتے۔

مریم نواز نے کہا کہ جج صاحب ہر کسی سے ہنسی خوشی ملتے رہے، کسی کو اپنی سرکاری گاڑی بھیج کر اپنے ذاتی گھر بلاتے رہے اور کسی سے خود ان کے دفتروں اور گھروں میں جا کر کہتے رہے کہ مجھے دباؤ میں لاؤ اور بلیک میل کرو۔

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے جج کو ہٹانے کے فیصلہ پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا معاملہ کسی جج کو معطل کئے جانے کا نہیں، اس فیصلے کو معطل کرنے کا ہے جو اس جج نے دیا، معاملہ کسی جج کو عہدے سے نکالنے کا نہیں بلکہ اس فیصلے کو عدالتی ریکارڈ سے نکالنے کا ہے جو اس جج نے دباؤ میں دیا، معاملہ کسی جج کو فارغ کرنے کا نہیں بلکہ اس کے فیصلے کو فارغ کرنے کا ہے۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ جج کو فارغ کرنے کا مطلب ہے کہ اعلیٰ عدلیہ نے حقائق کو تسلیم کرلیا، ایسا ہی ہے تو وہ فیصلہ کیسے برقرار رکھا جارہا جو اس جج نےدیا، فیصلہ دینے والے جج کو سزا سنادی تو بے گناہ نواز شریف کو کیوں رہائی نہیں دی جارہی۔

مریم نواز نے کہا کہ اگر ایک جج مس کنڈکٹ کا مرتکب پایا گیا ہے اور اسے اپنے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے تو اس مس کنڈکٹ کا نشانہ بننے والے کو سزا کیسے دی جاسکتی ہے۔

نائب صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ نواز شریف 3 بار وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہنے والے پاکستان کے پہلے اور واحد شخص ہیں اور وہ شخص آج بےگناہ ثابت ہو جانے کے باوجود جیل کی سلاخوں کے پیچھے قید ہے، یہ کہاں کا انصاف ہے، کیا صرف جج کو فارغ کر دینا کافی ہے۔

 

جرمنی میں 3 مساجد کو بم سے اُڑانے کی دھمکیوں کے بعد خالی کروالیا گیا

میونخ: جرمنی میں بیک وقت 3 مساجد کو بم سے اُڑانے کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں جس کے بعد مساجد کو خالی کروالیا گیا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق جرمنی کی تین مساجد میں بم کی اطلاع پر بھگڈر مچ گئی، پولیس نے مساجد کو خالی کروا کر سرچ آپریشن کا آغاز کیا تاہم اطلاعات جھوٹی ثابت ہوئیں اور مساجد سے کچھ برآمد نہیں ہوا۔

بم کی اطلاعات میونخ کے دو اضلاع پاسنگ اور فریئمنگ کی مساجد اور ایک آئسرلوہن کی مسجد کو موصول ہوئی تھیں۔ مساجد میں بم کی اطلاع انتظامیہ کو ای میل کے ذریعے دی گئی تھیں۔

پولیس نے مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے اور سائبر فورس کی مدد سے بم کی اطلاع دینے والی ای میلز کی کھوج شروع کردی ہے تاکہ اصل ملزمان تک پہنچا جا سکے۔

واضح رہے کہ جرمنی میں مسلمانوں اور مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو نفرت آمیز برتاؤ کا سامنا رہا ہے اور گزشتہ دو برسوں کے دوران مسلمانوں پر حملے میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

جوہری ایجنسی کے اجلاس میں روس اور ایران کی امریکا پر کڑی تنقید

ویانا: روس اور ایران نے جوہری توانائی ایجنسی کے اجلاس میں امریکا کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

امریکی درخواست پر بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کا آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں خصوصی اجلاس ہوا جس میں مسئلہ ایران پر غور کیا گیا۔

ایرانی سفیر کاظم غریب آبادی نے اجلاس میں کہا کہ امریکا کی جانب سے ایران کو معاشی دہشتگردی کا سامنا ہے، امریکا غیر قانونی اور یکطرفہ پابندیوں کو خود مختار ریاستوں کیخلاف دباؤ کیلیے آلہ بنارہا ہے، لیکن یہ سلسلہ اب ختم ہوجانا چاہیے، جوہری معاہدے سے متعلق ایرانی اقدامات امریکی غیر قانونی رویے کا نتیجہ ہیں۔

روسی سفیر میخائل اولیانوف نے بھی واشنگٹن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکا جوہری معاہدے کے معاملے پر عملاً تنہا ہوگیا ہے، اس کی جانب سے جوہری ادارے کا اجلاس بلانا عجیب ہے، کیونکہ ٹرمپ نے جوہری معاہدے کو بدترین قرار دیا تھا، اجلاس بلانے کی درخواست سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جوہری معاہدے کی اہمیت سے آگاہ ہے۔

امریکی سفیر جوکی وال کوٹ نے کہا کہ ایران نیوکلیئر بھتہ خوری میں مصروف ہے اور جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کی دھمکی دے کر بین الاقوامی برادری سے پیسہ بٹورنے کی کوشش کررہا ہے۔ ادھر برطانیہ، فرانس، جرمنی نے جوہری ڈیل بچانے کیلیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے کا مشترکہ بیان دیا۔

واضح رہے کہ چند روز قبل ہی ایران نے 2015 کے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے افزودہ یورینیم کی مقدار بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔

ٹرمپ کی ہٹ دھرمی کے باعث امریکا میں برطانوی سفیر مستعفی ہونے پر مجبور

واشنگٹن: سرکاری ای میلز میں امریکی صدر کو ہدف تنقید بنانے والے برطانوی سفیر سرکِم ڈارک نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا میں تعینات برطانوی سفیر سرکِم ڈارک نے ای میلز لیک اسکینڈل پر امریکی صدر سے شدید اختلافات کے بعد مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ سرکم نے برطانوی وزیراعظم کی حمایت پر شکریہ بھی ادا کیا۔

برطانوی سفیر نے اپنے استعفیٰ میں لکھا کہ گو سال کے آخر میں میری ریٹائرمنٹ ہے تاہم میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ کشیدہ صورت حال میں نئے سفیر کی تعیناتی ضروری ہوگئی ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو گزند نہ پہنچے۔

چند روز قبل برطانوی اخبار میں سر کم ڈراک کی افشا ہونے والی ای میلز شائع ہوئی تھیں جس میں صدر ٹرمپ کو کند ذہن، نااہل اور ناکارہ کہا تھا جب کہ امریکا کو غیر محفوظ ملک اور امریکی پالیسیوں کو غیر یقینی بھی قرار دیا تھا۔

لیک ہونے والی ای میلز پر امریکی صدر نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے برطانوی سفیر کو احمق قرار دیا اور ان کے ساتھ مزید کام کرنے سے انکار کردیا تھا تاہم برطانوی وزیراعظم نے اپنے سفیر کو مکمل حمایت کا یقین دلاتے ہوئے کام جاری رکھنے کی ہدایت کی تھی۔

 

لیبیا میں باغی جنگجوؤں کے ٹھکانے سے فرانس کے میزائل برآمد

ریپولی: لیبیا کے باغی فوجی جنرل ہفتر کے مسلح کیمپ سے فرانس کے 4 ٹینک شکن میزائل ملے ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق لیبیا میں اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ حکومتی فورسز سے برسرپیکار جنرل ہفتر کے حامی جنگجوؤں کے ٹھکانوں سے ملنے والے غیر استعمال شدہ 4 اینٹی ٹینک میزائل کے فرانس کی ملکیت ہونے کے شواہد مل گئے ہیں۔

امریکی ساختہ چاروں میزائل گزشتہ ماہ جنرل ہفتر کے کیمپ سے ملے تھے اور جس کا امریکا نے واشنگٹن میں معائنے کے بعد اعلان کیا تھا یہ میزائل فرانس نے خریدے تھے، فرانس کی جانب سے بھی اس کی تصدیق کردی گئی ہے۔

تاہم فرانس نے اقوام متحدہ کی جانب سے باغیوں کو اسلحہ فراہم کرنے پر عائد پابندی کی خلاف ورزی کے مرتکب ہونے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ یہ میزائل انسداد دہشت گردی کے دوران فورسز کی حفاظت کے لیے تھے اور ان میزائلوں کو جلد ہی ناکارہ بنایا جانا تھا۔

واضح رہے کہ لیبیا میں کرنل قذافی کی خانہ جنگی میں ہلاکت کے بعد سے اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت قائم ہے تاہم شدت پسندوں اور سابق فوجی جنرل کی بغاوت کے بعد سے حالات کشیدہ ہیں اور جنرل ہفتر کے جنگجوؤں نے حکومتی مراکز کو نشانہ بنایا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے وزیراعظم عمران خان کےدورہ امریکا کی تصدیق کردی

واشنگٹن / اسلام آباد: وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ وزیراعظم عمران خان 22 جولائی کو امریکا پہنچیں گے اور ان کا استقبال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔

امریکی ایوان صدر ’وائٹ ہاؤس‘ نے وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکا کی تصدیق کردی ہے، اس حوالے سے وائٹ ہاؤس ترجمان  نے کہا ہے کہ  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 22 جولائی کو وزیراعظم عمران خان کا استقبال کریں گے۔

ترجمان وائٹ ہاؤس کاکہنا ہے کہ عمران خان کے دورہ امریکا کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہے، دورے سے دونوں کو ممالک امن، اقتصادی ترقی اور خطے کے استحکام کے  لیے مل کرکام کرنے میں مدد ملے گی۔

وزیر اعظم عمران خان کی امریکی صدر سے مجوزہ ملاقات میں دونوں رہنما انسداد دہشت گردی، دفاع، توانائی اور تجارت پرتبادلہ خیال کریں گے جب کہ خطے میں امن واستحکام اور اقتصادی تعاون پر بھی غور کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ 4 جولائی کو ترجمان دفتر خارجہ نے وزیر اعظم کے دورہ امریکا کا اعلان کیا تھا تاہم ترجمان امریکی محکمہ خارجہ مورگن اورٹیگس نے نیوز کانفرنس میں وزیراعظم عمران خان کے امریکا کے دورے سے متعلق کہا تھا کہ ہمیں عمران خان کے دورے کی کوئی اطلاع نہیں، ہم اس بارے میں وائٹ ہاؤس سے رابطہ کرکے دورے کی تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔

ٹرمپ کا خلیج عمان میں امریکی مفادات کے تحفظ کیلیےعالمی فوجی اتحاد بنانے کا اعلان

واشنگٹن: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خلیج عمان اور یمنی پانیوں میں امریکا کو تیل سپلائی کرنے پر خلیجی ممالک سے آنے والے آئل ٹینکرز اور فوجی تنصیبات کے تحفظ کے لیے فوجی اتحاد بنانے کا اعلان کیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا ایران اور یمن کے اطراف سمندر میں تجارتی گزرگاہوں کی حفاظت کے لیے عالمی فوجی اتحاد قائم کرنا چاہتا ہے۔ اس حوالے سے امریکی افواج نے کئی دوست ممالک سے بات چیت بھی کی ہے اور رائے عامہ بحال کرنے کی کوششوں میں اضافہ کردیا گیا ہے۔

اس حوالے سے امریکی جنرل جوزف ڈنفرڈ کا کہنا تھا کہ امریکا خلیجی خطے میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانا چاہتا ہے جس کے لیے عالمی فوجی اتحاد کا قیام ناگزیر ہو گیا ہے جس کے لیے خدوخال مرتب کر لیے ہیں اور دوست ممالک سے مشاورت جاری ہے۔

امریکی جنرل جوزف ڈنفرڈ نے مزید کہا کہ امریکا کمانڈ اینڈ کنٹرول کے عمل کے لیے بحری جہاز مہیا کرے گا جو امریکا کو تیل کی سپلائی پر مامور بحری جہازوں کے درمیان گشت کریں گے اور امریکی فوجی تنصیبات کی حفاظت کو یقینی بنائے گا۔

واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکا کو تیل سپلائی کرنے پر مامور سعودی بحری جہازوں پر حملوں کے بعد امریکا پہلے ہی خلیج عمان میں ایک طیارے بردار بحری بیڑا تعینات کرچکا ہے اس کے علاوہ جنگی طیاروں کی دو کھیپ بھی قطر میں اپنے فوجی کیمپ میں منتقل کرچکا ہے۔

Google Analytics Alternative