اسلام خواتین کے حقو ق کاحقیقی علمبردار ہے

48

خواتین کا عالمی دن منانے میں نہ کسی کواعتراض ہے نہ تھا اورنہ ہوگا، قبل از اسلام جس طرح معصوم بچیوں کوزندہ درگور کردیاجاتاتھا تاریخ کے اورا ق ان بیہمانہ اقدامات سے بھرے پڑے ہیں لیکن جب اسلام آیا تو اس نے ایک خاتون کو ماں ، بہن،بیٹی اوربیوی جیسے محترم رشتو ں پرفائز کیا پھر ما ں کے قدمے تلے جنت رکھ کراُس کی عظمت کواسلام کی بلندیوں تک پہنچادیا ۔ یہ اسلام کا ہی مذہب ہے کہ جس نے عورت کا اتنا احترام اورقدرومنزلت ہے جو شاید کسی اورمذہب میں نہیں ملتی ۔ جہاں تک عورت کی عزت وتکریم کی بات ہے وہ بھی اس کام میں سب سے اعلیٰ وارفع ہے اب ہم دیگرمذاہب کی جانب جائیں اورخصوصی طورپر ان ممالک کی طرف جو خواتین کے حقوق کے علمبرداربنے ہوئے ہیں تو ان ممالک میں سب سے زیادہ خواتین ہی کی حق تلفی ہوتی ہے کیا یورپ اورامریکہ میں ماں کا احترام، بہن کی عزت، اس کاحصہ، بیوی کارشتہ ،یہ ساری چیزیں قائم ودوائم ہیں ;238; عمیق نظر ڈالی جائے توپتہ چلتاہے کہ ان معاشروں میں جتنی عورت کی حق تلفی ہے شاید ہی وہ کہیں اورہی ہو ۔ اسلام نے تو خواتین کو اس رتبے پرفائز کردیاہے کہ جیسے ہی والدین سنِ طیری کوپہنچتے ہیں تواُن کی قدورمنزلت میں اوراضافہ ہوجاتا ہے، ماں کی خدمت کرکے اپنی دنیاوآخرت سنواتی ہے لیکن امریکہ ،یورپ ،کینیڈا اوردیگرممالک میں جیسے ہی ماں باپ بوڑھے ہوتے ہیں تو انہیں اولڈہاءوس میں جمع کرادیاجاتاہے ۔ یہ ہے حقیقت اورآئینے کادوسرا رخ ۔ آج یورپ عورت مارچ کے ذریعے ہمارے معاشرے میں عورت کوآزادی دلواناچاہتا ہے وہ دراصل تباہی کی جانب ایک قدم ہے ۔ عورت کو بالکل آزادہوناچاہیے لیکن جوحدودوقیود کے تحت آزادی ملے وہ فائدہ مند ہے ۔ امریکہ خود اپنی سوساءٹی سے سخت پریشان ہے اسی طرح کی آزادی وہ ہمارے ممالک میں بھی چاہتاہے ۔ تاہم وزیراعظم عمران خان نے واضح طورپرکہاہے کہ ہم ایسے ہروہ اقدامات کریں گے جس سے خواتین کی زندگی کو تحفظ حاصل ہو انہیں اُن کے حقوق ملیں ۔ وزیر اعظم عمران خان نے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ہم وہ تمام اقدامات کریں گے جن سے خواتین محفوظ اور خوشحال زندگی گزار سکیں ، ہماری خواتین ہر شعبہ زندگی میں اپنی صلاحیتوں کو منوا رہی ہیں ۔ ہماری خواتین نے عالمی سطح پر بھی اپنی قابلیت کو منوایا ہے ۔ اس دن کو منانے کا مقصد خواتین کو برابر حقوق اور مواقع دینے کے عزم کا اعادہ کرنا ہے ۔ ہماری خواتین ہر شعبہ زندگی میں اپنی صلاحیتوں کو منوا رہی ہیں ۔ ہماری خواتین نے عالمی سطح پر بھی اپنی قابلیت کو منوایا ہے ۔ خواتین کو یکساں مواقع اور سازگار ماحول فراہم کرکے ہی پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے ۔ ہم وہ تمام اقدامات کریں گے جس سے خواتین محفوظ اور خوشحال زندگی گزار سکیں ۔ دوسری جانب آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ خواتین ہر شعبے میں قوم کی تعمیر میں حصہ لے رہی ہیں ۔ اپنی بہادر ماءوں ، بہنوں اور بیٹیوں پر فخر ہے ۔ خواتین نے قوم کی تعمیر میں اہم کردار ادا کیا ۔ بلاشبہ ہر خاندان میں بچے کی اولین درسگاہ ماں کی گود ہوتی ہے ۔ عورت کی صحت، تعلیم، گھر اورعوامی مقامات پر تحفظ اور معاشی اور وراثتی حقوق کی فراہمی معاشرے کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے، جید علما کرام احکامات الٰہی کے حوالے سے معاشرے میں خواتین کو حقوق دلانے میں اپنا موثر کردار ادا کریں ۔ خواتین کو با اختیار بنائے اور انہیں معاشی اور وراثتی حقوق دیئے بغیر معاشرے میں مقام حاصل کرنا مشکل ہے ۔ ترقی پسند معاشرے کی تشکیل کیلئے خواتین کو قومی دھارے میں لانا ناگزیر ہے ۔ خواتین کو آگے بڑھنے کیلئے یکساں مواقع مہیا کرنے کی پوری کوشش کی جانی چاہیے ۔ خواتین نے ہر شعبے میں اپنی قابلیت کا لوہا منوایا ۔ ضرورت اس امرکی ہے کہ دین اسلام میں خواتین کے حوالے سے جو قواعدوضوابط دیئے ہیں اُن پرعمل کیاجائے تو کسی صورت بھی خواتین کی حق تلفی نہیں ہوسکتی ۔

نوازشریف بارے ایس کے نیازی کی قبل ازوقت آگاہی

وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے نوازشریف کے بیرون ملک جانے کے حوالے سے جو بات کہی ہے یہاں ہم یہ بتاتے چلیں کہ پاکستان گروپ آف نیوزپیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے یہ بات کافی عرصہ قبل اپنے روزنیوز کے معروف پروگرام سچی بات میں بتادی تھی ۔ ایس کے نیازی کایہ خاصارہاہے کہ انہوں نے ہمیشہ قبل ازوقت اور بروقت اپنے قارئین وناظرین کوحالات حاضرہ سے نہ صرف باخبررکھابلکہ حکومت کو درپیش دگرگوں سیاسی حالات کے پیش نظررہنمائی بھی کی ۔ وقت نے ثابت کیاکہ اُن کی دی ہوئی خبردرست ثابت ہوئی ۔ آج وزیرخارجہ بھی اسی بات پرمہرثبت لگارہے ہیں جو ایس کے نیازی نے بتائی تھی کہ نوازشریف بیرون ملک معاہدہ کے تحت گئے ہیں ۔ ملتان میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہاکہ نواز شریف معاہدے کے تحت پاکستان سے گئے تھے لیکن ان کی میڈیکل رپورٹس پنجاب حکومت کو مطمئن نہیں کر سکیں ، ہماری خواہش ہے کہ جنوبی پنجاب کو الگ پہچان ملے لیکن بہاولپور اور ملتان میں جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ بنائے جانے پر تنازع ہے، اگر جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ پر پیش رفت کرنی ہے تو دیگر جماعتوں کو ساتھ ملانا پڑے گا، وزیر اعظم خود اس پر فیصلہ کریں گے، وزیر اعظم جلد ہی جنوبی پنجاب صوبے پر اجلاس بلائیں گے ۔ اس اجلاس میں جنوبی پنجاب کے اراکین پارلیمنٹ کو بھی بلایا جائے گا ۔ بین الاقوامی سطح پر اب ماحول تبدیل ہوا ہے ۔ پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنانے والی قوتیں اب ہ میں سراہ رہی ہیں ، دہلی میں ٹرمپ کی تعریف پاکستان کے لئے اعزاز ہے، ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لئے کوشش کرتے رہیں گے ۔ حکومت کے خاتمے کی خبروں سے متعلق شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مجھے پنجاب اور وفاق میں ان ہاءوس تبدیلی نظر نہیں آرہی، مسلم لیگ ن نے ایم کیو ایم سے ملاقات کی لیکن نتیجہ کچھ نہیں نکلا ۔

متعلقہ خبریں

آئی پی ایل: ممبئی نے پنجاب کو 8وکٹ سے ہرا دیا

گھریلو جھگڑوں سے قبل خبردار کرنے والا ڈجیٹل آلہ تیار

style="display:block" data-ad-client="ca-pub-4214082252165931" data-ad-slot="1779405125" data-ad-format="auto" data-full-width-responsive="true">

امریکی تحفظات مسترد

پاک افغان معاہدے کاپایہ تکمیل تک پہنچناخطے میں قیام امن وامان کےلئے انتہائی ضروری ہے کیونکہ اگر یہ معاہدہ سبوتاژ ہوا تو پھراس کے ناقابل تلافی نقصانات ہوں گے ۔ دونوں فریقین جن میں امریکہ اورطالبان شامل ہیں انہیں ان عناصر پررکھناہوگی جو اپنی مذموم کاوشوں کے ذریعے امن معاہدے کو تباہ کرناچاہتے ہیں ۔ اس سلسلے میں امریکہ نے بھی بذات خودتحفظات کا اظہارکیاہے جس پر طالبان کے ترجمان نے کہاکہ معاہدہ مثبت انداز میں آگے بڑھ رہاہے اورہم چاہتے ہیں کہ خطے میں امن قائم ہو ۔ لہٰذ ا امریکہ کا یہ دعویٰ درست نہیں کہ معاہدے کے راستے میں کوئی رخنہ پیدا ہورہاہے ۔ اب بات یہ ہے کہ ان عناصرکی سرکوبی کی جائے جو خطے میں انارکی پھیلانے کے خواہاں ہیں ۔ یہاں صبروتحمل سے کام لیاجائے گا تب ہی حالات بہتری کی جانب گامزن ہوں گے ۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ رشیانے بھی افغان سرزمین پرقدم رکھا لیکن آخرکارشکست فاش اس کامقدربنی اورپھر سب نے دیکھاکہ دنیا کی سپرپاورکس طرح ٹکڑوں میں تقسیم ہوگئی ۔ اب امریکہ کو ان حالات سے سبق حاصل کرناچاہیے،دودہائیوں کے بعدپاکستان کی کوششوں سے فریقین مذاکرات کی میزپرآن پہنچے ہیں ،معاہدہ بھی ہوگیا ،نکات بھی طے ہوگئے اس کے بعد کوئی بھی ایسا بیان جوطے شدہ نکات سے انحراف کرتاہووہ دینازہرقاتل کے مترادف ہوگا ۔ یہ بات بھی بالکل روزروشن کی طرح عیاں ہے امریکہ طالبان کے درمیان مذاکرات ، امن معاہدے کے سلسلے میں پاکستان ضامن نہیں بلکہ ایک سہولت کار ہے اور آنے والے وقت میں مستقبل کافیصلہ خودافغانیوں نے کرناہے ۔ لہٰذا جو معاہدہ ہوچکا ہے اس پر کسی بھی قسم کے خدشات سے دوررہتے ہوئے عملدرآمدکیاجائے ۔ افغانستان میں قیام امن نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے حق میں ہے ۔