الودہ نظام کے خاتمے کیلئے اصلاحات ضروری ہیں

33

سیاسی ;200;لودگی ملک کی تباہی کا باعث بنتی ہے اور جب تک اس کا خاتمہ نہ ہو اس وقت تک نظام کی درستگی بعیداز خیال ہے ۔ اس کو درست کرنے کے لئے حکومت کو بنیادی اصلاحات کی جانب توجہ دینا ہو گی، یہ سیاسی ;200;لودگی ;200;ج کی نہیں ماضی سے ورثے میں چلی ;200;رہی ہے ۔ اس ;200;لودگی سے کس کس نے فائدہ اٹھایا، کون کون سیراب ہوا، کیا کیا بنایا گیا، نسل درنسل یہ سیاسی ;200;لودگی پنپتی رہی اور اس کے بعد اس نے ایک کرپشن کے ناسور جیسی صورت اختیار کر لی جس کو ختم کرنے کے لئے وزیراعظم عمران خان پرعزم ہیں ۔ ہ میں وزیراعظم کی نیت، اُن کے ارادوں اور اُن کے فیصلوں پر کوئی شک نہیں ، وہ یقینی طور پر نیک نیتی سے کام کرنا چاہتے ہیں ، نظام کو درست کرنا چاہتے ہیں ، کرپشن کا خاتمہ چاہتے ہیں مگر یہ تحفظات اپنی جگہ بدرجہ اتم موجود ہیں کہ ٹیم ان کی اس قابل نہیں جتنی وہ اس سے اہلیت کی توقع رکھتے ہیں ۔ ہر وزارت کا اپنا قبلہ وکعبہ ہے، اپنے اپنے تئیں بیان دیتے ہیں ، عمل ندارت ہے صرف میڈیا میں کوریج کے لئے بیان بازیوں کا مقابلہ رہتا ہے، پھر وزیراعظم کو اپنی کچن کیبنٹ پر بھی توجہ دینا ہو گی ۔ ماضی میں یہی ہوتا رہا کہ سابقہ وزیراعظم کے گرد ایک مخصوص ٹولے کا گھیرا تھا جو سب اچھے کی رپورٹ دیتا رہتا تھا، ;200;خرکار اس کے بعد نتیجہ کیا نکلا وہ سب کے سامنے ہے ۔ ;200;ج عمران خان کے اردگرد بھی کچھ ایسے ہی خوشامدیوں کا حصار ہے جو کوئی مسئلہ ;200;گے بیان ہی نہیں کرتے لیکن وقت بڑا ظالم ہے وہ اپنا راستہ خود نکال لیتا ہے ۔ غلط فیصلوں اور غلط بریفنگ کے بہت دوررس نتاءج حاصل ہوتے ہیں ۔ اس کی وجہ سے تخت وتاراج چھن جاتے ہیں ، بعد میں حیف سے ہاتھ مسلنے کے علاوہ کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا، ;200;ج وقت ہے کہ وزیراعظم عمران خان اس مسئلے پر توجہ دیں ، سیاسی ;200;لودگی ہو یا سیاسی انارکی ہو یا سیاسی اقرباپروری ہو غرض کے سیاست کی کوئی بھی قسم ہو اگر اسے منفی مقاصد حاصل کرنے کے لئے استعمال کیا جائے گا تو پھر نتاءج اسی طرح کے ہوں گے کہ مہنگائی ;200;سمان کو چھو رہی ہو گی ۔ ;200;ٹا، چینی ناپید ہو گا، بین الاقوامی مارکیٹ میں پٹرولیم کی قیمتیں بے انتہا سستی ہوں گی لیکن ملک کے اندر جب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا تو وہ پھر اونٹ کے منہ میں زیرے کی مانند ہو گا ۔ یہاں اس امر کی بھی ضرورت ہے کہ ماضی میں جو وعدے وعید کئے گئے تھے انہیں بھی پایہ تکمیل تک پہنچانا بہت ضروری ہے ۔ امن وامان کا مسئلہ ہو، مہنگائی کا مسئلہ ہو، سیاسی اقرباپروری کا مسئلہ ہو، ان سب کو حل کرنا حکومت کی ہی ذمہ داری ہوتی ہے ۔ صرف سیاسی ;200;لودگی نہیں یہاں بہت ساری ;200;لودگیاں ہیں جس سے براہ راست عوام متاثر ہوتی ہے، خواص کو تو شاید کوئی اثر نہ پڑتا ہو لیکن غریب عوام مسائل کی چکی کے پاٹ میں بری طرح پس رہے ہیں ۔ انہی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ;200;لودہ نظام کا بوجھ کسی صورت عام ;200;دمی پر ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی توانائی کے شعبے میں درپیش مسائل پر قابو پانے کیلئے موجودہ حکومت روز اول ہی سے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات لے رہی ہے ۔ توانائی کے شعبے میں سنگین انتظامی و مالی مسائل ہ میں ورثے میں ملے ہیں ۔ اس کے باوجود ہماری اولین ترجیح رہی ہے کہ ان مسائل کی وجہ سے عوام الناس پر کم سے کم بوجھ پڑے، سالہا سال کی کرپشن اور نا اہلی نے نظام کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیا ہے، کرپشن سے ;200;لودہ نظام اگر ڈیلیور نہیں کر رہا تو ;200;وٹ ;200;ف باکس اقدامات کئے جائیں گے ، ریاستی ملکیتی اداروں کی کارکردگی میں بہتری کی غرض سے لئے جانے والے اقدامات کے حوالے سے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ توانائی کے شعبے میں درپیش مسائل پر قابو پانے کیلئے موجودہ حکومت روز اول ہی سے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات لے رہی ہے ۔ توانائی کے شعبے میں سنگین انتظامی و مالی مسائل ہ میں ورثے میں ملے ہیں ۔ اس کے باوجود ہماری اولین ترجیح رہی ہے کہ ان مسائل کی وجہ سے عوام الناس پر کم سے کم بوجھ پڑے ۔ بجلی و گیس کی چوری میں ملوث عناصر کو عوام کی مدد سے قانون کی گرفت میں لایا جائے ، محض انتظامیہ کی سطح پر تبدیلیاں موجودہ صورتحال کے پیش نظر ناکافی ہوں گی ۔ ہ میں وزارت توانائی اور پیٹرولیم میں ہر سطح پر بہترین پروفیشنلز اور ٹیکنالوجی پر عبور رکھنے والے افراد کی خدمات حاصل کرنا ہوں گی تاکہ ہر سطح پر موجود مسائل کے حل کے بہترین افرادی قوت کو برے کار لایا جا سکے ۔ سالہا سال کی کرپشن اور نا اہلی نے نظام کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیا ہے ۔ ہنگامی صورتحال ;200;وٹ ;200;ف باکس اقدامات کی متقاضی ہے ۔

اجلاس میں تجویز پیش کی گئی کہ وزارتوں میں پالیسی، ریگولیشن،عمل در;200;مد، مالی اور انتظامی امور سے متعلقہ معاملات متعلقہ شعبوں میں مہارت رکھنے والے افراد کے سپرد کیے جائیں تاکہ ہر عہدیدار اپنے دائرہ کار میں بہتر طریقے سے ذمہ داریاں سر انجام دے سکے، ہر ادارے کے سربراہ کی کارکردگی کو اہداف کی تکمیل سے منسلک کیا جائے تاکہ کارکردگی کا جائزہ مقررہ وقت میں اہداف کے حصول کی بنیاد پر لیا جا سکے ۔ برسوں سے راءج غیر موثر اور کرپشن سے ;200;لودہ نظام اگر ڈیلیور نہیں کر رہا تو اس کا بوجھ کسی صورت عام ;200;دمی ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ وزارت توانائی اور پیٹرولیم توانائی سے متعلقہ مسائل کے حل کے لئے ایمرجنسی پروگرام مرتب کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ سسٹم کی اصلاح کے عمل کا بوجھ عام ;200;دمی پر کم سے کم پڑے ۔ سماجی رابطوں کی ویب ساءٹ ٹویٹر پر اپنے ٹویٹ میں وزیراعظم عمران خان نے مودی کی انتہا پسند حکومت کے بھارت اور مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر جارحیت اور قتل عام کے خلاف آواز بلند کرنے پر ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور ترک صدر رجب طیب اردگان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے افسوس ظاہر کیا ہے کہ مسلم دنیا سے صرف چند آوازیں ہی بلند ہورہی ہیں جبکہ باقی آوازیں مغرب سے اٹھ رہی ہیں ۔

کسانوں کے لئے خوشخبری

متعلقہ خبریں

سعودی حکومت نے شہزادہ ولید بن طلال کی رہائی کیلئے 6 ارب…

کیا روز سحری میں انڈا کھانا چاہیے؟

کسی بھی ملک کی ترقی میں وہاں کی زراعت ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، چونکہ ہمارا ملک بھی زرعی ملک ہے اور اللہ رب العزت کے کرم سے ہ میں چاروں موسم رب کریم کی جانب سے تحفے میں عنایت ہوئے ہیں ۔ ان سے فائدہ اٹھانے کا انحصار ہم پر ہے، زراعت کو بہتر کرنے کے لئے کسان کو سہولیات فراہم کرنا انتہائی ضروری ہے ۔ جب انہیں فصل کا بیج اور کھاد وغیرہ سستی فراہم ہوں گی تو پھر یقینی طور پر فصل بھی بہتر ہو گی ۔ اسی سلسلے میں حکومت نے ایک قابل تحسین قدم اٹھایا ہے جس کے تحت 50کلو گرام یوریا بیگ کی قیمت میں 375روپے کی کمی کی گئی ہے جس کا مقصد حکومت کے وژن کے مطابق کسانوں کو ریلیف فراہم کرنا ہے ۔ یوریا کے 50کلو گرام بیگ کی نئی قیمت 1665 روپے مقرر کی گئی ہے ۔ حکومت کسانوں کو درپیش مسائل سے بخوبی ;200;گاہ ہے اور ا ن کے حل کے لیے اقدامات کررہی ہے ۔

شہر قائد میں المیہ، حکومت کےلئے الارم

شہر قائد میں عمارت گرنے سے جو سانحہ پیش ;200;یا وہ حکومت کے لئے ایک الارم کی حیثیت رکھتا ہے، صرف یہ مسئلہ کراچی ہی میں درپیش نہیں ملک بھر میں مخدوش عمارتیں موجود ہیں جس میں ہزاروں لوگ رہائش پذیر ہیں اور اس طرح کے سانحات ;200;ئے دن پیش ;200;تے رہتے ہیں ۔ کراچی میں 300سے لے کر 400تک ایسی عمارتیں ہیں جن کو خطرناک قرار دیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود اس میں لوگ رہ رہے ہیں ، ان کو متبادل جگہ فراہم کرنا ممکنہ، ناخوشگوار سانحات سے بچنے کےلئے تمام تر بندوبست کرنا حکومتی اولین ذمہ داریوں میں شامل ہوتا ہے تاکہ ;200;ئندہ کوئی ایسا وقوعہ درپیش نہ ;200;سکے لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ اس حوالے سے باقاعدہ لاءحہ عمل طے کر کے اسے جلد ازجلد عملی جامہ پہنائے ۔