اس کھلے راز سے بھلا کون آگاہ نہیں کہ 27فروری 2019کو دن کے اجالے میں پاک فضائیہ نے بھارتی طیارہ مار گرایا تھا جس کے نتیجے میں ابھی نندن کو گرفتار کر لیا تھا ،یہ ایک الگ با ت ہے کہ باوجوہ چند گھنٹے بعد اسے چھوڑ دیا گیا تھا۔ اس سے یہ بات تو واضح ہو جاتی ہے کہ بھارت کو اس ضمن میں بدترین ذلت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ایسے میںاگر بھارت اپنی فضائی برتری کا دعوا کرئے تو اسے دیوانے کے خواب سے ہی تعبیر کیا جا سکتا ہے ۔اسی تناظر میں نام نہاد آپریشن سندور کو بھی دیکھا جانا چاہیے ۔مبصرین کے مطابق جنوبی ایشیا جیسے حساس خطے میں جہاں دو ایٹمی قوتیں آمنے سامنے موجود ہوں، وہاں کسی بھی عسکری تصادم یا فضائی جنگ پر مبنی تحقیقی رپورٹ کو غیر معمولی احتیاط، ٹھوس شواہد اور متوازن تجزیے کی بنیاد پر مرتب کیا جانا چاہیے۔ تاہم حالیہ دنوں میں شائع ہونیوالی سی ایچ پی ایم "مرکزی فوجی تاریخ اور نقطہ نظر کے مطالعات کا مرکز” کی رپورٹ”آپریشن سندور: بھارت پاکستان فضائی جنگ ” پر سنجیدہ حلقوں کی جانب سے کئی بنیادی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ جان کاروں کے مطابق یہ رپورٹ غیر جانبدار عسکری تجزیے کے بجائے بھارتی سرکاری بیانیے کی توسیع معلوم ہوتی ہے، جس میں متضاد شواہد کو نظر انداز کرنے اور غیر منطقی دعوؤں کو حقیقت کے طور پر پیش کرنے کی ناکام کوشش کی گئی ہے۔سفارتی ماہرین کے بقول رپورٹ کا پہلا بڑا تضاد 2019 کے پلوامہ واقعے کی تشریح میں سامنے آتا ہے، جہاں اسے ایک ثابت شدہ حقیقت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔حالانکہ یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ پلوامہ حملے کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر کوئی آزاد فرانزک تحقیقات یا عدالتی تصدیق موجود نہیں۔ اسی تناظر میں متعدد بھارتی صحافیوں، سیاستدانوں اور تجزیہ کاروں نے بھی اس واقعے پر سوالات اٹھائے تھے تاہم سی ایچ پی ایم رپورٹ ان اختلافی آراء کو مکمل طور پر نظر انداز کرتی دکھائی دیتی ہے جو اس کی تحقیقی غیر جانبداری پر سوالیہ نشان بن جاتی ہے ۔ مبصرین کے مطابق رپورٹ میں بالاکوٹ فضائی کارروائی کے حوالے سے بھی بھارتی دعوؤں کو بغیر کسی تنقیدی جائزے کے تسلیم کیا گیا ہے۔ غیر جانبدار ذرائع کے مطابق پاکستان نے اس واقعے کے بعد غیر ملکی صحافیوں اور سفارتی نمائندوں کو متعلقہ مقام کا دورہ کروایا تھا جہاں کسی عسکری تنصیب کی تباہی یا جانی نقصان کے شواہد سامنے نہیں آئے۔ اس کے باوجود رپورٹ میں ان متبادل شواہد کو نظر انداز کرتے ہوئے بھارتی موقف کو حتمی حقیقت کے طور پر پیش کیا گیا ۔اس ضمن میںیہ امر خصوصی توجہ کا حامل ہے کہ 26 فروری 2019 کی فضائی جھڑپ کے حوالے سے رپورٹ میں اندرونی تضادات بھی نمایاں ہیں۔ ایک جانب یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستانی فضائیہ اپنا مشن مکمل کرنے میں ناکام رہی اور اس نے ہتھیار جلدی میں گرا دیے، جبکہ دوسری جانب یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہی ہتھیار بھارتی عسکری تنصیبات کے قریب گرے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ دونوں دعوے بیک وقت درست نہیں ہو سکتے۔ سنجید ہ حلقوں کے مطابق اس وقت پاکستان نے جان بوجھ کر عسکری اہداف کو نشانہ بنانے سے گریز کیا تھا تاکہ کشیدگی کو محدود رکھا جا سکے جسے رپورٹ میں ناکامی کے طور پر پیش کیا گیا۔اسی تناظر میں مئی 2025 کے فضائی تصادم کے حوالے سے رپورٹ میں مزید ابہام پیدا ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ مبصرین کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی اہداف کی بڑی تعداد بھارتی فوج کے سپرد تھی، مگر یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان اہداف کو عملی طور پر کیسے نشانہ بنایا گیا۔ بعد ازاں رپورٹ خود ہی یہ تاثر دیتی ہے کہ تمام کارروائیاں بھارتی فضائیہ نے انجام دیں، جو اس کے اندرونی تضاد کو مزید نمایاں کرتا ہے۔سفارتی اور دفاعی ماہرین کے بقول فضائی کارروائیوں کی تفصیل بھی کئی منطقی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ رپورٹ میں ایک طرف بے سروپا یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان بھارتی فضائی حملے کا بروقت سراغ نہیں لگا سکا، جبکہ دوسری طرف یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستانی طیاروں نے حملے کے وقت بھارتی طیاروں کو نشانہ بنایا۔ مبصرین کے مطابق اگر حملے کا سراغ ہی نہ لگایا گیا ہو تو مقابلہ ممکن نہیں ہوتا، اور اگر مقابلہ ہوا تو سراغ لگنے کا دعویٰ خود بخود غلط ثابت ہو جاتا ہے۔یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ رپورٹ میں بھارتی ایس 400 دفاعی نظام کے ذریعے پاکستانی ایریئے طیارے کو پاکستانی حدود کے اندر نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی شامل ہے جسے دفاعی تجزیہ کار غیر منطقی قرار دیتے ہیں۔ جان کاروں کے مطابق اس نوعیت کے دعوے کیلئے ٹھوس شواہد، ریڈار ڈیٹا یا ملبے کے شواہد ضروری ہوتے ہیںجو رپورٹ میں موجود نہیں۔اسی طرح رپورٹ میں مئی 2025 کے دوران پاکستان کی جانب سے مبینہ میزائل حملوں کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ مبصرین کے مطابق دستیاب معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان نے محدود جوابی کارروائی بعد ازاں کی تھی اور اس سے پہلے صرف نگرانی کیلئے ڈرونز استعمال کیے گئے تھے۔ اس تضاد نے رپورٹ کی ساکھ کو پوری طرح مٹی میں ملا دیا ہے۔غیر جانبدار تجزیہ کاروں کے مطابق جنگ بندی کے حوالے سے بھی رپورٹ میں حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان نے جنگ بندی کی درخواست کی جبکہ دستیاب بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی باہمی رابطوں کے بعد طے پائی تھی۔ مبصرین کے مطابق اس پہلو کو یکطرفہ انداز میں پیش کرنا تجزیاتی غیر سنجیدگی کی مثال ہے۔یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ مذکورہ رپورٹ بھارتی دعوؤں کیلئے نرم معیار اختیار کرتی ہے جبکہ پاکستانی موقف کو بغیر تحقیق کے مسترد کر دیتی ہے ۔ مبصرین کے مطابق بھارتی طیاروں کے نقصانات کے شواہد بین الاقوامی میڈیا میں سامنے آئے جبکہ پاکستان فضائیہ کے نقصانات کے حوالے سے کوئی واضح ثبوت سامنے نہیں آیا۔ دفاعی ماہرین کے مطابق جدید دور میں سوشل میڈیا اور اوپن سورس انٹیلی جنس کی موجودگی میں شواہد کا فقدان خود ایک اہم حقیقت بن جاتا ہے ۔ سفارتی ماہرین کے بقول اس رپورٹ کا سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ یہ تجزیے کے بجائے بیانیے کی تشکیل کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔ اسی تناظر میں عالمی تھنک ٹینکس اور تحقیقی اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ تنازعات کے تجزیے میں غیر جانبداری اور تحقیقاتی دیانت داری کو مقدم رکھیں۔آخر میں مبصرین کے مطابق جنوبی ایشیا جیسے حساس خطے میں غلط یا مبالغہ آمیز عسکری تجزیے نہ صرف علاقائی کشیدگی کو بڑھا سکتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر غلط فہمیاں بھی پیدا کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایسے موضوعات پر تحقیق کرتے وقت شواہد، منطق اور متوازن نقطہ نظر کو بنیادی حیثیت دی جائے تاکہ پالیسی سازی اور عوامی رائے حقائق پر مبنی رہ سکے۔
آپریشن سندور کی نام نہاد رپورٹ۔ جھوٹ کا پلندہ

