Home » کالم » افغانستان سے امریکی فوجوں کی واپسی

افغانستان سے امریکی فوجوں کی واپسی

2001 ء میں افغانستان پر امریکی حملے کے بعد سے اب تک ہندو کش کی اس ریاست میں امریکا سمیت بین الاقوامی امن دستے مختلف اوقات میں تعینات رہے ہیں تاہم امریکی فوجی تعیناتی افغانستان میں ایک خاص اہمیت کی حامل رہی ہے ۔ اس وقت بھی قریب چودہ ہزار امریکی فوجی افغانستان میں تعینات ہیں ۔ اٹھارہ سال سے جاری افغان جنگ میں اب تک دو ہزار چار سو سے زائد امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ یہ تنازعہ تقریباً ایک لاکھ افغانوں کی جان لے چکا ہے ۔ امریکا کو افغانستان میں آئے تقریباً 18 سال ہونے کو ہیں لیکن اربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود اب تک وہاں امن و امان قائم نہیں کیا جاسکا ۔ سینٹرفار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیزکے اعداد وشمار کے مطابق 2001 سے اب تک امریکا افغانستان میں تقریباً 841 ارب ڈالر خرچ کرچکا ہے ۔ جس میں 110 ارب ڈالر مالی امداد کی مد میں دیئے گئے ۔ جس میں افغان فورسزکی تعمیر نو، اقتصادی امداد اور منشیات کنٹرول کرنے کے منصوبے شامل ہیں ۔ اگر اس میں دیگر اخراجات بھی شامل کرلیے جائے تو امریکا کا افغانستان جنگ پر خرچہ 20 کھرب ڈالر تک پہنچ جاتا ہے ۔ اس عرصے میں امریکی افواج کی افغانستان میں موجودگی کو دیکھا جائے تو 2001 میں 13سو امریکی فوجی افغانستان میں اترے جس کے بعد اگست 2010 میں یہ تعداد ایک لاکھ تک پہنچ گئی اور اب بھی 8 ہزار سے زائد فوجی افغانستان میں موجود ہیں ۔ لیکن افغانستان سے اب تک نہ تو شدت پسندوں کی پناہ گاہوں کا خاتمہ ہوا، نہ ہی کرپشن ختم ہوئی اور نہ ہی اقتصادی طور پر کوئی بہتری آئی ۔ افغان حکومت کی رٹ تمام تر سپورٹ کے باوجود صرف 60 فیصد رقبے پر قائم ہے اور افغانستان کے 34 میں سے 16 صوبے ایسے ہیں جن میں کہیں افغان طالبان کا مکمل تو کہیں جزوی کنٹرول ہے جب کہ بعض صوبے ایسے ہیں جہاں ان کا اچھا خاصا اثر و روسوخ موجود ہے ۔ امریکا کی ناکامیوں کی فہرست یہیں نہیں رکتی کیونکہ افغانستان میں دہشت گردی کی وارداتوں میں بھی مستقل اضافہ یکھا جارہا ہے ۔ اٹھارہ سال کی جنگ کے بعد بھی افغانستان پر مکمل قبضہ کا خواب پورا نہ ہونے پر امریکہ نے انخلاء بارے سوچنا شروع کیا ۔ دوسری طرف طالبان کے امریکی اور افغان فوجوں اور تنصیبات پر حملے روز بروز بڑھتے جا رہے تھے ۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ سال شام سے فوج کے مکمل انخلا کے بعد افغانستان سے بھی انخلاء کا اعلان کیا تھا ۔ افغانستان سے انخلا کا فوج کا فیصلہ ہی وزیر دفاع جیمز میٹس کے استعفے کا سبب بنا ۔ افغانستان میں اس وقت تقریباً 14 ہزار امریکی فوجی موجود ہیں جس میں سے زیادہ تر نیٹو مشن کے تحت مقامی فوج کی تربیت کے لیے مامور ہیں ۔ امریکا نیٹو ممالک کا رکن ہے اور اسے فوج کے انخلا کے کسی بھی فیصلے سے متعلق نیٹو سپورٹ مشن کو سامنے رکھتے ہوئے کرنا ہوگا ۔ امریکی صدر فوج کے افغانستان کے قیام کے مخالف ہیں جس کا وہ کئی بار اظہار کرچکے ہیں ۔ حال ہی میں پاکستان کے تعاون سے افغان امن عمل کے سلسلے میں ابوظہبی میں طالبان اور امریکا کے درمیان براہ راست مذاکرات ہوئے ۔ جس میں سعودی عرب سمیت متحدہ عرب امارات کے وفد نے بھی شرکت کی ۔ اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے بذریعہ خط وزیراعظم عمران خان سے افغان امن عمل اور طالبان کو مذاکرات کی ٹیبل پر لانے کی اپیل کی تھی ۔ اب طالبان نے دعوی کیا ہے کہ امریکا نے افغانستان سے فوج کے انخلا پر رضا مندی ظاہر کردی ہے ۔ طالبان اور امریکا کے وفد سے ملاقات کے دوران امریکی فوج کی افغانستان سے واپسی سمیت تمام مسائل کے حل پر اتفاق کیا گیا ۔ قیام امن کے لیے طالبان کی جانب سے غیرملکی افواج کے انخلاء سمیت رہنماؤں پر عالمی پابندی کا خاتمہ، گرفتار ساتھیوں کی رہائی اور سیاسی دفتر کا قیام شرائط میں شامل ہے ۔ کیونکہ طالبان کی جانب سے اس سے قبل کئی بار کہا جاچکا ہے کہ غیرملکی افواج کی افغانستان میں موجودگی امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔ نہ صرف مکمل انخلا بلکہ امریکہ نے اس بات کی یقین دہانی بھی کروائی ہے کہ وہ مستقبل میں بھی افغانستان کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کرے گا ۔ امسال فروری میں ہونے والی ماسکو کانفرنس کے بعد اعلامیہ میں افغانستان سے غیر ملکی افواج کے مکمل انخلا پر اتفاق کرتے ہوئے یقین دلایا گیا کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں کی جائے گی ۔ طالبان افغانستان پر قابض افواج کا مکمل انخلا چاہتے ہیں جب کہ امریکہ کو خدشہ ہے کہ ایسا کرنے سے یہ ملک ایک بار پھر خانہ جنگی کا شکار ہوجائےگا ۔ ماسکو کانفرنس میں افغانستان کی سیاسی جماعتوں ، سابق صدر حامد کرزئی سمیت نمایاں سیاست دانوں اور طالبان کے نمائندوں نے شرکت کی تھی تاہم کابل حکومت کا کوئی نمائندہ شریک نہیں ہوا ۔ افغان فریقین نے عالمی برادری کو یقین دہانی کرائی کہ غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں کی جائے گی ۔ پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے افغانستان میں تعینات امریکی افواج کے انخلا کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پیشرفت افغان امن عمل کے لیے بہتر ثابت ہو گی ۔ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کا فیصلہ بروقت اور درست ہے اور اس سے اس شورش زدہ ملک میں قیام امن کی کوششوں کو فائدہ ہو گا ۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اقدام سے امریکا اور طالبان کے مابین امن مذاکرات میں بہتری پیدا ہو گی ۔ اسلام آباد اس طرح کے اقدامات کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور مستقبل میں بھی افغانستان میں قیام امن کی خاطر اپنا موَثر کردار ادا کرتا رہے گا ۔ پاکستان نے کچھ طالبان کو رہا کیا ہے تاکہ ان امن مذاکرات کا کامیاب بنانے میں مدد کی جا سکے ۔ ادھر افغان حکومت کا بھی کہنا ہے کہ امریکی افواج کے انخلا سے ملکی سکیورٹی پر کوئی منفی اثرات نہیں پڑیں گے کیونکہ ملک کی سلامتی کی زیادہ تر ذمہ داریاں اب مقامی سکیورٹی دستے ہی سنبھالے ہوئے ہیں ۔

About Admin

Google Analytics Alternative