بین الاقوامی

بھارتی ٹیکنیشن طیارے کے لینڈنگ گیئر کے دروازے میں پھنس کر ہلاک

کلکتہ: بھارت میں معمول کی جانچ پڑتال کے دوران طیارے کا ٹیکنیشن لینڈنگ گیئر کے خود کار ہائیڈرولک دروازے کے درمیان پس کر ہلاک ہوگیا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق  کلکتہ ایئرپورٹ پر بھارتی ایئرلائن اسپائس جیٹ کے طیارے میں تربیتی ٹیکنیشن لینڈنگ گیئر میں معمول کی جانچ پڑتال کے دوران خود کار ’ہائیڈرولک ڈور‘ بند ہونے کے باعث پٹوں کے درمیان پھنس جانے کے باعث ہلاک ہوگیا۔

ریسکیو اہلکاروں نے لینڈنگ گیئر کے خودکار دروازے کو توڑ کر 26 سالہ ٹیکنیشن روہت پانڈے کو نکالا، اس کے جسم کے کئی حصے دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوگئے تھے۔ لاش لواحقین کے حوالے کردی گئی ہے جب کہ سول ایوی ایشن نے واقعے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

سوشل میڈیا پر صارفین نے غفلت اور لاپرواہی برتنے پر ایئرلائن انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ بغیر کسی تجربہ کار سپروائزر کے تربیتی ٹیکنیشن کو لینڈنگ گیئر کی جانچ پڑتال کے لیے بھیجنا مجرمانہ غفلت ہے۔

سعودی حکومت کا حج اور عمرہ زائرین کیلیے مکہ میں ایئرپورٹ کی تعمیر کا فیصلہ

مکہ: سعودی عرب میں حج اور عمرہ زائرین کی سہولت کے لیے ایئرپورٹ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے جسے جدہ ہوائی اڈے سے منسلک کیا جائے گا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امیر مکہ خالد الفیصل نے نئے ایئر پورٹ کے قیام کے لیے معاہدے پر دستخط کردیئے ہیں، ایئرپورٹ کا قیام الفیصلیہ پروجیکٹ کے تحت سول ایوی ایشن کی مشاورت سےعمل میں لایا جائے گا۔ ایئرپورٹ کے قیام میں حائل سیکیورٹی خدشات کو دور کرلیا گیا ہے۔

قبل ازیں زائرین کو جدہ ایئرپورٹ سے بس یا پرائیوٹ ٹیکسی کے ذریعے مکہ جانا پڑتا تھا جس سے وقت کا ضیاع بھی ہوتا تھا اور اخراجات میں بھی اضافہ ہو جاتا تھا جب کہ زائرین کو پریشانیوں کا بھی سامنا رہتا تھا۔

سعودی میڈیا کے مطابق مکہ ایئرپورٹ الفیصلیہ سٹی پروجیکٹ کے تحت تعمیر کیا جائے گا، یہ شہر مکہ کے مغربی علاقے میں 2 ہزار 450 اسکوائر کلومیٹر کے احاطے میں بنایا جائے گا جو حرم کی سرحد سے الشعیبہ کے ساحل تک محیط ہوگا۔

اس موقع پر امیرِ مکہ خالد الفیصل کا پروجیکٹ کی منظوری پر خادمین حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ایئرپورٹ کی سہولت سے زائرین فائدہ اُٹھاسکیں گے جو کہ شاہ سلمان کی پہلی ترجیح ہے۔

معاشرے کی باغی 7 برطانوی میڈیکل طالبات کو 150 سال بعد ڈگری تفویض

لندن: برطانوی یونیورسٹی ایڈنبرا میں 150 سال بعد میڈیکل کی 7 آنجہانی طالبات کو اسناد دینے کی تقریب منعقد کی گئی۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ایڈنبرا یونیورسٹی میں 1869ء میں روایت شکنی کرتے ہوئے 7 خواتین نے پہلی بار یونیورسٹی میں داخلہ لے کر قدامت پسند برطانیہ کی متنازع ثقافت اور روایات کے خلاف بغاوت کی تھی جنہیں بالآخر 150 سال بعد اسناد جاری کردی گئیں۔

’ایڈنبرا سیون‘ کے نام سے شہرت پانے والی ساتوں طالبات اپنی ڈگریاں لینے کے لیے اب دنیا میں موجود نہیں اس لیے یونیورسٹی انتظامیہ نے موجودہ طالبات میں سے سات خوش نصیبوں کو نمائندگی کے لیے چنا اور اعزازی میڈل اور اسناد پیش کیں۔

ایڈنبرا سیون نے یونیورسٹی میں داخلہ لیا تھا تو برطانیہ کے مردوں کی حاکمیت والے معاشرے میں ہلچل مچ گئی، قدامت پسندوں نے طالبات کی راہ میں روڑے اٹکائے یہاں تک کہ مرد طلبا نے طالبات کے خلاف باقاعدہ محاذ کھڑا کردیا تھا۔

اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی خواہشمند برطانیہ کی ان اولین خواتین نے صنفی امتیاز کے خلاف مہم چلائی تھی جسے چارلس ڈارون جیسی ہستیوں کا مکمل تعاون حاصل تھا جس کے نتیجے میں 1877ء میں خواتین کو اعلیٰ تعلیم کی اجازت دینے کے لیے قانون سازی کی گئی۔

قانون سازی کے باوجود ایڈنبرا سیون کی مشکلا کم نہ ہوسکیں اور آخری سال امتحانی ہال میں مرد طالب علموں نے ان طالبات پر گندگی پھینک دی اور آئندہ دو دہائی تک ایڈنبرا یونیورسٹی میں کسی خواتین کا داخلہ ممنوع رہا بعد ازاں داخلے تو مل گئے لیکن کوئی بھی مرد ٹیچر طالبات کو پڑھانے کے لیے راضی نہ ہوا۔

دھیرے دھیرے ان خواتین کی جدوجہد بالآخر رنگ لے آئی اور خواتین کی تعلیم میں حائل سماجی رکاوٹیں ختم ہوگئیں اور معاشرے میں تعلیم یافتہ خواتین کو خاص اہمیت دی جانے لگی تاہم ایڈنبرا کی یہ 7 طالبات اپنی تعلیم مکمل نہیں کرسکی تھیں۔

قدامت پسند برطانوی معاشرے میں خواتین کو اعلیٰ تعلیم کی اجازت دلانے والی ان ساتوں خواتین مری اینڈرسن، ایملی بوویل، میٹلڈا چپلن، ہیلن ایوانز، صوفیا جیکس بلیک، ایڈٹھ پیچی اور ایزابیل تھورن کو یونیورسٹی کے مک ایون ہال میں ہونے والی خصوصی تقریب میں میڈیسن کی اعزازی بیچلر ڈگری سے نوازا گیا۔

ان سات خواتین کی ڈگریوں کو ایڈنبرا کی موجودہ سب سے قابل اور لائق طالبات نے وصول کیا، یونیورسٹی میں ایڈنبرا سیون کے حوالے سے یادگار بھی قائم کی گئی ہیں جس میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے خواتین کو درپیش مشکلات اور رکاوٹوں کو اجاگر کیا گیا تھا۔

کشمیری نوجوان برہان وانی کی تیسری برسی، پوری وادی فوجی چھاؤنی میں تبدیل

سری نگر: مقبوضہ جموں کشمیرمیں بھارتی فورسزکے ہاتھوں شہید ہونے والے کشمیری نوجوان برہان وانی کی آج تیسری برسی منائی جارہی ہے۔

8 جولائی 2016 کو بھارتی فورسزکے ہاتھوں نوجوان برہان مظفر وانی کی شہادت نے تحریک آزادی کشمیر میں ایک نئی روح پھونک دی۔ برہان وانی اور ان کے دوساتھی ترال کے علاقے میں ایک مکان میں موجود تھے جب قابض فوج نے جعلی مقابلے کے دوران بم مارکرمکان تباہ کردیا، جس سے برہان وانی سمیت  تینوں کشمیری نوجوان شہید ہوگئے تھے۔ برہان وانی کی فوٹیجز اور آزادی کے حق میں شعلہ بیانی نے انہیں کشمیری نوجوانوں کےدلوں کی دھڑکن بنادیا۔

قابض بھارتی فوج نے اپنے مظالم کے خلاف احتجاج روکنے کیلئے پوری وادی کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کردیا ہے۔ شہرشہر مکمل ہڑتال ہے اوربرہان وانی کی تصاویروالے بینرزاورپوسٹرزشہرشہرآویزاں کردئیے گئے ہیں۔

برہان مظفروانی کی تیسری برسی پرحریت قیادت کی کال پروادی بھرمیں مکمل ہڑتال ہے جب کہ کٹھ پتلی انتظامیہ نے موبائل اورانٹرنیٹ سروس بھی معطل کردی ہے اورآزادی کے پروانوں کو وانی کے آبائی علاقےترال تک مارچ کرنے کوکہا گیا ہے۔

اترپردیش میں مسافر بس نالے میں گرنے سے 29 افراد ہلاک، 23 زخمی

اتر پردیش: بھارتی ریاست اترپردیش میں مسافر بس نالے میں گرنے کے نتیجے میں 29 افراد ہلاک جب کہ 23 زخمی ہوگئے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست اترپردیش میں مسافروں سے بھری بس نالے میں گرگئی جس کے نتیجے میں 29 افراد ہلاک جب کہ 23 زخمی ہوگئے، واقعہ کے بعد امدادی ٹیموں نے زخمیوں کو فوراً اسپتال منتقل کیا جہاں ڈاکٹرز نے 29 افراد کی ہلاک کی تصدیق کردی۔

بھارتی پولیس کے مطابق بس دہلی سے آگرہ آرہی تھی کہ راستے میں 2 پلوں کے درمیان نالے میں جاگری، بس میں 50 کے قریب مسافر سوار تھے، ابتدائی تحقیقات کے مطابق حادثہ ڈرائیور کو نیند آنے کی وجہ سے پیش آیا تاہم مزید تحقیقات جاری ہیں۔

بھارت میں انتہاپسند ہندوؤں کا مسلمان نوجوانوں پر بہیمانہ تشدد

رانچی: بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں نے 3 مسلمان نوجوانوں کو بہیمانہ تشدد کا بنایا اور جے شری رام کے نعرے لگانے کے لیے مجبور کرتے رہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی ریاست جھاڑ کھنڈ میں انتہا پسند ہندوؤں نے ایک بار پھر مسلمان نوجوانوں پر انسانیت سوز تشدد کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ عامر وسیم، الطاف علی اور علی احمد نامی نوجوانوں کو مشتعل ہجوم نے زدوکوب کیا اور زبردستی جے شری رام کے نعرے لگوائے۔

انتہا پسند ہندو لاٹھی، لاتوں اور گھونسوں سے حملے کرتے رہے، الطاف علی اور علی احمد کو شدید زخمی ہونے پر اسپتال منتقل کردیا گیا جب کہ عامر وسیم نے بھاگ کر اپنی جان بچائی اور تھانے پہنچ کر پولیس کو آگاہ کیا تاہم پولیس نے روایتی سست روی کا مظاہرہ کیا۔

بھارت میں جارحیت پسند مودی کے دوبارہ برسر اقتدار آنے کے بعد سے ہندو انتہا پسندوں کو کھلی چھوٹ مل گئی ہیں جنہیں پولیس کی پشت پناہی بھی حاصل ہے۔ ان واقعات سے بھارت کا نام نہاد اور داغدار سیکولر چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو گیا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل اسی بھارتی ریاست میں مشتعل ہجوم نے مسلمان نوجوان کو ڈنڈوں، لاٹھیوں اور لوہے کی راڈوں سے تشدد کا نشانہ بنایا تھا جس سے نوجوان شدید زخمی ہوگیا تھا اور دوران علاج زندگی کی بازی ہار گیا تھا۔

دنیا کے طاقت ور ترین پاسپورٹ کا اعزاز جاپان اور سنگاپور کے نام

ہینلے پاسپورٹ انڈیکس کی حالیہ جاری کردہ رپورٹ میں طاقتور ترین پاسپورٹ کے حامل ممالک کی فہرست کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ہینلے پاسپورٹ انڈیکس نے ایسے ممالک کی فہرست جاری کی ہے جو طاقت ور پاسپورٹ رکھتے ہیں اور ان ممالک کے پاسپورٹ کے حامل افراد کو دنیا کے کئی ممالک میں ’ویزہ فری‘ کی سہولت حاصل ہوتی ہے۔

گزشتہ برس کی طرح اس سال بھی سنگاپور اول نمبر پر براجمان ہے جب کہ جاپان بھی اس کے ہمراہ اول نمبر ہے، دونوں ممالک کیلیے 189 ممالک نے ویزہ فری کی پالیسی اپنائی ہے۔ جرمنی ایک درجہ تنزلی کے بعد  فن لینڈ اور جنوبی کوریا کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔

اسی طرح ڈنمارک اور اٹلی تیسرا نمبر حاصل کرنے میں کامیاب رہے تو فرانس ، اسپین اور سویڈن چوتھے نمبر پر موجود ہیں۔ بھارت کا نمبر 86 واں ہے جب کہ پاکستان اس فہرست میں مزید نیچے چلا گیا اور اس سال 106 ویں نمبر پر ہے جس کے بعد بالترتیب شام، عراق اور افغانستان کا نمبر آتا ہے۔

واضح رہے کہ اس رپورٹ میں دنیا بھر کے ممالک کے پاسپورٹس کو سفر کی آزادی کے لحاظ سے ترتیب دی گئی ہے، یعنی ان ممالک کا پاسپورٹ رکھنے والا شخص بغیر ویزہ لیے کتنے ممالک جاسکتا ہے۔

افغان خفیہ ایجنسی کے دفتر پر خود کش حملہ، 12 اہلکار ہلاک اور 178 زخمی

کابل: افغانستان کے شہر غزنی میں انٹیلی جنس ایجنسی ’این ڈی ایس‘ کے دفتر پر بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے خود کش حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں 12 اہلکار ہلاک اور 178 زخمی ہوگئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان کے شہر غزنی میں واقع نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکیورٹی (NDS) ) کے دفتر پر خود کش حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی ٹکرادی جس کے نتیجے میں 12 اہلکار ہلاک اور 178 زخمی ہو گئے۔

صوبائی گورنر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بتایا کہ ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی تعداد 12 ہوگئی ہے جب کہ 178 زخمی ہیں، زخمیوں میں عام شہری کے علاوہ اسکول کے بچے شامل ہیں، جنہیں ملٹری اسپتال میں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔ زخمیوں میں سے 4 بچوں کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے افغان خفیہ ایجنسی کے دفتر پر خود کش حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حملے میں نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکیورٹی کے اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں جب کہ انہوں نے اسکول کے بچوں کے زخمی ہونے کے کابل حکومت کے موقف کو مسترد کردیا۔

Google Analytics Alternative