!75 فیصد پاکستانی آبادی محض زندگی نہیں گزار رہی، بلکہ روزانہ کی اجرت کے رحم و کرم پر ہے۔ ایئر کنڈیشنڈ دفتروں میں بیٹھے سی ایس ایس افسران اور غریبوں کے نام پر ووٹ بٹورنے والے سیاستدانوں کے لیے یہ صرف نمبرزہو سکتے ہیں، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ تلخ ہے۔حالیہ رپورٹس کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح 40 فیصد سے 44فیصدتک جا پہنچی ہے، جس کا مطلب ہے کہ تقریبا ً10 کروڑ سے زائد پاکستانی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ دیہاڑی دار طبقے کی بے بسی،ایک الگ قصہ ہے۔ پاکستان کی لیبر فورس کا تقریباً 84فیصد حصہ غیر رسمی شعبے سے وابستہ ہے، جنہیں نہ کوئی سماجی تحفظ حاصل ہے اور نہ ہی نوکری کی ضمانت۔اسی طرح گزشتہ سالوں میں بنیادی اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے نے عام آدمی کی قوتِ خرید کو مکمل طور پر کچل کر رکھ دیا ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا زبانی دعوؤں، حکمرانوں کے مہنگے غیر ملکی دوروں اور کشکول اٹھا کر مانگی گئی بھیک سے یہ قوم کبھی اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکے گی؟ جب تک پالیسیاں اشرافیہ کے بجائے عام دیہاڑی دار کے چولہے کو مدنظر رکھ کر نہیں بنائی جائیں گی، یہ ملک معاشی بیساکھیوں کا محتاج ہی رہے گا۔حکمرانو ہوش کرو! بھوکے پیٹ پر لگی ٹھوکر کسی بھی وقت تمہارے ایوانوں کی بنیادیں ہلا سکتی ہے۔صوبائی بنیادوں پر غربت کا نقشہ کیا اسلام آباد کی شاہراہوں اور ایچی سن کے فارغ التحصیل افسران کو معلوم ہے کہ پاکستان کے صوبوں میں بھوک کے اعداد و شمار کیا ہیں؟ ورلڈ بینک اور حالیہ سرویز کے مطابق پاکستان کا ہر صوبہ ایک الگ معاشی جنگ لڑ رہا ہے : بلوچستان ،یہاں غربت کی شرح خطرناک حد تک 70فیصدسے تجاوز کر چکی ہے یعنی یہاں کا ہر 10 میں سے 7واں شخص دو وقت کی روٹی کو ترس رہا ہے۔سندھ میں غربت کی مجموعی شرح 35.9فیصدتک جا پہنچی ہے۔ دیہی سندھ کے ہاری آج بھی اسی کشمکش میں ہیں کہ کیا اگلی فصل ان کا پیٹ بھر سکے گی؟خیبر پختونخوا یہاں بھی تقریبا 29.4فیصدآبادی خطِ غربت سے نیچے ہے۔پنجاب بظاہر خوشحال نظر آنے والے پنجاب میں بھی غربت کی شرح 32فیصدتک پہنچ گئی ہے۔غیر رسمی لیبر پورے پاکستان میں کام کرنے والے مزدوروں کا 80فیصد سے زائد حصہ تقریبا ً8 کروڑ لوگ غیر رسمی شعبے سے وابستہ ہے۔ ان کے پاس نہ پینشن ہے، نہ بیماری کی صورت میں چھٹی، اور نہ ہی کوئی ہیلتھ انشورنس۔ یہ وہ دیہاڑی دارہیں جن کا آپ نے تذکرہ کیا۔حکمرانوں کے لیے لمحہ فکریہسرکاری اعداد و شمار کے مطابق قومی سطح پر غربت 21.9فیصد سے بڑھ کر 28.9فیصد ہو چکی ہے۔ جب تک پالیسیاں صرف "کاغذی ترقی” اور "قرضوں کی وصولی” تک محدود رہیں گی، یہ 75 فیصد آبادی صرف زندہ رہنے کی قیمت چکاتی رہے گی۔ریاستِ مدینہ کا ماڈل بھوکے پیٹ پر پتھر باندھنے کی تعلیم نہیں دیتا تھا، بلکہ وہ حکمرانوں کو رعایا کے چولہے کا جوابدہ بناتا تھا۔پاکستان کے75فیصد دیہاڑی دار طبقے کی کمر جہاں مہنگائی نے توڑی، وہیں بے روزگاری اور صنفی امتیاز نے رہی سہی کسر بھی نکال دی ہے۔ ہمارے پالیسی سازوں کو شاید ان نمبروں کے پیچھے چھپی سسکیاں سنائی نہیں دیتیں:بے روزگاری کا اژدہا: پاکستان میں بے روزگاری کی مجموعی شرح 6.3 فیصد سے زائد ہو چکی ہے، لیکن اصل المیہ نوجوانوں کی بے روزگاری ہے جو 11فیصد سے بھی اوپر جا چکی ہے۔ ہر سال لاکھوں ڈگری ہولڈرز سڑکوں پر دھکے کھا رہے ہیں کیونکہ ‘سی ایس ایس’ کے علاوہ روزگار کے مواقع صرف خواب بن چکے ہیں۔خواتین کی معاشی بے بسی: پاکستان کی لیبر فورس میں خواتین کی شمولیت دنیا میں سب سے کم ترین سطحوں میں سے ایک ہے (تقریبا 21%)۔ دیہی علاقوں میں جو خواتین کھیتوں میں کام کرتی ہیں، ان کی محنت کو تو اکثر "معاشی سرگرمی” تسلیم ہی نہیں کیا جاتا اور انہیں مردوں کے مقابلے میں آدھی اجرت بھی نہیں ملتی۔پڑھے لکھے بے روزگار: افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ان پڑھ افراد کے مقابلے میں پڑھے لکھے نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح زیادہ ہے، کیونکہ ریاست کے پاس ان کی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کی کوئی ٹھوس پالیسی نہیں ہے۔ حکمران طبقہ جب غیر ملکی دوروں پر کروڑوں روپے خرچ کرتا ہے، تو کیا انہیں احساس ہوتا ہے کہ اسی رقم سے کتنی بیواں کے گھر کا چولہا جل سکتا تھا؟ کیا بھیک میں ملے ڈالرز سے ان کروڑوں نوجوانوں کو وقار کے ساتھ روزگار مل سکے گا؟اگر آج ریاست نے اپنی ترجیحات "تعمیرات اور تشہیر” سے بدل کر "تعلیم اور روزگار” پر نہ رکھیں، تو یہ معاشی بوجھ ایک سماجی دھماکے کی صورت میں پھٹ سکتا ہے ۔ ایوانوں کی چمک دمک اور سیاستدانوں کی ‘ریاستِ مدینہ’ والی لفاظی اس بوڑھے مزدور کا پیٹ نہیں بھر سکتی جو شام کو خالی ہاتھ گھر لوٹتا ہے۔ جب تک ریاست کا ماڈل ‘کشکول’ اور ‘غیر ملکی دورے’ رہے گا، تب تک غریب کا بچہ صرف حسرتوں میں پلے گا۔ یہ اعداد و شمار نہیں، ایک قوم کے سسکنے کی داستان ہے!
اعداد و شمار کا گورکھ دھندہ اور بھوک کا ننگا رقص

