Site icon Daily Pakistan

امن کا گاؤں ۔۔۔!

عصر حاضر میں دنیا کو گلوبل ویلج کہا جاتا ہے، ذرائع آمد و رفت نے واقعی فاصلے سمیٹ کر انسانوں کو ایک مشترکہ بستی میں بدل دیا ہے مگر یہ کیسی بستی ہے جس میں لڑائیاں بھی ہیں، جھگڑے بھی، سازشیں بھی اور طاقت کی کشمکش بھی؟ یہ کیسی دنیا ہے جس میں ترقی تو بہت ہے مگر امن کم اور بے چینی زیادہ ہے؟ یہی تضاد آج کے انسان کو سب سے زیادہ زخمی کرتا ہے۔ وہ ترقی سے متاثر تو ہے مگر بے سکونی سے نالاں بھی ہے۔ اسے سہولتیں مل تو گئی ہیں مگر سکون نہیں ملا۔ وہ ایک عالمی بستی کا رہائشی تو ہے مگر خاندان جیسی خیرسگالی سے محروم ہے۔گاؤں کی فطرت میں اخوت، رواداری اور باہمی تعاون کے عناصر شامل ہوتے ہیں مگر ایک ایسا تکنیکی گاں تو بنا لیا جس میں رابطوں کی رفتار بہت تیز ہے مگر دلوں کا فاصلہ بڑھ گیا ہے۔ دنیا کو ایک اسکرین میں سمیٹ تو لیا مگر انسانیت کو منتشر کر دیا۔ آج گلوبل ویلج میں سب کچھ ہے مگر وہ امن نہیں جو انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ پینڈ کا چودھری گاؤں کا نگہبان ہوتا تھا۔ اس کی ذمہ داری ہوتی تھی کہ جھگڑے ختم کرے، تنازعات سلجھائے، کمزور کا سہارا بنے، طاقتور کو انصاف کے دائرے میں رکھے اور سب باسیوں کے درمیان برابری کا توازن رکھے مگر آج کے عالمی گاں کا چودھری اس روایتی چودھری سے یکسر مختلف ہے۔ وہ ظاہری طور پر تو امن کا داعی بنتا ہے مگر باطن میں چند افراد کی پشت پناہی کرتا ہے، انہیں اسلحہ دیتا ہے، انہیں جھگڑوں کے لیے حوصلہ دیتا ہے اور پھر اسی فساد پر خود کو امن کا علمبردار ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ گاں کا امن ایسے نہیں آتا اور نہ ہی عالمی بستی میں امن یوں قائم ہوسکتا ہے ۔ اصل امن وہ ہے جو انصاف سے پیدا ہو۔ انصاف سب کیلئے ہو، دیہاتی ہو یا شہری، طاقتور ہو یا کمزور، امیر ہو یا غریب اور یہی اصول عالمی بستی میں بھی لاگو ہوتے ہیں۔ جب تک چودھری یعنی عالمی طاقتیں سب کے ساتھ انصاف نہیں کریں گی، تب تک امن کی کوئی امید نہیں۔ اگر وہ واقعی فساد ختم کرنا چاہتے ہیں تو اسلحے کی فراہمی روکیں، گروہی حمایت ختم کریں، علاقوں کی تقسیم کاری چھوڑیں اور انسانیت کو ایک جیسی نظر سے دیکھیں۔ جب تک دنیا کی پالیسیاں طاقت کے توازن پر مبنی رہیں گی، امن محض ایک خواہش رہے گا، حقیقت نہیں بن سکے گا۔آج دنیا میں ترقی بے شمار ہے۔ انسان کہاں سے کہاں تک پہنچ گیا، علم کی نئی دنیا دریافت ہو رہی ہے مگر افسوس کہ ان سب کامیابیوں میں انسان کی روح کہیں گم ہو گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جتنا انسان جدید ہوتا جا رہا ہے، اتنا ہی بے چین بھی ہوتا جا رہا ہے۔ روحانی خلا بڑھ رہا ہے، ذہنی دبا بڑھ رہا ہے، معاشرتی ناہمواری بڑھ رہی ہے اور عدم تحفظ کے احساس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انسان ٹیکنالوجی کے ہاتھی پر بیٹھ کر بھی خوفزدہ ہے کیونکہ اس کے نیچے انسانی رشتے کمزور ہو رہے ہیں۔آج معاشی دہشت گردی دنیا کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔ جنگیں صرف گولہ بارود سے نہیں ہوتیں، کبھی کبھی ایک کرنسی کے گرنے سے بھی لاکھوں لوگ متاثر ہوتے ہیں، کبھی ایک تجارتی پالیسی پوری قوم کو تباہ کر دیتی ہے۔ امن کیلئے ضروری ہے کہ دنیا نقل و حرکت کی آزادی دے۔ جب انسان کام، سفر اور تجارت کرتا ہے تو دلوں کا میل گھلتا ہے۔ معاشی مواقع ملتے ہیں، غربت کم ہوتی ہے اور غربت کم ہونے سے معاشرے میں برداشت بڑھتی ہے۔ غربت اور جہالت دو ایسی آگیں ہیں جو انسان کو غیر محفوظ بنا دیتی ہیں۔ جب انسان کے پاس علم اور روزگار دونوں ہوں تو وہ امن کا علمبردار بنتا ہے۔نئی نسل امن چاہتی ہے۔ وہ جنگ نہیں چاہتی، نفرت نہیں چاہتی، انتہا پسندی نہیں چاہتی مگر بدقسمتی ہے کہ اس نسل کو امن کی تعلیم کم ملتی ہے اور انتشار زیادہ دکھایا جاتا ہے۔ نفرت کے اسباب بتائے جاتے ہیں، رواداری کی بنیادیں نہیں بتائی جاتیں۔ اگر ہم نے نئی نسل کو شروع سے یہ سکھا دیا کہ اختلاف دشمنی نہیں ہوتا اور طاقت اخلاقیات سے اوپر نہیں ہوتی تو آنے والی دنیا یقینا زیادہ پرامن ہوگی۔گلوبل ویلج میں جب امن آئے گا تو اس کے فوائد گاؤں کے ہر فرد تک پہنچیں گے۔ لوگ خوف سے آزاد ہو کر اپنی زندگی گزاریں گے۔ کاروباری سرگرمیاں بڑھیں گی، معاشی بہتری آئے گی، تعلیم اور صحت کے شعبے ترقی کریں گے۔ مثبت سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا اور منفی سرگرمیاں خود بخود ختم ہونے لگیں گی۔ ایک شخص کے امن سے پورا گائوں اور ایک ملک کے امن سے پوری دنیا فائدہ اٹھاتی ہے۔یہ حقیقت ہے کہ دنیا ایک خوبصورت جگہ ہے۔ قدرت نے اسے رنگوں سے سجایا ہے مگر انسان نے اپنی سیاست اور حرص سے اسے دھندلا کر دیا ہے۔ دنیا کی ترقی، خوشحالی اور امن اس وقت تک ممکن نہیں جب تک معاشی، مذہبی اور سیاسی پنڈت اپنا مثبت کردار ادا نہ کریں۔ دنیا کو ضرورت ہے ایسے رہنماں کی جو صرف اپنے ملک کی نہیں بلکہ پوری انسانیت کی بات کریں۔ ایسے فیصلہ سازوں کی جو جنگ نہیں، امن کے قائل ہوں۔ ایسے مذہبی رہنماں کی جو نفرت نہیں، رواداری کی تعلیم دیں۔ ایسے سیاسی قائدین کی جو طاقت نہیں، انصاف کی بنیاد پر فیصلے کریں۔دنیا کو آج ایک نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت ہے۔ ایسا معاہدہ جو انسان کو انسان سمجھنے سے شروع ہو اور انصاف پر ختم ہو۔ ایک ایسا عالمی اخلاقی منشور جو طاقت کے بجائے اصولوں پر قائم ہو۔ اگر ایسا ہوگیا تو دنیا نہ صرف ترقی کرے گی بلکہ انسان سکون کی دنیا میں داخل ہوگا۔ گلوبل ویلج حقیقی معنوں میں ایک خاندان بن جائے گا۔خاکسار کا ہمیشہ یہ مقف رہا ہے کہ دنیا کو سلامتی، محبت اور باہمی احترام کی ضرورت ہے۔ انسان کی پہچان اس کی انسانیت ہے۔ انسانوں نے جب بھی ایک دوسرے کو برابری کی بنیاد پر قبول کیا ہے، تب ہی امن آیا ہے۔ یہی اصول آج کے عالمی گاں پر بھی لاگو ہوتے ہیں۔ اگر دنیا نے اپنے اختلافات کو گفتگو اور انصاف کے ذریعے حل کرنا سیکھ لیا تو یقین جانئے دنیا کی خوبصورتی کئی گنا بڑھ جائے گی۔ہم سب کو ایک بات سمجھنی ہوگی کہ امن کیلئے اجتماعی کوشش کی اشد ضرورت ہے۔ ہر ملک، ہر قوم، ہر شخص اور ہر ادارے کو اس کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ جب تک دنیا انصاف پر بنیاد رکھ کر چلنا نہیں سیکھے گی، تب تک گلوبل ویلج ایک گائوں تو رہے گا مگر گھر نہیں بن سکے گا اور انسان کو گھر ، پناہ ، محبت اور امن کی ضرورت ہے۔اگر دنیا نے آج فیصلہ کر لیا کہ وہ ظلم، معاشی دہشت گردی، سیاسی سازشوں اور جنگی دلچسپیوں سے خود کو آزاد کرے گی تو یقینا انسان کے اندر کی بے چینی ختم ہو جائے گی۔ جب انسانوں کو خوف سے نجات مل جائے،جب انہیں روزگار، عزت اور برابری ملے تو وہ دنیا کی خوبصورتی بڑھاتے ہیں۔ پھر گاؤں کے لوگ ایک خاندان کی طرح رہتے ہیں ایک دوسرے کو سہارا دیتے ہیں اور ترقی سب کا مقدر بنتی ہے۔یہی امید، یہی پیغام اور یہی دعا ہے کہ ہمارا گلوبل ویلج بھی سکون والی بستی بن جائے گی۔ دنیا اگر چاہے تو یہ خواب حقیقت بن سکتا ہے، بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر چودھری انصاف کرے، ہر رہنما امن کا داعی بنے اور ہر انسان محبت کو اپنا شعار بنائے، تب دنیا میں امن اور خوشحالی آئے گی۔

Exit mobile version