Home » کالم » سی پیک ثمرات اور عالمی سیاحت !
asgher ali shad

سی پیک ثمرات اور عالمی سیاحت !

asgher ali shad

پاکستان کی معیشت کو ماضی قریب میں گرچہ کافی دھچکے پہنچے ہیں، مگر اس کے باوجود یہ امر باعث اطمینان ہونا چاہیے کہ مجموعیطور پر وطن عزیز میں مثبت پیش رفت کا آغاز ہو چکا ہے جس کے ثمرات ہر سطح پر محسوس کئے جا سکتے ہیں۔ غیر جانبدار سنجیدہ حلقوں کے مطابق اگرچہ اس ضمن میں بہت کچھ کرنا ابھی باقی ہے مگر یہ کہنے میں غالباً کوئی عار نہیں کہ صورتحال قدرے خوش آئند ہے۔ اسی ضمن میں یہ بات توجہ کی حامل ہے کہ ایک جانب سیاحت کے شعبے میں ملک میں نمایاں ترقی کا آغاز ہو چکا ہے جس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ پچھلے کچھ مہینوں میں چین سے پاکستان آنے والے سیاحوں کی تعداد خاصی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ سی پیک کی بدولت بنیادی ڈھانچے میں قابل لحاظ حد تک بہتری آئی ہے ، یہ بات بھی کسی تعارف کی محتاج نہیں کہ عالمی اور علاقائی سطح پر سیاحت تب ہی فروغ پاتی ہے کہ جب سفر کرنے والوں کو سہولتیں میسر ہوں ،اس ضمن میں سی پیک نے گذشتہ کچھ عرصے سے جو کردار ادا کیا ہے اس کے نتیجے میں سیر و سیاحت کا شعبہ خاصی تیزی سے بہتری کی جانب راغب ہے۔ نہ صرف چین سے پاکستان آنے والے سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ موجودہ حکومت کی چونکہ ترجیحات میں بھی سیاحت سر فہرست ہے، اسی لئے دو ہفتے قبل قریباً 57 ممالک نے اپنی ویزہ پالیسی میں پاکستان کے لئے خصوصی طور پر نرمی پیدا کی ہے اور اس ضمن میں مزید مثبت رفت کی توقع کی جا رہی ہے۔ اسی تناظر میں صورتحال کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ درج ذیل باتوں پر توجہ دی جانی چاہیے۔ مثال کے طور پر گذشتہ 15 سے 20 برس کے دوران تھائی لینڈ، لاؤس، ویت نام، بنگلہ دیش، میانمر ، کمبوڈیا، فلپائن ،سنگاپور ،ملائشیا اور انڈو نیشیا میں جو قابل رشک حد تک معاشی ترقی ہوئی ہے اس میں سیاحت کے شعبے نے ہراول دستے کا کردار ادا کیا ہے، اس کے علاوہ بھی دنیا بھر میں سیر و سیاحت کے رجحانات تقویت پا رہے ہیں اور مجموعی طور پر دنیا میں ٹورازم ان چند شعبوں میں سر فہرست ہے جو سب سے زیادہ تیزی سے پھل پھول رہے ہیں۔ ایسے میں اس امر کو خوش آئند قرار دیا جانا چاہیے اور امید کی جانی چاہیے کہ وطن عزیز میں اس ضمن میں مزید پیش رفت ہو گی۔ یہاں یہ امر توجہ کا حامل ہے کہ اس حوالے سے بیرون ملک پاکستانی سفارت خانوں کو خصوصی کردار ادا کرنا ہو گا اور ٹورازم کو بھرپور معاونت فراہم کرنی ہو ہو گی۔ اس ضمن میں یہ امر خاص طور پر توجہ طلب ہے کہ مالدیپ جیسے ساڑھے 4 لاکھ سے کم آبادی پر مشتمل چھوٹے سے ملک میں بھی ہوٹل اور سیاحت کے مراکز ہی ملک کو زر مبادلہ فراہم کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔ ایسے میں پاکستان جہاں دنیا بھر کے بلند ترین پہاڑی سلسلوں سے لے کر صحرا تک سبھی کچھ موجود ہے وہاں اگر توجہ دی جائے تو ہوٹلنگ کے شعبے میں خاطر خواہ مراعات اور سہولیات میسر کرا کر غالباً پاکستان کی تقدیر بدلی جا سکتی ہے۔ اس بابت البتہ یہ امر ملحوظ خاطر رہنا چاہیے کہ اس بابت آگے بڑھتے ہوئے معاشرتی اور ملکی ماحول میں توازن برقرار رکھنا خاصا ضروری ہے، بہرحال یہ بات خاصی حوصلہ افزا ہے کہ وزیراعظم اس ضمن میں خصوصی توجہ دے رہے ہیں اور کافی جانفشانی سے کام کر رہے ہیں۔ دوسری جانب یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ بھارتی حکمران پاکستان کے حوالے سے جس طرح توسیع پسندانہ عزائم رکھتے ہیں، انہی کے تناظر میں پاکستان کے خلاف طرح طرح کے بے بنیاد الزامات گھڑتے رہتے ہیں۔ اور بہت سی دیگر قوتوں کی آنکھوں میں بھی پاک چین دوستی کھٹکتی آ رہی ہے تبھی تو وہ اس حوالے سے سی پیک اور پاک چین تعاون کی راہ میں ہر ممکن رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں اور یہ سلسلہ ان دنوں پر پوری شدت سے جاری و ساری ہے، حالانکہ کسے معلوم نہیں کہ چین اور پاکستان کے مابین یہ تعلقات ایک مثالی نوعیت رکھتے ہیں اور ہر آنے والے دن کے ساتھ ان میں پختگی آتی رہی ہے۔ ایسے میں یہ توقع کی جانی چاہیے کہ مستقبل میں بھی پاک چین دوستی مزید گہری ہو گی اور مخالفین کی تمام سازشیں ناکامی سے دوچار ہوں گی۔

***

About Admin

Google Analytics Alternative