کالم

الیکشنز سال! بجلی اور گیس قیمتیں

آخر کار نئے سال 2024 کا آغاز ہو گیا پوری دنیا میں نئے سال کا استقبال آتش بازی سے کیا گیا۔ فرانس جرمنی آسٹریلیا ناروے ڈنمارک سویڈن اور برطانیہ میں نئے سال کی آمد پر بھر پور طریقے سے جشن منایا گیا۔ پاکستان نے فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئے سال کی تقریبات بڑی سادگی سے منعقد کیں۔ گزشتہ تین ماہ سے غزہ میں اسرائیلی بربریت اس شدت سے جاری ہیے کہ عیسائیوں کے مزہبی پیشوا پوپ فرانسس نے اسرائیل کو دہشت گرد ملک قرار دیے دیا۔ دنیا بھر میں اسرائیل کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ اس میں شدت آتی جا رہی ہے لیکن نیتن یاہو اگلے کئی ماہ تک غزہ میں جنگ جاری رکھنے کی نوید سنا رہیے ہیں۔ ہماری اللہ تعالی سے دعا ہیے کہ جس طرح ابرا کے ہاتھیوں کو ابابیلوں کے پتھروں سے نیست و نابود کیا تھا اسی طرح اسرائیل کو تباہ و برباد کر دے اور مسلم امہ کو سعودی شاہ فیصل جیسی ہمت دے تا کہ وہ فلسطینیوں کی حمایت میں جہاد کا اعلان کر سکیں۔ فروری کے الیکشن کے نتیجے میں ایسی حکومت برسر اقتدار آئے کہ وہ ملک کو آئی ایم ایف کے چنگل سے نجات دلائے ملک کی خوشحالی مہنگائی اور بے روزگاری کے خاتمے کےلئے اقدامات اٹھائے تاکہ ملک میں بسنے والے غریب عوام سکھ کا سانس لے سکیں۔ اس وقت ملک کو جاگیر داروں سرمایہ داروں بڑے بزنس گرپوں اراکین اسمبلی اور بیوروکریسی نے ہائی جیک کیا ہوا ہے یہ طبقہ ملک کے 80 فیصد مالی وسائل پر قابض ہے۔ عام آدمی کو زندگی کی بنیادی سہولتیں میسر نہیں جو مغربی ممالک کے شہریوں کو حاصل ہیں۔ اب اایف بی آر نے ریٹیلرز پر ٹیکس لگانے کا پروگرام بنایا ہیے جس سے مہنگائی کا ایک اور طوفان آئے گا جو عام آدمی کے لئے ناقابل برداشت ہو گا۔ اب تو کی پڑھی لکھی کلاس بھی بہتر مستقبل کی تلاش میں ملک سے بھاگ رہی ہیے اور برین ڈرین ہو رہاہے۔ پاکستانی شہری اپنے اثاثے بیچ کر کشتیوں کے زریعے یونان جاتے ہوئے سمندر کا رزق بن رہے ہیں۔ الیکشن کے نتیجے میں منتخب ہونے والے قومی اور صوبائی اسمبلی کے ممبران کو حقیقت میں اپنے عوام کے بارے میں سوچنا ہو گا ورنہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جائے گا۔ اور ایک وقت ایسا آئے گا کہ بھوک اور غربت کے ہاتھوں تنگ عوام فیوڈل لارڈز اور بالا طبقات کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے انقلاب فرانس کی مثال ہمارے سامنے ہے۔قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کے موقع پر ملک بھر میں سیاسی رہنما بڑے متحرک نظر آئیے وہ اپنے ورکرز کے ہمراہ کاغزات نامزدگی جمع کروا رہے تھے۔ پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی فروری میں ہونے والے انتخابات میں لیول پلئینگ فیلڈ کا مطالبہ کر رہی ہے۔ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی سے بلے کا نشان واپس لے لیا اس فیصلے پر سیاسی رہنماﺅں کی جانب سے تنقید کا سلسلہ ابھی جاری تھا کہ بلے کے نشان کی واپسی کے لئے پی ٹی نے کورٹ سے رجوع کر لیا عدالت نے پی ٹی آئی کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ الیکشن کمیشن نے عدالتی نظر ثانی کے لئے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا عدالت نے بلے کے نشان کی بحالی کا فیصلہ واپس لے لیا۔ پی ٹی آئی کے نئے سربراہ گوہر خان نے کہا کہ بلے کا نشان نہ ملنے کی صورت میں بھی وہ انتخابات میں حصہ لیں گے الیکشنز کا بائیکاٹ نہیں کریں گے۔انتخابات کی تیاریاں جاری ہیں ایک دوسرے کے ممبران توڑے جا رہے ہیں۔ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی باتیں ہو رہی ہیں اس وقت پیپلز پارٹی اور ن لیگ اصل حریف نظر آ رہے ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی نے بینظیر بھٹو کی برسی پر گڑھی خدا بخش میں بڑا جلسہ کیا بلاول بھٹو نے عوام سے دس وعدے کیے۔ مہنگائی کے خاتمے کے لئے سرکاری ملازمین کی تنخواہ ڈبل کرنا تین سو یونٹس فری بجلی صحت کی سہولتوں کے لئے ملک بھرمیں ہسپتالوں کا جال بچھانا بجلی کی فراہمی کے لئے ہرضلع میں بینظیر بھٹو کارڈ کا اجرا ملک بھر میں تعلیم مفت۔ مولانا فضل الرحمن نے سرد موسم کا سہار لے کر انتخابات کچھ روز آگے کرنے کی تجویز دی ہے اس پر سیاسی جماعتوں کا ملا جلا رد عمل آیا ہے شمالی علاقہ جات میں موسم واقعی بہت سرد ہے اورفروری میں اس کی شدت میں اضافہ ہو جائے گا جس سےانتخابات میں ٹرن اوور کم ہو گا۔ ملک میں افغانستان کی طرف سے دہشت گردی بھی جاری ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ اس میں اضافہ ہو رہا ہیے۔ بڑی مشکل سے سپریم کورٹ کی مداخلت سے انتخاپات کی تاریخ طے ہوئی ہے تحریک انصاف نے بھی ا نتخابات کی تاریخ حاصل کرنے کے لئے بڑے پاپڑ بیلے ہیں مسلم لیگ ن پی پی اور پی ٹی آئی بڑے بھرپور طریقے سے انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے لاہور میں انتخابی جلسے سے خطاب کیا انہوں نے بڑے بھرپور انداز میں مخالفین پر مسلم لیگ ن پر تنقید کی۔ آصف زرداری نے بڑے یقین سے کہتے ہیں کہ اگلی حکومت پی پی پی کی ہو گی۔ ایم کیو ایم نے بھی اپنے انتخابی منشور کا اعلان کر دیا ہے وہ وڈیروں پر ٹیکس لگانے ک بات کر رہے ہیں۔ بلوچستان کے مسنگ پرسنز کے رہنماوں نےاسلام آباد پریس کلب کے سامنے گزشتہ چودہ روز سے دھرنا دے رکھا ہے۔ چیف جسٹس نے حکم دیا کہ انہیں زبردستی نہ اٹھایا جائے۔ تاحیات نا اہلی کی سزا کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے خلاف اسلام قرار دیا ہے جب پارلیمنٹ نے مدت مقرر نہیں کی تو تا حیات نااہلی کیسی۔ ادھر حکومت نے بجلی کے بلوں میں چار روپے فی یونٹ اضافہ کر دیا ہے اور گیس کی قیمت مبینہ طور پردو سو فیصد بڑھا دی ہیے جس سے غریب عوام بلبلا اٹھے ہیں وہ پہلے ہی بجلی اور کیس کے بھاری بل بڑی مشکل سے ادا کر رہے ہیں حالیہ اضافہ ان کے لیے ناقابل برداشت ہیے۔ گیس کا بل زیرو آنے کی صورت میں بھی چار سو روپے ضرور ادا کرنا پڑیں گے جو کہ صارفین کے ساتھ بہت بڑا ظلم ہے ۔ ہم وزیراعظم سے درخواست کریں گے کہ صرف آئی ایم ایف کی شرائط کو ہی نہ دیکھیں غریب عوام کی جیب کا خیال رکھتے ہوئے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ واپس لیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

güvenilir kumar siteleri