مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر تاریخ کے نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو بے چینی میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایسے میں “اسلام آباد مذاکرات” ایک اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر سامنے آئے ہیں، جنہیں بجا طور پر ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ مذاکرات اس امید کی کرن ہیں کہ اگر اعتماد، برداشت اور سنجیدگی کو فروغ دیا جائے تو ایک پائیدار امنی ڈھانچہ تشکیل پا سکتا ہے، امید ہے مزاکرات کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔حالیہ بحران کی جڑیں کسی ایک واقعے تک محدود نہیں بلکہ برسوں پر محیط بداعتمادی، بالواسطہ جنگوں اور حکمتِ عملی کے مفادات کے ٹکراؤ میں پیوست ہیں۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان خفیہ کشمکش، شام اور لبنان میں بالواسطہ محاذ آرائی، اور ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی خدشات نے اس کشیدگی کو مسلسل بڑھایا۔ امریکہ کی جانب سے ایران پر اقتصادی دباؤ اور اسرائیل کے سکیورٹی خدشات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔اس تمام صورتحال میں جہاں کئی علاقائی قوتیں کھل کر کسی ایک فریق کے ساتھ صف بندی کرتی نظر آئیں، وہیں سعودی عرب نے غیر معمولی تحمل، بردباری اور دور اندیشی کا مظاہرہ کیا۔ سعودی عرب نے نہ صرف براہِ راست جنگی ماحول سے خود کو دور رکھا بلکہ ایک ذمہ دار علاقائی طاقت کے طور پر کشیدگی کو کم کرنے، سفارتی راستے کو زندہ رکھنے اور خطے کو بڑے تصادم سے بچانے کی حکمت عملی اپنائی۔سعودی قیادت نے یہ بخوبی سمجھا کہ کسی بھی وسیع جنگ کا سب سے بڑا نقصان خود خطے کو ہوگا۔ اسی لیے انہوں نے جذباتی ردعمل کے بجائے متوازن پالیسی اختیار کی۔ یمن تنازع سے سیکھے گئے اسباق، اقتصادی وژن اور علاقائی استحکام کی ضرورت نے سعودی عرب کو اس سمت میں مزید محتاط بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب نے پسِ پردہ سفارتی روابط، ثالثی کے امکانات اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو ترجیح دی۔اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات بھی اسی وسیع تر سفارتی فضا کا حصہ ہیں، جہاں وزیرِ اعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نے ایک متوازن کردار ادا کیا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی نگرانی میں سکیورٹی اداروں نے ایک محفوظ ماحول فراہم کیا، جس میں دونوں فریقین نے اطمینان سے اپنی بات رکھی۔ یہ تمام کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ خطے میں ابھی بھی ایسے عناصر موجود ہیں جو جنگ کے بجائے امن کو ترجیح دیتے ہیں۔اسلام آباد مذاکرات کی اصل اہمیت اس میں ہے کہ یہ وقتی بیانات سے آگے بڑھ کر ایک تدریجی عمل کی بنیاد رکھتے ہیں۔ اگر اس عمل کو تسلسل ملا تو یہ نہ صرف ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کم کر سکتا ہے بلکہ امریکہ اور ایران کے تعلقات میں بھی بہتری لا سکتا ہے۔ اس عمل میں سعودی عرب جیسے ممالک کا کردار کلیدی ہو سکتا ہے، جو بیک وقت اثر و رسوخ بھی رکھتے ہیں اور اعتدال کی پالیسی بھی اپنائے ہوئے ہیں۔ماضی پر نظر ڈالیں تو امریکہ اور ایران کے تعلقات ہمیشہ نشیب و فراز کا شکار رہے ہیں۔ ایران جوہری معاہدہ ایک اہم پیش رفت تھی، مگر اس سے امریکی علیحدگی نے ایک بار پھر عدم اعتماد کو جنم دیا۔ اس کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھی اور ایران نے اپنی دفاعی پوزیشن کو مضبوط کیا، جسے اسرائیل نے اپنے لیے خطرہ سمجھا۔حالیہ عرصے میں ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ حملوں نے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ کیا ہے۔ اگرچہ مکمل جنگ ابھی تک نہیں چھڑی، مگر حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں جہاں معمولی واقعہ بھی بڑے تصادم کا سبب بن سکتا ہے۔ یہی وہ موقع ہے جہاں سعودی عرب کا محتاط اور جنگ سے گریز پر مبنی کردار مزید اہم ہو جاتا ہے، کیونکہ یہ رویہ خطے کو توازن میں رکھنے میں مدد دیتا ہے۔مستقبل کے حوالے سے تین بڑے منظرنامے سامنے آتے ہیں۔ پہلا، مکمل جنگ، جس کے اثرات عالمی معیشت، تیل کی ترسیل اور امن و استحکام پر انتہائی منفی ہوں گے۔ دوسرا، محدود اور بالواسطہ تصادم، جو طویل عدم استحکام کو جنم دے گا۔ تیسرا، اور سب سے امید افزا منظرنامہ، سفارتی عمل کی کامیابی ہے—جس میں اسلام آباد مذاکرات اور سعودی عرب جیسے ممالک کی اعتدال پسند حکمت عملی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔دنیا پر اس بحران کے اثرات پہلے ہی ظاہر ہونا شروع ہو چکے ہیں۔ توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، عالمی تجارت میں رکاوٹیں اور نئے جغرافیائی سیاسی اتحادوں کی تشکیل اس کے نمایاں پہلو ہیں۔ ایسے میں اگر سعودی عرب جیسے بڑے تیل پیدا کرنے والے ملک نے تحمل کا مظاہرہ نہ کیا ہوتا تو عالمی معیشت کو مزید شدید جھٹکا لگ سکتا تھا۔پاکستان کے لیے بھی یہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ اپنی سفارتی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے امن کے عمل کو آگے بڑھائے۔ اسلام آباد مذاکرات نے یہ ثابت کیا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جنگ کبھی بھی مسائل کا مستقل حل نہیں ہوتی، دانشمندی، تحمل اور سفارتکاری ہی پائیدار امن کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ اگر یہی روش برقرار رہی تو اسلام آباد مذاکرات نہ صرف ایک بحران کو ٹال سکتے ہیں






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں