Site icon Daily Pakistan

افغانستان کی ہٹ دھرمی!

کہتے ہیں کہ”لاتوں کے بھوت۔باتوں سے نہیں مانتے”کتنی ہی کوششوں کے باوجود اورمذاکراتی سلسلوں کے بعدبھی افغانستان اپنی ہٹ دھرمی برقراررکھے ہوئے ہے ۔ افغانستان آج نہ صرف پاکستان کی قربانیاں ، مہمان نوازی،امدادسب کچھ بھول چکاہے بلکہ بھارت کی گودمیں بیٹھ کراپنے ہی محسن کیخلاف دہشتگردوں کی سرپرستی کررہاہے ۔حالانکہ تاریخ دیکھ لیں جب بھی افغانستان پرکوئی آنچ آئی بحثیت بڑابھائی پاکستان نے ہرموقع پرسب سے پہلے اورسب سے بڑھ کر افغانستان کاساتھ دیا۔نوے کی دہائی میں دست شفقت ہویاامریکہ کے حملے کے بعد سے لاکھوں مہاجرین کی مہمان نوازی ۔قدرتی آفات ہوں یامعاشی مسائل پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کامشکل وقت میں ہاتھ تھاما ۔ نوے کی دہائی میں جب لُٹے پٹے افغان مہاجرین پاکستان آئے تونہ صرف بلوچستان ، خیبرپختونخوا،سندھ،پنجاب ،گلگت بلتستان ، آزادکشمیر تک پاکستانی قوم نے انہیں بیگانہ دیس ہونے کابالکل احساس نہیں ہونے دیا اوراپنے گھروں کے دروازے کھول دیئے ۔ آج افغان قیادت جس پاکستان اورخصوصاً پنجاب کیخلاف ہرزہ سرائی اور زہر آلود گفتگو کرتی ہے یہ وہی پنجاب ہے جنہوں نے افغان مہاجرین کیلئے نہ صرف رہائشوں کیلئے فری زمینیں ،گھردیئے بلکہ اناج تک تقسیم کئے ۔ اِسی طرح خیبرپختونخوا ، بلوچستان،سندھ اور خصوصاًروشنیوں کے شہرکراچی نے بھی انہیں کبھی احساس نہیں ہونے دیاکہ وُہ کسی اوردھرتی پربطورمہاجر ہیں لیکن کچھ عرصہ سے اورخصوصاًپاکستان کی جانب سے آپریشن بنیان مرصوص اور معرکہ حق میں بھارت کو میدان جنگ میں شکست دینے کے بعد بھارت اب جہاں چوری چھپے پاکستان کے دُشمنوںخارجیوں کی پشت پناہی کررہاہے تووہیں افغان طالبان بھی بھارت کی گود میں بیٹھ کربھارتی لوریاں سُن رہے ہیں اوراپنے ہی محسن اوربرادراسلامی ہمسائیہ ملک پاکستان کیخلاف دہشتگردوں کی سرپرستی کررہے ہیں ۔ پاکستان نے سفارتی طورپرکئی دفعہ افغانستان کو وہاں موجود فتنة الخوارج اور فتنة الہندوستان جیسے دہشت گرد عناصر کے بارے میں معلومات دیں جو افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کیخلاف کارروائیاں کر رہے ہیں اوربارہاسمجھایاکہ جب تک افغانستان میں دہشتگردی کی جڑیں نہیں کاٹی جائیں گی ، پاکستان کے دُشمن اورخارجیوں کی کمان گاہیں ختم نہیں کی جائیں گی تب تک نہ صرف پاکستان بلکہ خطہ میں امن ناممکن ہے لیکن افغانستان نے بجائے معاملات حل کرنے ، دہشتگردی کی سرکوبی کرنے کے پاکستان کیخلاف ہی سازشیں رچاناشروع کردیں ۔ خیبرپختونخوا،بلوچستان کے بعد وفاقی دارالحکومت اسلام آبادمیں کچہری خود کش دھماکہ اورپھرترلائی امام بارگاہ خدیجة الکبریٰ میں ہونیوالے خودکش دھماکوں کے تانے بانے بھی مکمل طورپرافغانستان سے ملے اورخودکش بمبارمسلسل افغانستان میں رابطے میں تھے اوران حملوں کی ذمہ داری بھی افغانستان میں موجود پاکستان طالبان، فتنہ الخوارج اور اس سے منسلک گروہوں، نیز اسلامک اسٹیٹ خراسان صوبہ نے قبول کی۔ پاکستان کی جانب سے تمام ترسفارتی ، مذاکراتی اورشواہد دینے کے باوجود افغانستان کی جانب سے مثبت جواب نہ دینے اورہٹ دھرمی پرقائم رہنے کے بعد گزشتہ روزپاکستان نے سرحد پار دہشت گردی کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر افغانستان کے مشرقی علاقوں میں بڑا انٹیلی جنس بیسڈ فضائی آپریشن کرتے ہوئے شدت پسندوں کے سات اہم ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں طالبان کمانڈر اختر محمد سمیت متعدد دہشت گرد ہلاک ہوئے۔وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات کے مطابق دہشت گرد کیمپوں اور ٹھکانوں کو انٹیلی جنس بنیادوں پر نہایت درستگی اور احتیاط کے ساتھ نشانہ بنایاگیا اور فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں کو تباہ کیاگیا۔گزشتہ روزچیئرمین سینٹ سیدیوسف رضاگیلانی کی زیرصدارت سینٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیربرائے پارلیمانی اُمورڈاکٹرطارق فضل چوہدری نے افغانستان میں کی گئی پاکستان کی فضائی کارروائی پر حکومت کا باضابطہ موقف پیش کرتے ہوئے بتایاکہ افغانستان کو بارہا سرحد پار دراندازی کے ثبوت دیے مگر افغان حکومت نے کوئی مثبت ردعمل نہیں دیا، ہم لاشیں اٹھانے کیلئے نہیں ہیں، ہمیں ردعمل دینا آتا ہے ،یہ کارروائی ایک دم سے نہیں ہوئی اس کا ایک پس منظر ہے۔دہشتگردی کیخلاف جنگ میں جتنی قربانیاں پاکستان نے دی ہیں اوردے رہاہے شاید کسی اورملک نے نہ اتنی قربانیاں دی ہیں اورنہ ہی دہشتگردی کی لعنت کے خاتمے کیلئے اتنے اقدامات کئے ہوں ۔ آج پاکستان کی چٹان صفت مسلح افواج ، سیکیورٹی ادارے مادرعزیزسے نہ صرف دہشتگردوں کاقلع قمع کررہے ہیں بلکہ دہشتگردی کی اِس جنگ میں اپنی جانوں کے نذرانے بھی پیش کررہے ہیں ۔ پاکستان کے عوام کی سلامتی اور تحفظ سب سے مقدم ہے ۔ دہشتگردی کی اِس جنگ میں پوری پاکستانی قوم حکومت پاکستان ،افواج پاکستان اوراپنے اداروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور دہشتگردوں،اِن کے سہولتکاروں کوبھی منہ توڑ جواب دیناجانتی ہے ۔آج اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی برادری کوکلبھوشن یادیوجیسے کردارسامنے آنے کے بعدجہاں بھارت کو کٹہرے میں کھڑاکرناچاہیے وہیں افغان عبوری حکومت پربھی دبائوڈالناچاہیے کہ وُہ دوحہ معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور اپنی سرزمین کو پاکستان کیخلاف خارجیوں اور دہشت گردوں کے استعمال سے روکے تاکہ کسی بھی ملک کے خلاف افغان سرزمین کے استعمال کو روکا جا سکے جو علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کیلئے بھی ناگزیر ہے۔

Exit mobile version