Home » کالم » اسرائیلی فوج فلسطینی بچوں کے اعضاء کا کاروبار کرتی ہے

اسرائیلی فوج فلسطینی بچوں کے اعضاء کا کاروبار کرتی ہے

آج کل پاک بھارت کشیدگی گفتگو کا اہم موضوع ہے۔ پہلے پلوامہ سانحہ، پاکستان پر اس کا الزام، پھر ناکام بھارتی فضائی سٹرائیک اس پر پاکستان کا جواب اور دو بھارتی طیاروں کی تباہی ، 14 فروری سے لے کر 28 فروری تک اس پندرہ روزہ جھڑپوں سے بھرپور کشیدگی کا ہر سو چرچا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ انکشاف بھی اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ یہ سب ڈرامہ کرنے کیلئے بھارت کو اسرائیل نے اکسایا تھا۔ جی ہاں! یہ سچ ہے کہ اس سارے کھیل کی ڈوریاں اسرائیل کے ہاتھ میں تھیں۔ اصل میں بھارت کو تو یہ غصہ ہے کہ پاکستان کیوں بنا۔ بھارت کو دولخت ہونا پڑا یوں قیام پاکستان سے اب تک بھارت نے پاکستان کو قبول نہیں کیا۔ لیکن اسرائیل کو اسلام سے خطرہ ہے۔ اس نے فلسطین، شام، مصر اور دیگر عرب ممالک کا ناک میں دم کر رکھا ہے۔ پاکستان سے وہ اس لئے خار کھاتا ہے کہ پاکستان اب واحد اسلامی ملک ہے جو جوہری طاقت بھی ہے اور اس میں اسلامی ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے ان کی قیادت سنبھالنے کی صلاحیت بھی ہے۔ لہٰذا پاکستان عظیم اسرائیل کے راستے کا پہلا پتھر ہے۔ مسئلہ فلسطین بہت بڑا انسانی المیہ ہے اور یہ صرف اور صرف اسرائیل کی امریکی سرپرستی کی وجہ سے ہے۔اس سلسلے میں علامہ اقبالؒ صحیح فرمایا کرتے تھے مغرب کی رگ جاں پنجہ یہود کے قبضہ میں ہے۔ سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ اب تک مسلم ممالک اسرائیل سے نہیں بلکہ اپنے بھائی اسلامی ممالک سے لڑ رہے ہیں۔ ایران ، اعراق ، شام ، مصر ، سعودی عرب یہ اسلامی ممالک اگر متحد ہو کر اسرائیل کے خلاف لڑیں تو اسرائیل چند دنوں کی مار ہے مگر۔فلسطین کو جن اسلامی ممالک سے توقع ہے کہ وہ اس کو آزاد کروائیں گے وہ سعودی عرب اور ایران ہیں جن کی آپس میں ہی نہیں بنتی تو فلسطین کی کیا مدد کریں گے۔ امریکہ ، روس، فرانس اور دیگر بڑے ممالک تو چاہیں گے کہ یہ آپس کی جنگیں چلتی رہیں تاکہ ان کا اسلحہ بکتا رہے اور دوسری طرف اسرائیل بھی ان کے سر پر سوار رہے۔ جہاں تک فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کی بات ہے تو اس سلسلے میں ایک خطرناک انکشاف جامعہ عبرانی القدس کی ایک عرب پروفیسر نے کیا ہے کہ اسرائیل اکثر ہتھیاروں کی طاقت سے متعلق جاننے کیلئے معصوم فلسطینیوں یہاں تک کہ بچوں پر بھی ان کے تجربات کررہا ہے۔فلسطینی مقامات اسرائیلی سکیورٹی انڈسٹری کی لیبارٹریاں ہیں۔وہاں پر نہتے فلسطینیوں پر مہلک ہتھیار برسائے جاتے ہیں اور ان کے اثرات دیکھے جاتے ہیں۔ اسرائیلی فوج خاص طور پر نوجوان نسل کو ہتھیاروں کی اس مبینہ آزمائش کا نشانہ بناتی ہے۔یہاں پر کچھ بچوں کے انٹرویو بھی پیش کیے گئے۔ محمد نامی بچے نے کہا اسرائیلی آرمی یہ جائزہ لیتی ہے کہ ہمارے خلاف کون سے بم استعمال کریں۔ ہمیں رائفل، گیس بم یا اسٹنگ بم سے مارا جائے۔ ہمارے اوپر پلاسٹک کے بیگز رکھے جائیں یا کپڑے رکھے جائیں۔اس کے علاوہ اکثر بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اسرائیلی فوج قتل کیے جانے والے فلسطینی بچوں کے اعضا کا کاروبار کرتی ہے۔یہ بھی کہا گیا کہ غزہ پٹی پر موجود آبادی بھوک سے مررہی ہے اور انہیں زہر دیا جاریا ہے۔ بچوں کو ان کے اعضا کیلئے اغوا اور قتل کیا جارہا ہے۔کچھ عرصہ قبل اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو لکھے گئے خط میں انکشاف کیا گیا تھا کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے قتل کیے گئے فلسطینیوں کی لاشیں کورنیا اور دیگر اعضاء کے بغیر واپس کی جاتی ہیں۔اس بات کی تصدیق نیویارک ٹائمز نے اگست 2014 میں کی جس کی رپورٹ کے مطابق 2000 سے اسرائیل انسانی اعضاء کی غیرقانونی سمگلنگ میں ’غیرمعمولی کردار ‘ ادا کررہا ہے۔ایک ٹی وی چینل کے نیوز اینکر کا کہنا ہے کہ وہ بچوں کو فوج میں بھیجتے ہیں، علاقوں میں بھیجتے ہیں اور وہ انسان نما جانور بن کر واپس آتے ہیں، یہ قبضے کا نتیجہ ہے۔بھارت جو کہ مقبوضہ کشمیر میں جدوجہد آزادی سے پریشان ہے اس نے اسرائیل سے اس جدوجہد کو کچلنے کیلئے مدد طلب کی۔بھارت کا کہنا ہے کہ جس طرح اسرائیل نے فلسطینیوں کی جدوجہد آزادی کے خلاف آپریشن کیے ویسے ہی کشمیریوں کے خلاف بھی ہونے چاہئیں لہٰذا بھارت اور اسرائیل کے درمیان کشمیر اور فلسطین کی آزادی تحاریک کو کچلنے پر اتفاق ہوا۔ مقبوضہ کشمیر میں اسرائیلی گراؤنڈ فورسز کے سربراہ نے جموں میں بھارتی فوج کی شمالی کمان کے ہیڈکوارٹر کا دورہ کرکے بھارتی فوج کے کمانڈر اور دیگر سینئر افسروں سے ملاقات کی تاکہ فلسطین اور کشمیر میں جاری آزادی کی جائز تحریکوں کو دبانے کیلئے ایک دوسرے کیساتھ تعاون بڑھایا جائے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں ایک منصوبے کے تحت مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرکے ہندوؤں کو آباد کرنا چاہتا ہے تاکہ اگر مستقبل میں کبھی مقبوضہ کشمیر میں رائے شماری کروانا ہی پڑ جائے تو من پسند نتائج حاصل کئے جا سکیں۔ اس منصوبے کے تحت اسرائیلی طرز پر کشمیریوں کو بھی فلسطینیوں کی طرح اپنی زمینوں سے محروم کیا جائے گا۔اس کیلئے مودی سرکار خصوصی ایکٹ 35-A کو ختم کرنا چاہتی ہے جس کے تحت جموں کشمیر کو خصوصی ریاست کا درجہ حاصل ہے۔آرٹیکل 35 اے کے مطابق کوئی شخص صرف اسی صورت میں جموں کشمیر کا شہری ہو سکتا ہے اگر وہ یہاں پیدا ہوا ہو۔ کسی بھی دوسری ریاست کا شہری جموں کشمیر میں جائیداد نہیں خرید سکتا اور نہ ہی یہاں کا مستقل شہری بن سکتا ہے نہ ہی ملازمتوں پر حق رکھتا ہے۔آرٹیکل 35 اے جموں و کشمیر کے لوگوں کو مستقل شہریت کی ضمانت دیتا ہے۔ اسے ہٹانے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ بھارت کشمیر کے خصوصی ریاست کے درجے کو ختم کر رہا ہے۔ اس کے منسوخ ہونے کی صورت میں بھارت مقبوضہ وادی میں نئی ہندو بستیاں آباد کر سکے گا۔ بھارت اور اسکے ریاستی حواری جموں کشمیر کو ایک فوجی اور پولیسی ریاست قرار دے چکے ہیں اور یہاں کے حریت پسندوں پر اسرائیلی طرز کی جارحیت کرکے انہیں تحریک آزادی سے دور کرنا چاہتے ہیں۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی بھی اس بات سے متفق ہیں کہ بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں اسرائیلی طرز پر شہریوں کے گھروں کو تباہ کر کے انہیں کشمیر چھوڑنے پر مجبور کر رہی ہے۔ وادی کے کئی علاقوں میں رہائشی مکان مسمار اور پھل دار درخت کاٹ دیئے گئے۔بھارتی حکومت نے اسرائیل کی مدد سے وادی میں کشمیری پنڈتوں پر مشتمل ایک نئی مسلح تنظیم قائم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جس کو مختلف علاقوں میں بستیاں بنا کر آباد کیا جائے گا۔ یہ فورس علاقے میں ہندوؤں کے 30 مقدس مقامات کی حفاظت کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے مقدس مقامات کی بے حرمتی اور توڑ پھوڑ کرے گی۔ یہ فورس پلگام، بارہ مولہ، تاؤمل، اننت ناگ، ویری ناگ کے علاوہ دیگر علاقوں میں کام کرے گی۔ اس فورس کو مقبوضہ کشمیر میں قائم بھارتی چھاؤنیوں میں مسلح تربیت دی جائے گی۔اسرائیل بھارت کو دفاعی ساز و سامان فراہم اور اسکی تیاری میں مدد دینے والا اہم ملک ہے۔اسرائیلی لیبل کے ذریعے امریکی ٹیکنالوجی اور ہتھیار بھی منتقل کئے جا رہے ہیں لہٰذا یہ کوئی حیرانگی کی بات نہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک فوجی معاہدہ ہو رہا ہے اس بار بھارت اور اسرائیل ایک ارب دس کروڑ ڈلر کا معاہدہ کر رہے ہیں جس کے تحت بھارت کے ڈیفنس سسٹم کو اپ گریڈ کیا جائیگا۔ ہنود و یہود کے اس گٹھ جوڑ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ کشمیر پر ناجائز قبضے کیلئے موساد اور اسرائیلی حکومت بھارت کی بھرپور مدد کر رہے ہیں تاکہ بعد میں کشمیر پر قبضہ کیا جا سکے۔

About Admin

Google Analytics Alternative