بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 24.4°C
Tuesday, 21 July 2026 | پاکستان: 7 صفر 1448

افغان مہاجرین اور شہریت ۔۔۔!

Saturday, 1 March, 2025

ایک بار پھرافغان مہاجرین کو واپس افغانستان بھجوانے کی خبریں گردش کررہی ہیں، یقیناان خبروں سے افغان مہاجرین پریشان اور غم والم مبتلا میںہونگے کیونکہ وہ کم وبیش 45 برس سے پاکستان میںمقیم ہیں،جن افغانی بہن بھائیوں کی عمریں45 سال یا45 سال سے کم ہیں ، اُن کی جنم بھومی بھی پاکستان ہے، وہ پاکستان میں پیدا ہوئے اور وہ پاکستان سے بے پناہ محبت کرتے ہیں، اِن بچوں کے والدین نے شدید غم اور مصیبت میں افغانستان سے پاکستان اُس وقت ہجرت کی، جب روس نے افغانستان پر یلغار کیا تھا،اُس جنگ کے نتیجے میں15 لاکھ سے زائد افغانی شہید ہوئے اور لاکھوں افراد مضروب ہوئے۔افغانستان پر روسی جارحیت سے عام شہریوں کو مختلف مسائل کاسامنا کرنا پڑا اورافغانی شہریوں پر زمین تنگ کردی گئی تو پاکستان نے مصیبت کی اس گھڑی میںاپنے افغان بھائیوں کےلئے دروازے کھل دیے،اقوام متحدہ کے تعاون سے مہاجرین کو کیمپوں میں رکھا گیا، اقوام عالم کی مدد سے پاکستان نے مہاجرین کوسُکھ دیا، ان کو بنیادی سہولیات فراہم کیں، بچوں کےلئے سکولز قائم کیے اور مریضوں کے علاج ومعالج کےلئے ہسپتال قائم کیے۔اس واقعہ نے ہجرت مدینہ کی یاد تازہ کردی۔مکہ کے مسلمانوں کو مدینہ میں بسایا گیا تھا اوررہنے سہنے کےلئے انتظامات کیے تھے، مہاجرین اور انصار آپس میں گُل مل گئے تھے ،اس بھائی چارے کو تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا اور یاد کیا جاتا ہے۔پاکستان اور افغانستان کا اہم رشتہ اسلام ہے، دونوں ممالک کی اکثریت مسلمان ہیں۔دنیا کے تمام مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں،جسم کے کسی حصے کو تکلیف ہو تو پورا جسم اضطراب کا شکار ہوتا ہے۔پاکستان نے اپنے افغان بھائیوں کی خوب مہمان نوازی اور خاطر مدارات کی۔ جب فروری1989ءمیں روس اور افغانستان جنگ ختم ہوئی تو دنیا کے ممالک نے افغانستان کی تعمیر و مرمت اور افغان بھائیوں کی آباد کاری کےلئے وعدے کیے گئے مگر عملاً کچھ نہیں کیا گیااور سب اپنے وعدے بھول گئے۔اسی دوران افغانستان کے مختلف دھڑوں میں لڑائی شروع ہوئی،اس سے افغانستان کے حالات مزید خراب ہوئے۔اس جدل کے نتیجے میںطالبان کو ملک کے بیشتر حصوں پر کنٹرول حاصل ہوا اور طالبان نے افغانستان میں حکومت قائم کی۔9/11 کا واقعہ ہواجس کے نتیجے میں امریکہ نے افغانستان پر یلغار کیا،اس جنگ میں بھی لاکھوں افغانی افراد قتل اور مضروب ہوئے، طویل جنگ کے بعد امریکہ و اپس چلا گیا، طالبان نے دوبارہ افغانستان پر کنٹرول حاصل کیا۔روس اور امریکہ حملوںسے افغانستان کا سٹرکچر تباہ و برباد ہوچکا تھا،اس پر مزید ستم یہ ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک نے افغانستان کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات بحال نہیں کیے۔آپ یوں کہہ سکتے ہیںکہ 27 دسمبر 1979ءسے افغانستان کے شہر ی عالم جنگ میں ہیں،یہ جنگیں عالمی طاقتوں نے کیے،افغانستان کی صورت حال کے براہ راست ذمہ دار عالمی طاقتیں ہیں،وقت کا تقاضا ہے کہ افغانستان کے لوگوں کو تنہا اوربے حال نہ چھوڑیں بلکہ آگے بڑھ کر افغانستان میں تعمیر و مرمت اور بحالی کا کام کریں ۔روس، امریکہ ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، پولینڈ،اٹلی، اسپین، نیوزی لینڈ، آسٹریلیا وغیرہ ممالک افغانیوں کو شہریت دیں کیونکہ پہلے روس نے افغانستان پر جارحیت کی اور پھر امریکہ نے28 ممالک سمیت افغانستان پر یلغار کیا، انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ امریکہ اور28 ممالک جو افغان جنگ میں شامل تھے،وہ سب افغانیوں کو شہریت دے ،افغانی لوگ محنتی ،جفاکش اور ذہین ہیں،یہ بزنس کرتے ہیں، افغانی اُن ممالک کی معیشت کو تقویت دیں گے۔واضح ہوکہ افغانی لوگ شر پسند نہیں ہیں بلکہ افغان مظلوم ہیں، افغانستان پر یلغار ہوئے، افغانستان پر لاکھوں کی تعداد میں بم گرائے گئے اور لاکھوںٹن باردو گرایا گیا،افغانوں کا قاتل عام کیا گیا،افغانیوں کو زخمی کیا گیا اور افغانیوں کو ذہنی طورپر ٹارچر کیا گیا،افغانی لوگ تقریباً نصف صدی سے در بدر اور اضطراب میں مبتلاہیں،اس کے باوجود افغانی پرامن رہے ہیں،افغانی پاکستان سمیت دنیا بھر میںبزنس کررہے ہیںلیکن کسی کو کوئی تکلیف نہیں دی اور نہ ہی کسی ملک یا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔کسی مخصوص گروہ یا چند افراد کے باعث تمام افغانیوں کو غلط یاشرپسند کہنا یا ان کو ڈسٹرب کرنا بہت بڑی زیادتی ہے بلکہ یہ انسانیت کی توہین ہے۔فرض کریں کہ ایک ہزار افراد میں سے ایک فرد غلط کام کرے تو اس کی وجہ سے 999 افرادکو سزا دینا یا برا بھلا کہنا ،کہاں کا انصاف ہے؟ ایک امریکی یا ایک برطانوی شہری غلط کام کرے تو اس کی وجہ سے تمام امریکیوں یا تمام برطانیوں کو غلط کہنا زیادتی ہے، مدعا یہ ہے کہ ہزاروں افغانیوں میں سے ایک آدھ افغانی سے خطا سر زد ہوجائے تو تمام افغانیوں کو پریشان کرنا یا سب کو غلط کہنا قطعی مناسب نہیں ہے۔روس، امریکہ ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، پولینڈ،اٹلی، اسپین، نیوزی لینڈ، آسٹریلیا وغیرہ انسانی ہمدردی کے تحت افغانیوں کو شہریت دیں اور اسی طرح پاکستان بھی ان تمام افغان مہاجرین کو شہریت دیں جو45 سالوں سے پاکستان میںمقیم ہیں اورجو پاکستان میں پیدا ہوئے ہیں ۔آج کل زیادہ تر افغان مہاجرین پاکستان کے بڑے شہروں میں رہتے ہیں اور بہترین بزنس کررہے ہیں، ملک کی معیشت میں کردار ادا کررہے ہیں۔پاکستان کے تمام شہروں میںایک فی صد افغان مہاجرین پر ایف آئی آرز درج نہیں ہیں کیونکہ یہ پرامن لوگ ہیں ، بزنس اور اپنا کام کرتے ہیں ، قانون کی خلاف ورزی یا غلط کام نہیں کررہے ہیں۔پاکستان نہ صرف افغان مہاجرین کو شہریت دے بلکہ صوبہ پنجاب اور صوبہ سندھ میں بنجر زمینیں الاٹ کرائے تاکہ افغان مہاجرین ان زمینوں کو آبادکرسکیں، اس سے پاکستان زرعی شعبہ میں خودکفیل ہوجائے گا۔قارئین کرام! انسانی ہمدردی کی وجہ سے امریکہ، کینیڈا، یورپی ممالک، آسڑیلیا، نیوزی لینڈ اور پاکستان افغان مہاجرین کو شہریت دے اور ان کے زخموں پر مرہم لگائیں۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *