افغانستان میں قیام امن

68

یوں تو امریکہ افغان طالبان سے امن معاہدے کا ہمیشہ سے ہی خواہاں رہا ہے ۔ سابق صدر باراک اوباما نے بھی اپنے دور حکومت میں امن کے لیے طالبان سے مذاکرات کی حامی بھری تھی مگر کافی عرصے تک فریقین کے درمیان امریکی فوج کے افغانستان سے انخلا اور طالبان کی جانب سے جنگ بندی پر ڈیڈ لاک برقرار رہا ہے ۔ معاہدے سے جہاں افغانستان میں جاری طویل مدتی جنگ کا اختتام ہوگا وہیں افغانستان میں حکومت کے قیام کے حوالے سے مشکل وقت کا آغاز بھی ہوگا ۔ امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدے پر دستخط کے فوراً بعد بین الاقوامی کانفرنس منعقد کی جائے گی جس میں مختلف مسائل پر بات چیت ہوگی ۔ افغانستان کے دستور، سکیورٹی اداروں کے کردار اور دیگر معاملات پر فیصلے کیے جائیں گے ۔ جنگ بندی، افغانستان کے مستقبل سمیت کئی مسائل پر بات چیت ہو گی ۔ امریکہ طالبان کے قیدی رہا کرے گا اور ان کے پاس جو مقامی قیدی ہیں انھیں رہا کیا جائے گا ۔ اسی طرح افغانستان میں جنگ بندی کا فیصلہ بھی کیا جائے گا امریکہ اپنی افواج کو افغانستان سے نکالنے کے بارے میں ایک ٹائم ٹیبل سے آگاہ کرے گا ۔ امریکہ کوئی پانچ ہزار افغان طالبان رہا کرے گا اور افغان طالبان کی تحویل میں اس وقت کوئی ایک ہزار ایسے افراد ہیں جن میں افغان سپاہی اور فوجیوں کے علاوہ سرکاری اہلکار ہیں جنھیں رہا کر دیا جائے گا ۔ امریکہ سے معاہدے کے تحت طالبان یہ یقین دہانی کرائیں گے کہ ان کی سرزمین امریکہ سمیت کسی اور ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو گی ۔ گذشتہ سال جنوری میں افغان طالبان نے ملا عبدالغنی برادر کو تنظیم کے امیر ملا ہیبت اللہ اخونزاد کا سیاسی امور کے لیے نائب منتخب کیا تھا اور ساتھ ہی انھیں قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کی قیادت بھی سونپی گئی ہے ۔ ملا برادر اس وقت سے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے اہم کردار رہے ہیں ۔ طالبان کے رہنما ملا عبدالغنی برادر افغانستان میں طالبان کارروائیوں کی نگرانی کے علاوہ تنظیم کے رہنماؤں کی کونسل اور تنظیم کے مالی امور بھی چلاتے تھے ۔ افغان طالبان کے سابق امیر ملا عمر اور ملا عبدالغنی برادر ایک ہی مدرسے میں درس دیتے تھے اور 1994 میں قائم ہونے والی تنظیم طالبان کے بانی قائدین میں سے ہیں ۔ ملا برادر طالبان دور میں ہرات صوبے کے گورنر اور طالبان کی فوج کے سربراہ رہے ہیں ۔ امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات شروع کرانے اور انھیں ایک حتمی فیصلے تک پہنچانے میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا ہے ۔ پاکستان نے ان مذاکرات کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ قطر کے حکام نے پاکستان کے وزیر خارجہ کو اس معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شرکت کی دعوت بھی دی ۔ دوحہ میں امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان امن معاہدے پر دستخط ہوگئے ہیں جس کے اثرات پاکستان سمیت پورے خطے پر مرتب ہوں گے ۔ افغان امن معاہدہ افغانستان کے ساتھ ساتھ پاکستان کے لیے متعدد امکانات کے دروازے کھولنے جا رہا ہے جس میں اندرونی استحکام، وسطی ایشا کے ساتھ بلا روک ٹوک تجارت اور سرمایہ کاری کا فروغ شامل ہیں ۔ پاکستان کو امید ہے کہ افغانستان میں قیام امن کے بعد سی پیک منصوبے کو مزید موثر اور مفید بنایا جاسکے گا ۔ پاکستان کافی عرصے سے افغانستان میں امن کی کوششیں کرتا آیا ہے ۔ کیونکہ افغانستان میں امن ہونے کا مطلب ہے کہ خطے میں بھی امن آئے گا ۔ امریکہ ہمیشہ ہی سے ’ڈو مور‘ کہتا آیا ہے مگر اس معاہدے کے بعد اسے پاکستان کی کوششوں کو سراہنا پڑے گا ۔ حال ہی میں اقوامِ متحدہ کے جنرل سیکرٹری انتونیو گوءترس نے دورہ پاکستان کے دوران افغانستان میں پاکستان کی امن کی کوششوں کے حوالے سے کہا ہے کہ پاکستان کو وہ پذیرائی نہیں ملی جو اْس کو ملنی چاہیے تھی ۔ اس معاہدے کے بعد پاکستان میں موجود افغان پناہ گزینوں کو اپنے ملک جانے کا موقع ملے گا ۔ امریکی صدر ٹرمپ نے گزشتہ سال طالبان سے اچانک مذاکرات معطل کردیے تھے ۔ اس کے بعد پاکستان کے تعاون سے دونوں فریقوں میں بیک ڈور ڈپلومیسی چلتی رہی ۔ وزیر اعظم عمران خان اور عسکری قیادت کی جانب سے ایک بار پھر کوشش کی گئی کہ دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لایا جائے ۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا قطر کا حالیہ دورہ بھی اسی ضمن میں تھا کہ امریکہ افغان طالبان مذاکرات کو منطقی انجام پر پہنچایا جائے ۔ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ امن معاہدہ اس کی کاوشوں کا نتیجہ ہے ۔ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں گزشتہ کچھ عرصے سے بہتری آئی ہے اور اس بات کی امید ظاہر کی جارہی ہے کہ اس معاہدے کے بعد تعلقات میں مزید بہتری آئے گی ۔ پاکستان گزشتہ روز ہونے والے معاہدے کا خیر مقدم کرتا ہے اور پاکستان ایک پر امن، متحد، خوشحال، مستحکم اور جمہوری افغانستان کی حمایت کرتا ہے، جس کی اس پورے خطے کو ضرورت ہے ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا پاکستان اور افغانستان کے مابین دو طرفہ برادرانہ تعلقات، مذہبی ثقافتی اور تاریخی بنیادوں پر استوار ہیں ۔ گذشتہ چالیس برس سے افغانستان میں عدم استحکام کا خمیازہ دونوں ممالک یکساں طور پر بھگت رہے ہیں ۔ پاکستان، صدق دل سے سمجھتا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ۔ افغانستان میں قیام امن کے لئے ‘‘مذاکرات’’ ہی مثبت اور واحد راستہ ہیں ،خوشی ہے کہ آج دنیا، افغانستان کے حوالے سے ہمارے موقف کی تائید کر رہی ہے ۔ پاکستان خوش دلی کے ساتھ گذشتہ چار دہائیوں سے لاکھوں افغان مہاجرین بھائیوں کی میزبانی کرتا چلا آ رہا ہے ۔ پاکستان نے افغان امن عمل میں مشترکہ ذمہ داری کے تحت نہایت ایمانداری سے مصالحانہ کردار ادا کیا ہے ، پرامن افغانستان پورے خطے کے امن و استحکام کے لئے ناگزیر ہے ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہماری خواہش ہے کہ فریقین مذاکرات کی جلد بحالی کی طرف راغب ہوں تاکہ دیرپا، اور پائیدار امن و استحکام کی راہ ہموار ہو سکے ۔ سینئر صحافی اور افغان امور کے ماہر رحیم اللہ یوسفزئی کہتے ہیں کہ اس معاہدے کے بعد پاکستان کی خطے میں ساکھ بہتر ہوگی اور پاکستان چاہے گا کہ اس کے جو تحفظات ہیں ان کو بھی دور کیا جائے ۔ پاکستان ہمیشہ سے ہی خطے میں امن کا خواہاں رہا ہے اور یہ پاکستان ہی تھا جو امریکہ اور افغانستان کو مذاکرت کی میز تک لایا ۔ اس معاہدے سے افغانستان میں امریکہ اور طالبان کے درمیان 20 سالہ جنگ کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا ۔ اس کے برعکس بھارت کبھی بھی طالبان سے مذاکرات کے حق میں نہیں رہا ۔ اس کے مطابق افغانستان کے مسئلے کا واحد حل جنگ ہے ۔