وطن عزیز میں ہر انتخاب کے دوران امیدواروں کی طرف سے دولت کا بے دریغ استعمال کیا جا تا ہے۔ یوںدولت کے استعمال نے نظریاتی سیاست کو شکست دی ہے جو کہ جمہوریت کیلئے خطرناک ثابت ہوتی ہے اورسیاست عوامی نمائندگی کے تصور سے دور ہوتی چلی جائے گی۔ جو بھی رکن اسمبلی بننا چاہتا ہے، وہ الیکشن لڑنے کیلئے اربوں روپے خرچ کردیتا ہے اور پھر اس سے دوگنے کماتا ہے جبکہ الیکشن کمیشن نے دولت کے بے دریغ استعمال اور ضابطہ اخلاق کی خلافورزیوں پر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کررکھی ہیں یا پھر یہ آئینی ادارہ بے اختیارہے،سراج الحق،امیر جماع اسلامی پاکستان نے بھی اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن امیدواروں کی طرف سے دولت کے بے دریغ استعمال کو روکے۔ عوام سیاسی ادا کاروں کو مسترد کر کے حقیقی قیادت کو سامنے لائیں۔ ایک پاکستان میں دو پاکستان نہیں چل سکتے۔ ملک پر گزشتہ سات دہائیوں سے مسلط سیاسی پارٹیوں نے عوام کو مہنگائی، بے روزگاری کے علاوہ کچھ نہیں دیا۔ پیپلزپارٹی، ن لیگ اور پی ٹی آئی نے سالہا سال نے اقتدار کے مزے لیے۔ ان پر کرپشن کے بے انتہا الزامات ہیں ۔ اس دوران معیشت تباہ ہوئی، ادارے کمزور ہوئے، یہ پارٹیاں آیندہ بھی اقتدار میں آئیں تو عوام کی حالت نہیں بدلے گی۔کوئی معاشرہ کفر سے تو زندہ رہ سکتا ہے، ظلم سے نہیں۔ 75سالوں سے عوام کا استحصال ہورہا ہے۔ نظام نہیں چہرے بدل رہے ہیں۔ ایک ہی گروہ کے لوگ پارٹیاں جھنڈے تبدیل کر کے غریبوں پر مسلط ہیں۔ حکمران پارٹیوں کی پالیسیوں میں کوئی فرق نہیں۔گزشتہ 15 برسوں میںپیپلزپارٹی، ن لیگ اور پی ٹی آئی کی سربراہی میںدسیوں پارٹیوں پر مشتمل اتحاد حکومت میں رہے، کوئی بھی معیشت ٹھیک کر سکا نہ ملک میں امن و قائم ہوا۔ ملک پر قابض ظالم جاگیردار اور کرپٹ سرمایہ دارٹولہ یہ حق سمجھتا ہے کہ ان کی اولادیں بھی اقتدار پر قابض رہیں گے۔ کیا مزدور کا بیٹا مزدور اور کسان کا کسان ہی رہے گا اب اس فرسودہ نظام کو ووٹ کی طاقت سے بدلنا ہوگا۔ تبدیلی تب آئے گی جب عوام کے حقیقی نمائندے ایوانوں میں پہنچیں گے۔امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ موجودہ استحصالی نظام کے نتیجہ میں سرمایہ دار کے بنگلوں، پلازوں اور ملز میں اضافہ ہورہا ہے۔ غریب کی جھونپڑی میں آٹا تک نہیں۔ پونے تین کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ غریب بچہ پڑھ لکھ جائے تو اسے رشوت یا سفارش کے بغیر نوکری نہیں ملتی۔ ملک کا موجودہ نظام طاقتور کو تحفظ جب عام آدمی کے مستقبل کی کوئی ضمانت نہیں دیتا۔ ملک میں کل چالیس پچاس خاندان نسل در نسل اقتدار میں ہیں۔ جماعت اسلامی خاندانوں کی حکمرانی کا خاتمہ کر کے جمہور کی حکمرانی قائم کرنا چاہتی ہے۔ عوام جمہوریت کی مضبوطی، عدل و انصاف کے قیام کے لیے جماعت اسلامی کے دست و بازو بنے۔جناب سراج الحق نے کہا کہ منتخب ہو کر مالاکنڈڈویژن کے مسائل حل کریں گے، جماعت اسلامی اقتدار میں آکر خیبرپختونخوا کو امن اور خوشحالی دے گی۔ نوجوانوں کو روزگار دیں گے۔ مالاکنڈڈویژن کو سی پیک میں حصہ ملے گا۔ علاقے کو سڑکوں کے ذریعے ملک کے دوسرے حصوں سے ملائینگے۔ بہترین انفراسٹرکچر تعمیر کریں گے ۔ عوام کا پیسہ عوام پر خرچ ہو گا۔ وسائل کا رخ غریبوں کی طرف موڑیں گے۔ عشر اور زکوٰة کا نظام قائم کر کے سود سے چھٹکارا حاصل کیا جائےگا۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا۔ جماعت اسلامی کی جدوجہد کا مقصد یہاں اسلامی نظام کا نفاذ ہے ۔ اسلامی نظام ہی ملک کے مسائل کا حل ہے۔سابق سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ کشمیراور فلسطین کی آزادی کے لیے زندگی کے آخری سانس اور خون کے آخری قطرے تک لڑیںگے۔ بزدل حکمرانوں کی وجہ سے امت ہر جگہ گاجر مولی کی طرح کاٹی جارہی ہے۔امریکہ کا صدر اسرائیل کا کئی مرتبہ دورہ کرسکتے ہیں تو اسلامی ممالک کے حکمران غزہ کادورہ کیوںنہیں کرتے اگر میں وزیرا عظم ہوتاغزہ ضرور جاتا۔ جماعت اسلامی پاکستان اول روزسے تحریک آزادی کشمیرکی پشت بانی کا حق ادا کررہی ہے اس پر اہل کشمیر جماعت اسلامی پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہیں ،24 کروڑ پاکستان عوام کشمیریوں کے شانہ بشانہ ہیں، حکمرانوں کی کمزوریاں ہوسکتیں ہیںمگر پاکستانی عوام اور جماعت اسلامی کشمیریوں کےساتھ ہے۔ کشمیری اقوام متحدہ کی قرارادوں کے مطابق اپنے حق کے حصول کیلئے جدوجہد کررہے ہیں عالمی برادری نے کشمیریوںاور فلسطینیوں کے عہد کررکھا ہے کہ وہ ان کو حق دلائی گی۔ لیاقت بلوچ نائب امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ انتخابات 2024ءمیں اہل ، باصلاحیت اور دیانت دار قیادت کا انتخاب ووٹرز کا بڑا امتحان ہے۔ انتخابات جتنے ماضی میں’ ’شفاف“ ہوئے ا±سی طرح آئندہ انتخابات کی "شفافیت ” کا میدان تیار ہے۔ ماضی میں بھی دھاندلی زدہ انتخاب ملک و مِلت کیلئے بحران لائے، اب بھی جانبدارانہ انتخابات سیاسی جمہوری عمل اور قومی سلامتی کے لیے مہلک ثابت ہونگے۔ جماعت اسلامی کا فیصلہ ہے کہ آئین، جمہوریت اور غیرجانبدارانہ انتخابات کی حفاظت کے لیے بھی تحریک جاری رکھیں گے اور انتخابات 2024ءمیں بھرپور حصہ لیا جائے گا۔ جماعت اسلامی واحد پارٹی ہے جس نے اپنا منشور قوم کے سامنے پیش کردیا ہے اور قومی، صوبائی اسمبلی امیدواران کے چناو¿، حلقہ جات کارکنان، ضلعی، صوبائی اور مرکزی پارلیمانی بورڈز کے جمہوری مشاورتی عمل کے ذریعے کیا ہے۔ ملک کے استحکام، سیاسی جمہوری آئینی نظام کے نفاذ اور پاکستان کو اسلامی، خوشحال، مستحکم اور کرپشن فری پاکستان بنانے کے لیے جماعت اسلامی ہی ووٹرز کا واحد آپشن ہے۔
٭٭٭
انتخابات میں دولت کا بے دریغ استعمال

