Site icon Daily Pakistan

اسلام آباد میں دہشت گردی!

پاکستان کے تین روزہ دورے پر آئے والے ازبکستان صدر شوکت مرزا لوف کے وزٹ کے آخری روز انہیں صدر مملکت آصف علی زرداری کی طرف سے پاک ازبکستان تعلقات کو مثالی بنانے کیلئے پاکستان کا اعلیٰ اعزاز(نشان پاکستان)دینے کی تقریب تھی عین اسی لمحے اسلام آباد میں مسجد خدیجہ الکبری میں خود کش دھماکہ ہوا جس کے نتیجہ میں 32 افراد شہید اور 150 سے زائد نمازی شہید ہوئے۔اسلام آباد کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب پاکستان معاشی اور کاروباری سمت درست کر کے ترقی و خوشحالی کی طرف گامزن ہے اور یہ دوسرا واقعہ ہے جب فتنہ الخوراج کا نشانہ وفاقی دارلحکومت بنا۔ اس سے قبل 11نومبر 2025کو اسلام آباد میں کچہری کے داخلی دروازے پر خودکش دھماکہ ہوا جس میں 12 معصوم لوگوں کی زندگی کا چراغ گل کیا گیا ، 36افراد زخمی ہوئے۔ ترلائی مسجد میں دورے کے بعد وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت طلال چوہدری کا کہنا درست ہے کہ دشمن نے معصوم لوگوں کو نشانہ بنایا لیکن وہ یاد رکھے قوم متحد ہے اور انشااللہ دہشت گردی کیخلاف جنگ جیت کر رہیں گیچھ فروری جمعہ کا سورج حسب معمول طلوع ہوا ۔ پاکستان میں 5فروری یوم یکجہتی کشمیر جبکہ 6اور 7فروری کی بسنت کی وجہ پنجاب میں چھٹی کر دی گئی صوبے بھر خصوصی طور پر لاہور میں بسنت زور و شور سے منائی جا رہی تھی یہ کوئی نہیں جانتا تھا کہ ایسے میں جمعہ کی نماز کے دوران اسلام آباد میں ایک امام بارگاہ پر قیامت صغری برپا ہو جائے گی جس وقت میں نے لکھنا شروع کیا اس وقت تک 31نمازی شہید ہو چکے تھے جبکہ ان شہدا میں آئی جی اسلام آباد کے کزن بھی شہید ہو گئے 160کے قریب زخمی جن میں سے 80شدید زخمی مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں ۔ جب سے مختلف فتنوں نے سر اٹھایا ہے شاید ہی پاکستان کا کوئی شہر ایسا ہو جو ان کے دہشتگردانہ حملوں سے بچا ہو حالیہ دنوں میں سب سے پہلے جنوری کے آخری دن یعنی 31جنوری کو بلوچستان کے مختلف شہروں میں بہت منظم طریقے سے حملے ہوئے مگر افواج پاکستان نے بر وقت کاروائی کرتے ہوئے بلوچستان کو ایک بڑے نقصان سے بچا لیا افواج پاکستان کے آفیسروں اور جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے صوبہ کو بڑی تباہی سے بچا لیا ۔ اس کے ایک دن بعد ہی صوبہ بلوچستان کے شہر نوشکی کو نشانہ بنایا اور ریلوے اسٹیشن پر کھڑی مال بردار گاڑی پر راکٹوں سے حملہ کیا جس کی وجہ گاڑی انجن اور کچھ ڈبے تباہ ہو گئے اس سے پہلے نومبر 25 میں خیبر پختون خواہ میں ایف سی ہیڈ کوارٹر پشاور پر دہشت گردانہ حملہ میں بہت نقصان ہوا۔ ان تازہ ترین واقعات کے بعد ملک بھر میں سیکورٹی کو کافی سخت کر دیا گیا تھا اور اسلام آباد کے تمام داخلی اور خارجی راستوں پر بھی چیکنگ کے سخت انتظامات دیکھنے میں آ رہے تھے اس کے باوجود آج مورخہ 6 جنوری بروز جمعہ کو نماز جمعہ کے دوران ہندوستان کے سپانسرڈ نام نہاد جہادیوں نے اللہ کے حضور، حاضر ہوئے مسلمانوں کو شہید کر دیا یہ کونسا دین اور جہاد ہے جو مسلمانوں کے ہی خلاف ہو رہا ہے ہمارا دین تو جانوروں کو بھی بے دریغ مارنے سے منع کرتا ہے ہندوستان جس حد تک بھی افغان جہادیوں کی مدد کر کے پاکستان کے اندر فساد اور فتنہ برپا کر لے الحمدللہ افواج پاکستان اس کا مقابلہ کرنے کیلئے ہر وقت، ہر گھڑی تیار رہتی ہے اور ان خارجیوں کو منہ کی کھانی پڑتی ہے افواج پاکستان نے 9مئی 2025 میں جو بھارت کو حملہ کرنے پر منہ توڑ جواب دیا نہ بھارتی بھولے ہیں اور نہ ہی ہم۔ بھارتی حکومت اور عوام دنوں ہی پوری دنیا کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے اس کے باوجود ان بے شرموں کو شرم نہیں آتی فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر صاحب نے ملکی سیکورٹی، امن اور استحکام کیلئے مصمم ارادہ کیا ہوا ہے ۔ فیلڈ مارشل نے حالیہ دورہ بلوچستان میں پھر ایک مرتبہ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی دہشت گرد اور اس کے سہولت کار کو کسی صورت میں معاف نہیں کیا جائے گا ۔ فیلڈ مارشل نے تمام قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے افسران اور جوانوں کی پیشہ وارانہ خدمات کی تعریف کرتے ہوئے کہا وطن دشمن سازشوں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دینگے۔ حالیہ دنوں میں پاکستان کے دہشتگرد حملوں میں بھارت اور افغانستان کا گٹھ جوڑ مکمل طور پر سامنے آ چکا ہے اور اس کے مقابلے کیلئے پاکستان کے تمام سیکورٹی اداروں کے ساتھ ساتھ پاکستانی عوام بھی بھرپور طاقت سے تیار ہیں !

Exit mobile version