بین الاقوامی

افغانستان میں غیر ملکی خاتون کا خودکش حملہ،5افرادہلاک

افغانستان کے مشرقی صوبہ ننگرہار میں غیر ملکی خاتون کے خودکش حملے میں افغان انٹیلی جنس کے اہلکار سمیت 4 افراد ہلاک ہوگئے۔جمعہ کو افغان میڈیا کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ واقعہ جلال آباد شہر میں پیش آیا جہاں ایک غیر ملکی خاتون خودکش بمبار نے خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا لیا۔صوبائی گورنر کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ دھماکے کے نتیجے میں 3 بچے اور ایک انٹیلی جنس اہلکار ہلاک ہوگیا۔خاتون بمبار کی شناخت نہیں ہوسکی تاہم صوبائی گورنر کے ترجمان کاکہنا تھاکہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب انٹیلی جنس اہلکار داروناتا کے علاقے میں غیر ملکی دہشتگردوں کی تلاش میں سرچ آپریشن کررہے تھے۔ننگرہار مشرقی افغانستان کا شورش زدہ صوبہ ہے جہاں بڑی تعداد میں عسکریت پسند گروپ سرگرم ہیں۔

امریکہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فراڈکا انکشاف

دنیا بھر کے افراد نے وہ منظر یقینا دیکھا ہوگا جب چاند پر بھیجے گئے امریکی مشن اپالو 11 میں شامل نیل ارمسٹرانگ نے اس سیارے پر پہلا قدم رکھا تھا۔ برسوں گزر جانے کے بعد بھی اس مشن پر سوالیہ نشانات ہیں کہ کوئی انسان کبھی چاند پر گیا ہی نہیں تھا۔ اب پتا چلا ہے کہ یہ سب کچھ جعلی تھا جو ہالی ووڈ کے ایک سٹوڈیو میں تیار کیا گیا تھا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق حال ہی میں ایک خفیہ ویڈیو ریلیز کی گئی ہے جس میں ہالی ووڈ کے انجہانی ہدایتکار سٹینلے کبرک نے تسلیم کیا ہے کہ 1969ئ میں چاند پر کوئی مشن نہیں گیا تھا بلکہ انہوں نے اس کی فلم بندی کی تھی۔ ہالی ووڈ کے ہدایتکار کی اس خفیہ ویڈیو کو 15 سال قبل فلم بند کیا گیا تھا۔ ان کی ویڈیو بنانے والے رپورٹر نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس ویڈیو کو ان کی وفات کے 15 سال بعد افشائ کرے گا۔ اس کے چند ہی دن بعد سٹینلے کبرک کا انتقال ہو گیا تھا۔ اس خفیہ ویڈیو میں انہوں نے تسلیم کیا کہ چاند کی تسخیر پر اٹھائے جانے والے تمام سوالات درست ہیں۔ یہ سب کچھ امریکی خلائی ادارے ناسا اور امریکی حکومت کی ایمائ پر کیا گیا تھا۔ اس وقت کے امریکی صدر جان ایف کینیڈی کو اس تمام معاملے کا علم تھا۔سٹینلے کبرک کا کہنا تھا کہ وہ امریکی عوام سے معذرت خواہ ہیں کیونکہ انہوں نے ان سے دھوکہ دہی کی ہے۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ میں نے امریکی حکومت اور ناسا کے کہنے پر مصنوعی چاند پر فلم بندی کی تھی۔ میں اس فراڈ پر امریکی عوام کے سامنے شرمسار ہوں۔

شمالی کوریا نے ہائیڈروجن ایٹم بم بنالینے کا دعویٰ کر دیا

شمالی کوریا نے ہائیڈروجن ایٹم بنالینے کا دعویٰ کرکہ ایک بار پھر دنیا میں ایک نئی بحث کا آغاز کردیا غیر ملکی میڈیا کے مطابق شمالی کوریا کے رہنما کم جانگ ان نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک نے جوہری صلاحیت حاصل کرلی ہے جس کے بعد ملکی دفاع کو ناقابل تسخیر بنالیا گیا ہے کم جانگ ان نے کہا ہے کہ جوہری ہتھیاروں سے نہ صرف ملک کے وقار میں اضافہ ہوا ہے بلکہ ہم خود کو ایک عظیم ایٹمی طاقت کے طور پر منظم کریں گے اور ساتھ ہی اپنی فوجی طاقت میں اضافہ کرتے رہیں گے تاہم اس بات کی تصدیق نہیں کی گئی کہ حقیققت میں شمالی کوریا نے ہائیڈروجن بم تیار کیا ہے یا نہیں ؟

یو رپی ملک نے وہ کر دکھا یا جو کو ئی مسلما ن ملک نہ کر سکا

کینیڈین وزیر اعظم نے آتے ہی اپنی عوام سمیت سب کے دل جیت لیے ہیں لیکن گذشتہ روز کینیڈین وزیر اعظم نے شامی مہاجرین کا بذاتٍ خود استقبال کر کے اپنی مقبولیت میں مزید اضافہ کر لیا ہے جس پر انہیں سراہا بھی جا رہا ہے . تفصیلات کے مطابق 163 شامی پناہ گزینوں کو لے کر ایک طیارہ گذشتہ روز کینیڈا کے شہر ٹورنٹو پہنچا جہاں کینڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈیو شامی پناہ گزینوں کے استقبال اور انہیں خوش ا?مدید کہنے کے لیے پہلے ہی سے موجود تھے . کینڈین وزیر اعظم کے اس اقدام کو خاصا سراہا گیا . کینیڈین وزیر اعظم کی شامی پناہ گزینوں کے استقبال کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر مقبول ہو گئی ہیں. کینیڈا کی حکومت نے 10ہزار مہاجرین کو پناہ دینے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے.

امریکہ کا شام پر سنگین الزام

امریکی محکمہ خزانہ کے ایک اعلیٰ عہدے دارایڈم زوبین نے سنگین الزام لگایاہے کہ داعش نے تیل کی تجارت سے پچاس کروڑ ڈالرز سے زیادہ دولت کما لی ہے۔اس تیل کی نمایاں مقدار شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کو فروخت کی گئی تھی جبکہ کچھ مقدار ترکی کی جانب گئی تھی،غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایک بیان میں محکمہ خزانہ کے عہدے دار ایڈم زوبین نے پہلی مرتبہ داعش کے تیل کے کاروبار سے متعلق تفصیل جاری کرتے ہوئے بتایاکہ داعش کے جنگجو شام میں تیل کی تنصیبات پر ہرماہ چارکروڑ ڈالرز مالیت کا تیل فروخت کررہے ہیںیہ تیل پھر ٹرکوں کے ذریعے شام کے خانہ جنگی کا شکار دوسرے علاقوں کی جانب لے جایا جاتا ہے اور بعض اوقات اس سے بھی آگے سرحد پار پہنچا دیا جاتا ہے،انھوں نے کہا کہ داعش تیل کی بہت بڑی مقدار کو بشارالاسد کی حکومت ہی کو فروخت کر رہے ہیں،انھوں نے کہا کہ یہ دونوں یعنی داعش اور اسد حکومت ایک دوسرے کے گلے کاٹ رہے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ ایک دوسرے سے تیل کا کروڑوں ڈالرز کا لین دین بھی کررہے ہیں،ان کا کہنا تھا کہ داعش کے زیر قبضہ علاقوں سے تیل کی بڑی مقدار بشارالاسد کی حکومت کے کنٹرول والے علاقوں میں پہنچتی ہے۔کچھ مقدار داعش کے کنٹرول والے علاقوں ہی میں استعمال ہوتی ہے،تیل کا پیداوار کا کچھ حصہ کرد علاقوں اور کچھ سرحد پار ترکی پہنچادیا جاتا ہے،زوبین کا کہنا تھا کہ یہ واضح نہیں کہ داعش کو تیل کی تجارت سے حاصل ہونے والے ماہانہ چار کروڑ ڈالرز ہی بڑھتے چلے جارہے ہیں۔البتہ انھوں نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ داعش نے تیل کی تجارت سے پچاس کروڑ ڈالرز سے زیادہ رقم اکٹھی کر لی ہے لیکن انھوں نے یہ نہیں بتایا ہے کہ یہ رقم کتنے عرصے میں اکٹھی کی گئی ہے۔

ترک صدر کا اہم اعلان ،ایران نے بھی حمایت کردی

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ عراق سے ترک فوجیوں کے انخلائ کا فی الحال کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جمعہ کو صدر طیب ایردوآن نے ایک نیوزکانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ترک فوجی عراق میں کرد ملیشیا البیشمرکہ کی تربیت کے لیے موجود ہیں اور ان کا کوئی جنگی مقصد نہیں ہے۔انھوں نے اپنے پہلے ایک بیان کا اعادہ کیا ہے کہ ترک فوجیوں کو عراقی وزیراعظم حیدر العبادی کی دعوت پر بھیجا گیا تھا۔انھوں نے مزید کہا کہ شمالی عراق میں فوجیوں کی کمی وبیشی کا انحصار البیشمرکہ کے تربیت پانے والے فوجیوں کی تعداد پر ہے اور فی الحال وہاں سے ہمارے فوجیوں کے انخلائ کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،صدر ایردوآن نے کہا کہ 21 دسمبر کو ترکی ،امریکا اور شمالی عراق کے کرد حکام کے درمیان سہ فریقی اجلاس ہوگا لیکن انھوں نے بغداد حکومت کے ساتھ بات چیت کے حوالے سے کچھ نہیں کہا ہے۔واضح رہے کہ شمالی عراق میں ترک فوجیوں کی تعیناتی کے معاملے پر دونوں ملکوں کے درمیان تنازعہ پیدا ہوچکا ہے اور عراقی وزیراعظم حیدر العبادی کا موقف ہے کہ ان فوجیوں کو ان کی رضا مندی کے بغیر بھیجا گیا ہے۔انھوں نے ترکی سے ان فوجیوں کو واپس بلانے کا مطالبہ کیا تھا۔عراق کی وزارت خارجہ نے بغداد میں تعینات ترک سفیر کو طلب کرکے ان سے اس معاملے پر احتجاج کیا تھا۔وزارت خارجہ کا بھی کہنا تھا کہ ترک فوجی بغداد کے علم میں لائے بغیر عراقی علاقے میں داخل ہوئے تھے۔طیب ایردوان کے اس بیان کاایرانی وزیرخارجہ نے خیرمقدم کیاہے جبکہ امریکہ نے بھی کہاہے کہ داعش کے خلاف ترک فوج کی کارروائیاں قابل ستائش ہیں

سعودی عرب سے پاکستانی ملازمین کے بری خبرآگئی

سعودی حکام کسی جواز کے بغیر کام کی جگہوں سے غیر حاضر غیر ملکی تارکین وطن کی ڈیپورٹیشن کا جائزہ لے رہے ہیں۔سعودی عرب میں پاکستانیوں سمیت دیگرممالک کے لاکھوں افراد مختلف محکموں اورفرموں میں کام کررہے ہیں۔ جمعہ کو سعودی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق سعودی پاسپورٹ محکمہ6 سال سے ملک میں قیام پذیر غیر ملکی کارکنوں اور تارکین وطن کی انگلیوں کے نشانات اور بائیو میٹرک ڈیٹا بھی لینا چاہتا ہے۔محکمہ کے ڈائریکٹر جنرل سلیمان الیحیی نے بتایا کہ غیر ملکی تارکین وطن اپنے معاہدہ کے مطابق صرف صحت یا کسی غیر معمولی مجبوری کے تحت کام کی جگہوں سے آجر کو مطلع کرکے چھٹی لے سکتے ہیں تاہم آجر کی طرف سے ناروا سلوک، نقصان پہنچانے یا ظلم کی صورت میں محکمہ لیبر یا پولیس سے رجوع کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ پاسپورٹ وزارت داخلہ اور وزارت محنت کی مدد سے کام کی جگہوں سے غیر حاضر غیر ملکی تارکین وطن کو ڈیپورٹ کرنے کا جائزہ لے رہا ہے

روس نے داعش کے ٹھکانوں پر خوفناک آگ برسا دی

داعش کے خلاف جاری جنگ میں روس نے پہلی دفعہ ایک ایسا ہتھیار استعمال کردیا ہے کہ جو ڈیڑھ ہزارمیل کی دوری سے شام میں داعش کے ٹھکانوں پر خوفناک آگ برسا رہا ہے۔ جریدے ڈیلی میل کے مطابق روسی وزیر دفاع سرگی شوئیگو نے تصدیق کردی ہے کہ بحیرہ روم میں موجود ان کی آبدوز سے داعش کے ٹھکانوں پر کروز میزائل داغے گئے ہیں۔ روس کے سرکاری ٹی وی پر صدر ولادی میر پیوٹن کی موجودگی میں وزیر دفاع نے بتایا کہ آبدوز روستوو آن ڈان سے فائر کئے گئے کیلیبرکروز میزائلوں نے داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ وزیر دفاع شوئیکو کے مطابق آبدوز سے چلائے گئے کروز میزائلوں نے داعش کے مرکز رقہ کے قریب دو ٹھکانوں کو تباہ کیا۔ میڈیا کو جاری کی گئی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ تین کروز میزائل وقفے وقفے سے آبدوز سے چلائے گئے جو پانی کی سطح کو چیرتے ہوئے فضا میں بلند ہوئے۔ ویڈیو میں ان میزائلوں کا نشانہ بنتے ہوئے ٹھکانے بھی دکھائے گئے ہیں۔روسی صدر نے میزائل حملے کے بعد جاری کئے گئے بیان میں ایک نئے خطرے کی طرف بھی اشارہ کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ روس کی طرف سے داغے گئے کیلیبر کروز میزائلوں کو ایٹمی ہتھیاروں کے ساتھ بھی لیس کیا جاسکتا ہے، البتہ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اس کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ بحیرہ روم میں موجود آبدوز کو داعش پر میزائل برسانے کے لئے استعمال کرنے سے پہلے روس بحیرہ کیسپیئن میں موجود اپنے بحری جہازوں اور ائیرفورس کو داعش پر حملوں کے لئے استعمال کررہا تھا۔

Google Analytics Alternative