بین الاقوامی

میانمار حکومت روہنگیا پناہ گزینوں کی واپسی کیلیے اقدامات کرے، اقوام متحدہ

بنکاک: اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے روہنگیا پناہ گزینوں کی حالت زار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے میانمار حکومت سے مہاجرین کی آباد کاری کے لیے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹریز نے مشرقی ایشیائی اقوام کی تنظیم ’آسیان‘ کے رہنماؤں سے ملاقات میں بنگلا دیش میں مقیم میانمار کے لاکھوں روہنگیا مہاجرین کے بنیادی حقوق سے محرومی اور نہایت گفتہ بہ حالت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

تھائی لینڈ میں آسیان تنظیم کا 35 واں اجلاس آج سے شروع ہوا جس میں رکن ممالک کے درمیان باہمی تعاون اور سیکیورٹی سے جڑے مسائل پر تبادلہ خیال ہوا۔ سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوٹیرز نے آسیان کے چند رہنماؤں سے ملاقات میں  کہا کہ میانمار بھی آسیان تنظیم کا رکن ہے اس لیے رکن ممالک میانمار حکومت پر دباؤ ڈالیں۔

رہنماؤں سے ملاقات میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے میانمار کی حکومت پر زور دیا کہ روہنگیا مہاجرین کی بنگلادیش کے پناہ گزین کے کیمپوں سے اپنے گھروں کو واپسی کے ٹھوس اور واضح اقدامات کرے اور مسلمان اقلیت کی جانوں اور املاک کی حفاظت کو یقینی بنائے۔

واضح رہے کہ میانمار میں مسلم کش فسادات کے نتیجے میں لاکھوں روہنگیا مسلمان بنگلادیش کے کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے تھے تاہم دو برس گزرنے کے باوجود تاحال پناہ گزینوں کے اپنے گھروں کی واپسی ممکن نہیں ہوسکی۔

شام اور ترک سرحد کے نزدیکی علاقے میں بم دھماکے سے 13 افراد ہلاک

تل ابیض: شمالی شام میں ترکی کے حمایت یافتہ گروہ کے زیر انتظام علاقے میں ہونے والے ایک کار بم دھماکے میں 13 شہری ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہوگئے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق شمالی شام کے شہر تل ابیض میں ترک حکومت کی حمایت یافتہ گروہ کے زیر انتظام علاقے میں واقع ایک پرہجوم مارکیٹ میں کار بم دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں 13 شہری ہلاک اور 23 زخمی ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں میں ترک حمایت یافتہ فورس کے اہلکار بھی شامل ہیں تاہم اس کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

تل ابیض میں ہونے والے کار بم دھماکے کی ذمہ داری تاحال کسی شدت پسند گروہ نے قبول نہیں کی ہے تاہم وزیر خارجہ میولود چاوش اولو نے حملے کی ذمہ داری کرد جنگجوؤں پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہی دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے ترکی فوج نے آپریشن شروع کیا تھا۔ دنیا کو اب دیکھ لینا چاہیئے کہ کون دہشت گردی میں ملوث ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ کے اوائل میں شمالی شام کے علاقوں تل ابیض اور راس العین میں ترک فوج نے چڑھائی کرتے ہوئے درجنوں کرد جنگجوؤں کو ہلاک کردیا تھا تاہم امریکی مداخلت پر ترکی نے کرد جنگجوؤں کو 400 کلومیٹر کا علاقہ خالی کرنے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دیئے جانے کے باوجود فریقین کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔

بورس جانسن نے بریگزٹ ڈیل کی ناکامی پر معافی مانگ لی

لندن: برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے 31 اکتوبر تک یورپی یونین سے انخلاء کا وعدہ پورا نہ ہونے پر عوام سے معافی مانگ لی۔

برطانوی نشریاتی ادارے اسکائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم بورس جانسن نے 31 اکتوبر تک بریگزٹ ڈیل پر عمل درآمد میں ناکامی پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے عوام سے معافی مانگ لی ہے تاہم انہوں نے بریگزٹ ڈیل کے التوا کا ذمہ دار برطانوی پارلیمان کو ٹھہرایا۔

برطانوی وزیراعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ اپنے معاملات حل کرنا جانتا ہے اور اس کے لیے وہ کسی ملک کی دھمکیوں میں نہیں آئے گا، بریگزٹ ڈیل عوام کی امنگوں اور متفقہ رائے سے انجام پائے گی۔

قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ سے تجارت کو روکنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ وزیر اعظم جانسن کی بریگزٹ ڈیل کی وجہ سے مستقبل میں امریکا اور برطانیہ کے مابین تجارتی ڈیل کی بندش کا خدشہ ہے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم بورس جانسن نے عہدہ سنبھالتے ہی یورپی یونین سے انخلاء کے لیے 31 اکتوبر کی حتمی تاریخ کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہر حال میں مقررہ تاریخ تک انخلاء کا عمل مکمل ہوجائے گا تاہم پارلیمان کی مخالفت کے باعث ایسا ممکن نہیں ہوسکا تھا اور یورپی یونین نے بھی بریگزٹ ڈیل کیلیے مہلت دے دی تھی۔

جنوبی کوریا میں سمندر برد ہونے والے ہیلی کاپٹر سے 2 لاشیں برآمد

سیئول: جنوبی کوریا میں سمندر میں گر کر تباہ ہونے والے فائر ڈپارٹمنٹ کے ہیلی کاپٹر میں سوار مزید دو اہلکاروں کی لاشیں نکال لی گئی ہیں تاہم اب بھی 3 افراد لاپتا ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق جنوبی کوریا کے ایک چھوٹے سے جزیرے ڈوکڈو میں سیاحوں کی مدد کو جانے والا فائر ڈپارٹمنٹ کا ریسکیو ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا تھا۔ ہیلی کاپٹر کے مکمل طور پر سمندر برد ہوجانے کے باعث حادثے کے شکار افراد کی تلاش میں مشکل کا سامنا تھا۔

ریسکیو ادارے کے درجنوں غوطہ خوروں اور امدادی کارکنوں نے انتھک محنت کے بعد کل 2 اہلکاروں کی لاشیں نکالی تھیں جب کہ آج بھی سمندر کی 72 میٹر گہرائی میں ہیلی کاپٹر کی باقیات کے کچھ حصوں سے دو مردوں کی لاشیں نکالی گئی ہیں جن کی شناخت نہیں ہوسکی

حادثے کا شکار ہونے والے ہیلی کاپٹر میں پائلٹ سمیت فائر ڈپارٹمنٹ کے 7 اہلکار سوار تھے جن میں سے مجموعی طور پر 4 کی لاشیں نکالی جاچکی ہیں جب کہ 3 افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ حکومت نے ہلاک ہونے والے محکمہ فائر اینڈ سیفٹی کے ملازمین کی مالی امداد کا بھی اعلان کیا ہے۔

مودی سے ملاقات میں جرمنی کی سربراہ کشمیریوں کے حق میں بول پڑیں

نئی دلی: جرمنی کی سربراہ انجیلا میرکل نے دورہ بھارت کے دوران مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وادی میں تناؤ کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔

بھارتی اخبار دی ہندو کے مطابق جرمنی کی چانسلر (سربراہ مملکت) انجیلا میرکل نے صحافیوں کے ایک گروپ سے گفتگو میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی معطلی پر تشویش کا اظہار کیا اور خواہش ظاہر کی کہ بھارت اور پاکستان باہمی کشیدگی دور کرنے کے لیے مل کر پر امن حل تلاش کرنے میں کامیاب ہوں۔

جرمن چانسلر انجیلا میرکل نے مزید کہا کہ کشمیریوں کے لیے حالات غیر مستحکم، ناپائیدار اور نامناسب ہے اور اب اس کشیدگی اور تناؤ کو ختم ہونا چاہیئے، ہم عدم استحکام اور غیر یقینی صورت حال کے خاتمے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ کشمیر کی موجودہ صورتحال اسی طرح نہیں چل سکتی۔

انجیلا میرکل اس وقت بھارت کے 3 روزہ دورے پر ہیں اور اس موقع پر جرمنی کی چانسلر نے کشمیر کی صورت حال پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے تفصیلی موقف سننے کی خواہش کا بھی اظہار بھی کیا تھا اور مودی سرکار کی روایتی ڈھٹائی اور کشمیر کی صورت حال پر بات کرنے سے گریز کے باوجود کشمیر پر اپنا موقف پیش کیا تھا۔

واضح رہے کہ مودی حکومت نے عددی اکثریت کا ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کو آئین میں حاصل خصوصی حیثیت کو ختم کرکے دو انتظامی حصوں لداخ اور جموں و کشمیر میں تقسیم کردیا ہے اور 3 ماہ سے وادی میں غیر اعلانیہ کرفیو نافذ، مواصلاتی نظام منقطع، ذرائع آمد ورفت معطل اور کاروباری سرگرمیاں بند ہیں جبکہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں۔

امریکا میں پارٹی کے دوران فائرنگ سے 4 افراد ہلاک، 4 زخمی

یلی فورنیا: امریکا میں ہیلووین پارٹی خونی جھڑپ میں تبدیل ہوگئی جس کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک اور 4 زخمی ہوگئے ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی ریاست کیلیفورنیا میں درختوں سے گھرے ایک بڑے گھر میں روایتی ہیلووین پارٹی جاری تھی جس میں 100 سے زائد شرکاء موجود تھے۔ موسیقی کی دھن میں رقص جاری تھا اور سب نے جن، بھوت کے ڈراؤنے لباس زیب تن کیے ہوئے تھے کہ اچانک فائرنگ شروع ہوگئی۔

اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں 3  نوجوان موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جب کہ ایک نے اسپتال پہنچ کر دم توڑ دیا، مرنے والوں کی عمریں 22 سے 29 سال کے درمیان ہیں۔ فائرنگ کے واقعے میں 4 افراد زخمی بھی ہوئے۔ فائرنگ کی جگہ سے دو بندوقیں بھی ملی ہیں۔ فائرنگ جھگڑے کا شاخسانہ محسوس ہوتی ہے۔

ترجمان پولیس کا کہنا ہے کہ اس گھر کو ایک رات کے لیے کرایے پر لیا گیا تھا اور مالک مکان کو کہا گیا تھا کہ کرایہ دار دمے کے مریض ہیں جو جنگل میں لگنے والی آگ کے باعث سانس لینے میں دقت محسوس کررہے ہیں اس لیے ایک دن کے لیے گھر کرایے پر لے رہے ہیں۔ ابھی تک کسی مشتبہ شخص کی شناخت یا گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

واضح رہے کہ ہیلو وین پارٹی میں ہلاکتوں کا یہ دوسرا بڑا واقعہ ہے اس سے قبل 30 اکتوبر کو سان فرانسسکو میں ایک پارٹی کے دوران ہونے والی فائرنگ سے 3 افراد ہلاک اور 9 زخمی ہوگئے تھے۔

مالی میں چیک پوسٹ پر حملے میں 53 فوجی ہلاک

بماکو: افریقی ملک مالی میں فوجی اڈے پر حملے میں 53 فوجی اور ایک عام شہری ہلاک ہوگیا۔

مالی کے وزیر اطلاعات یحیی سنگارے نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ملک کے شمال مشرقی علاقے میناکا میں نائیجر کی سرحد کے قریب دہشت گردی کا واقعہ پیش آیا۔ نامعلوم مسلح حملہ آوروں نے فوجی اڈے پر دھاوا بول کر 53 فوجیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچی اور لاشوں و زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا۔ حکام کے مطابق صورت حال قابو میں آگئی ہے اور ہلاک شدگان کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ حملے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی۔ زخمیوں میں سے متعدد کی حالت نازک ہے جس کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

مالی کی حکومت نے اسے دہشت گردی کا واقعہ قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔

2012 میں مالی میں القاعدہ نے وسیع و عریض علاقے پر قبضہ کرلیا تھا جس کے بعد فرانس کی فوج نے اس کے خلاف آپریشن کرکے بہت سے عسکریت پسندوں کو ہلاک کردیا۔

مالی میں ’جی 5 ساحل فورس‘ کے نام سے 5 ممالک کی افواج بھی القاعدہ اور داعش سمیت دیگر مسلح تنظیموں کے خلاف کارروائی کے لیے تعینات ہیں۔ ان ممالک میں برکینا فاسو، چاڈ، مالی، موریطانیہ اور نائیجر شامل ہیں۔

یمن میں حوثی باغیوں نے سعودی سرحد کے قریب امریکی ڈرون مار گرایا

صنعا: حوثی باغیوں نے یمن میں ایک امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق يمن کے حوثی باغيوں نے امريکی ساختہ ’اسکين ايگل‘ نامی بغير پائلٹ والے ايک ڈرون طيارہ سعودی عرب کی سرحد کے نزدیک مار گرانے کا دعویٰ کيا ہے۔ امریکا اور سعودی عرب کی جانب سے حوثی باغیوں کے دعوے پر تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔

حوثی باغیوں کے ترجمان نے امریکی ڈرون کو مار گرانے کو بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ يہ ڈرون ہمارے ٹھکانوں اور اسلحے سے متعلق معلومات جمع کر رہا تھا تاکہ سعودی سربراہی میں قائم فوجی عسکری اتحاد ہمارے خلاف بآسانی کارروائی کر سکے۔

حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے سرحدی علاقوں میں کارروائی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یمن سے سعودی عرب کے ایئرپورٹ پر حملے کیے گئے جب کہ حال ہی میں حوثی باغیوں نے یمن کے وزیر دفاع پر بھی حملہ کیا تھا جس میں 2 فوجی مارے گئے تھے۔

Google Analytics Alternative