شنگھائی تعاون تنظیم کے سلامتی کونسل سیکرٹریوں کے 21ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے روس کی سلامتی کونسل کے سیکریٹری سرگئی شوئیگو نے افغانستان سے جڑے دہشت گردی اور منشیات سمگلنگ کے خطرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ افغانستان میں اس وقت 20 سے زائد شدت پسند گروہوں کے 18 ہزار سے 23 ہزار جنگجو سرگرم ہیں جو پورے خطے کی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ بن چکے ہیں، طالبان داعش خراسان کیخلاف برسرِپیکار ہیں، تاہم اب بھی کئی شدت پسند گروہ طالبان کے مکمل کنٹرول سے باہر ہیں۔ افغانستان کی صورتحال خطے کی سلامتی کے لیے انتہائی اہم مسئلہ بن چکی ہے، داعش خراسان کے تقریباً 3 ہزار جنگجو افغانستان میں موجود ہیں، داعش نے سال 2025 کے دوران 12 بڑے دہشت گرد حملے کیے جن میں 40 فوجی اہلکار اور 25 شہری ہلاک جبکہ 50 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ شام سے ایغور، تاجک اور ازبک جنگجوؤں کی افغانستان آمد میں بھی اضافہ ہورہا ہے، ان میں بعض عناصر ماضی میں حیات تحریر الشام سے وابستہ رہے ہیں، جس سے خطے میں سکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں، طالبان کی سیکیورٹی ایجنسیاں افغانستان آنے والے شدت پسند عناصر کی نگرانی کررہی ہیں، لیکن اس کے باوجود کچھ اسلام پسند گروہ اب بھی طالبان کے مکمل کنٹرول سے باہر ہیں۔ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں پوست کی کاشت اور افیون کی پیداوار میں تقریباً 90 فیصد کمی آئی ہے، مصنوعی منشیات، خصوصاً میتھ ایمفیٹامین کی پیداوار میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ، 2025 کے دوران افغانستان کی سرحدوں پر 30 ٹن سے زائد مصنوعی منشیات پکڑی گئیں۔ افغانستان میں شدید معاشی بحران کے باعث اب بھی تقریباً 40 لاکھ افراد منشیات سے متعلق فصلوں کی کاشت سے وابستہ ہیں۔ روس، کیوبا، وینزویلا ، عراق، ایران، شمالی کوریا، لیبیا اور افغانستان کے تقریباً 590 ارب ڈالر کے اثاثے مغربی ممالک میں منجمد کیے جاچکے ہیں، اس صورتحال کے بعد دنیا کے کئی ممالک مغربی ممالک میں اپنے قومی ذخائر محفوظ رکھنے کے حوالے سے دوبارہ غور کرسکتے ہیں۔افغان طالبان رجیم کی جانب سے جرائم پیشہ عناصرکی پشت پناہی نے پڑوسی ممالک کی سماجی اورمعاشی سلامتی کوداؤ پرلگادیا ،عالمی جریدہ افغان سرزمین سے سرحد پاربڑھتی غیرقانونی سرگرمیوں کا ایک اور ثبوت سامنے لے آیا ۔ کرغزستان کے معروف جریدہ ”دی ٹائمز آف سینٹرل ایشیا”کے مطابق تاجک سکیورٹی اہلکاروں نے افغانستان سے تاجکستان سرحدپار کرنیوالے2 افغان منشیات اسمگلرزکو ہلاک کردیا۔تاجک سکیورٹی حکام کے مطابق افغان منشیات اسمگلروں نے سرحد عبورکرنیکی کوشش کی تھی، تاجکستان کے ضلع فرخورمیں اسمگلرز کیخلاف کارروائی کے دوران ہلاک افغان اسمگلرزس ے 25 کلومنشیات بھی برآمدکرلی گئی۔ وسطی ایشیائی ممالک افغانستان کی غیرمستحکم عسکری،سیاسی اور معاشی صورتحال کوپہلے ہی خطے کیلئے تشویشناک قراردے چکے ہیں ۔ ماہرین کے مطابق پڑوسی ممالک میں افغان جرائم پیشہ عناصرکی مسلسل دراندازی اس بات کاثبوت ہے کہ طالبان رجیم ان مجرمانہ سرگرمیوں میں برابرکی شریک ہے ،طالبان رجیم جرائم پیشہ عناصر اوردہشتگرد گروہوں کواپنی بقاکیلئے بطور اسٹریٹجک ایسٹ استعمال کررہی ہے جس کابراہِ راست خمیازہ پڑوسی ممالک بھگت رہے ہیں۔ افغانستان میں دہشت گردی، منشیات کی سمگلنگ اور دیگر مجرمانہ نیٹ ورکس نے طالبان رجیم پر عالمی برادری کا اعتماد مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔امریکہ میں قائم تحقیقی ادارہ مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم کے پچپن ارکان اور اہلکار اب بھی القاعدہ کے ساتھ بالواسطہ یا بلاواسطہ تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں۔بیس فیصد سے زیادہ افغان طالبان رہنماؤں کی شناخت بم دھماکوں اور خودکش حملوں کے ماسٹر مائنڈ کے طور پر کی گئی ہے ۔ افغان میڈیا کے ادارہ افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق طالبان رجیم کی 33 رکنی کابینہ میں سے تیرہ سے چودہ ارکان اقوام متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں۔افغانستان انٹرنیشنل میں شائع اقوامِ متحدہ کے ادارے برائے انسداد منشیات و جرائم کی رپورٹ کے مطابق افغان طالبان رجیم میں افغانستان سے میتھ ایمفیٹامین جیسی خطرناک منشیات کی سمگلنگ خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔خطے میں میتھ ایمفیٹامین کی ضبطگی 2023ء کے مقابلے میں 50 فیصد سے زائد رہی جو افغانستان میں اس کی بڑھتی پیداوار کا ثبوت ہے۔دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں پر افغانستان میں طالبان رجیم کو کڑی تنقید کا سامنا ہے ، افغان طالبان کی دہشت گردوں کی پشت پناہی اور وار اکانومی کے خلاف افغان رہنما کھل کر سامنے آگئے۔ افغان سیاستدان احمد مسعود نے افغان طالبان کی زیرسرپرستی دہشتگردوں کے اڈوں کو بے نقاب کر دیا۔ افغانستان میں آج جو حالات ہیں یہ براہ راست افغان طالبان رجیم کے برے اعمال کا نتیجہ ہے، آج افغانستان اپنے لوگوں کیلئے جہنم جبکہ دہشت گرد گروہوں کیلئے جنت بنا ہوا ہے۔افغانستان میں صرف ٹی ٹی پی ہی نہیں بلکہ 20 سے زائد دہشت گرد گروہ سرگرم ہیں، افغانستان پر مسلط افغان طالبان رجیم کے خلاف ہماری شدید نفرت کبھی کم نہیں ہوسکتی۔ افغانستان کو دہشتگروں کو بطور لانچنگ پیڈ کے استعمال کیخلاف افغان عوام میں طالبان رجیم کیخلاف سخت نفرت پائی جاتی ہے۔ افغان عوام افغان طالبان کی آمریت اور دہشتگردی پر چلنے والی اس رجیم سے تنگ آچکے ہیں، یہ بات اب قطعی طور پر ڈھکی چھپی نہیں کہ افغانستان دہشتگرد عناصر کیلئے جنت بن چکا ہے۔ دہشت گرد عناصر افغان سر زمین سے پاکستان میں ہونیوالے حملوں میں براہِ راست ملوث ہیں۔ القاعدہ اور داعش جیسے گروہ اب بھی افغانستان میں موجود ہیں جبکہ 2021ء کے بعد افغان طالبان اور دہشت گرد تنظیموں کے درمیان روابط مزید خطرناک شکل اختیار کر چکے ہیں۔
افغانستان میں پنپتی دہشت گردی

