Home » کالم » اسلامی سزاءوں میں انسانیت کافائدہ

اسلامی سزاءوں میں انسانیت کافائدہ

بد قسمتی سے مسلم دنیا اور بالخصوص پاکستان کا روشن خیال طبقہ جس کو اسلام اور مذہب کا دور دور سے واسطہ نہیں وہ بھی اسلامی سزاءوں تعزیرات اور قوانین کو جا ہلانہ اور ظالمانہ قرار دیتے ہیں ۔ اور اب یہی خا ص گروہ ناموس رسالت کے قانون اور اسلامی سزاءوں کوختم کرنے پر تُلا ہوا ہے ۔ وہ یہ بات سمجھنے سے قطعاً عاری ہے کہ وہ نام نہاد اور ترقی یافتہ ممالک جو اسلامی قوانین اور نظام کی مخا لفت کرتے ہیں وہاں اُنکی اپنی حالت کو نسی اچھی ہے ۔ اسلام ایک انتہائی دور اندیش مذہب ہے اور نغوذ باللہ اکیسویں صدی میں جب انسان چاند، مریخ اور دوسرے سیاروں پر قدم رکھ چکا ہے ، جدید سائنس اور ٹیکنالوجی ۴۱ سوسال پہلے قُر آن کی ایک آیت غلط ثابت نہ کر سکی ۔ جوں جوں سائنس اور ٹیکنالوجی ترقی کر تی جائی گی اسلام مزید نکھر تا جائے گا ۔ اگر ہم مختلف ممالک کے مجموعی جرائم کی تعداد دیکھیں تو اس میں 2کروڑ جر ائم کے ساتھ امریکہ سر فہرست، جبکہ دوسرے نمبر پر اُنکا حلیف بر طانیہ، تیسرے نمبر پر جرمنی اور دسویں نمبر پر دنیا میں دوسری بڑی جمہوری حکومت کا دعوہ کر نے والا ملک بھارت ہے ۔ یہاں یہ بات خوش آئند ہے کہ 50 ممالک کی اس فہرست میں کوئی مسلم ملک شامل نہیں ۔ اسی طر ح امریکہ میں عصمت دری کے سالانہ ایک لاکھ، کینیڈا میں 30 ہزار جبکہ اسکے برعکس اسلامی ممالک سعودی عرب اور قطر میں عصمت دری کے 12 اور30اقعات ہو تے ہیں ۔ اگر ہم کار چو رممالک کے 10 ٹاپ ممالک کی لسٹ کا تجزیہ کریں تو اس میں ایک بھی مسلم ملک نہیں ۔ اگرہم بین لاقوامی سطح پر طلاق کی شرح دیکھیں تو ٹاپ ٹین میں کوئی بھی مسلمان ملک شامل نہیں ۔ امریکہ جہاں پرطلاق کی شر ح یعنی 5 فی ہزار سالانہ، بر طانیہ میں 4فی ہزار جبکہ اسلامی ممالک میں سعودی عرب0;46;10 فی ہزار ہے جو نہ ہونے کے برابر ہے ۔ اس طر ح اگر ہم دنیا میں قتل کی شرح دیکھیں تو قتل کی شرح امریکہ میں پانچ ہزار فی لاکھ ، بر طانیہ میں چار ہزارفی لاکھ جبکہ سعو دی عرب میں قتل کی شرح فقط ایک فی لاکھ ہے ۔ با وجودیہ کہ جہاں پر اسلامی قوانین اور شریعت سختی سے لاگو بھی نہیں ۔ اگر ہم مندرجہ بالا تناظر میں دیکھیں تو اس سے ایک بات واضح ہو جاتی ہے کہ اسلامی ممالک میں مختلف جرائم کی شرح وہاں پر راءج کسی حد تک اسلامی نظام اور اسلامی نطام کی وجہ سے اخلاقی، معاشی ، سماجی اور ثقافتی حدود کی وجہ سے ہے ۔ اگر ان اسلامی تعلیمات اورقدروں کو ختم کیا جائے تو مسلمان ممالک کی حالت ان کافروں سے بر تر ہو گی ۔ اور یہی وجہ ہے کہ اسلام میں سزاءوں کا جو نُقطہ نظر ہے وہ نہ صرف استدلالی بلکہ عقلی ہے ۔ اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے ۔ بعض روشن خیال لبرل قصاص اور دیت کو فر سودہ اور غیر اسلامی سزا گر دانتے ہیں ، مگر سورۃ البقرہ 178 میں ارشاد خداوندی ہے اور اے اہل عقل قصاص میں تمھاری زندگانی ہے کہ تم خو نریزی سے بچو ۔ اگر مسلمان معاشرے میں قصاص اور دیت کا نُقطہ نظر نہ ہوتا تو آج امریکہ اور بر طانئے کی طرح مسلمان ممالک میں قتل کی شرح میں نمایاں اضافہ ہو تا ۔ مگر ہماری خوش قسمتی یہ ہے کہ ہ میں ایک ایسا مذہب ملا ہے جو دنیا میں امن ، رواداری اور بھائی چارے کو فروع دینے والا ہے ۔ سورۃ بنی اسرائیل (33) میں ارشاد خداوندی ہے اور جو شخص ظلم سے قتل کیاجا ئے ہم نے ان کے وارث کو اختیار دیا ہے کہ ظالم قاتل سے بد لہ لے تو اسکو چاہئے کہ قتل کے قصاص میں زیادتی نہ کرے ۔ پروفیسر محمد قطب کہتے ہیں کہ 400 سال کے بڑے عر صے میں صرف 6 لوگوں کے ہاتھ چوری کے جرم میں کاٹے گئے ۔ اگر اسکے بر عکس ہم یو رپ اور بالخصوص امریکہ اور انکے اتحادیوں کو دیکھیں تو انہوں نے بنی نوع انسانوں کو مارنے اور قتل کر نے کے لئے کیا کیا خو ف ناک اور خطر ناک ہتھیار نہیں بنائے ۔ کیا ناگاساکی ، ہیرو شیما ، افغانستان اور عراق میں اسلامی نظام یعنی قصاص، دیت اور چوری کی سزا کی وجہ سے لاکھوں لوگ لُقمہ اجل بن گئے ۔ کیا عراق میں لاکھوں بچے قصاص دیت اور چو ری کی سزا کی وجہ سے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔ جہاں تک اسلام کی سخت سزاءوں کا تعلق ہے اس سے تو جرائم میں انتہائی حد تک کمی ہوئی ہے ۔ اقوام متحدہ کے نیشنل کمیشن فار نار کا ٹکس کنٹرول کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں اور بالخصوص امریکہ میں ببچوں کے ساتھ بد فعلی،گا ڑیوں کے ایکسیڈنٹ ، قتل اور جنسی جرائم کی سب سے بڑی وجہ شراب نو شی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسلام نے شراب نو شی کی سخت سزا مقرر کی ہے ۔ سورۃ البقرہ (218) میں ار شاد خداوندی ہے اے پیغبر لوگ تُم سے شراب اور جوئے کے بارے میں پو چھتے ہیں کہہ دو کہ ان میں نُقصانات بڑے ہیں ۔ حضور ﷺ کے دور میں جب اسلامی حکومت پورے عروج پر تھا ایک معزز خاندان کی عورت چوری کے الزام پکڑی گئی ۔ چو ری کا یہ مقدمہ حضور ﷺ کی خدمت میں پیش ہوا ،کئی لوگوں نے سفارش کی کہ اس معزز خاندان کی عورت کو چوری کی سزا نہ دی جائے ،آقائے نامدار ﷺ نے فر مایاکہ آپ سے پہلی قو میں اسی وجہ سے تباہ ہوئی تھیں کیونکہ وہ عام لوگوں سزاتو دیتے تھے اور خواص کو کھلا چھوڑ دیتے ۔ خداکی قسم ۔ کہ اگر محمدﷺ کی بیٹی حضرت فا طمہ;230; پر بھی چوری کا جرم ثابت ہو جاتا تو اُسکا بھی ہاتھ کا ٹ دیا جاتا ۔ ا سطرح حضرت عمر ;230; کے دور خلافت میں سخت قحط تھا اور ایک آدمی نے چوری کی مگر حضرت عمر ;230; نے بھوک افلاس اور قحط کی وجہ سے چور کا ہاتھ کاٹنے کی سزا معاف کر دی ۔ اس طر ح اسلام میں زنا کی جو سزا رکھی گئی ہے وہ بھی غیر عقلی اور استد لالی مبہم نہیں ۔ خدارا ان سزاءوں کا مذاق نہ اُڑایا جائے بلکہ انہی سزاءوں اور اسلامی تہذیب و تمدن کی روایات کی وجہ سے دنیا کے اکثر اسلامی ممالک جرائم کی شرح کسی حد تک کم ہے ۔ حالانکہ انہی اسلامی ممالک میں کوئی آئیڈیل اسلامی نظام نہیں ۔

About Admin

Google Analytics Alternative