Home » کالم » اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ہائی کمشنر نے بھی مسئلہ کشمیر کے حوالے سے یو این کی قراردادوں کی حمایت کردی
adaria

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ہائی کمشنر نے بھی مسئلہ کشمیر کے حوالے سے یو این کی قراردادوں کی حمایت کردی

بھارت کو سفارتی سطح پر لگاتار ناکامی کا سامنا کرنا پڑرہاہے ، بین الاقوامی برادری یہ جان چکی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں ، ہر قسم کی بنیادی سہولیات ناپید کردی گئی ہیں تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی دنیا آگے بڑھے اور بیانات کے بجائے عملی اقدام اٹھائے ۔ کیونکہ اگر بھارت کو نہ روکا گیا تو وہ پوری دنیا کو ایٹمی جنگ میں جھونک دے گا ۔ جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے بھی مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر میں انٹرنیٹ اور دیگر ذراءع مواصلات بحال کیے جائیں ۔ پرامن اجتماعات پر عائد پابندی ختم کی جائے کمشنر انسانی حقوق مشیل باشلے نے کہاکہ مقبوضہ جموں وکشمیر سے متعلق انسانی حقوق یک ابتر صورتحال کی خبریں موصول ہورہی ہیں ۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ وادی اس وقت مکمل طورپر جیل میں تبدیل ہوچکی ہے ۔ وہاں پر لاکھوں افراد گھوں میں مقید ہیں ، مریضوں کو ادویات نہیں مل رہی ہیں ، کھانے پینے کی اشیاء ناپید ہوچکی ہیں ، سکول و کالج بند ہیں ، پوری وادی میں ایک ہوکا عالم ہے، خوف و ہراس کی فضا قائم ہے ۔ نوجوانوں کو گھروں سے گرفتار کیا جارہا ہے، رات کے وقت خواتین کو گھروں سے اٹھا لیا جاتا ہے ، وادی کی کوئی خبر باہر نہیں آرہی ہے ۔ جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے وہاں انسانی المیہ جنم لیتا ہوا دکھائی دے رہا ہے ۔ اقوام متحدہ کی کمشنر انسانی حقوق نے مزید کہاکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مقبوضہ وادی کے حوالے سے جو بھی فیصلہ کیا جائے گا اس میں کشمیریوں کی رائے کو مقدم رکھنا لازمی ہے ۔ مسئلہ کشمیر کا واحد حل استصواب رائے ہے ۔ بھارت نے جو دہشت گردی اپنی فوج کے ذریعے وہاں پھیلا رکھی ہے وہ آئینی، قانونی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے ۔ آئین کی شق 370 اور 35;65; کو ختم کرنا بھی غیر آئینی ہے ۔ بھارتی ہٹ دھرمی انتہا کو پہنچ چکی ہے، وادی میں کرفیو اور لاک ڈاءون کو40روز ہوچکے ہیں ۔ ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے مابین کشمیر پر تنازع ہے اس سلسلے میں دونوں ممالک کی مدد کرنا چاہتا ہوں ۔ وقت کا تقاضا ہے کہ امریکہ اور دیگر طاقتیں عملی طورپر بھارت کو بربریت سے روکیں ۔ آخر نہتے کشمیریوں پرکب تک مودی ظلم ڈھاتا رہے گا ، محرم الحرام میں بھارتی فوج نے وہاں پر مذہبی آزادی بھی سلب کرلی ہے ۔ عزاداروں کو ماتم اور جلوس نکالنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ عاشورہ کا جلوس روکنے کیلئے خاردار تاریں لگا کر راستہ روک دیا گیا ، پابندیوں کے باوجود سری نگر کے مختلف علاقوں میں نویں محرم الحرام کے جلوس نکلے ۔ ماتمی جلوس میں شامل عزاداروں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔ ان پرپیلٹ گنز کا استعمال اور آنسو گیس کے شیلوں کی بارش کی گئی جس سے درجنوں افراد زخمی ہوگئے سری نگر کے لعل چوک اور ملحقہ علاقوں کو نوگو ایریاز میں تبدیل کردیا گیا ۔ دہشت گرد قابض بھارتی فوج لاءوڈ اسپیکر کے ذریعے لوگوں کو گھروں سے نہ نکلنے کی دھمکیاں دیتی رہی ۔ جلوس میں شریک نہتے افراد پر بے دریغ لاٹھی چارج کیا گیا جس سے 4 صحافی بھی زخمی ہوگئے ۔ ایسے میں انسانی حقوق کی تنظی میں کدھر ہیں ۔ آج انہیں نظر نہیں آرہا ہے کہ مودی فاشسٹ نے وادی کو نرگ بنا کر رکھ دیا ہے ۔ بچے دودھ کو ترس رہے ہیں ، فاقہ کشی کی نوبت آن پہنچی ہے ۔ ایمبولینسوں تک کو جانے کی اجازت نہیں ۔ مریض مناسب طبی سہولیات نہ ملنے کی وجہ سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر دم دے رہے ہیں ۔ کیا ان کا قصور صرف اتنا ہے کہ یہ مسلمان ہیں ۔ امریکی صدر ٹرمپ اپنا ایک فوجی مرنے پر طالبان سے امن مذاکرات منسوخ کرسکتے ہیں تو کیا بھارت کو روکنے والا کوئی نہیں ۔ وہاں پر ہر روز بے گناہ مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتارا جارہا ہے ۔ پیلٹ گنز سے شہریوں کو نابینا کیا جارہا ہے ، ہسپتالوں میں مریضوں کیلئے جگہ نہیں ۔ بھارتی ظلم و ستم اور پابندیوں کی وجہ سے وادی میں بیروزگاری پھیل چکی ہے، مواصلاتی رابطوں میں بندش کی وجہ سے آئی ٹی کی کمپنیوں نے 1500 جوانوں کو ملازمت سے فارغ کردیا ہے ۔ امریکہ کو چاہیے کہ وہ مسئلہ کشمیر حل کرانے کی پیشکش کرنے کی بجائے بھارتی ظلم و ستم کے آگے بند ھ باندھے اسی کے پیش نظر وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ بین الاقوامی دنیا کو مقبوضہ کشمیر پر خاموش نہیں رہنا چاہیے ۔ اقوام متحدہ ہو یا جنیوا یا سلامتی کونسل غرض کہ ہر عالمی پلیٹ فارم پر بھارت کو سبکی اور ناکامی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہورہا ۔ لیکن اس کے باوجود اس نے نہتے کشمیریوں کا قتل عام جاری رکھا ہوا ہے لیکن اب وقت کشمیریوں کی آزادی کی دستک دے رہا ہے ۔ وہ وقت دور نہیں جب کشمیری آزاد ہوں گے ، صرف مقبوضہ وادی ہی نہیں بھارتی تسلط سے آزاد ہوگی دیگر ریاستیں بھی آزادی مانگ رہی ہیں ۔ سکھوں کی خالصتان کی تحریک بھی زور پکڑ رہی ہے، مودی کے دور میں بھارت ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا ۔

محرم الحرام میں قیام امن وامان قابل ستائش

پاکستان میں رب کریم کی رحمت سے نویں اور دسویں محرم الحرام خیروعافیت سے گزر گیا ۔ اس موقع پر حکومت کے حفاظتی اقدامات قابل تعریف رہے ۔ ماتمی جلوسوں کے راستوں کی سیکورٹی کا بہترین ا نتظام کیا گیا تھا ۔ جلوس کے شرکاء کی باقاعدہ تلاشی لی گئی ۔ نیز فضائی نگرانی بھی کی جاتی رہی ۔ وفاقی دارالحکومت سمیت ، چاروں صوبوں ،گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں متعلقہ ادارے ہائی الرٹ رہے ،گورنر سندھ نے بھی ماتمی جلوسوں کا دورہ کیا ، سیکورٹی اداروں کے اقدامات بھی قابل ستائش رہے ۔ محرم الحرام امن و امان کا درس اور آپس میں بھائی چارے سے رہنے کا سبق دیتا ہے ۔ حق و باطل میں فرق سمجھاتا ہے ۔ صدر مملکت عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان نے اسلامی روایات کی پاسداری کے ساتھ دہشت گردی ، انتہا پسندی اور عدم برداشت کے سدباب کیلئے ہر اقدام کرنے کی تجدید کا عہد کرنے کو کہا کیونکہ اس وقت ہ میں سب سے بڑا مسئلہ ہی عدم برداشت کا درپیش ہے اگر ایک دوسرے کو برداشت کرنا شروع کردیں تو تمام مسائل حل ہوسکتے ہیں اور سب مل کر ساتھ چل سکتے ہیں ۔ اسوہ حسینی;230; فروغ حق اور اسلامی روایات کی پاسداری کا کہتا ہے ۔ آج ضرورت بھی اسی امر کی ہے کہ اسلامی اقدار پر من و عن عمل کیا جائے اور یہی ایک واحد ذریعہ ہے جس کے تحت کفر کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے ۔

پولیس کی انوکھی منطق

پولیس نے اپنا تشدد چھپانے کیلئے عجیب و غریب اقدام اٹھایا ہے جس کے تحت پنجاب کے تھانوں میں سمارٹ فون استعمال کرنے پر پابندی عائد کردی ہے ۔ آئی جی پنجاب عارف نواز نے تمام تھانوں میں کیمرے والے موبائل لے کر جانا منع کردیا ہے سوائے ایس ایچ او اور تھانہ محرر کے کیونکہ موبائل کی وجہ سے پولیس کا وہ اصل چہرہ عوام کے سامنے آرہا تھا جس میں وہ دوران تفتیش شہریوں پر تشدد کرکے انہیں موت کے گھاٹ اتار دیتے تھے ۔ بجائے اس کے کہ پولیس اپنا قبلہ درست کرتی تو اس نے انوکھی چال چلتے ہوئے سمارٹ فون پر ہی پابندی عائد کردی ۔ نہ فون ہوگا نہ کوئی ویڈیو بنا سکے گا، حکومت کو اس جانب توجہ دینی چاہیے کہ یہ اقدام پولیس کی بربریت کو مزید تقویت دے گا اور وہ تھانے میں جو چاہے مرضی کریں انہیں کوئی روکنے یا پوچھنے والا نہیں ہوگا ۔ دیکھنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ آیا پولیس کو تھرڈ ڈگری استعمال کرنے کی اجازت ہے یا نہیں پھر وہ کس قانون کے تحت ملزمان کی ہڈی ، پسلیاں توڑ کر انہیں لقمہ اجل بنا دیتے ہیں ۔ اس حوالے سے باقاعدہ قانون سازی کی ضرورت ہے کہ اگر کوئی ایسا شخص جوکہ ابھی ملزم تھا اور پولیس تشدد کی وجہ سے جاں بحق ہوگیا تو پولیس اہلکار کو بھی اس کی باقاعدہ سزا ملنی چاہیے ۔ جب کبھی ایسا وقوعہ درپیش آتا ہے تو پیٹی بھائی اپنے بھائیوں کو بچانے کیلئے سرگرم ہو جاتے ہیں ۔ ایسا قطعی طورپر نہیں ہونا چاہیے اور آئی جی نے جو اقدام اٹھایا ہے وہ قابل مذمت ہے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative