بین الاقوامی

شمالی کوریا کا ’عظیم راکٹ لانچر‘ کا کامیاب تجربہ

پیانگ یانگ: شمالی کوریا نے دشمن کے اہداف کو انتہائی سرعت اور مکمل خاموشی سے ایک سے زائد میزائل کے ساتھ نشانہ بنانے والے ’عظیم راکٹ لانچرز‘ کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔

شمالی کوریا کے سرکاری خبر رساں ادارے کورین سینٹرل نیوز ایجنسی نے انکشاف کیا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی سے لیس راکٹ لانچرز کے تجربات کے تسلسل میں سائنس دانوں نے ایک ساتھ کئی میزائلوں کو فائر کرنے والے ’سپر لارج راکٹ لانچر‘ کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔

یہ عظیم راکٹ لانچر بہ یک وقت کئی میزائل ہدف کی جانب پھینکنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کی خاص بات ہدف کو انتہائی تیزی سے اور بغیر آواز کے نشانہ بنانا ہے اور اس طرح ہدف کو سنبھلنے کا موقع بھی نہیں ملتا۔ شمالی کوریا کے سربراہ نے اس تجربے کو بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔

دوسری جانب پڑوسی حریف ملک جنوبی کوریا نے میڈیا کو بتایا تھا کہ شمالی کوریا کی جانب سے ہماری سرزمین پر درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے 2 میزائل داغے گئے تھے۔ جاپانی حکام کے مطابق یہ بیلسٹک میزائل تھے۔ امریکا سے مذاکرات میں تعطل کے بعد سے شمالی کوریا کی ہتھیاروں کی تیاری میں تیزی آگئی ہے۔

ہم جنس پرستی پر مودی کے قریبی دوست کی برطانوی پارلیمنٹ کی رکنیت معطل

لندن: برطانیہ میں منشیات کی خرید و فروخت اور ہم جنس پرستی سے متعلق تحقیقات کے لیے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے قریبی ساتھی اور رکن پارلیمان کیتھ واز کی رکنیت 6 ماہ کے لیے معطل کردی گئی۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق لیبر پارٹی سے منتخب ہونے والے رکن پارلیمان کیتھ واز کو اپنے فلیٹ پر دو کم عمر ہم جنس پرستوں سے کوکین خریدنے اور ہم جنس پرستی کے لیے رقم کی ادائیگی پر تحقیقات کا سامنا ہے۔

ہاؤس آف کامن کی کمیٹی نے تحقیقاتی رپورٹ جاری کی ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کیتھ واز قواعد و ضوابط اور ضابطہ اخلاق کی سنگین خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے ہیں۔ کیتھ واز نے 2016ء میں نہ صرف اعلیٰ قسم کی کوکین خریدی بلکہ ہم جنس پرستی کے لیے رقم بھی ادا کی اس لیے انہیں 6 ماہ کے لیے معطل کیاجاتا ہے۔

Untitled-3

کیتھ واز کا تعلق تو لیبر پارٹی سے ہے تاہم وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے قریبی دوست ہیں۔ وہ مودی کے لندن میں قیام و طعام کے سلسلے میں کافی متحرک رہتے ہیں اور دورہ لندن کے دوران مودی زیادہ تر وقت انہی کے ساتھ گزارتے ہیں۔

چین نے مقبوضہ کشمیر کی تقسیم کو غیر قانونی قرار دے دیا

بیجنگ: چین نے مقبوضہ کشمیر کی دو حصوں میں تقسیم کو غیر قانونی اور باطل عمل قرار دے دیا۔

بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر ریاست کو دو حصوں جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم  کے باضابطہ عمل پر چین کا ردعمل سامنے آگیا ہے۔چینی وزارت خارجہ کے ترجمان جینگ شوانگ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت نے آج باضابطہ طور پر نام نہاد جموں و کشمیر اور لداخ یونین کے علاقوں کا اعلان کیا جس میں چین کے کچھ علاقے بھی شامل ہیں جنہیں بھارت نے اپنے دائرہ اختیار میں شامل کیا ہے۔

جینگ شوانگ نے کہا کہ چین ان اقدامات  کی بھرپور مخالفت کرتا ہے جس میں بھارت نے یک طرفہ طور پر اپنے مقامی قوانین اور انتظامی تقسیم کو تبدیل کر کے چین کی خود مختاری کو چیلنج کیا ہے جس سے چین کی سالمیت متاثر ہوگی۔

واضح رہے کہ مودی سرکار 5 اگست کے سیاہ فیصلے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے دوسرے مرحلے کے تحت آج سے جموں و کشمیر اور لداخ کو دو حصوں میں تقسیم کرکے بھارتی قوانین نافذ کردیے۔

نئے قوانین کے تحت دیگر ریاستوں کے ہندو شہریوں کو مقبوضہ  کشمیر میں جائیداد خریدنے اور مستقل رہائش کا حق حاصل ہوگیا ہے۔

داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کیخلاف امریکی آپریشن کی ویڈیو جاری

واشنگٹن: امریکی محکمہ دفاع پنٹاگون نے شام میں دولت اسلامیہ (داعش) کے سربراہ ابو بکر البغدادی کے خلاف کارروائی کی ویڈیو جاری کردی۔

امریکی اسپیشل فورسز نے شمالی شام میں آپریشن کرتے ہوئے داعش کے سربراہ ابو بکر البغدادی، دو بیویوں اور 3 بچوں سمیت متعدد عسکریت پسندوں کو ہلاک کردیا تھا۔ بغدادی نے اپنی پناہ گاہ کے لیے شمالی شام میں ایک الگ تھلگ رہائشی کمپاؤنڈ کا انتخاب کیا تھا۔

پنٹاگون نے اس کارروائی کے بعض مناظر پر مشتمل ویڈیو جاری کی ہے جن میں دیکھا جاسکتا ہے کہ امریکی کمانڈوز البغدادی کے کمپاؤنڈ کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ دوسری ویڈیو میں داعش کے جنگجو ایک جگہ اکٹھے ہوتے ہیں جنہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے فضائی حملے میں نشانہ بنایا جاتا ہے۔

امریکی سنٹرل کمانڈ کے کمانڈرجنرل کینتھ میک کینزی نے بتایا کہ ابوبکر البغدادی نے آپریشن کے دوران خود کو بارودی جیکٹ کے دھماکے میں ہلاک کیا اور شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) سے حاصل کردہ معلومات سے اس آپریشن میں مدد ملی۔

امریکی ایوان نمائندگان میں ترکی کو نسل کش قرار دینے کی قرارداد منظور

واشنگٹن: امریکا کے ایوان نمائندگان نے سرکاری سطح پر سلطنت عثمانیہ کو نوے کی دہائی کے آغاز سے وسط تک آرمینیائی قوم کی نسل کشی کا مرتکب قرار دے دیا ہے جب کہ کردوں کے خلاف فوجی کارروائی پر ترکی پر پابندیاں عائد کرنے کی بھی سفارش کی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی ایوان نمائندگان میں 1915 سے 1923 کے درمیان 15 لاکھ سے زائد آرمینیائی مرد، خواتین اور بچوں کے قتل عام پر سلطنت عثمانیہ کو مرتکب ٹھہرانے کے لیے قرارداد پیش کی گئی جس کی حمایت میں 405 ووٹ پڑے جب کہ مخالفت میں صرف 11 ووٹ آئے، علاوہ ازیں امریکی ایوان نمائندگان نے کردوں کیخلاف فوجی کارروائی پر ترکی پر پابندیاں عائد کرنے کی سفارش بھی کی ہے۔

امریکی ایوان نمائندگان میں ترکی کو آرمینیائیوں کی نسل کشی پر ترکی کی مذمت سے متعلق قرارداد پیش کرنے کے لیے 19 برس سے کوششیں جاری تھیں جو کسی نہ کسی مرحلے پر دم توڑ جاتی تھیں تاہم اس بار نہ صرف قرار داد پیش ہوئی بلکہ اسے تالیوں کی گونج میں کثرت رائے سے منظور بھی کرلیا گیا۔

سلطنت عثمانیہ کے ہاتھوں لاکھوں آمینیائی باشندوں کی ہلاکت کو 30 ممالک سرکاری سطح پر تسلیم کرتے ہیں جس میں نیا اضافہ امریکا ہے تاہم ترکی اس الزام کو مسترد کرتے آیا ہے۔ ترکی نے امریکی ایوان نمائندگان کی قراداد پر شدید ردعمل دیا ہے اور جلد ہی صدر طیب اردگان آرمینیائی نسل کشی اور پابندیوں پر پالیسی بیان جاری کریں گے۔

یاد رہے کہ مغربی ممالک 1915 سے 1923 تک آرمینیا میں سلطنت عثمانیہ پر لاکھوں آرمینیائی باشندوں کے قتل عام کا الزام دھرتے ہیں تاہم ترکی کا موقف ہے کہ آرمینیائی قوم نے پہلے آذری مسلمانوں کی نسل کشی اور انہیں آذر بائیجان ہجرت پر مجبور کیا جس کے بعد آرمینیائی ترکی کے علاقوں پر قابض ہونے کی کوشش کی۔ جنگ عظیم اول میں ترکی میں آباد آرمینیائی باشندے فرانس، برطانیہ اور روس کے حامی تھے اور اس دوران ہونے والی ہلاکتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔

کولمبیا کی گورنر قاتلانہ حملے میں 4 محافظوں سمیت ہلاک، 6 زخمی

بوگوٹا: کولمبیا میں مسلح افراد نے صوبائی گورنر کرسٹینا بوتیستا کی گاڑی پر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں خاتون گورنر اور ان کے 4 محافظ ہلاک ہوگئے جب کہ 6 افراد زخمی ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق کولمبیا کے جنوب مغربی علاقے کاؤکا میں خاتون گورنر کرسٹینا بوتیستا اپنے محافظوں کے ہمراہ توری بیو شہر کے مضافاتی علاقے کے دورے پر تھیں کہ ان کی گاڑی پر مسلح افراد نے حملہ کردیا۔ اندھا دھند فائرنگ کی زد میں آکر گورنر اپنے چاروں محافظوں سمیت ہلاک ہوگئیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مسلح افراد کا حملہ اتنا اچانک تھا کہ محافظوں کو سنبھلنے کا موقع نہیں مل سکا اور وہ ردعمل میں کچھ نہیں کرسکے۔ حملے میں 6 افراد زخمی بھی ہوئے جنہیں قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں دو زخمیوں کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔

کولمبیا کے صدر ایوان ڈوق نے اپنے بیان میں خاتون گورنر کے قتل پر اظہار افسوس کرتے ہوئے بزدلانہ حملے کی مذمت کی ہے اور پولیس کو قاتلوں کی گرفتاری کے لیے خصوصی احکامات جاری کیے ہیں۔

سعودی عرب اور بھارت کے درمیان اسٹریٹجک پارٹنرشپ کونسل کے قیام پر اتفاق

ریاض: سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان ہونے والی ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک پارٹنرشپ کونسل کے قیام کے لیے معاہدہ طے پا گیا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق دارالحکومت ریاض میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔ رہنماؤں نے دونوں ممالک کے درمیان قائم دوستانہ تعلقات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مستقبل میں تعلقات کو مزید خوشگوار اور مستحکم بنانے کے لیے اقدامات پر غور کیا۔

دونوں رہنماؤں نے عالمی اور علاقائی صورت حال پر بھی تبادلہ خیال کیا اور ان مسائل سے نبرد آزما ہونے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان شراکت اور تعاون کے امکانات کو زیر بحث لایا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے سیاست، معیشت، سیکورٹی، دفاع اور لیبر فورس کے شعبوں میں دو طرفہ خصوصی تعلقات میں پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

ملاقات کے آخر میں وزیراعظم مودی اور ولی عہد محمد بن سلمان نے سعودیہ اور بھارت کے درمیان مشترکہ حکمت عملی وضع کرنے کے لیے ایک ’اسٹریٹجک پارٹنرشپ کونسل‘ کے قیام کے لیے معاہدے پر دستخط کیے۔

قبل ازیں مودی نے سعودی فرماں روا سے بھی ملاقات کی جس میں دونوں رہنماؤں کے درمیان بحیرہ ہند اور خلیج کے علاقوں میں آبی گذر گاہوں کے امن و سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات پر اتفاق کیا گیا تاکہ کہ دونوں ممالک کی قومی سلامتی اور مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔

واضح رہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی 2 دن کے دورے پر سعودی عرب پہنچے ہیں جہاں دونوں ممالک کے درمیان توانائی، شہری ہوا بازی، طبی مصنوعات کا انتظام، سیکیورٹی تعاون اور دفاع سمیت دیگر چند شعبوں میں بھی یادداشتوں پر دستخط ہوئے۔

حوثی باغیوں کا یمن کے وزیر دفاع پر ڈرون حملہ، 2 فوجی ہلاک

صنعا: یمن میں حوثی جنگجوؤں نے وزیر دفاع پر ڈرون سے قاتلانہ حملہ کیا جس کے نتیجے میں ڈرائیور سمیت دو فوجی اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے، خوش قسمتی سے جنرل محمد علی المقدیشی بال بال بچ گئے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق یمن کے صوبے مارب میں وزیر دفاع جنرل محمد المقدیشی پر ایک اہم اجلاس کی سربراہی کے دوران ڈرون حملہ کیا گیا ہے جس میں وزیر دفاع کا ڈرائیور اور ایک گارڈ مارا گیا، دونوں فوجی اہلکار تھے جب کہ وزیردفاع خوش قسمتی سے محفوظ رہے۔

قبل ازیں یمن کے وزیر داخلہ احمد المیسری اور وزیر ٹرانسپورٹ صالح الجابوانی بھی ایک قاتلانہ حملے میں محفوظ رہے۔ دونوں کی رہائش گاہ کے نزدیک بارود سے بھری کار کھڑی کی گئی تھی جسے پھٹنے سے قبل ہی مواد کو ناکارہ بنادیا گیا۔

ابھی تک وزارت دفاع اور یمنی حکومت کی طرف سے حملوں سے متعلق کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے تاہم حوثی باغیوں نے دونوں حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ حملے یمن کی فوج کی جانب سے حوثی باغیوں کے مرکزی گڑھ صعدہ کی شاہراہ کا تسلط واگزار کرانے کے بعد ہوئے۔

Google Analytics Alternative