بین الاقوامی

لندن میں بک شاپ پر ٹرمپ حامیوں کا حملہ، اسلامی کتابیں پھاڑ دیں

لندن: برطانیہ کے دارالحکومت میں بک شاپ پر ٹرمپ حامیوں نے حملہ کرکے اسلامی کتابیں پھاڑ دیں۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق برطانیہ میں مذہبی شدت پسند گروپ نے ٹرمپ کی حمایت میں لندن کے وسط میں واقع برطانیہ کی سب سے بڑی کتابوں کی دکان پر حملہ کردیا۔ برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں مذہبی شدت پسندوں نے ٹرمپ کی حمایت میں احتجاج کرتے ہوئے ملک کی سب سے بڑی بک شاپ پر حملہ کرکے اسلامی کتابوں کو پھاڑ دیا۔

]

برازیل نے وینزویلا کی سرحد مختصر بندش کے بعد کھول دی

برازیل نے وینزویلا میں جاری معاشی اور سیاسی بحران کے باعث شمالی سرحد کو مختصر مدت کے لیے بند رکھنے کے بعد دوبارہ کھول دیا۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق وینزویلا میں اقتصادی بحران کے باعث عوام تیزی سے برازیل کا رخ کرنے لگے تاہم برازیل نے شمالی سرحد چند گھنٹے بند رکھنے کے بعد تارکین وطن کے لیے کھول دی۔

قبل ازیں برازیل کی سپریم کورٹ نے اس وقت تک سرحد بند رکھنے کا حکم دیا تھا، جب تک برازیل بڑی تعداد میں تارکین وطن کی نقل وحمل کے لیے تیار نہیں ہوجاتا۔

سپریم کورٹ کی جج روزا ویبر نے رات گئے جاری کیے گئے اپنے حکم نامے میں کہا تھا کہ ’تارکین وطن کو پناہ دینے میں مشکلات کے باعث یہ انصاف نہیں کہ سرحد بن کرنے کا آسان راستہ اپنایا جائے‘۔

برازیل کے ایمیزون علاقے میں واقع رورائما ریاست کے حکام کا کہنا تھا کہ وینزویلا سے تعلق رکھنے والے 500 افراد روزانہ کی بنیاد پر سرحد عبور کررہے ہیں تاہم شمالی سرحد کو گزشتہ روز چند گھنٹے بند رکھنے کے بعد وینزویلا پناہ گزینوں کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا تھا۔

بعد ازاں ہائی کورٹ جج کی جانب سے جاری عارضی احکامات میں کہا گیا تھا کہ برازیل کی سرحد یہاں کے شہریوں اور دیگر ممالک کی شہریت رکھنے والے لوگوں کے لیے کھلی رہے گی جبکہ سرحد کو وینزویلا واپس جانے والے افراد کے لیے بھی کھلا رکھنے کا حکم دیا گیا۔

واضح رہے کہ 2 روز قبل برازیل کے دارالحکومت کراکس میں فوجی پریڈ کے دوران صدر نکولس مدورو مبینہ طور پر ڈرون حملے میں محفوظ رہے تھے جبکہ اس حملے میں نیشنل گارڈ کے 7 اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں : وینزویلا میں انتخابات، نکولس مادورو فاتح قرار

مذکورہ حملے کے بعد صدر نکولس مدورو نے سرکاری ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ ’حملہ مجھے قتل کرنے کے لیے کیا گیا اور انہوں نے مجھے مارنے کی کوشش کی‘۔

نکولس مدورو نے اپنے اوپر ہونے والے حملے کی ذمہ داری کولمبیا پر عائد کی اور کہا تھا کہ ’امریکا میں بیٹھے بعض نامعلوم لوگوں نے حملے کی فنڈنگ کی‘۔

دوسری جانب کولمبیا نے وینزویلا کے صدر کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی تردید کی، کولمبیا کے ایک افسر نے بتایا تھا کہ نکولس مدورو کے الزامات ’بے بنیاد‘ ہیں۔

گزشتہ روز وینزویلا کے وزیر داخلہ نے بتایا تھا کہ صدر نکولس مدورو پر مبینہ ڈرون حملے میں ملوث 6 افراد کو گرفتارکرلیا گیا ہے انہوں نے سرکاری ٹی وی پر جاری بیان میں ایک مرتبہ پھر کولمبیا کو اس حملے کا ذمہ دار قرار دیا۔

خیال رہے کہ رواں برس مئی میں منعقد انتخابات میں صدر نکولس مدورو ایک مرتبہ پھر آئندہ 6 برس کے لیے ملک کے صدر منتخب ہوئے۔

وینزویلا تیل برآمد کرنے والے ممالک میں شامل ہے جہاں سیاسی بحران کے ساتھ معیشت کی صورتحال بھی ابتر ہے جس کے باعث وینزویلا کا عالمی دنیا کے ساتھ رابطہ بہت کم ہے۔

وینزویلا کے صدر پر ہونے والے حملے نے ملک میں جاری بحران کو مزید بڑھا دیا ہے جس کے باعث عوام کی بڑی تعداد برازیل اور دیگر ممالک کا رخ کررہی ہے۔

جرمنی نے غلطی سے یوغر شہری کو چین منتقل کردیا

برلن : جرمن حکام نے انتظامی غلطی کے باعث یوغر شہری کو ملک بدر کرکے چین روانہ کردیا۔

جرمن میڈیا کے مطابق جرمنی میں غیر قانونی تارکین وطن کو بے دخل کیے جانے کے عمل میں جرمنی نے یوغر شہری کو چین بھیج دیا۔

جرمن پبلک براڈ کاسٹر بی آر کے مطابق 22 سالہ یوگر نوجوان کی پناہ گزینی سے متعلق درخواست پر 3 اپریل کو سماعت ہونی تھی لیکن فیڈرل آفس فار مائیگریشن اینڈ ریفیوجز ( بی اے ایم ایف) کی جانب سے بھیجا گیا فیکس بویریا میں مقامی حکام تک نہیں پہنچ سکا اور انہوں نے یوغر شخص کو بیجنگ لے جانے والے جہاز میں سوار کرادیا۔

میونخ حکام نے بی آر کو بتایا کہ ’ہم تلاش کے باوجود فیکس کو ڈھونڈنے میں ناکام تھے‘

انہوں نے کہا کہ ’ہم شدید مذمت کرتے ہیں کہ پناہ گزینی کی درخواست کے باوجود شہری کی واپسی کو یقینی بنایا گیا۔

حکام نے بتایا کہ بی اے ایم ایف انفرادی کیسز پر مبنی تفصیلات ظاہر نہیں کرے گا لیکن ایسے حالات میں ملک بدری ناقابل قبول ہوگی۔

یوغر پناہ گزین کے وکیل لیو بورگ من نے کہا کہ ملک بدری کے بعد سے انہیں اپنے مؤکل کی کوئی خبر نہیں۔

انہوں نے بی آر کو بتایا کہ ’ وہ زندہ بھی ہے یا نہیں،اس بات کا مجھے علم نہیں ،ہمیں ڈر ہے کہ اسے حراست میں لے لیا گیا ہے۔

چین میں موجود یوغر مسلم اقلیت کا کہنا ہے کہ انہیں مذہبی اور ثقافتی دباؤ کا سامنا ہے۔

یوغر تارکینِ وطن کے اراکین کا کہنا ہے کہا ان کے رشتہ داروں کو بے ضرر اعمال جیسے رمضان میں دوستوں کو مبارکباد بھیجنے یا پاپولر میوزک ڈاؤن لوڈ کرنے پر گرفتار کرلیا جاتاہے۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ چینی حکام نے ہزاروں مسلمانوں کو ماورائے عدالت سیاسی تعلیمی سینٹر کے خفیہ نیٹ ورک میں قید کیا یوا ہے جہاں قیدیوں کو زبان اور نظریاتی تربیت دی جاتی ہے اور فوجی طرز پر مبنی مشقوں میں حصہ لینے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

جرمن حکام کی انتظامیہ کی جانب سے کئی غیرقانونی ملک بدریوں کے بعد یہ کیس منظر عام پر آیا ہے۔

جولائی میں جرمن عدالت کی جانب سے اسامہ بن لادن کے مبینہ باڈی گارڈ کو تیونس بھیجنے کے چند گھنٹوں بعد ہی یہ کہہ کر جرمنی واپس بھیج دیا گیا کہ یہ ملک بدری غیر قانونی ہے اور اسے وہاں تشدد کا سامنا ہوسکتا ہے۔

جولائی ہی میں وزیرداخلہ کو ایک پناہ گزین کو افغانستان بے دخل کیے جانے پر مسائل کا سامنا کرناپڑا جبکہ اس کی بے دخلی کے خلاف قانونی درخواست پر سماعت جاری تھی۔

اس سے قبل جون میں ایک اور افغان شخص کو غیر قانونی طور پر بے دخل کیے جانے کے بعد جرمنی میں دوبارہ داخل ہونے کی اجازت دی گئی کیونکہ وہ قانونی طور پر پناہ حاصل کرچکا تھا۔

سعودی عرب نے کینیڈا کیلئے پروازیں بند کردیں

ریاض: سعودی عرب نے کینیڈا سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کے بعد پروازیں بھی معطل کردی ہیں۔

سعودی عرب اور کینیڈا کے درمیان جاری کشیدگی شدت اختیار کرگئی ہے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق سعودی ایئر لائن کی کینیڈا جانے اور آنے والی تمام پروازیں بند کردی گئی ہیں۔ کینیڈا میں زیر تعلیم سعودی طلبہ کو بھی واپس بلانے اور دوسرے ممالک میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

کینیڈا کی وزیرخارجہ کرسٹیا فری لینڈ نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں انسانی حقوق کیلیے کھڑے رہیں گے اور حقوق نسواں کے لیے آواز بلند کردیں گے۔ کینیڈین وزیر خارجہ نے کہا کہ سعودی طلبہ کا کینیڈین یونیورسٹیز سے انخلا زیادتی ہے جس کا مطلب انہیں تعلیم سے دور کرنا ہے۔

سعودی عرب نے کینیڈا پر اندرونی معاملات میں مداخلت کا الزام لگاتے ہوئے سفارتی و تجارتی تعلقات معطل کردیے ہیں۔  سعودی حکومت کینیڈا کی سفیر کو ملک بدر کرتے ہوئے اپنا سفیر بھی واپس بلالیا۔ کینیڈا نے سعودی عرب سے انسانی حقوق کے کارکنوں کی سزا ختم کرکے رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

سعودی وزیر خارجہ نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب نہ دوسروں کے داخلی معاملات میں مداخلت کرتا ہے اور نہ ہی اپنے اندرونی معاملات میں کسی ملک کی مداخلت برداشت کرتا ہے۔

امریکا نے ایران پر ایک بار پھر اقتصادی پابندیاں عائد کردیں

واشنگٹن: امریکا نے ایران پر ایک بار پھر اقتصادی پابندیاں عائد کردیں جن کا اطلاق آج رات سے ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران سے نیا جوہری معاہدہ کیا جائے گا جس کے لیے امریکا تیار ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے ایران پر دوبارہ معاشی پابندیاں عائد کردی ہیں جن کا مقصد ایران کو ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔ خبررساں ادارے اے پی کے مطابق ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کے پہلے مرحلے کا اطلاق آج رات سے ہوگا۔

ایران پر پابندیوں کا اطلاق کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی حکومت پر معاشی دباؤ برقرار رکھیں گے جس کا مقصد ایرانی حکومت سے ایک نیا اور موثر جوہری معاہدہ کرنا ہے جس کے ذریعے ایران کی تخریبی کارروائیاں ختم کی جاسکیں جن میں اس کا بیلسٹک میزائل پروگرام اور دہشت گردوں کی سہولت کاری شامل ہیں۔

 واضح رہے کہ 2015ء میں امریکی صدر باراک اوباما اور ایرانی حکومت میں جوہری معاہدہ ہوا تھا اور اسی دن ایران پر سے معاشی پابندیاں ختم کردی گئی تھیں تاہم نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے کو رواں برس مئی میں غیر موثر کردیا تھا اور کہا تھا کہ یہ ایک غیر فعال معاہدہ ہے جس میں ایران کو نوازا گیا۔

ریکس ٹلرسن نے سعودی عرب اور امارات کو قطر پر حملہ کرنے سے روک دیا

سابق امریکی سیکریٹری خارجہ ریکس ٹلرسن نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو قطر کے خلاف فوجی کارروائی کرنے سے روک دیا۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے گزشتہ برس جون میں قطر سے سفارتی تعلقات خراب ہونے پر فوجی کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق تحقیقاتی خبروں کی ویب سائٹ دی انٹرسیپٹ کو اطلاعات موصول ہوئیں کہ سعودی عرب اور امارات نے سعودی فوجی دستوں اور امارات کی فوجی قوت کے ساتھ مل کر قطر کے دارلحکومت پر قبضہ کرنا تھا۔

امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی کے موجودہ اور دو سابق اعلیٰ حکام کے مطابق سعودی عرب اور امارات کے فرمانرواؤں کی جانب سے وسیع پیمانے پر بغاوت کی منصوبہ بندی کی گئی تھی ’ جس پر آئندہ چند ہفتوں میں عملدرآمد کیا جانا تھا‘۔

انہوں نے بتایا کہ سعودی فورسز نے قطری امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی کے خلاف ال عدید ایئربیس پر حملہ کرکے دوحہ پر قبضہ کرنا تھا ۔ یہ علاقہ امریکی ایئر سینٹرل کمانڈ فورس کا گڑھ ہے جہاں تقریباً 10 ہزار امریکی دستے تعینات ہیں۔

ال عدید امریکا کا اہم ترین ملٹری بیس ہے جہاں سے مشرق وسطی میں آپریشن کیے جاتے ہیں۔

قطری انٹیلی جنس حکام نے ریکس ٹلرسن کو اس منصوبے سے آگاہ کیا تو انہوں نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان کو قطر پر حملہ کرنے سے روک دیا۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے امریکی سیکریٹری دفاع جیمز میٹس کو بھی قطری ریاست پر حملے کے خطرے سے آگاہ کردیا۔

ریکس ٹلرسن کی جانب سے قطر پر حملہ نہ کرنے کے دباؤ پر شاہ سلمان اپنے عزائم سے پیچھے ہٹ گئے کیونکہ اگر سعودی عرب قطر پر حملہ کرتا ہے تو یہ سعودی امریکی تعلقات کے لیے نقصان دہ ہوگا۔

قطر سعودی عرب تنازع

گزشتہ برس 5 جولائی کو سعودی عرب اور خلیجی تعاون کونسل کے ممالک نے قطر پر خطے میں دہشت گردی پھیلانے کا الزام لگاتے ہوئے قطر سے ہر قسم کے تعلقات منقطع کردیے تھے، تاہم قطر نے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کی۔

سعودی حکومت نے الزام عائد کیا تھا کہ ‘قطر نے خطے کے امن و استحکام کو متاثر کرنے کے لیے اخوان المسلمون ، داعش اور القاعدہ جیسے دہشت گرد اور فرقہ وارانہ گروپوں کی حمایت کی اور میڈیا کے ذریعے ان کے پیغامات کی تشہیر کی‘۔

سعودی حکومت کے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے بحرین، مصر، متحدہ عرب امارات، یمن، لیبیا، مصر اور مالدیپ نے بھی قطر سے سفارتی تعلقات ختم کردیے تھے۔

سفارتی تعلقات ختم کیے جانے کے ساتھ قطر کو سعودی سربراہی میں بننے والے اسلامی عسکری اتحاد سے بھی خارج کردیا گیا تھا، جبکہ یمن لڑائی میں شامل قطری فوج کو بھی واپس بھیج دیا گیا تھا۔

قطر سے تعلقات ختم کرنے والے ممالک نے بظاہر صرف اخوان المسلمون اور ایران کے لیے دوحہ کی جانب سے نرم رویہ اختیار کرنے کو ہی سبب بنا کر تعلقات ختم کیے تھے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق قطر نے کوئی مستند دلائل پیش کرنے کے بجائے روایتی طریقے سے ان الزامات کو صرف بے بنیاد قرار دینے پر اکتفا کیا تھا۔

رواں سال جون میں بھی سعودی عرب نے روس سے میزائل خریدنے پر قطر کو فوجی کارروائی کی دھمکی دی تھی۔

انڈونیشیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 100 سے تجاوز کرگئی

جکارتا: انڈونیشیا میں سیاحت کے لیے مشہور جزیرے لومبوک میں زلزلے سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 100 سے تجاوز کر گئی ہے۔

عالمی میڈیا کے مطابق انڈونیشیا کے جزیرے بالی کے برابر میں واقع ایک اور سیاحتی جزیرے لومبوک میں زلزلہ آیا ہے جس کی وجہ سے متعدد عمارتوں اور گھروں کو نقصان پہنچا۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 7 اعشاریہ صفر ریکارڈ کی گئی جب کہ اس کی گہرائی 10 کلومیٹر زیر زمین تھی۔

انڈونیشیا کی وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ زلزے سے متاثرہ 500 سے زائد افراد کو مختلف اسپتالوں میں لایا گیا ہے جن میں سے 79 افراد کی حالت نازک بتائی جارہی ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے جب کہ 100 سے زائد زخمیوں کو طبی امداد کے بعد گھر جانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

 زلزلے کی وجہ سے جزیرے پر نظام زندگی معطل ہوکر رہ گیا، متعدد عمارتوں اور گھروں کو نقصان پہنچا، بجلی کا نظام معطل ہوگیا۔ اب بھی ساحل سمندر اور دیگر سیاحتی مقامات پر سیاحوں کی بڑی تعداد امداد کی منتظر ہے جب کہ کئی دیہات مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں جہاں سے لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

Indoneshia-earth-quick-lombok-3

دوسری جانب انڈونیشین ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی نے زلزلے کے بعد سونامی کی وارننگ جاری کرتے ہوئے امدادی اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کردی تاہم اس بات کو کئی گھنٹے گزر چکے ہیں۔ زلزلے کے جھٹکے برابر میں واقع جزیرے بالی پر بھی محسوس کیے گئے تاہم وہاں شدت کم تھی۔

Indoneshia-earth-quick-lombok-2

زلزلے کے جھٹکے کے حوالے سے مقامی افراد نے ٹوئٹر پر لکھا  کہ انہوں نے کچھ دیر قبل زلزلے کے زبردست جھٹکے محسوس کیے اور ان جھٹکوں کا دورانیہ 15 سیکنڈ سے زائد تھا۔

واضح رہے کہ بالی کے مشرق میں واقعے اس جزیرے لومبوک میں گزشتے ہفتے بھی 6 اعشاریہ 4 شدت کے زلزلے کے باعث 16 افراد ہلاک اور سیکڑو ں زخمی ہوگئے تھے۔

روس کی پاکستان کو ایس یو 35 لڑاکا طیاروں کی پیشکش

روس بھارتی رویے کی وجہ سے پاکستان کے قریب ہو رہا ہے اور اس نے پاکستان کو ایس یو 35 لڑاکا طیارے فروخت کرنے کی پیشکش کی ہے۔

روس کے سینٹر فار اینالسس آف اسٹریٹجی اینڈ ٹیکنالوجیز کے ڈپٹی ڈائریکٹر کانسٹینٹن میکنکو کا کہنا ہے کہ روس نے اب پاکستان کو ایس یو 35 لڑاکا طیاروں کی پیشکش کی ہے۔

انہوں نے کہ روس بھارت کو ناراض نہیں کرنا چاہتا، تاہم ففتھ جنریشن پروگرام کے متعلق بھارتی رویے کی وجہ سے روس کو پاکستان میں ایس یو لڑاکا طیاروں کو فروغ دینا چاہیے۔ دوسری صورت میں، چین، جنوبی کوریا یا ترکی کی کمپنیاں تقریباً پانچ برس میں اس مارکیٹ پر چھا جائیں گی۔

پاکستان کا ملٹری طیاروں کا فلیٹ امریکی اور چینی طیاروں پر مشتمل ہے۔ اگر پاکستان روس سے ایس یو 35خریدنے میں دلچسپی رکھتا ہے تو بھارت اس پیش رفت سے خوش نہیں ہوگا۔ روس پاکستان کے ساتھ ایم آئی 8 اورایم آئی17ہیلی کاپٹرز میں تعاون کررہا ہے جس سے بھارت کو کوئی مسئلہ نہیں۔

اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے مطابق 2000 سے 2014 تک دنیا بھر میں سب سے زیادہ اسلحہ خریدنے والا ملک بھارت تھا ،جس میں روسی اسلحے کا75 فی صد حصہ تھا۔

2015 میں بھارت کو روسی ہتھیاروں اور فوجی سامان کی ترسیل کا تخمینہ 4 ارب ڈالر تھا۔ 2016 میں دو ارب ڈالر کے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے گئے۔ 2017 میں روسی ہتھیاروں کی مجموعی خریداری 4 ارب ڈالر سے زیادہ تھی۔ تاہم بعد میں بھارت نے نہ صرف روس بلکہ اسرائیل ، یورپی یونین اور امریکا سے بھی سے ہتھیار خریدنے کی کوشش کی۔

جولائی کے آخر میں بھارتی وزیردفاع نرملہ سیتارمن نے کہا تھا کہ بھارت اب رشئین انڈیا ففتھ جنریشن فائٹر ائیرکرافٹ پروگرام (ایف جی ایف اے) میں شریک نہیں۔ بھارتی فضائیہ کی اس موضوع پر خصوصی رپورٹ میں کہاگیا کہ یہ پروگرام ہماری

Google Analytics Alternative