بین الاقوامی

سفارتی کشیدگی کے باوجود کینیڈا کو تیل کی ترسیل جاری رہے گی،سعودی عرب

ریاض: سعودی عرب نے کہا ہے کہ سفارتی تنازع کے باوجود کینیڈا کو تیل کی ترسیل متاثر نہیں ہو گی۔

جرمن خبررساں ادارے کے مطابق سعودی وزیر توانائی خالد الفالح نے کو بتایا کہ سعودی پالیسی کے مطابق سیاسی معاملات کو پیٹرول کی سپلائی پر اثر انداز نہیں ہونے دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ کینیڈا میں ان کے صارفین کو پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔

خیال رہے کہ کینیڈا او سعودی عرب کی باہمی تجارت کا سالانہ حجم 4 ارب ڈالر کے قریب ہے۔

ان دنوں کینیڈا کی وزیر خارجہ کے سعودی عرب میں زیر حراست انسانی حقوق کے کارکنوں کی رہائی کے مطالبے پر دونوں ممالک کے مابین کشیدگی جاری ہے۔

سعودی عرب کے وزیر توانائی اور معدنی دولت انجینئر خالد بن عبدالعزیز الفالح نے کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں کینیڈا اور سعودی عرب کے تعلقات جس صورتحال سے گذر رہے ہیں ان کا کینیڈا میں سعودی پٹرولیم کمپنی آرامکو کے صارفین پرکوئی اثر نہیں پڑے گا۔

انجینئر خالد الفالح کا مزید کہنا تھا کہ سعودی عرب پیداواری توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری جاری رکھے گا۔ یہ اقدام بین الاقوامی معیشت کو تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے پیدا ہونے والے مضر اثرات سے محفوظ رکھنے کے لئے ضروری ہے۔

انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر آواز اٹھاتے رہیں گے، کینیڈین وزیراعظم

دوسری جانب کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی جہاں کہیں بھی ہو گی اس کے خلاف آواز اٹھائی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں بگاڑ نہیں چاہتے لیکن اپنے اصولوں سے بھی رو گردانی نہیں کر سکتے۔

کینیڈین وزیراعظم نے سعودی عرب کے اقدامات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کے معاملے پر سعودی عرب نے پیشرفت کی ہے، دونوں ممالک کے درمیان سفارتی بات چیت جاری رہے گی۔

خیال رہے کہ اندرونی معاملات میں دخل اندازی کی وجہ سے سعودی عرب نے کینیڈا میں اپنے شہریوں کے علاج کے تمام پروگرامز کو روک دیا ہے ارو کینیڈا میں زیر علاج تمام سعودی شہریوں کو کینیڈا سے باہر دیگر اسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

ریاض حکومت نے رواں ہفتے ہی اعلان کیا تھا کہ کینیڈا کے ساتھ نئے معاہدوں اور سرمایہ کاری کے منصوبہ جات کو منجمد کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی سعودی عرب سے کینیڈین سفیر کو بھی بیدخل کرنے کا حکم جاری کیا گیا تھا۔ ان سعودی اقدامات کی وجہ بظاہر کینیڈا کا وہ مطالبہ بنا ہے، جس میں سعودی عرب پر زور دیا گیا تھا کہ وہ انسانی حقوق کے کارکنان کو رہا کر دے۔

سعودی عرب سے کشیدگی کی وجہ سے کینیڈین کرنسی کی قدر میں بھی کمی واقع ہورہی ہے۔

یمن میں حوثی باغیوں کی بس پرسعودی فضائی حملہ،50 افراد جاں بحق

یمن کے شمالی علاقے میں بس پر سعودی اتحادی فوج کے فضائی حملے میں بچوں سمیت 50 افراد جاں بحق اور 77 زخمی ہوگئے۔

خبر رساں ادارے اے پی کی رپورٹ کے مطابق جمعرات کو یمن کے شمالی علاقے میں واقع مارکیٹ میں مسافر بس پر کیے گئے سعودی فضائی حملے میں بچوں سمیت 50 افراد جاں بحق اور 77 افراد زخمی ہوگئے۔

سعودی اتحاد کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کا ہدف حوثی باغی تھے, جنہوں نے گزشتہ روز سعودی عرب کے جنوبی علاقے میں ایک میزائل حملہ کیا تھا جس میں ایک شخص ہلاک ہوگیا تھا۔

یمن کے ال مسیرہ ٹی وی نے اسپتال میں موجود زخمی بچوں اور اُن کے خون آلود اسکول بیگز کی ہولناک تصاویر جاری کی تھیں۔

یمنی رہنماؤں کے مطابق مذکورہ حملہ یمن کے صوبے سدا کی داہیان مارکیٹ میں حوثی باغیوں کے زیر اثر علاقے میں کیا گیا۔ یمن کا یہ صوبہ سعودی عرب کی سرحد سے قریب ہے۔

یمنی رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جس بس پر حملہ کیا گیا اس میں عام شہری سوار تھے جن میں زیادہ تعداد اسکول کے بچوں کی تھی ۔

واقعے میں ہلاک اور زخمی ہونے والو ں کے صحیح اعداد وشمار تاحال معلوم نہیں ہوسکے اور نہ ہی ایسی کوئی معلومات ہیں کہ بس میں کتنے افراد سوار تھے اور کتنے راہ گیر اس حملے کا نشانہ بنے ہیں، اس کے علاوہ اس علاقے میں کوئی اور حملہ ہوا ہے یا نہیں ابھی تک یہ بات بھی واضح نہیں ہوسکی۔

سعودی اتحادی فورسز کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے بتایا کہ ’ سدا کے علاقے میں ان حوثی باغیوں پر حملہ کیا گیا جنہوں نے سعودی عرب کے جنوبی علاقے میں میزائل حملے میں ایک شخص کو قتل جبکہ 11 کو زخمی کردیا تھا۔ ‘

ان کے مطابق سعودی عرب کے جنوب مغربی شہر جزان میں میزائل داغا گیا تھا جسے فوری طور پر ناکام بنایا گیا لیکن میزائل کے ٹکڑوں سے اموات واقع ہوئیں۔

خیال رہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ یمن کی سرکاری فوج مارچ 2015 سے حوثی باغیوں کے خلاف جنگ لڑرہی ہے، جس میں اب تک 10 ہزار کے قریب یمنی شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔

حوثی باغی یمن کے دارالحکومت صنعا سمیت شمالی علاقے پر قابض ہیں۔

انٹرنیشنل ریڈ کراس کمیٹی نے ٹوئیٹ کیا کہ ’ آئی سی آرسی کے یسپتالوں میں بس حملے میں ہلاک ہونے والے کی درجنوں لاشیں اور زخمیوں کی بڑی تعداد شامل ہے ۔‘

یمن میں تعینات آئی سی آر سی ہیڈ جونز بریور نے ٹویٹ کیا کہ ’ حملے میں درجنوں مارے گئے،اس سے زیادہ زخمی ہوئے جن میں سے اکثر کی عمر 10 سال سے کم ہے ۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’زخمیوں کی زیادہ تعداد کے باعث مزید امداد بھیج رہے ہیں۔‘

دوسری جانب ال مسیرہ ٹی وی نے یکسر مختلف اعداد و شمار جاری کیے، ان کے مطابق حملے میں 39 افراد ہلاک اور 51 زخمی ہوگئے جن میں اکثریت بچوں کی ہے۔

جمعرات کو ہی یمن کے دارالحکومت صنعا میں بھی زور دار فضائی حملوں کی آواز سنی گئی لیکن ان فضائی حملوں میں کسی ہلاکت کی تفصیل معلوم نہیں ہوسکی۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان کی جانب سے یمن میں تعینات تمام سعودی فوجیوں کے لیے عام معافی کا اعلان کیا گیا تھا جس سے ان فوجیوں کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی یا انضباطی کارروائی کے امکانات معدوم ہوگئے تھے۔

دوسری جانب انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے عرب امارات اور یمنی حکومت کی مدد کے لیے قائم کیے گئے فوجی اتحاد میں شامل دیگر ممالک کی افواج پر الزام عائد کیا تھاکہ وہ جنوبی یمن میں قائم خفیہ جیلوں میں قید افراد پر بہیمانہ تشدد میں ملوث ہیں اور ساتھ ہی مطالبہ کیا ہے کہ ان واقعات کی جنگی جرائم کے مقدمات کی طرح تحقیقات ہونی چاہیے۔

ایمنسٹی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا کہ اتحادی افواج یمن میں بڑی تعداد میں لوگوں کی جبری گمشدگیوں میں بھی ملوث ہیں جنہیں قید کرلیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات اور دیگر اتحادیوں نے یمنی حکومت اور حوثی باغیوں کے درمیان جاری تنازع میں مارچ 2015 میں مداخلت شروع کی تھی تاکہ حوثی باغیوں کو شکست دے کر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کو بحال کیا جاسکے۔

ملائیشیا کے سابق وزیراعظم پر منی لانڈرنگ کیس میں بھی فرد جرم عائد

کوالا لمپور: ملائیشیا کے سابق وزیراعظم نجیب رزاق پر سرکاری خزانے میں خرد برد کے مقدمے کے بعد اب منی لانڈرنگ کیس میں بھی فرد جرم عائد کردی گئی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ملائیشیا کی مقامی عدالت نے سابق وزیراعظم نجیب رزاق پر منی لانڈرنگ کیس میں بھی فرد جرم عائد کردی ہے۔ سابق وزیراعظم نے اپنے خلاف مقدمات کو جعلی قرار دیتے ہوئے تمام الزامات کو مسترد کردیا ہے۔

سابق وزیراعظم نجیب رزاق  کے خلاف منی لانڈرنگ کے تین مقدمات ہیں۔ جس میں انہیں 42 ملین ڈالر کی کرپشن کا حساب دینا ہوگا بصورت دیگر منی لانڈرنگ کے ہر مقدمے میں ملائیشیا کے سابق وزیراعظم کو 20 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

قبل ازیں سابق وزیراعظم نجیب رزاق پر دسمبر 2014 سے مارچ 2015 کے دوران اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے سرکاری فنڈ سے 10 ملین ڈالر کی رقم اپنے بینک اکاؤنٹ میں منتقلی کے جرم میں 4 جولائی 2018 کو کرپشن مقدمات میں فرد جرم عائد کی جا چکی ہے۔

واضح رہے کہ ملائیشیا کے سابق وزیراعظم نجیب رزاق کو گزشتہ ماہ سرکاری خزانے میں خرد برد کے الزام میں اینٹی کرپشن پولیس نے حراست میں لیا تھا۔ یہ گرفتاری ملائیشیا کے انتخاب میں ان کی غیرمتوقع شکست کے بعد کی گئی۔ رواں برس ہونے والے الیکشن میں مہاتیر محمد نے نجیب ہارون کو شکست دی تھی۔

ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات: امریکا نے دنیا کو خبردار کردیا

تہران: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کاروبار کرنے پر دنیا بھر کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ایران پر سب سے زیادہ سخت پابندیاں لگائی ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ’ ایران پر پابندیوں کا باضابطہ آغاز ہوگیا ہے، یہ اب تک کی سب سے سخت پابندیاں ہیں اور نومبر میں یہ دوسری سطح تک پہنچ جائیں گی‘۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز امریکا کی جانب سے ایران پر دوبارہ معاشی پابندیاں عائد کردی گئیں تھیں، جس کے بعد تہران میں غصے اور خوف کا ملا جلا ردعمل سامنے آیا تھا۔

ان پابندیوں کے چند گھنٹے بعد جرمن کارمیکر دیاملر کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایران کے ساتھ اپنی کاروباری سرگرمیاں روک دی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’ جو ایران کے ساتھ کاروبارہ کرے گا وہ امریکا کے ساتھ اپنا کاروبار جاری نہیں رکھ سکے گا، میں دنیا سے سوائے امن کے علاوہ کچھ نہیں مانگ رہا‘۔

ایرانی دارالحکومت میں سڑکوں پر تعمیرانی کام کرنے والے ایک فرد کا کہنا تھا کہ ’ مجھے لگتا ہے کہ میری زندگی تباہ ہوگئی ہے، پابندیوں نے پہلے ہی لوگوں کی زندگیوں پر بری اثرات ڈالے ہیں، یہاں تک کہ میں کھانا خریدنا اور کرایہ ادا کرنا برداشت نہیں کرسکتا‘

امریکا کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں سے امریکی بینک نوٹس اور کاروں، کارپیٹس جیسے اہم اداروں کو نشانہ بنایا گیا ہے اور اس سے فوری طور پر معاشی بحران مزید شدت اختیار کرنے کا امکان ہے۔

ایرانی حکومت کی جانب سے غیر ملکی زرمبادلے کے قوانین میں نرمی اور لامحدود، ٹیکس فری سونے اور کرنسی کی درآمد کی اجازت کے بعد اتوار سے ایران کی مارکیٹ میں بہتری آئی اور اس میں 20 فیصد مضبوطی دیکھی گئی۔

تاہم دوسرا مرحلہ جو 5 نومبر کو ہوگا اس سے ایران کے تیل کے اہم شعبے کو ہدف بنائے گا اور یہ زیادہ نقصان دہ ثاب ہوگا، کیونکہ ایران کے کئی اہم صارف چین، بھارت اور ترکی نے اپنی خرید کم کرنے سے انکار کردیا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر نے ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکا کی پالیسی ہے کہ ایران پر زیادہ سے زیادہ معاشی دباؤ ڈالا جائے، سال 2015 کے جوہری معاہدے کے تحت ایران کی جوہری سرگرمیاں روکنے کے بدلے میں معاشی پابندیاں ہٹانا خوفناک یک طرفہ فیصلہ تھا کیونکہ اس سے مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات میں ایندھن استعمال کرنے کے لیے ایرانی حکومت کے پاس رقم کی ریل پیل ہوگئی تھی۔

امریکی صدر کے ایران پر معاشی پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کے متنازع فیصلے پر ایرانی صدر حسن روحانی نے رد عمل دیتے ہوئے اسے نفسیاتی جنگ قرار دیا تھا۔

پہلی مسلم خاتون امریکی کانگریس کی رکن بننے کیلئے تیار

امریکی ریاست مشی گن کی سابق قانون ساز راشدہ طلیب کانگریس کی نشست کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کی نامزدگی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئیں۔

نامزدگی کے بعد وہ امریکی کانگریس کی رکن بننے والی پہلی مسلم خاتون ہوں گی۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ‘اے پی’ کے مطابق ڈسٹرکٹ 13 میں ہونے والے انتخاب میں ری پبلکن اور کسی تیسری جماعت کے امیدوار نے حصہ نہیں لیا، جس کے باعث نومبر میں ہونے والے انتخاب میں راشدہ طلیب کی فتح کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

راشدہ طلیب اس نشست پر 1965 سے براجمان رکن جون کونیرز کی جگہ لیں گی، جنہوں نے گزشتہ سال دسمبر میں طبی مسائل اور ہراسانی کے الزامات پر عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

جون کونیرز کی مدت پوری کرنے کے لیے ہونے والے خصوصی انتخاب میں راشدہ طلیب اور ڈیٹ روئٹ سٹی کونسل کی صدر برینڈا جونز کے درمیان کڑا مقابلہ ہے۔

نومبر میں ہونے والے انتخاب میں جیتنے والے امیدوار کو کسی مخالفت کا سامنا نہیں ہوگا۔

آسٹریلیا میں پاکستانی طالب علم پر نسل پرستوں کا تشدد

نیو کاسل: پاکستانی طالب علم عبداللہ قیصر کو آسٹریلیا میں نسل پرست گروہ نے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق آسٹریلیا کی یونیورسٹی نیو کاسل میں زیر تعلیم 22 سالہ پاکستانی طالب علم عبد اللہ قیصر کو نسل پرست گروہ نے یونیورسٹی کے احاطے میں تشدد کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں پاکستانی طالب علم کی ناک کی ہڈی ٹوٹ گئی۔

پاکستانی طالب علم پر حملے کا واقعہ اُس وقت پیش  آیا جب وہ اپنی کار میں یونیورسٹی کی لائبریری کی جانب جا رہے تھے کہ اس دوران 6 سے 7 افراد پر مشتمل گروہ نے راستہ روک کرانہیں تشدد کا نشانہ بناڈالا

عبداللہ قیصر کو تشدد کا نشانہ بناتے وقت نسل پرست گروہ کے ارکان پاکستان مخالف نعرے لگا رہے تھے اور طالب علم کو پاکستان واپس جانے کا کہہ رہے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر یہ واقعہ نسل پرستی کا شاخسانہ محسوس نہیں ہوتا۔ سی سی ٹی وی فوٹیجز کی مدد سے ملزمان تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

عبداللہ قیصر گزشتہ برس فروری میں انجینیئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے آسٹریلیا پہنچے تھے۔

افغانستان میں سڑک کنارے نصب بم دھماکے سے 8 افراد ہلاک

بلخ: افغانستان کے صوبے بلخ میں سڑک کنارے نصب بم دھماکے سے 8 افراد ہلاک اور 6 زخمی ہوگئے۔

افغان میڈیا کے مطابق صوبے بلخ میں ضلع شولگرہ میں سڑک کنارے نصب بم دھماکے سے 8 افراد ہلاک ہوگئے جب کہ دھماکے میں 6 افراد زخمی بھی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا۔

صوبے بلخ کے پولیس چیف شرجان درانی نے کہا ہے کہ دھماکا اس وقت ہوا جب ایک کار سڑک کنارے نصب دھماکا خیز مواد سے ٹکرائی۔

مقبوضہ کشمیرمیں مسلح افراد کے حملے میں میجر سمیت 4 بھارتی فوجی ہلاک

سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں مسلح افراد کے حملے میں میجر سمیت 4 بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے جب کہ بھارتی فوج کی فائرنگ سے 2 کشمیری نوجوان بھی شہید ہوگئے۔

ضلع بانڈی پورہ کے علاقے گوریز میں بھارتی فوج گشت میں مصروف تھی کہ نامعلوم مسلح افراد نے گھات لگاکر اس پر حملہ کردیا۔ فائرنگ سے 4 بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے جن میں ایک میجر بھی شامل ہے۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی بھارتی فوج کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کا محاصرہ کرکے سرچ آپریشن شروع کردیا۔ بھارتی فوج نے گھر گھر تلاشی لی اور چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کیا۔ آپریشن کے دوران قابض فوج نے 2 کشمیری نوجوانوں کو عسکریت پسند قرار دے کر شہید کردیا۔

 حریت رہنماؤں سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور یسین ملک نے مشترکہ بیان میں میں آئین کے آرٹیکل 35 اے کے تحت مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کی سازش کے خلاف احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

بھارتی آئین کے تحت مقبوضہ کشمیر میں غیر کشمیریوں کو زمینیں خریدنے کی اجازت نہیں تاہم بھارتی حکومت نے آرٹیکل 35 اے کو ختم کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔

عدالت کی جانب سے بھارتی حکومت کی درخواست منظور کیے جانے کا امکان ہے۔ اس کے تنیجے میں بھارتی حکومت اسرائیل میں یہودی بستیوں کی طرز پر ملک بھر سے ہندوؤں کو لاکر مقبوضہ کشمیر میں آباد کرے گی اور مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل کردیا جائے گا۔

Google Analytics Alternative