اقتصادی راہداری کا عظیم منصوبہ اور بھارتی سازشیں

56

گوادر ڈیپ سی پورٹ اور چین کے تعاون سے اقتصادی راہداری کے عظیم منصوبے بھارت کی آنکھ میں کانٹے کی طرح کھٹک رہے ہیں ۔ یہ امر عوامی حلقوں کیلئے موجب طمانیت ہے کہ سیاسی و عسکری قیادت پاکستان چین اقتصادی راہداری کو سبوتاڑ کرنے کے بھارتی منصوبے سے بخوبی آگاہ ہے ۔ انہوں نے عزم صمیم کر رکھا ہے کہ بھارت کو اس کے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا نیزقومی سلامتی اور اس منصوبے کے دفاع کیلئے تمام اقدامات اٹھانے کیلئے وہ کمربستہ اور مستعد ہیں ۔ اس سلسلے میں سربراہ پاک فوج نے بھارت کو انتباہ کرتے ہوئے کہا کہ ’مودی ہو یا ’’را‘‘ یا کوئی اوردشمن، ہم ان سب کی سازشوں اور چالوں کو اچھی طرح سمجھ چکے ہیں ۔ سب سن لیں پاک فوج ملکی سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے کسی بھی حدتک جائے گی ۔ فوج اور عوام ایک ہیں اور فوج جو کچھ کر رہی ہے وہ ملک و قوم کی بھلائی کیلئے کر رہی ہے ۔ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کی ہر صورت اور ہر قیمت پر حفاظت کریں گے ۔ مقام تشکر ہے کہ وہ تمام سیاسی جماعتیں اور قوتیں جو ہمیشہ ملک و قوم کے مفاد کو اولین ترجیح دیتی ہیں اور افادہ رساں منصوبوں پر حکومتوں کے ساتھ اختلاف رکھنے کے باوجود پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبہ کی تکمیل کیلئے سنجیدگی سے حکومت کے ساتھ تعاون کر رہی ہیں ۔ بلوچستان میں پاک فوج کے مثبت اقدامات سے نہ صرف بلوچ عوام فائدہ اٹھا رہے ہیں بلکہ باغی بلوچی بھی یہ سوچنے پر مجبو ر ہوگئے ہیں کہ ہمارا مستقبل پاکستان ہی سے وابستہ ہے ۔ لہٰذا وہ بغاوت چھوڑ کر قومی دھارے میں شامل ہو رہے ہیں ۔ سب سے پہلے بلوچستان میں 60 علیحدگی پسند باغیوں نے ہتھیار ڈال کر حکومت کی عمل داری تسلیم کرنے کا اعلان کیا ۔ ان میں کالعدم تنظیم بلوچ ریپبلکن آرمی کے ایک درجن سے زائد سینئر کمانڈرز بھی شامل تھے ۔ ابھی کچھ عرصہ قبل ہی کالعدم بی ایل اے اور لشکر بلوچستان کے دو فراری کمانڈروں عبداللہ عرف ببرک، دین جان عرف میران حسینی نے اپنے 57ساتھیوں کے ہمراہ ہتھیار ڈال دیئے ۔ پاک فوج اپنی بھرپور کوششوں کے ساتھ بلوچستان میں خواندگی کی شرح کو بہتر بنانے کیلئے دن رات کام میں مشغولِ عمل ہے ۔ اس مقصد کےلئے پاک فوج کی جانب سے اب تک بہت سے سکولوں کو جدید تقاضوں کے مطابق پہلے سے کہیں زیادہ بہتر کیا جاچکا ہے ۔ ساتھ ہی ساتھ نوجوان نسل کی آرمی سکولوں اور کالجز میں بھرتی کیلئے زیادہ سے زیادہ مواقع اور ان کے لیے علم کے حصول میں آسانی اور بھر پور حوصلہ افزائی بھی کی جا رہی ہے ۔ بلوچستان میں پاک آرمی نے بیشمار تکنیکی تعلیمی اداروں کا قیام بھی کیا ہے جس میں بلوچستان کے مری اور لونی قبیلوں میں حصولِ تعلیم کے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے وہاں سے تعلق رکھنے والے نوجوان طلباء و طالبات کو ہوسٹل کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے ۔ اس عمل کا مقصد ان دور دراز قبائلی نوجوانوں کا رجحان تعلیم کی طرف مائل کرنا ، اور شعور اجاگر کرنا ہے ۔ بلوچستان انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن اب تک نہ صرف بیشماربلوچ نوجوانوں کو ہنرمندی کی تربیت فراہم کر چکا ہے بلکہ ابھی بھی بہت سے طالبِ علم یہاں زیرِ تعلیم ہیں ۔ مستقبل میں یہی ہنران کا ذریعہ معاش بھی بن جائے گا ۔ پاک فوج میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی شمولیت بلوچستان کے غیور عوام کی دفاع پاکستان سے گہری وابستگی کا مظہر ہے ۔ افواج پاکستان جنگ کے علاوہ وطن عزیز کے مختلف علاقوں میں امن و امان کے قیام کےلئے ہر وقت ہر دم تیار رہتی ہیں ۔ سابقہ فاٹا اور سرحدی علاقوں میں دشمن کی ریشہ دوانیاں ہوں یا بلوچستان میں اپنوں ہی کی سازشیں ، پاک فوج ہر لمحہ ان کی بیخ کنی کےلئے کوشاں ہے ۔ کچھ عرصہ سے بلوچستان میں سرداری قبائل کے چند سرپھر ے افراد جو غیروں کے سبز باغ دکھانے سے باغی ہو گئے تھے ، کو راہ راست پر لانے کےلئے پاک فوج نے متعدد اقدامات کیے ۔ پاک فوج نے قوانین میں نرمی کرکے بلوچستان کے نوجوانوں کو پاک فوج میں بھرتی کرنے کیلئے خصوصی اقدامات کئے ۔ یہ امر ہمارے لئے حوصلہ افزا ہے کہ 2010 ء سے لے کر اب تک 20 ہزار کے قریب بلوچ نوجوانوں نے پاک فوج میں شمولیت جب کہ 2 ہزار نوجوانوں نے پاک فوج کی سرپرستی میں آئی ایس ایس بی کی تربیت بھی حاصل کی ۔ ٹریننگ سینٹر میں پاک فوج کے جوانوں کے ساتھ فرنٹیئر کور اور پولیس کی ریکروٹس کو بھی تربیت دی گئی ہے جو آنے والے چیلنجز کا سامنا کرنے اور بلوچستان میں امن و امان قائم کرنے میں معاون ثابت ہوگی ۔ پاک فوج کی جانب سے بلوچستان میں تعلیمی ترقی اور پسماند گی کو دور کرنے کے لیے مختلف منصوبوں پر بڑی تیزی سے کام جاری ہے ۔ ان منصوبوں میں ملٹری کالج سوئی، بلوچستان پبلک سکول سوئی کوءٹہ، انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، گوادر انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، چاما لنگ بینیفشر ایجوکیشن پروگرام، بلوچستان انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن، آرمی انسٹیٹیوٹ ان مینرولوجی، اسسٹنٹس ٹو منسٹری آف ایجوکیشن، بلوچ یوتھ اینوارمنٹ ان آرمی، ڈیرہ بگٹی ڈویلپمنٹ پروجیکٹ، ڈویلپمنٹ پروجیکٹ کوہلو اینڈ ناصر آباد ڈویڑن اور پاکستان آرمی اسٹنٹس ان ڈویلپمنٹ آف روڈ نیٹ ورک جس میں اسسٹنٹس ٹو منسٹری آف ایجوکیشن بلوچستان ، گیس اور پانی کی مفت فراہمی ، سوئی میں پچاس بیڈوں پر مشتمل ہسپتال کی تعمیر، چاما لنگ کول مائین، کھجور کی کاشتکاری، آرمی کی جانب سے امداد اور بحالی کی کوششوں اور اسی طرح کہ دیگر منصوبوں پر کام تیزی سے جاری و ساری ہے ۔ بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا اور اہم صوبہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے بلوچستان کو بے پناہ وسائل اور بلوچ نوجوانوں کو صلاحیتوں سے نوازا ہے ۔ افواج پاکستان نے محدود وسائل کے باوجود ملک کے دیگر اداروں کے ساتھ مل کر ہمیشہ کوشش کی ہے کہ معاشی اور معاشرتی ترقی کیلئے اپنا مثبت کردار ادا کرے ۔ بلوچستان کی ترقی اصل میں پاکستان کی ترقی ہے اور پاک فوج اس حقیقت سے بخوبی واقف ہے ۔ ایشین ہیومن راءٹس کمیشن نامی ایک تنظیم بلوچستان میں نفرت کے بیج بو رہی ہے ۔ پاک فوج اور بلوچ عوام کے درمیان جھوٹ بول کر غلط فہمیاں پیدا کی جا رہی ہیں ۔ سیاسی حکومت کے خلاف بغاوت پر اکسایا جا رہا ہے ۔ اے ایچ آر سی باغی بلوچوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے اور پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچا رہی ہے ۔ اس تنظیم کے پاکستان دشمن ممالک سے بھی رابطے ہیں ۔ وہ بلوچستان میں ترقیاتی کاموں اور سی پیک کی مخالفت کر رہے ہیں ۔