Home » کالم » امریکہ کے کامیاب دورے کے بعد وزیراعظم کی وطن واپسی،احتساب کا واضح پیغام
adaria

امریکہ کے کامیاب دورے کے بعد وزیراعظم کی وطن واپسی،احتساب کا واضح پیغام

وزیراعظم عمران خان نے وطن واپس آتے ہی واضح طورپر کہہ دیا ہے کہ وہ چوروں اور لٹیروں کو کسی صورت معاف نہیں کریں گے اور جب تک ان سے لوٹا ہوا پیسہ واپس نہیں لیا جائے گا اس وقت تک معاشی استحکام آنا مشکل ہے ۔ بیرونی دنیا سے بھی ہم نے بات کی ہے کہ وہ پیسہ جو پاکستان کے لٹیرے حکمرانوں نے وہاں جمع کررکھا ہے اسے پاکستان واپس لانے میں مدد کریں تاکہ وہ ملک و قوم کی ترقی پر خرچ ہوسکے ۔ پاکستان کو ایک شاندار اور عظیم ملک بنائیں گے، قائد اعظم کے خواب والا پاکستان بناناہے ، قائد اعظم اور اقبال کے خواب کو پورا کرنا ہے ، ہم خود دار قوم بنیں گے ، پاکستان میں اصلاحات کرنی ہیں ، اداروں کو ٹھیک کرنا ، چوروں ، داکوءوں نے اس ملک کو مقروض کردیا، جب تک ان کا احتساب نہیں ہو گا یہ ملک ترقی نہیں کرسکتا، میں امریکہ میں بھی کہا کہ ان چوروں لیٹروں کی جو دولت بیرون ممالک میں پڑی ہے اسے وطن واپسی کیلئے ہماری مد دکی جائے تاکہ وہ پیسہ اپنی قوم پر لگا سکیں ، وہ امریکہ کے کامیاب دورے سے واپسی پر پارٹی ورکروں سے خطاب کررہے تھے، انہوں نے کہا میں کبھی بھی قوم کو مایوس نہیں کروں گا، وہ دن جلد آئے گا جب ہرے پاسپورٹ کی دنیا بھر میں عزت ہو گی اللہ نے ہ میں 27رمضان المبارک یہ ملک دیا تھا، یہ اللہ کا خاص ملک، آپ اس ملک کے شہری ہو جو اسلام کے نام پر بنا تھا، ہم نے ایک عظیم قوم بننا ہے ہم نے وہ قوم بننا ہے جو علامہ اقبال ;231;کی فکر اور قائد اعظم;231; کا خواب تھا، میں نہ کبھی کسی کے سامنے جھکا ہوں ، نہ اپنی قوم کو جھکنے دینے ہے، ہم نے خود دار قوم بننا ہے ، میری ساری جدوجہد ہے کہ میں مدینہ کی ریاست کی طرز پر ریاست بناءوں ، انشاء اللہ آنے والے دنوں میں مشکل حالات سے نکل کر اصلاحات کرنی ہے ادارے ٹھیک کرنے ہیں ، اسی ملک سے پیسہ اکھٹا کرنا ہے ، پیسہ اکھٹا کر کے ہسپتال بنائیں گے نوجوانوں کو روز گار دیں گے ، دنیا صرف اس کی عزت کرتی ہے جو اپنی عزت کرتاہے ، کبھی دنیا ان کی عزت نہیں کرتی جو دنیاکے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہیں ، آپ سے وعدہ کرتا ہوں میں آپ کو کبھی مایوس نہیں کروں گا، ایک سال ہ میں لگا ہے ملک سنبھالنے میں ، سابق حکمرانوں نے ملک کا پیسہ باہر منتقل کیا،ملک لوٹنے والوں کا احتساب کرنے تک ملک آگے نہیں بڑھ سکتا ، میں امریکہ میں بھی کہا کہ امریکہ اور مغربی ممالک ہماری مدد کریں تاکہ ہم لوٹا ہوا پیسہ واپس لائیں اور ملک کی ترقی کیلئے خرچ کریں ، اللہ نے اس ملک میں ہر قسم کی نعمت دی ہے ، ہم اتنے خوش قسمت ہیں ، قبل ازیں واشنگٹن میں تحریک انصاف کے رہنماءوں سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ قومی وقار اور غیرت پر سمھجوتہ نہ کیا جائے، عزت نفس بڑی چیز ہے، مدینہ کی ریاست کے سنہری اصولوں پر عمل پیرا ہو کر کامیابی حاصل کر سکتے ہیں ، اوورسیز پاکستانیوں کو زندگی میں بہت محنت کرنا پڑتی ہے، اوورسیز پاکستانی ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں ۔ میں اوورسیز پاکستانیوں کی سب سے زیادہ عزت کرتا ہوں ان کو زندگی میں بہت محنت کرنا پڑتی ہے ۔ اوورسیز پاکستانی ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں ، بیرون ملک مقیم پاکستانی محنت سے دنیا میں پاکستان کا نام روشن کرتے ہیں ۔ حکمرانوں کو بیرون ملک مقیم پاکستانی برادری سے اردو میں بات کرنی چاہئے ۔ قومی وقار اور غیرت پر سمھجوتہ نہ کیا جائے، عزت نفس بڑی چیز ہے، مدینہ کی ریاست کے سنہری اصولوں پر عمل پیرا ہو کر کامیابی حاصل کر سکتے ہیں ، سچ بڑی طاقت ہے، اللہ سچ بولنے والوں کو کامیابی عطا کرتا ہے، ایمانداری اور سچائی کی ہمیشہ دنیا میں عزت ہوتی ہے ۔ میری خواہش ہے کہ سچ اور بہادری پاکستانیوں کی دنیا میں پہچان ہو ۔ پاکستانی قوم ایک بہادر اور باصلاحیت قوم ہے، صدر ٹرمپ نے بھی پاکستانیوں کی ذہانت اورصلاحیتوں کا اعتراف کیا ہے ۔

چیئرمین سینیٹ کا معاملہ، حکومت ،اپوزیشن متحرک

چیئرمین سینیٹ کے حوالے سے اپوزیشن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد کے سلسلے میں حکومت خاصی متحرک نظر آرہی ہے ، فضل الرحمن اور بلاول بھٹو سے روابط جاری ہیں مگر کسی جانب سے بھی حوصلہ افزاء جواب نہیں ملا جبکہ حکومت اس بات پر بھی تیار ہے اگر اپوزیشن نہیں مانتی اور اگر چاہتی ہے تو دوبارہ الیکشن کیلئے بھی تیار ہیں ۔ قائد ایوان سینیٹ شبلی فراز نے فضل الرحمن سے ملاقات کی لیکن چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کیخلاف تحریک عدم اعتماد روکنے کے سلسلے میں حکومتی وفد مولانا فضل الرحمن کو منانے میں ناکام ہوگیا ۔ تحریک واپس لینے کے مطالبے پرمولانا فضل الرحمن نے وفدکو دو ٹوک جواب دیا کہ بہت آگے جاچکے ہیں اب واپسی نہیں ہوسکتی،عدم اعتماد کی تحریک کا فیصلہ اپوزیشن نے متفقہ طور پر کیا، کیسے ممکن ہے اس مرحلے پر واپس لے لیں ، وزیراعلی بلوچستان جام کمال اور شبلی فراز نے کہا ہے کہ سینیٹ کے وقار کو بچایا جائے، اپوزیشن سے بات کریں ، امید ہے آپ مثبت کردار ادا کرینگے ۔ دوسری جانب شیری رحمن نے کہا کہ سینیٹ چیئرمین تبدیل ہوں گے، حکومت جو چاہے کر لے نہیں روک سکتی ۔ اسلام آباد میں وزیراعلی بلوچستان جام کمال نے جے یو آئی (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی،اس موقع پرسینیٹ میں قائد ایوان شبلی فراز،ایوب آفریدی،مرزا خان آفریدی اور بلوچستان کے سینیٹرزبھی موجود تھے ۔ ملاقات میں چیئرمین سینیٹ کیخلاف تحریک عدم اعتماد اور دیگر سیاسی امور پر بات چیت ہوئی ۔ ملاقات کے بعد شبلی فراز نے کہا کہ سینیٹ کو ہمیشہ سے مقدس پلیٹ فارم سمجھا جاتا ہے، کوشش کریں گے سینیٹ کا وقار متاثر نہ ہو، ہم نے اپنے خیالات مولانا فضل الرحمن کے سامنے پیش کئے، مولانا فضل الرحمن نے شفقت سے ہماری بات سنی،فضل الرحمن اگر ہماری طرف سے اپوزیشن سے بات کرتے ہیں تو اعتراض نہیں ۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال نے کہا کہ سینیٹ کی ڈیڑھ سالہ مدت گزر چکی ہے، ڈیڑھ سال رہ گیا، ایسا قدم اٹھانا چاہیے جس سے بہتری کی طرف جائیں ۔ چیئرمین سینیٹ کے معاملے پر مولانا سے ملاقات کی،مولانا فضل الرحمان کے سامنے اپنی درخواست رکھی ہے، اپوزیشن کے اقدام سے شاید اچھے نتاءج نہ نکلیں ، صادق سنجرانی کا تعلق ہماری جماعت سے ہے،ہم انفرادی حوالے سے اس معاملے کو نہیں دیکھ رہے،یقینی طور پر یہ صرف مولانا فضل الرحمن کا فیصلہ نہیں ہے،رہبر کمیٹی کے ممبران یقینی طور پر اپنا کردار ادا کرینگے ۔

سیف اللہ نیازی کی ’’سچی بات‘‘ میں ایس کے نیازی سے گفتگو

نیازی صاحب آپ نے جو ملکی حالات کی بات کی اس میں مشکلات آرہی ہیں ،30سال سے جو کرپشن ہوتی رہی ہے،حالات کی خرابی کا باعث بنی،کرپشن کی وجہ سے اس ملک میں جو کچھ ہوتا رہاہے اسے ٹھیک کرنے ٹائم لگے گا،اس مشکلات سے انشا اللہ ہم گزرجائیں گے اور ایک سنہری وقت آئے گا،بہت سے ممالک کو ہماری ضرورت ہے ،ہم اس ریجن کا حب بنیں گے،عمران خان صاحب نے مجھے اس سال13 مارچ کو چیف آرگنائزر کے عہدے پرلگایا،عمران خان یہ محسوس کررہے تھے کہ پارٹی درست طریقے سے آرگنائز نہیں ہورہی ،جب میں نے عہدہ سنبھالا تو کافی زیادہ ایشوز تھے ، میں روز لوگوں سے مشاورت کرتا تھا،ہم کوشش کررہے ہیں کہ جو تنظیم بن رہی ہے اس میں مختلف لوگوں سے مشاورت کریں ،سیف اللہ نیازی(چیف آرگنائزر پی ٹی آئی) نے پروگرام ’’سچی بات‘‘ میں ایس کے نیازی کیساتھ میں گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ جو تنظی میں ہم بنا رہے ہیں تمام لوگوں کو کہا کہ مشاورت کا عمل رکھنا ہے،ہرلیول پرمشاورت ہونی چاہیے،یہاں پرکسی فرد واحد کے فیصلے نہیں ہونگے،جس بھی مسئلے پر مشاورت کرنی ہوئی اکثریت کی رائے مانی جائے گی ۔

About Admin

Google Analytics Alternative