Home » کالم » آن ارائیول ویزا کااجراء۔۔۔مضبوط معیشت کی جانب مثبت قدم
adaria

آن ارائیول ویزا کااجراء۔۔۔مضبوط معیشت کی جانب مثبت قدم

adaria

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے ملکی معیشت کومضبوط کرنے کیلئے ایک اورمثبت قدم اٹھاتے ہوئے آن لائن ویزا کااجراء کیا جس کاافتتاح وزیراعظم پاکستان نے کیا کیونکہ اس وقت پاکستان کو معاشی اعتبارسے مشکلات درپیش ہیں اور اس امتحان سے نکلنے کیلئے بیرونی سرمایہ کاری انتہائی کلیدی حیثیت رکھتی ہے جتناہم بیرون ملک سے آنے والے سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم کریں گے۔ اتنی ہی ملکی معیشت مضبوط ہوگی ،حالات اچھے ہوں گے، روزگارکے مواقع پیدا ہوں گے، انارکی ختم ہوگی اور نوجوان مثبت سرگرمیوں میں مصروف ہوں گے جس سے ملک بھی ترقی کرے گا اوردنیابھر کے سرمایہ کار بھی پاکستان کی جانب مزید متوجہ ہوں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے آن لائن ویزا کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج پاکستان امن کے راستے پر نکل پڑا ہے، بھارت میں انتخابات کو مسائل ہو سکتے ہیں۔ ملک کو دوسروں کیلئے کھولنے کیلئے نئے پاکستان کا یہ پہلا قدم ہے، نئی ویزا پالیسی کے تحت دنیا کے 175 ممالک کے شہریوں کو آن لائن ویزا سروس کی سہولت دی گئی ہے جبکہ 50ممالک کے شہریوں کو آن ارائیول ویزا جاری ہو سکے گا، ہم نے سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے۔ آج پاکستان ایک محفوظ ملک ہے، اگلے پی ایس ایل کے تمام میچز پاکستان میں ہوں گے۔ پاکستان کے شمالی علاقہ جات سوئٹزرلینڈ سے دو گنا خوبصورت ہیں، پرامن پاکستان ہی خوشحال پاکستان بنے گا۔ ملائیشیا کی 22 ارب ڈالر کی سیاحت ہے، جو صرف ساحل پر مبنی ہے جبکہ سیاحت کے حوالے سے پاکستان کے پاس 4 مختلف چیزیں ہیں۔ انشا اللہ تمام پڑوسی ممالک سے ہمارے اچھے تعلقات ہوں گے۔ جب آپ نفرتیں پھیلا کر الیکشن جیتتے ہیں تو اس میں پھر کشمیر جیسے واقعات کا فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان سے پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر مارشل مجاہد انور خان نے ملاقات کی جس میں پاک فضائیہ کے پیشہ ورانہ امور اور دفاعی صورتحال پر گفتگو کی گئی۔وزیراعظم نے ایئر فورس کی مہارت، حالیہ کشیدگی کے دوران ملکی دفاع کی شاندار خدمات کو سراہا۔ وزیراعظم نے کہاکہ پوری قوم کو اپنی بہادر افواج پر فخر ہے۔جدید دورمیں جنگی اعتبار سے سب سے زیادہ اہمیت فضائیہ کو حاصل ہے، ہماری فضائیہ نے ماضی اورحال میں جوتاریخ رقم کی ہے اس سے پوری دنیااس وقت انگشت بدانداں ہیں۔ایم ایم عالم کی تاریخ دیکھ لیجئے اوراب جے ایف تھنڈر17کی کارکردگی بھی پوری دنیا کے سامنے ہے،اب دشمن پرایک ہیبت طاری ہے کیونکہ اس کومعلوم ہے کہ پاکستان کے شاہین اس کو صفحہ ہستی سے مٹانے میں لمحہ بھربھی ضائع نہیں کریں گے۔ادھردوسری جانب وزیراعظم عمران خان سے جہانگیر ترین نے بھی ملاقات کی۔ مزیدبراں وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت کابینہ کمیٹی توانائی کا اجلاس ہوا جس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ نئے توانائی منصوبے جلد مکمل کئے جائیں۔ بجلی چوری روکنے کیلئے اقدامات تیز کئے جائیں اور بجلی چوروں کے خلاف کریک ڈاؤن میں تیزی لائی جائے۔ بجلی نادہندگان سے وصولی کی جائے۔ وزیراعظم پاکستان کی تمام ترتوجہ ملک کو معاشی اعتبار سے مضبوط کرناہے وہ اس جانب ہمہ تن گوش ہیں،اسی وقت کو بہترسمجھتے ہوئے پنجاب اسمبلی نے ایک ایسی گگلی کھیلناچاہی کہ جس سے وہ اپنے مقاصد حاصل کرسکیں لیکن انہیں یہ معلوم نہ تھا کہ آگے واسطہ کپتان سے ہے اس نے ایساچھکامارا کہ گیندگراؤنڈتودرکنار سٹیڈیم سے بھی باہرچلی گئی۔شاید لاہورمیں ہوشربا مہنگائی تھی اور بیچارے غریب ،نادارممبران پنجاب اسمبلی دووقت کی روٹی کھانے سے بھی مجبورتھے اسی لئے انہوں نے چوبیس گھنٹوں کے اندراندراپنی تنخواہیں لاکھوں تک پہنچادیں پھروزیراعلیٰ کے لئے توایسے کیاجیسے اس کے لئے من وسلویٰ ہی اترآیا ہو ،زندگی بھر کی سہولیات فراہم کرنے کابل پاس کیاگیامگربھلاہوکپتان کا کہ اس نے سب کو ہی باؤنسرمارکرآؤٹ کرتے ہوئے گورنرپنجاب کو پابند کیاکہ وہ سمری پردستخط نہ کریں اورساتھ ہی سخت برہمی کااظہارکیاکہ یہ وقت ایسے بل لانے یاپاس کرنے کانہیں ۔وزیراعظم کے اس اقدام سے عام میں اُن کی قدرومنزلت کابے تحاشہ اضافہ ہوگیاہے۔

کرتارپورراہداری ۔۔۔مذاکرات کا پہلا دور کامیاب
کرتارپورراہداری پر پاکستان اوربھارت کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور کامیاب ہوگیاجوکہ انتہائی خوش آئند ہے ، پاکستان کی کاوشیں رنگ لاتی ہوئیں نظرآرہی ہیں کیونکہ ترجمان دفترخارجہ نے واضح طورپرکہاہے کہ ہم ایک ایسا درخت لگاناچاہ رہے ہیں جس کاسایہ پڑوسی ملک تک جائے اب یہ بھارت پرمنحصر ہے کہ اب وہ اس سائے میں بیٹھناچاہتاہے یاسائے میں خندق کھود کرجنگی طیاری کرناچاہتا ہے تاہم اعلامیہ کاجاری ہونا بھی ایک اچھی خبر ہے ۔دونوں ممالک نے کرتارپور راہداری منصوبے پر مذاکرات کا دوسرا دور دو اپریل کو واہگہ پر کرنے پراتفاق کرلیا۔ وزارت خارجہ میں ڈی جی ساوتھ ایشیا اور ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کی قیادت میں 18 رکنی پاکستانی وفد نے اٹاری میں کرتار پور راہداری منصوبے سے متعلق بھارتی حکام سے مذاکرات کیے۔ دونوں ممالک کے حکام کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے مشترکہ اعلامیے کے مطابق کرتار پور راہداری کے طریقے اور مسودے سے متعلق پہلی ملا قا ت خوشگوار ماحول میں ہوئی اور فریقین نے مختلف امور پر تفصیلی اور تعمیری مذاکرات کیے۔اعلامیے میں کہا گیا کہ تکنیکی سطح پر بھی دونوں ممالک کے ماہرین کے درمیان بات ہوئی، مجوزہ معاہدے کی فراہمی، کرتارپور راہداری کے کام کو تیز تر کرنے اور مذاکرات کا اگلا دور 2 اپریل کو واہگہ پر ہونیکا اتفاق کیا گیا ۔ پاکستان وفد کے سربراہ ڈاکٹر محمد فیصل نے میڈیا کو بریفنگ کے دوران بتایا کہ بھارتی حکام سے بہت مثبت بات چیت ہوئی تاہم بعض معاملات پر اب بھی اختلافات ہیں، جس کی تفصیلات نہیں بتا سکتا۔ادھر بھارت نے ایک مرتبہ پھر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کرتار پور راہداری منصوبے پر مذاکرات کی کوریج کیلئے پاکستانی صحافیوں کو ویزے جاری نہ کر کے تنگ نظری کا ثبوت دیا ہے۔ پاک بھارت کشیدگی کا خاتمہ خطہ کے امن اور استحکام کیلئے ضروری ہے،کرتارپور راہداری سے دونوں ممالک میں امن ہو گا۔ وزیر اعظم عمران خان کا یہ اقدام نہ صرف خاص طور بھارتی سکھوں کو سہولت پہنچائے گا بلکہ موجودہ صورتحال میں آگے بڑھنے کے حوالے سے ایک مثبت قدم ثابت ہو گا اور جھگڑے سے تعاون، کشیدگی سے امن اور دشمنی کو دوستی میں تبدیل کرنے میں معاون ثابت ہو گا۔ کرتار پور نارووال میں چھوٹا سا قصبہ ہے جو پاک بھارت سرحد سے چار کلو میٹر دور واقع ہے۔ سکھ مذہب کے بانی بابا گرونانک نے اپنی زندگی کے آخری 18 سال اس جگہ گزارے ، کرتارپورراہداری سے سکھ برادری کوسہولت اوردونوں ملکوں کے درمیان امن بھی ہوگا، بابا گورونانک دیو جی کا مزارسکھ برادری کیلئے اہمیت کا حامل ہے اورپاکستان اقلیتوں کے حقوق کا ہمیشہ علمبرداررہا ہے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative