Home » کالم » امریکہ سوچنے پر مجبور!

امریکہ سوچنے پر مجبور!

بھارتی سرکار نے انتخابات جیتنے کیلئے جو پلوامہ سے لے کر اب تک ڈرامے کئے اور ان کاذمہ دار پاکستان کو ٹھہرایا، پوری دنیا کے سامنے ان کی قلعی کھل گئی ہے۔ اور یہ سب کچھ پاکستان کی شرافت، امن پسندی، بہترین خارجہ پالیسی و سفارت کاری اور اپنے دفاع کیلئے مر مٹنے کی وجہ سے ہوا کہ آج دنیا میں پاکستان کی عزت ہے اس کی بات میں وزن ہے جو ہر جگہ ہر فورم پر سنی جا رہی ہے۔ بھارتی سرکار نے اپنے انتخابی مقاصدکیلئے اپنی فوج اور میڈیا کو استعمال کر کے منہ کی کھائی۔ اپنے ہی عوام میں فوج کا مورال تباہ کیا۔ دو جہاز بھی ختم کروائے اور میڈیا کو جس طرح خرید ا گیا اس کی مثال نہیں ملتی۔ اب کون بھارتی میڈیا پر بھروسہ کرے گا۔ ایسا کونسا محاذ ہے جہاں مودی سرکار نے ذرا سی بھی عزت کمائی ہو۔ اپنے ہی عوام اپنی ہی فوج کے خلاف بول رہے ہیں۔ بھارتی افواج کی جو تھوڑی بہت عزت عوام کے دل میں تھی وہ بھی گئی۔ اب کون اعتبار کر ے گا کہ بھارتی فوج ملک کا دفاع کر سکتی ہے۔ بھارتی دفاع کا اب تو یہ حال ہو گیا ہے کہ شاید نیپال اور بھوٹان کے دل میں بھی بھارت پر قبضہ کرنے کا خیال آجائے۔بھارتی فوج میں کرپشن اور دیگر معاملات جو پہلے ڈھکے چھپے تھے، پاکستان کے ساتھ جھڑپ کے بعد سامنے آنا شروع ہو گئے۔پلوامہ سے لے کر آبدوز کے پکڑے جانے تک کے بھارتی افواج کی ناقص کارکردگی پر دنیا بھر میں بھی انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔ ابھی چند روز پہلے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے ایک خبر اس شہ سرخی کے ساتھ لگائی کہ بھارتی فوج فارغ ہے۔ امریکی اخبار کی خبر کے مطابق بھارتی فوج نے بہت عرصے بعد دو بدو مقابلے میں اس ملک کی فوج سے شکست کھائی ہے جو تعداد میں اس سے آدھی ہے اور اس کا بجٹ بھی بھارتی فوج کے بجٹ سے چوتھائی کم ہے۔ بری ، فضائی اور بحری تینوں شعبوں میں پاک فوج کے ہاتھوں بدترین شکست سے دنیا بھر میں بھارتی فوج کا امیج تباہ ہوا ہے۔ فضائیہ اور بری افواج میں کوئی تال میل دیکھنے میں نہیں آیا۔ اسی طرح بحریہ اور دیگر افواج میں عدم تعاون عروج پر ہے۔ اس نظر سے دیکھا جائے تو بھارتی فوج انتہائی غیر منظم ہے۔ بھارت کے لئے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ ایسی فوج جس کو امریکی امداد حاصل تھی ، اس مختصر معرکے میں جو اس کیلئے ایک امتحان کی حیثیت رکھتا تھا، شکست کھا گئی جس پر دنیا بھر کے مبصرین حیران و پریشان ہیں۔ جدید ساز وسامان سے لیس اس فوج کی یہ کارکردگی ہے۔ نیویارک ٹائمز نے تو یہاں تک اعداد و شمار کا حساب کتاب لگا لیا کہ اگر کل کو پاکستان و بھارت کے درمیان حقیقی جنگ چھڑ گئی تو بھارت اپنے فوجیوں کو صرف 10 دن تک اسلحہ و گولہ بارود فراہم کر سکتا ہے۔ بھارتی فوج کے پاس 68 فیصد ہتھیار پرانے ہیں۔ اور تو اور فضائیہ کے پاس پرانے ناکارہ لڑاکا جہاز ہیں جن کی کارکردگی ہم دیکھ ہی چکے ہیں۔ مودی حکومت اپنے شاہی اخراجات کو پورا کرنے کیلئے اپنی فوج کا حجم کم کرنا چاہتی ہے۔ چونکہ بھارت میں فوج کا محکمہ عوام کو نوکریاں دینے کا ایک بڑا ذریعہ ہے لہذا سیاسی نقصان سے بچنے کیلئے حکومت ایسا نہیں کر سکتی۔بھارت ہر سال اربوں ڈالر نئے اور جدید اسلحہ خریدنے پر خرچ کرتا ہے لیکن اس جنگ میں تو وہ نظر نہیں آیا۔ دراصل دفاعی سودوں میں کرپشن کی وجہ سے بھارتی افواج کے آلات ناقص اور پرانے ہیں۔ ابھی کل ہی مودی رافیل طیاروں کے نہ ہونے کی وجہ سے فضائی شکست کا رونا رو رہے تھے مگر وہ یہ بھول گئے کہ انہی طیاروں کی خریداری کے سلسلے میں ان پر کمیشن لینے کے سنگین الزامات بھی لگ چکے ہیں۔ گزشتہ چند سالوں میں ہی بھارت کو امریکی اسلحہ کی فروخت پندرہ ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے مگر کرپشن اور کمیشن نے ہر جگہ کام خراب کیا۔ پھر دوسری بات بھارتی فوج کی ناقص تربیت بھی ہے۔ ماہراساتذہ کی غیر موجودگی میں بھارتی فوج کیسے ہیرو بن سکتی ہے۔ جدید اسلحہ خریدنے سے کام نہیں چلتا اس کو چلانا سیکھنا بھی ہوتا ہے بھارت کے پاس جدید اسلحہ کے بارے میں تربیت دینے والے استاد ہی نہیں۔ بھارتی افواج کی انہی کمزوریوں کو دیکھتے ہوئے امریکی حکام جو ہمیشہ سے بھارت کی پشت پر رہے ہیں ، اب تشویش کا شکار ہیں۔ بھارتی طیارے گرانے کیلئے پاکستان نے امریکی ایف سولہ نہیں بلکہ اپنے ہاں بنے ہوئے جے ایف 17 تھنڈر جنگی طیارے استعمال کئے۔ جس نے اس مختصر سے معرکے میں اپنی اہمیت اور افادیت کے جھنڈے گاڑ دیئے۔ لہذا امریکی اب سوچنے لگے ہیں کہ کیا وہ اس فوج کی پشت پناہی کر رہے تھے جو تینوں میدانوں میں اپنے سے چھوٹے ملک سے ہار گئی ہے۔ بھارت کو چین کے مقابلے پر تیار کرنے والے امریکہ کیلئے یہ غیرمعمولی لمحہ ہے۔امریکہ تو اب تک چین کی راہ روکنے کیلئے جدید اور طاقتور اسلحہ سے لیس انتہائی منظم اور ماہر تربیت یافتہ بھارتی فوج پر انحصار کیے بیٹھا تھا۔ ان سب ترجیحات کا جائزہ لینے کے بعد امریکہ اس نتیجہ پر پہنچا کہ ہر معاملہ میں بھارت کی پیٹھ ٹھونکنے کی بجائے پہلے معاملہ میں بھارتی و دیگر مؤقف دیکھا جائے ۔ باریک بینی سے جائزہ لے کر ہی کوئی قدم اٹھایا جائے۔ اسی لئے امریکہ نے بھارت کے سر سے اپنا شفقت بھرا ہاتھ اٹھانے کا سوچا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کے لیے ترجیحی تجارتی درجے کو ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے بھارت سے جنریلائزڈ سسٹم آف پریفرنسز (جی ایس پی) واپس لینے کے ارادے کا اظہار کیا ہے۔ امریکی صدر نے الزام لگایا کہ بھارتی حکومت نے اس بات کی یقین دہانی نہیں کروائی کہ وہ امریکا کو بھارت کی منڈیوں میں برابر اور معقول رسائی فراہم کرے گا۔جنریلائزڈ سسٹم آف پریفرنسز ترقی پذیر ممالک کو امریکی منڈیوں تک آسان رسائی فراہم کرتا ہے اور بھارت 2017 میں اس پروگرام کا سب سے بڑا بینیفشری تھا۔ جی ایس پی کے تحت بھارت 5 ارب 60 کروڑ ڈالر مالیت کا سامان برآمد کرتا ہے اور اس پر سالانہ صرف 19 کروڑ ڈالر کا ڈیوٹی کا فائدہ ہوتا ہے۔اس فیصلے کے بعد بھارت کو امریکا کی جانب سے ملنے والا تجارتی فائدہ ختم ہوجائے گا جب کہ بھارت 5.6 بلین ڈالرکی برآمدات سے محروم ہو جائے گا۔ بھارت دنیا بھر میں فوج پر سب سے زیادہ خرچ کرنے والے ممالک میں اس وقت پانچویں نمبر پر ہے ۔ اس کے باوجود رواں سال اس کے فوجی بجٹ کا صرف ایک چوتھائی حصہ نئے اسلحے اور جنگی آلات کی خریداری پر خرچ ہوگا۔ اسلحے کی خریداری کا یہ عمل بھارت میں بہت سست رفتاری سے ہوتا ہے ۔ یہ بات بھی اکثر کہی جاتی ہے کہ دفاعی سامان کی خریداری میں کرپشن بہت ہوتی ہے۔ مودی نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ اگر بھارتی فضائیہ کے پاس رافیل جنگی طیارے ہوتے تو پاکستان کے ساتھ کشیدگی کے دوران بھارتی فضائیہ کی کارکردگی بہت مختلف ہوتی۔لیکن یہ بھی ذہن میں رہے کہ آج کل اپوزیشن کی جانب سے وزیر اعظم مودی پر رافیل طیاروں کی خریداری میں بڑے پیمانے پر کرپشن کا الزام عائد کیا جارہا ہے اسی لئے ان کی خریداری میں دیر ہو رہی ہے۔

About Admin

Google Analytics Alternative