بین الاقوامی

نریندرا مودی کو عوام کی طرف سے عجیب تحفہ۔

نئی دہلی: ہندوستانی وزیراعظم نریندرا مودی کی جانب سے ریاست بہار کے وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار پر طنز کے بعد بہاریوں نے وزیراعظم کو ڈی این اے کے سیکڑوں نمونوں بھجوا دیئے ہیں. گذشتہ ماہ نریندرا مودی نے وزیراعلیٰ نتیش کمار کے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ساتھ انتخابی تعلقات کے فیصلے پر طنز کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے “سیاسی ڈی این اے” میں کچھ گڑبڑ ہے. واضح رہے کہ ہندوستان میں 2014 کے عام انتخابات سے قبل نتیش کمار نے مودی کے بحیثیت امیدوار حصہ لینے پر احتجاج کیا تھا اور ان کے سیکولر ہونے پر اعتراض کرتے ہوئے تجویز دی تھی کہ وہ ہندوستان میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھا سکتے ہیں. برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق نتیش کمار کا کہنا تھا کہ ہندوستانی وزیراعظم نے اس طرف اشارہ کر کے کہ بہاریوں کے ڈی این اے میں مسئلہ ہے، بہاریوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے، لہذا ریاست کے لوگ نریندرا مودی کو ڈی این اے کے 50 لاکھ نمونے بھیجیں گے. کمار کی جنتا دل یونٹ کے ایک رکن کا کہنا ہے کہ 60 ہزار لوگ وزیراعظم کے دفتر میں ڈی این اے کے نمونے بھیج چکے ہیں، جبکہ ریاستی دارالحکومت میں ان کے آفس میں 15 لاکھ ڈی این اے کے نمونے بھیجے جا چکے ہیں. وزیراعظم مودی کو موصول ہونے والے خطوط میں بالوں اور ناخنوں کی شکل میں ڈی این اے کے نمونے موجود ہیں جبکہ اس کے ساتھ “شبد واپسی” یا “اپنے الفاظ واپس لیں” جیسے جملے بھی تحریر ہیں. نئی دہلی کی پوسٹل سروس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ہندوستانی وزیراعظم کو ہر روز ایک ہزار خطوط پرمشتمل 2 سے 3 میل بیگز موصول ہورہے ہیں. جبکہ پوسٹل ڈپارٹمنٹ کے ایک آفیشل کا کہنا ہے کہ انھوں نے گذشتہ چند دنوں میں وزیراعظم مودی کے آفس میں 47 بیگز ڈیلیور کیے ہیں.

شاہد آفریدی برطانوی فوج کیلئے ایک فلاحی میچ کھیلیں گے۔

لندن: پاکستانی آل رائونڈر شاہد آفریدی کو برطانیہ کی فوج نے نیک مقصد کے لئے بھرتی کر لیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کے آل رائونڈر شاہد خان آفریدی کو برطانیہ کی فوج نے نیک مقصد کے لئے بھر تی کر لیا ہے۔ شاہد آفریدی برطانوی فوج کے زخمیوں اور بیمار جوانوں کیلئے ایک فلاحی میچ کھیلیں گے۔ یہ فلاحی میچ ہیروز الیون اور ورلڈ الیون کے درمیان تاریخی اوول کرکٹ گراﺅنڈ میں کھیلا جائے گا، شاہد آفریدی اس میچ میں ہیروز الیون کی نمائندگی کریں گے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس ٹیم کے کپتان انڈریو سٹراس ہونگے جبکہ بھارتی کرکٹر ایم ایس دھونی، وریندر سہواگ اور جنوبی افریقا کے سابق کرکٹر ہرشل گبز بھی اس ٹیم کا حصہ ہونگے۔ میچ کا مقصد برطانوی فلاحی تنظیم کے لئے امداد جمع کرنا ہے جو میدان جنگ میں برطانیہ کی فوج کے زخمی ہونے والے اہلکاروں اور ان کے اہلخانہ کی مدد کرتی ہے۔ دوسری جانب ورلڈ الیون میں برنیڈن میکلم، میتھیو ہیڈن، مہیلا جے وردھنے اور گریم سمتھ شامل ہیں۔ ورلڈ الیون اور ہیروز الیون کے درمیان کھیلے جانے والے ٹی ٹوئنٹی میچ کو دیکھنے کے لئے برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون اور سیکریٹری دفاع مکیل فالون بھی سٹیڈیم میں موجود ہونگے۔

احمد محمد کو ملی مسلمان ہونے کی سزا۔

مشہور اخباروں کے آخری کونوں میں ایسی خبریں کم ہی لوگوں کو دکھائی دیتی ہیں کہ بس میں داخل ہو کر منزل کے متعلق پوچھنے پر بس ڈرائیور نے مسلمان خاتون کے اسکارف پر طنز کیا اور اس کو کھینچنے کی کوشش کی۔ چند ماہ پہلے کوپن ہیگن کی ایک یہودی عبادت گاہ پر حملے کے بعد اس قسم کی سرگرمیوں میں کافی تیزی دکھائی دی جب کسی راہگیر نے کسی مسلمان عورت کے سر سے اسکارف اتارنے کی کوشش کی۔

ابھی چند دن پہلے مشہور امریکی برانڈ ایبرکومی میں اسکارف پہننے کی وجہ سے نوکری نہ ملنے والی خاتون کے مقدمہ جیتنے کی کہانی بھی دوستوں کی نظر سے گذری ہوگی۔ کچھ عرصہ پہلے ایک امریکی شہر میں مسجد کے سامنے اسلحہ بردار لوگوں نے پیغمبرِ رحمت کے خاکے بنوانے کے مقابلے کا اہتمام کیا۔کچھ دن پہلے ہی ایک مسلمان جوڑے کو اس وقت سخت ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا جب وہ اپنے بیٹے کو لینے کے لیے اس کے دوست کے دروازے کے سامنے کھڑے تھے کہ ایک بندوق بردار عورت نے ان کو وہاں سے بھاگ جانے کا کہا۔ جب انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے بیٹے کو لینے کے لیے آئے ہیں تو وہ بندوق بردار خاتون بندوق کی نوک پر ان کو اس گھر کے اندر لے کر گئی جہاں ان کا بیٹا تھا۔چند ماہ پہلے ہی ایک مسلمان خاتون کو یونائیٹڈ ایئرلائن میں کھلا ہوا کوک کا کین دیا گیا تو انہوں نے بند کین طلب کیا جس پر ایئر ہوسٹس نے مسلمان ہونے کے ناطے ان کو بند کین کو بطور اسلحہ استعمال کر لینے کے ڈر سے بند کین دینے سے انکار کر دیا۔ ٹھیک ان کے برابر میں بیٹھے مسافر کو بیئر کا بند کین دیا گیا جس پر مسلمان خاتون نے اعتراض کیا تو جہاز میں موجود ایک دو مسافروں نے مسلمانوں کے متعلق نفرت آمیز جملوں کی بوچھاڑ کر دی۔ایک مسلمان نوجوان جوڑا جو امریکا ہی کے کسی شہر میں بستا تھا، اور پارکنگ کے معمولی جھگڑے پر ان کو گولی مار دی گئی تھی۔

17 اگست 2015 کو کوپن ہیگن کے ایک اسلامی سینٹر پر کسی نے آگ لگانے کی کوشش کی۔ پولیس نے اس شخص کو گرفتار کر لیا اور اس کو ذہنی مریض ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔ تقریباً دو تین ماہ پہلے کوپن ہیگن میں مسلمانوں کے قبرستان کی بے حرمتی کی گئی اور کئی قبروں کے کتبے اکھاڑ دیے گئے۔ایسے واقعات آج کی دنیا میں ہر جگہ ہو رہے ہیں۔ ان سب واقعات میں ایک مماثلت یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کے خلاف کام کرنے والے دہشت گرد نہیں کہلاتے، بلکہ انہیں کسی ذہنی مرض کا شکار قرار دے دیا جاتا ہے۔ ناروے میں درجنوں افراد کے قاتل کا تعلق شدت پسند گروہوں سے ہونے کے باوجود بھی اس کو صرف بھٹکا ہوا ایک فرد ہی سمجھا گیا۔اس کے علاوہ دہشتگردی یا ہنگامہ آرائی کے کسی بھی واقعے میں ملوث شخص اگر سفید فام ہو تو اسے صرف ذہنی بیمار یا اکلوتا مجرم قرار دے دیا جاتا ہے لیکن اگر یہی شخص اتفاق سے سیاہ فام یا مسلمان ہو، تو اس کے ساتھ وہ حشر کیا جاتا ہے کہ خدا کی پناہ۔تنگ دل اور بیمار لوگوں کی ایسی حرکتوں سے دل بہت دکھتا ہے اور آج امریکی ریاست ٹیکساس میں احمد محمد نامی 14 سالہ مسلمان بچے کو ایک ‘بم بنانے کی کوشش’ کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ بعد میں پتہ چلا کہ وہ بے چارہ تو ایک کلاک بنانے کی کوشش میں تھا اور وہ اپنی کوشش کی ستائش کے لیے اسے اسکول لے آیا تھا۔ اس واقعے کے متعلق ہزاروں لوگوں نے مختلف سوشل میڈیا پر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔درحقیقت اس بچے کا نام ہی سکیورٹی اہلکاروں کے کان کھڑے کرنے کا سبب بنا۔ اگر یہی کام کسی غیر مسلم یا سفید فام امریکی بچے نے کیا ہوتا تو اس کو انعام و اکرام سے نوازا جاتا۔ دوسری طرف اس واقعے کی حمایت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ بعد میں اس قسم کے واقعات پر کفِ افسوس ملنے سے بہتر تھا کہ ایسا ہوا۔ انہوں نے اسکول کی تعریف بھی کی کہ انہوں نے اس قدر فرض شناسی کا ثبوت دیا اور یہ کہ اسلام کا نام مسلمانوں نے ہی خراب کر رکھا ہے وغیرہ۔ان سب واقعات میں کردار بدل رہے ہیں اور کہانی ملتی جلتی ہے۔ مسلمانوں سے ایسی کیا خطا ہوئی ہے کہ ایک دنیا ان کی دشمن بنی پھرتی ہے۔ صرف اتنی خطا ہے کہ 11 ستمبر کے واقعے میں ملوث ہائی جیکرز کے نام دینِ رحمت والے اور کام دوسروں کے لیے زحمت والے تھے؟ یا یہ کہ چند ہزار افراد کا گروہ خود کو طالبان اور دولتِ اسلامیہ کہلوا کر بندوق کے زور پر دنیا بھر میں اسلام نافذ کرنا چاہتا ہے۔پاکستان سمیت پورے مشرقِ وسطیٰ میں بم دھماکے میں مسلمان مریں، یومِ عاشور کے دھماکے میں مسلمان مریں، جلوسِ میلاد کے دھماکے میں مسلمان مریں، بازاروں، سڑکوں، گلیوں، اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں میں مسلمان مریں، افغانستان اور عراق میں امریکی بمباری میں مسلمان مریں، اس وقت کوئی یہ نہیں کہتا کہ مسلمان مظلوم ہیں جو لاکھوں کی تعداد میں مر رہے ہیں۔ لیکن چند نام کے مسلمان افراد کوئی غیر انسانی حرکت کر ڈالیں تو اس کا پورا ملبہ ڈیڑھ ارب مسلمانوں پر ڈال دیا جاتا ہے اور انہیں قابلِ نفرت، پسماندہ، اور دہشتگرد یا دہشتگردی کا حامی سمجھا جاتا ہے۔ کیوں؟

آخر یہ کیوں نہیں دیکھا جاتا کہ دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثر خود مسلمان اور اسلامی ممالک ہیں۔ یہ کوئی کیوں نہیں دیکھتا کہ امریکا، برطانیہ، کینیڈا، اور دیگر مغربی ممالک میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد مقیم ہے جو ان ملکوں اور معاشروں کی ترقی کے لیے ہر شعبے میں اپنا برابر کردار ادا کر رہی ہے۔ یہ حقیقت کسی کی نظر سے کیوں نہیں گزرتی کہ دہشتگرد صرف مسلمان ہی نہیں، بلکہ دیگر مذاہب کے لوگوں میں بھی دہشتگرد رویے پائے گئے ہیں۔ مجرمانہ ذہنیت صرف سیاہ فام لوگوں میں نہیں بلکہ سفید فام اور گندمی رنگت کے لوگوں کی بھی ہو سکتی ہے۔اگر یہی رویہ جاری رہا تو وہ دن دور نہیں جب مسلمان بچوں کے اسکولوں کے بستے روز تلاشی کے بہانے اسکولوں کے دروازوں پر روک لیے جائیں گے۔ وہ دنیا جو خود کو مہذب اور پر امن کہتی ہے، اپنے جیسے پرامن لوگوں سے اس قدر خوف زدہ کیوں ہے؟ کیا ان سے مختلف رنگ اور مذہب رکھنے والے انسان نہیں؟

احمد محمد کے واقعے پر زبردست عوامی ردِ عمل دیکھنے میں آیا ہے، اور چند بیمار ذہن افراد کے علاوہ سب ہی نے مذہب، رنگ، نسل، اور ملکوں کی قید سے بالاتر ہو کر اس معصوم اور ذہین بچے کی حمایت کی ہے، جس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ مغربی دنیا عمومآ مسلمانوں کے خلاف نہیں، بلکہ صرف کچھ پسماندہ ذہنیت کے افراد ایسی سوچ رکھتے ہیں. جب مغرب ہم سے یہ توقع رکھتا ہے کہ ان افراد کی حرکات کو بنیاد بنا کر پورے مغرب کو طعن و تشنیع کا نشانہ نہ بنایا جائے، تو یہی کام مسلمانوں کے لیے بھی کرنا چاہیے.

اب فیس بک کے سربراہ مارک زکربرگ سے لے کر ہلری کلنٹن اور امریکی صدر باراک اوباما تک اس کی حمایت اور ستائش میں بول پڑے ہیں۔ یہ نہایت خوش آئند بات ہے، لیکن سوچتا یہ ہوں کہ آخر یہ واقعہ پیش ہی کیوں آیا، اور کیا یہ واقعہ دنیا کی آنکھیں کھولنے میں کامیاب ہوگا؟ کیا یہ مسلمانوں کے خلاف نفرت کا آخری واقعہ ہوگا؟
ہونا تو ایسا ہی چاہیے، لیکن یقیناً ایسا ہوگا نہیں۔

بھارت میں پی ایچ ڈی افراد چپڑاسی کی نوکری کے لئے در بدر.

لکھنو: بھارت دنیا میں اپنی خوشحالی اور عوام دوست اقدامات کے دعوے کرتا نہیں تھکتا لیکن وہاں غربت اور بے روزگاری کا یہ عالم ہے کہ پی ایچ ڈی کے حامل افراد چپڑاسی کی نوکری کے لئے بھی مارے مارے پھر رہے ہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست اتر پردیش کی حکومت نے ریاستی سیکریٹریٹ میں چپڑاسی کی 368 اسامیوں کا اشتہار دیا ،اس نشست پر درخواست گزار کی اہلیت پانچویں پاس رکھی گئی تھی لیکن ان درخواستوں کی جانچ پڑتال کے دوران پتہ چلا کہ ان اسامیوں پر پی ایچ ڈی کے حامل افراد بھی کام کرنے کو تیار ہیں۔ اترپردیش کے ایک اعلیٰ سرکاری افسر کا کہنا ہے کہ 368 اسامیوں کے لئے انہیں کل 23 لاکھ درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں 255 پی ایچ ڈی، 24 ہزار 969 پوسٹ گریجویٹ اور ڈیڑھ لاکھ سے زائد امیدواروں نے گریجویشن کررکھا ہے۔ ریاستی حکام کا کہنا ہے کہ معمولی آسامی کے لئے اعلی ترین تعلیم یافتہ افراد کی بڑی تعداد میں آنے والی درخواستوں کو دیکھ کر یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اب یہ آسامیاں صرف انٹرویو کی بنیاد پر ہی پُر کی جائیں گی۔

بچھو کے ڈنگ کا باآسانی علاج کیا جا سکتا ہے۔

بیجنگ : دانت نہ ہونے کے باعث بچھو کاٹتے تو نہیں لیکن پھر بھی یہ اپنا زہر ضرور منتقل کرسکتا ہے اورپرسکون رہتے ہوئے بچھو کے ڈنگ کا باآسانی علاج کیا جا سکتا ہے۔ بچھو کے ڈنگ کی درجہ ذیل علامات ہو سکتی ہیں۔ متاثرہ جگہ پر درد یا جلن کا احساس تھوڑی سوزش متاثرہ جگہ کا بہت زیادہ حساس ہونا متعلقہ جگہ کا بالکل سن ہو جانا کچھ لوگ بچھو کے ڈسنے پر بہت زیادہ خوفزدہ ہو جاتے ہیں جو ان کے لئے بڑی پریشانی کا سبب بن سکتا ہے لہٰذا اگر بچھو ڈس لے تو آپ کوفوری طور پران تجاویز پر عمل کرناچاہیے ۔ بچھو کے ڈسنے والی جگہ کو صابن اور پانی سے اچھی طرح دھوئیں۔ متاثرہ جگہ پر برف سے ٹکور کریں۔ بازو یا ٹانگ پر بچھو کے ڈسنے پر فوری طور پر انہیں اوپر کی طرف اٹھا لیں۔

موبائل فون میں انقلاب برپا کرنے والی ایجاد موبائل سم کا دور ختم ہونے کو ہے.

لندن: موبائل فون ٹیکنالوجی میں انقلاب برپا کرنے والی ایجاد موبائل سم کا دور ختم ہونے کو ہے اور ایک برطانوی سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ عنقریب موبائل فون میں سم کے استعمال کا خاتمہ ہوجائے گا۔ کیمبرج یونیورسٹی کے سائنسدان ڈاکٹر مارکوس کن کا کہنا ہے کہ موبائل فون میں لاگ ان کرنے کے لئے پاسورڈ کا استعمال کیا جاسکتا ہے اور کمپنی بھی موبائل فون کی شناخت آن لائن رابطے کے ذریعے کرسکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جس طرح ہم وائی فائی نیٹ ورک میں لاگ ان ہونے کے لئے پاسورڈ کا استعمال کرتے ہیں اسی طرح موبائل فون میں لاگ ان ہونے کے لئے اور موبائل نیٹ ورک سے رابطہ کرنے کے لئے بھی پاسورڈ کا استعمال کیا جائے گا اور یہ بالکل ایسے ہی ہوگا جیسے ہم وائی فائی نیٹ ورک سے رابطہ کرنے کے لئے پاسورڈ استعمال کرتے ہیں۔ ڈاکٹر مارکوس کا کہنا ہے کہ پاسورڈ کی بجائے کیوآرکوڈ یاتھری ڈی بارکوڈ کا بھی استعمال کیا جاسکتا ہے جنہیں کیمرے کا موبائل فون شناخت کرسکے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ 25 سال قبل جب موبائل فون بہت بڑے اور بھاری ہوتے تھے تو ان میں سم کی ضرورت تھی مگر آج سم کے بغیر بھی موبائل فون اور موبائل نیٹ ورک کا رابطہ محض پاسورڈ کے ذریعے ممکن ہے۔

انوشکا شرما کا مسلمانوں کی حمایت میں بیان.

ممبئی: انوشکا شرما نے ہندوﺅں کے لیے مقدس جانورگائے اور بیل کے گوشت پر پابندی کی مخالفت کردی اور کہاکہ حلال گوشت پر پابندی بہت بڑی تعداد میں لوگوں کو ان کی غذا سے دور کرنے کے مترادف ہے اور وہ اس کی کسی صورت حمایت نہیں کرسکتیں ۔ اپنے ایک انٹرویومیں انوشکاشرماکاکہناتھاکہ گوشت پر پابندی کی وجہ سے اُن کی ذات پر کوئی فرق نہیں پڑے گا،جانوروں سے پیاربھی ہے جبکہ وہ خود گوشت میں مضرصحت توانائی کی وجہ سے گوشت خوری کرناپسندنہیں کرتیں لیکن اس کے باوجودگوشت پر پابندی کی سخت مخالفت کرتی ہیں۔ انوشکاشرماکے بیان کی مسلمانوں نے تائید کی تاہم ہندو آگ بگولا ہوگئے ۔

6 لاکھ ڈالر تنخواہ لیکن کوئی بھی بندہ کام کرنے نہ آیا۔

لندن: اچھی نوکری اور بہترین تنخواہ کے لیے شہری دربدر کے دھکے کھاتے ہیں لیکن دنیا میں ایک نوکری ایسی بھی ہے جس میں تنخواہ اس قدر زیادہ ہے کہ کسی کو یقین نہ آئے لیکن پھر بھی لوگ یہ نوکری کرنے سے گھبراتے ہیں اور یہ کام مرغیوں کے چوزوں کی جنس دیکھنے کا ہے۔ اس نوکری میں کام کرنے والے کو سال میں تقریباً 6 لاکھ ڈالر ماہانہ ملتے ہیں اور اسے ہر چوزے کو اٹھا کر اس کے جنسی اعضاءکو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا ہوتا ہے کہ وہ چوزہ نر ہے یا مادہ۔اس وقت برطانیہ میں پولٹری فارم مالکان کو اس نوکری کے لئے افراد کی اشد ضرورت ہے جس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ لوگ کسی بھی طرح یہ کام کرنے کے لئے تیار نہیں ہورہے۔ دیکھنے میں یہ کام انتہائی معمولی لگتا ہے لیکن اس کام کو کرنے میں بہت مہارت اور صبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہر چوزے کو اٹھا کر اسے الٹا کرنا اور پھر اس کے اعضاءمخصوصہ کو غور سے دیکھ کر یہ اندازہ لگانا کہ وہ چوزہ نر ہے یا مادہ۔ اس کام کو کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ جب وہیہ کام کرتے ہیں تو انہیں بہت احتیاط سے اور تمام تر توجہ کے ساتھ یہ کام سرانجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب وہ یہ کام تمام کرکے گھروں کو جاتے ہیں تو تب بھی ان کے سر پر یہ منظر سوار رہتے ہیں اور انہیں ہر طرف چوزے اور ان کے مخصوص اعضاءنظر آتے ہیں۔ یہ کام کرنے والے افراد کو ہر روز 800 سے 1200 چوزے دیکھنے ہوتے ہیں اور غلطی کا چانس صرف 2فیصد تک قابل قبول ہوتا ہے اور اس سے زیادہ غلطی کرنے پر تنخواہ کٹ جاتی ہے۔ اس وقت برطانیہ میں 100 سے 150 افراد ایسے ہیں جو یہ کام کرتے ہیں اور گزشتہ سال کس نے بھی اس کام میں دلچسپی نہیں لی اور کوئی بھی نیا بندہ یہ کام کرنے نہ آیا۔

Google Analytics Alternative