بین الاقوامی

آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے امریکی جنرل جان نیکلسن اور امریکی خصوصی نمائندے رچرڈاولسن نے ملاقات

راولپنڈی چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نےامریکہ سے افغانستان میں ملا فضل اللہ و دیگر مطلوب دہشت گردوں کے ٹھکانوں پرکارروائی کا مطالبہ کر دیا ہے۔ انہوں نے بلوچستان میں ہونے والے ڈرون حملے پربھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پاک فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے امریکی جنرل جان نیکلسن اور امریکی خصوصی نمائندے رچرڈاولسن نے ملاقات کی۔ اس موقع پر آرمی چیف نے امریکی وفد سے افغانستان میں ملا فضل اللہ، پاکستان تحریک طالبان اور دیگر مطلوب دہشت گردوں کے ٹھکانوں پرکارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ آرمی چیف نے افغانستان میں ہونے والے ڈرون حملے پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ پاکستانی سلامتی پر حملہ ہے جس کے باعث باہمی تعاون پر اثرات مرتب ہوئے اور آپریشن ضرب عضب کی کامیابیوں پر بھی اس حملے کے منفی اثرات مرتب ہوئے۔
آرمی چیف نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے اور بہتری سرحدی نظام سے خطے میں استحکام آ سکتا ہے۔ ”را“ این ڈی ایس سمیت کسی بھی غیر ملکی ایجنسی کو دہشت گردی کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان طویل امن کیلئے افغانستان کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔

امریکہ کا وفد اچانک پاکستان روانہ اہم شخصیات سے ملاقاتیں کریں گے

واشنگٹن ایف سولہ کی عدم فراہمی اور بلوچستان میں ڈرون حملے کے بعد پاک امریکہ تعلقات میں کشیدگی اور تناو اپنے عروج کوپہنچ چکا ہے۔ اس کشیدگی پر قابو پانے اور تعلقات میں بہتری لانے کیلئے اوباما انتظامیہ نے دو اعلی عہدیدار پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع  کے مطابق امریکی صدر کے مشیر پیٹرلیوئے اور پاکستان وافغانستان کیلئے خصوصی نمائندے رچرڈ اولسن کل پاکستان پہنچیں گے۔امریکی حکام اسلام آباد میں سول اور عسکری قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔ملاقات میں پاک امریکہ تعلقات اور علاقائی امور پر خصوصی بات چیت ہوگی۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں کشیدگی پر اوباما انتظامیہ میں تشویش بڑھنے لگی۔اعلیٰ سفارتی ذرائع کے مطابق امریکی وفد اسلام آباد میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف ، مشیر خارجہ سرتاج عزیز اور وزیراعظم کے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر ناصر خان جنجوعہ سے ملاقات کریں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی اعلی حکام کے دورے میں پاک امریکہ تعلقات،علاقائی امور پر بات چیت کی جائے گی۔اہم ملاقات میں افغانستان میں قیام امن اور خطے میں استحکام سے متعلق اقدامات پر بھی بات چیت ہوگی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی وفد کی وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز شریف سے بھی ملاقات کا امکان ہے۔

بغداد میں خون کی ہولی 22 شہری جانبحق

بغداد کشیدگی کے شکار ملک عراق میں بم دھماکے معمول بن گئے،جمعرات کو عراقی دارالحکومت میں ایک کار بم دھماکے میں بائیس افراد بحق ہو گئے۔
ذرائع  کے مطابق پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعہ دارالحکومت کے علاقے ’نیو بغداد‘ میں پیش آیا جبکہ جاں بحق ہونے والے تمام لوگ عام شہری ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق واقعہ میں35 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں، جن میں سے کئی افراد کی حالت تشویشناک ہے۔ پولیس کے مطابق ابھی تک کسی بھی گروپ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم حکام کا خیال ہے کہ یہ دہشت گرد تنظیم ’bumb blast‘ کی کارروائی ہے۔

پاکستان کبھی نہ بھولو‘ تقریب میں بان کی مون کی خصوصی شرکت

جنیوا  پاکستان مشن برائے اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ’پاکستان امن مشن اہلکاروں ‘کا دن منایا گیا۔(Never Forget Pakistan)’پاکستان کبھی نہ بھولو‘ نامی اس تقریب میں پاکستان مشن کے تعاون سے پاکستانی امن مشن اہلکاروں کی شہادتوں اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے پہلی بار خصوصی ویب سائٹ لانچ کی گئی۔ویب سائٹ میں عام پاکستانی شہریوں،فوجی اور پولیس افسروں اور دہشت گردوں کے ساتھ لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والوں کو خصوصی طور پر خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔

امریکہ میں پروفیسر کو قتل کرنے والا بھارتی شہری نکلا

واشنگٹن  امریکہ میں پروفیسر کو قتل کرنے والا بھارتی شہری نکلا ۔

کیلفورنیا یونیورسٹی کے پروفیسر ولیم کلگ کو قتل کرنے والے ملزم کا تعلق بھارت سے ہے جس نے کمپیوٹر پاس ورڈ چرانے کے الزام میں فائرنگ کر کے پروفیسر کو قتل کردیا تھا ۔
لاس ایجنلس پولیس کا کہنا ہے کہ بھارتی شہری کا نام مانک سرکار ہے جس نے دوران تفتیش انکشاف کیا ہے کہ اس نے منی سوٹا کے علاقے میں ایک خاتون کو بھی قتل کیا تھا جبکہ مانک سرکار کے قبضے سے ہٹ لسٹ بھی برآمد ہوئی ہے جس کے مطابق ملزم ایک اور پروفیسر کو بھی قتل کرنا چاہتا تھا ۔
پولیس کا مزید کہنا ہے کہ مانک سرکار کا تعلق بھارتی ریاست مغربی بنگال سے ہے جس کیلفورنیا یونیورسٹی میں فائرنگ کر کے پروفیسر کو قتل کیا تھا تاہم اس کے بعد ملزم کو گرفتار کر لیا گیا تھا اورا س سے تفتیش جاری تھی جس میں اس نے اعتراف جر م کیا ۔

امریکہ کا اصل چہرہ سامنے آ گیا ، شام میں کردوں کی مدد شروع کر دی

بیروت ترکی اور شام میں موجود کرد جنگجوﺅں کو ترکی اپنے لیے بہت بڑا خطرہ سمجھتا ہے مگر امریکہ نے اپنے اتحادی ترکی کے تحفظات کو نظرانداز کرتے ہوئے شام کے کردوں کی مدد شروع کر دی ہے، جس پر ترکی کی تشویش انتہائی بڑھ گئی ہے۔واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی حمایت یافتہ کرد اور عرب جنگجوﺅں نے شام میں داعش کے زیرقبضہ شہر منبیج (Manbij)کی طرف پیش قدمی شروع کر دی ہے اور اس لڑائی میں امریکی فوج کے کمانڈوز بھی ان کے ہمراہ ہیں۔یہ شہر بھی داعش کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔یہ پیش قدمی دراصل ترکی کی سرحد پر واقع شہر الیپو کی طرف شروع کی گئی ہے۔ کرد جنگجو اس شہر پر دوبارہ قبضہ کرنا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں امریکی کمانڈوز ان کے ساتھ شانہ بشانہ لڑ رہے ہیں اور اس کے علاوہ امریکی جنگی طیارے بھی بمباری کرکے ان کی مدد کر رہے ہیں۔ یہ شہر شام کے صوبے الیپو میں واقع ہے جو ترکی کا سرحدی علاقہ ہے۔ امریکی فوجی ترجمان کرنل کرس گیرور (Chris Garver) کا کہنا ہے کہ ”کردجنگجو اور امریکی کمانڈو منبیج شہر کو فتح کرتے ہوئے ترکی کے بارڈر کے ساتھ ساتھ جائیں گے اور بالآخر داعش کے گڑھ رقہ پر حملہ آور ہوں گے۔ منبیج پر کردوں کا قبضہ ہونے سے داعش کی سپلائی لائن کٹ جائے گی جس سے داعش مشکلات کا شکار ہو گی اور اس پر دباﺅ بڑھے گا۔“
دوسری طرف منبیج پر اس حملے سے ترکی کے بپھر جانے کے امکانات بھی ہیں۔ ترکی کو خدشات لاحق ہیں کہ کرد جماعت کردش پیپلز پروٹیکشن یونٹ شام کے علاقے میں غالب آ جانے سے ترکی کے اندر موجود باغی کردوں کو تقویت ملے گی۔ ماضی میں ترکی کی طرف سے شامی کردوں پر ترک کرد باغیوں کی مدد و حمایت کے الزامات بھی عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ترکی کا مطالبہ ہے کہ کردش پیپلزپروٹیکشن یونٹ کو دہشت گرد گروپ قرار دیا جائے مگر امریکہ ترکی کے مطالبے کے بالکل برعکس اس گروپ کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔

پٹھان کوٹ پاکستان کے ملوث ہونے کے ثبوت نہیں ملے،بھارتی وزارت خارجہ کو یہ بیان ہضم نہ ہوا

نئی دلی بھارتی وزارت خارجہ ہٹ دھرمی سے باز نہ آئی اور پٹھان کوٹ حملے پر پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانے پر بضد ہے۔ ذرائع  کے مطابق بھارتی وزارت خارجہ نے تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے کے ڈی جی کا بیان مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ پٹھان کوٹ حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کے ثبوت موجود ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھارتی انویسٹی گیشن ایجنسی این آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل نے پٹھان کوٹ حملے سے متعلق پاکستان کو کلین چٹ دی اور کہا کہ اس حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کے ثبوت نہیں ملے لیکن بھارتی وزارت خارجہ کو یہ بیان ہضم نہیں ہو رہا اور وہ پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانے پر بضد ہے۔

پٹھان کوٹ حملے میں پاکستان کو کلین چٹ دے دی گئی،بھارت ایک مرتبہ پھر مایوس

نئی دہلی بھارتی تحقیقاتی ایجنسی نے پٹھان کوٹ حملے میں پاکستان کو کلین چٹ دے دی ۔ذرائع  کے مطابق بھارتی تحقیقاتی ایجنسی کے سربراہ شرد کمار نے کہا ہے کہ پٹھان کو حملے میں پاکستانی حکومت یا ایجنسی کی سازش کے شواہد نہیں ملے ۔
واضح رہے کہ بھارتی میڈ یا نے پٹھان کوٹ حملے کا الزام پاکستان پر لگا یا تھا اور بھارت کے کئی رہنما بھی اس حوالے سے پاکستان پر الزامات لگاتے رہے ہیں ۔

Google Analytics Alternative