Home » کالم » اسلامی نظام سے ہی مزدور کی حالت درست ہو سکتی ہے

اسلامی نظام سے ہی مزدور کی حالت درست ہو سکتی ہے

پاکستان بننے کے بعد ٹریڈ یونین تحریک سوشلسٹ نظریات کے حامل افراد چلا رہے تھے ۔ یہ پاکستان کے نظریا ت کےخلاف اعلانیہ کام کرتے تھے ۔ کیمونسٹ معاشرے اور سوشلسٹ ریاست کے داعی تھے ۔ بظاہر مزد وروں کے حامی اور درپردہ پاکستان میں کیمونسٹ انقلاب کے پرچارک تھے ۔ اپنے جلسوں میں خدا بیزاری، جلاءو گھیراءو، پکڑ لو مار دو کا ماحول ٹریڈ یونین پروان چھڑا ہوا تھا ۔ جماعت اسلامی نے ان کے مقابلے اور پاکستان کو ان کے ناپاک عزائم سے بچانے اور اسلامی سوچ کی ٹریڈ یونین کا آغاز ۹۴۹۱ء میں ہی کر دیا تھا ۔ پھر ۷۱ یونین کے الحاق سے ۹;241; نومبر ۹۶۹۱ء کو کراچی میں نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کی بنیاد رکھی ۔ فیڈریشن کے پہلے صدر پروفیسر شفیع ملک اور سیکرٹری شبیر حسین منتخب ہوئے ۔ این ایل ایف کے قیام کے بعد ا ن قائدین نے پاکستان کے مزدوروں کوسرخ جنت کے خوابوں سے نکال کر نبوی;248; راستہ دکھایا ۔ نظریہ پاکستان اور اسلام کے نظامِ عدل ومعاشی کو اپنا نصب العین قرار دیا ۔ ان کی شبانہ روز محنت سے پاکستان میں کراچی سے خیبر اورلاہور سے کوءٹہ تک نیشنل لیبر فیڈیشن کو متحرک تنظیم بنا دیا ۔ پہلا معرکہ ۹۲;241; دسمبر ۹۶۹۱ء کو ہوا ۔ پی آئی اے میں پیاسی یونین کوکامیابی ملی ۔ پھر پاکستان اسٹیل مل،شپنگ کارپوریشن،شپ یارڈ،کے ڈی اے، پیکو، پاکستان ریلوے اور پاکستان میں دیگر بڑے اداروں اور نجی شعبے میں این ایل ایف کی یونین نے کامیابیاں حاصل کیں ۔ گھیراءو جلاءو کی جگہ پرامن اور باہمی گفت و شنید کا راستہ اختیار کیا گیا ۔ پاکستان میں خوشگوار ماحول پیدا ہوا ۔ ملک کی انڈسٹری نے ترقی کی منزلیں طے کیں ۔ یہ ہے نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان جس نے اپنی تنظیم کے پچاس برس مکمل ہونے پر اپنی گولڈن جوبلی کے موقع پر لیبر کانفرنس تقریب، سیرت النبی;248; کی کی روشنی میں منائی ۔ اپنی تقریب کا سلوگن’’ یہ نصف کی کا قصہ ہے ۔ دو چار برس کی بات نہیں ‘‘ رکھا ۔ یہ گولڈن جوبلی تقریب سر سید میموریل سو ساءٹی نزد نادرا چوک اتاترک ایونیو جی فائیو، ون ،اسلام آباد میں منعقد ہوئی ۔ اسٹیج کے ایک طرف اورہیڈ پروجیکٹر کے ذریعے حاضرین کو کان کنی کے مزدوروں کے شب و روز دکھائے گئے ۔ اس پروگرام کی صدارت شمس الدین سواتی مرکزی صدر نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان نے کی ۔ اس گولڈن جوبلی تقریب کی مہمان خصوصی ،اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل لیبر آرگینزیشن کی کنٹری ڈائریکٹر تھی ۔ اس تقریب کے دیگر شرکاء میں نیشنل لیبر فیڈرشن پاکستان کے مختلف عہدے دار،ورکر فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری ظہور اعوان اورخواتین لیبر کی نمائندہ زاہدہ صاحبہ تھیں ۔ تقریب کا آغاز ٹھیک ۲ بجکر تیس منٹ پر تلاوت قرآن پاک اور نعت رسول مقبول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا ۔ پہلے مقرر شمس الدین سواتی نے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل لیبر آگنائزیشن کی کنٹری ڈائریکٹر کوخصوصاً اور عام سامعین کو عمومی طور پر اپنے خطاب میں نیشنل لیبر فیڈریشن کی کارکردگی اور اس کی تنظیم کے متعلق آگاہی پہنچائی ۔ انہوں نے کہا کی نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان نے اپنے پچاس سال اور انٹرنیشنل لیبر آر گینزشن اپنے سو سال پورے کیے ۔ اس طرح کہ نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان ۹۶۹۱ء میں قائم ہوئی اورا نٹرنیشنل لیبر آرگینزیشن ۹۱۹۱ء میں قیام پذیر ہوئی ۔ ایک عرصے بعد ہمارا ٹوٹا ہوا رشتہ پھر سے قائم ہوا ۔ اب ہم مل کر مزدوروں کی فلاح و بہبود کےلئے کام کریں گے ۔ نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان ،اکیس ڈویژن ،ستر ریجن اور تین سو پچاس ٹریڈ یونز کی تعداد کے ساتھ پاکستان میں مزدوروں ، ان کے بچوں اور فیملی کےلئے کام کر رہی ہے ۔ شمس الدین سواتی نے کنٹری ڈائریکٹر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں مزور کی کم از کم اُجرت ۰۵۷۱ روپے مقرر ہے ۔ مہنگائی کے اس دور میں ایک مزدور کی فیملی کا گزراہونا مشکل ترین ہے ۔ پاکستان ایک غریب ملک ہے ۔ انٹر نیشنل لیبرآر گنائزیشن کوپاکستان میں مزدوروں کی حالت بہتر بنانے کےلئے مدد کرنی چاہیے ۔ مزدوروں کو کھل کر ٹریڈ یونین اکٹویٹی نہیں کرنے دی جا رہی ۔ بلوچستان یک قلم ۲۶;241; ٹریڈ یونین کو کام کرنے سے روک دیا گیا ۔ اسی طرح پنجاب حکومت نے بھی ٹریڈ یونین پر پابندی لگائی ہوئی ہے ۔ یہ ملک میں نظام کی خرابی کی وجہ سے ہے ۔ نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان مزدوروں ، ان کے بچوں اور فیملی کی حالت بہتر بنانے کےلئے ہمہ تن مصروف عمل ہے ۔ اگر ملک میں اسلامی نظام حکومت راءج کر دیا جائے تو مزدوروں کے حالت بہتر ہو سکتے ہیں ۔ اس کےلئے نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان بھی کام کر رہی ہے ۔ اسلامی نظام حکومت کی برکات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پیغمبر;248; نے پسینے اور کیچڑسے اٹے ہوئے ایک مزدور کی پیٹھ سے چمٹ کر کہا، بتاءو تو میں کون ہوں ;238; اس مزدور نے کہا کہ اس ظلم و ستم کے دور میں آمنہ;230; کے لال محمد;248; کے سوا اور کون ہو سکتا ہے;238;جبکہ یہ معلوم نہ تھا کہ وہ مزدور مسلمان ہے،یہودی ہے یا عیسائی ہے ۔ اسی طرح مسلمانوں کے پہلے خلیفہ ایک مزدور کی آمدنی کے برابر وظیفہ لے کرحکومت کے کام چلاتے رہے ۔ جب آجر اور اجیر اسلام کے بتائے ہوئے احکامات پر عمل کرتے ہوئے اور ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھیں تو مسائل حل ہو سکتے ہیں ۔ انٹر نیشنل لیبر آرگنائزیشن کے کنٹری ڈائریکٹر برائے پاکستان جو ساڑھے تین سال سے پاکستان میں موجود ہیں ،نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں مزدوروں ،ان کے بچوں اور فیملی کی حالت بہت خراب ہے ۔ اسے بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ فیکٹری مزدوروں کویونین بنانے کی کھولی اجازت ہونی چاہیے ۔ چائلڈ لیبر نہیں ہونی چاہیے ۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کے تحت مزدوروں سے متعلق کئی معاہدوں پر دستخط کیے ہوئے ہیں ۔ مگر دیکھا گیا ہے اس پر عمل نہیں ہو رہا ۔ اس کے بعد ورکر فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری ظہور اعوان نے اپنے خطاب میں کہا کہ نیشنل لیبر فیڈیشن پاکستان کے رہنماءوں کے ساتھ ہمارے تعلقات بہترین رہے ہیں ۔ ان میں پروفیسر شفیع ملک صاحب بھی شامل ہیں ۔ ہم سب مزدوروں کی فلاح و بہبود کےلئے کام کر رہے ہیں ۔ ہ میں ایک دوسرے کی یونین کو ہائی جیک نہیں کرنا چاہیے ۔ مزدور رہنماء زاہدہ صاحبہ نے اپنے مختصر خطاب میں فرمایا کہ خواتین لیبر کے ساتھ امتیازی سلوک ہوتا ہے ۔ جبکہ رسول ﷺ نے حج الودع پر عورتوں اور ماتحتوں کے ساتھ بہتر سلوک کا درس دیا تھا ۔ آخر میں جماعت اسلامی کے امیر اور سینیٹر سراج الحق صاحب نے حاظرین سے خطاب میں فرمایا کہ نیشنل لیبر فیڈریشن عرصہ پچاس سال سے مزدروں کی بہتری کےلئے کام کر رہی ہے ۔ میں ان کے ۰۵ سال پورے ہونے پر گولڈن جوبلی پر مبارک باد پیش کرتا ہوں ۔ میں مزودروں کو سیرت النبی;248; سے فائدہ اُٹھانے کی نصیحت کرتا ہوں ۔ آج کراچی سے چترال تک مزدور پریشان ہیں ۔ یہ ملک سرمایا داروں ، جاگیرداروں ، کمیشن ایجنٹوں اور این جی اوز کےلئے ٹھیک ہے ۔ فیکٹریوں میں کام کرنےوالے مزدور اورگھروں میں کام کرنےوالے جبر کی زندگی گزار رہے ہیں ۔ ملک میں انصاف نام کی کوئی چیز نہیں ۔ مہنگائی زوروں پر ہے ۔ جب تک جیب میں پیسے نہ ہوں کوئی کام نہیں بنتا ۔ آپ ملک میں اسلامی انقلاب کےلئے تیار ہو جائیں ۔ اگر آپ کوشش کریں تو سب کچھ ٹھیک ہو سکتا ہے ۔ اگر آپ اب نہ بھی کامیاب ہو سکیں تو آپ کی اولاد کو اس جدو جہد کا فائدہ پہنچے گا ۔ میں آپ کے پاس سینیٹ کے پروگرام سے آیا ہوں ۔ وہاں کوئی بھی ہم جیسا مزدور نہیں ۔ میں خود مزدور ہوں مزدور کا بیٹا ہوں ۔ سارے ممبران انگریز کے غلام یا پھر ان کی اولادں میں سے ہیں ۔ حکمرانوں نے مزدور اور عوام کو تقسیم کیا ۔ ہم مزدوروں کےلئے کھڑے ہیں ۔ اس ملک میں اسلامی انقلاب کی ضرورت ہے ۔ ہمارے ملک کے حکمرا ن مسلمان تو ضرور ہیں ۔ مگر اسلامی نظامِ حکومت راءج نہیں کرنے کےلئے تیا ر نہیں ۔ ہ میں اس نظام سے بغاوت کرنی ہے ۔ جماعت اسلامی آپ کے ساتھ آپ کے حقوق کےلئے کھڑی ہے ۔ جب تک نظام تبدیل نہیں ہوتا سرمایہ داروں کی فیکٹریاں بڑھتی جائیں گی ۔ مزدور بد حال ہوتا جائے گا ۔ ۵۳ سال ملک میں مارشل لاء رہا ہے ۔ باقی سیاستدانوں نے حکمرانی کی ۔ مگر حالات ویسے کے ویسے ہی رہے ۔ آج ۰۵۷۱ روپے کی مزدوری میں ایک مزدور کا گھر کیسے چل سکتا ہے ۔ اس لئے اسلامی نظام حکومت سے ہی مزدور کے حالت درست ہو سکتے ہیں ۔ شمس الدین سواتی صاحب کی دعا کے ساتھ ہی یہ پروگروام اپنے اختتام کو پہنچا ۔

About Admin

Google Analytics Alternative