Site icon Daily Pakistan

آپ کا دکھ ہمارا دکھ

یہ کالم کسی وقتی جذبات یا عارضی جوش کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ حقیقت اور جذبے کی عکاسی ہے۔ یہ لکھنے کی ضرورت اس وقت محسوس ہوئی جب عمان میں ایک حادثہ پیش آیا اور ایک گاڑی پل سے پانی میں جا گری۔ وہاں موجود ایک پاکستانی نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر پانی میں اتر کر دوسروں کی زندگی بچائی اور یہ ثابت کر دیا کہ کچھ قومیں دوسروں کو زندگی دینے کے لیے جیتی ہیں۔یہ وہ لمحہ ہے جہاں پاکستانی قوم کی اصل پہچان سامنے آتی ہے۔ ہم اکثر یہ سنتے ہیں کہ پاکستانی بیرونِ ملک محنت مزدوری کرتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی صرف محنتی ہی نہیں بلکہ انتہائی جرات مند اور ایثار کرنے والے لوگ ہیں۔ وہ خطرے کے وقت سب سے آگے بڑھ کر سہارا بنتے ہیں۔یہ جذبہ 2010کے جدہ کے سیلاب میں بھی نظر آیا۔ جب ہر طرف پانی تھا اور حالات انتہائی کٹھن تھے، ایسے وقت میں فرمان علی خان کھڑا ہوا۔ اس نے کئی قیمتی جانیں بچائیں، اور دوسروں کو بچاتے ہوئے خود جامِ شہادت نوش کر گیا۔ وہ اپنی جان دے کر انسانیت کو ایک روشن پیغام دے گیا کہ پاکستانی قوم اپنے بھائیوں کے لیے جان دینے سے بھی گریز نہیں کرتی۔میں نے یہ بات 2010 میں جدہ ہی کے ایک پروگرام میں سعودی بھائیوں کی موجودگی میں کہی تھی کہ جب بھی اس دھرتی پر کوئی مشکل وقت آئے گا، پاکستانی اپنے عرب بھائیوں کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوں گے اور اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے میں سب سے آگے ہوں گے۔ آج عمان کا واقعہ ہو یا جدہ کا سیلاب، یہ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ پاکستانی قوم ایک محافظ قوم ہے۔جہاں تک کچھ منفی مناظر کا تعلق ہے، تو وہ کسی پاکستانی کی فطرت نہیں۔ پاکستانی قوم اصلا غیرت مند اور خوددار ہے۔ اگر ہمیں اپنے ملک کے اندر روزگار کے مزید بہتر مواقع میسر ہوں، تو ہمارے نوجوان اپنی صلاحیتیں اپنے ہی وطن کی مٹی پر صرف کریں۔ میں نے خود پچیس سال سعودی عرب میں گزارے ہیں، وہاں کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالا ہے اور آج میرے بچے بھی وہیں محنت کر رہے ہیں۔ یہ محنت کش طبقہ دراصل پاکستان کا سفیر ہے جو اپنی محنت سے دونوں ملکوں کے درمیان محبت کا پل بنتا ہے۔ایک سعودی امام نے کتنا سچ کہا تھا کہ پاکستانی ایماندار، قابلِ اعتماد اور محافظ ہوتے ہیں۔ یہ وہ کردار ہے جو برسوں کی وفاداری سے بنتا ہے۔ پاکستانی اپنی عزت اور خودداری پر سمجھوتہ نہیں کرتا، اور یہی وصف اسے دوسروں میں ممتاز کرتا ہے۔آج اگر دنیا میں کہیں بھی کوئی پاکستانی کسی کی مدد کر رہا ہے، تو اسے اس کی قوم کا اصل عکس سمجھیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو آگ میں کود جائیں گے، پانی میں اتر جائیں گے، اور دوسروں کی جان بچانے کے لیے اپنی جان کو دا پر لگا دیں گے۔عمان کا واقعہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اصل بہادری کسی حادثے کی ویڈیو بنانا نہیں، بلکہ اپنی جان خطرے میں ڈال کر کسی کی مدد کرنا ہے۔ پاکستانی نے اپنے عمل سے یہ ثابت کر دیا کہ ہم صرف کام کرنے والے ہاتھ نہیں، بلکہ بچانے والے ہاتھ بھی ہیں۔یہ کالم ان تمام لوگوں کے لیے ایک پیغام ہے جو پاکستانیوں کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ پاکستانی قوم میں وہ خاص وصف ہے جو انہیں دوسروں کے دکھ میں تڑپا دیتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ہر مشکل گھڑی میں یہ کہتے ہیں:”آپ کو ہم مرنے سے بچائیں گے۔”یہ جملہ محض الفاظ نہیں، ایک عہد ہے جو ہر پاکستانی اپنے دل میں لیے پھرتا ہے۔ دنیا جان لے کہ ہم وہ لوگ ہیں جو اپنی جان پر کھیل کر بھی انسانیت کا بھلا چاہتے ہیں۔ جب بھی کسی بھائی کو ضرورت ہوگی، ایک پاکستانی ضرور آگے بڑھے گا اور کہے گافکر نہ کریں،،آپ کا دکھ ہمارا دکھ،،

Exit mobile version