Home » کالم » انصاف برائے انصاف

انصاف برائے انصاف

اس وقت ملک کو معاشی طور پر مندی کا سامنا ہے اور عوام میں مہنگائی اور بیروزگاری کی وجہ سے شدید ترین بے چینی پائی جاتی ہے ۔ معاشرے میں سب سے اہم ترین کمی جو محسوس ہو رہی ہے وہ انصاف برائے انصاف کی ہے ۔ ملک کی عالی عدالتیں غریب کے معاملات پر سوموٹو ایکشن لینے سے اب گریز کر رہی ہیں کیونکہ شاید پچھلے منصف جس طریقے سے سیاسی اور سماجی معاملات میں ملوث ہو کر اپنے منصب کے تقاضوں اور شاید اختیارات کے بیجا استعمال میں ملوث ہوئے اس کا عوامی تاثر کچھ اچھا نہیں گیا ۔ سوموٹو ایکشن تو بہت لیے گئے لیکن ان کو منطقی انجام تک پہنچانے کی کوشش نہیں کی گئی ۔ جب بھی غریب کے معاملے میں سوموٹو ایکشن لیا گیا اس کا فیصلہ آنے میں تاخیر کر دی گئی جس کی وجہ سے اس کے اصل ثمرات سے عوام محروم ہوگئی ۔ طاقتور یا آمر طبقہ کو جو سبق سکھلا نا مقصود تھا وہ الٹا ہو گیا ۔ طاقتور طبقے جان گئے کہ اگر سوموٹو لے بھی لیا گیا تو اس میں وہ اتنے روڑے اور قانونی ہیچ ڈال سکتے ہیں کہ ان میں اصل مسئلہ گم ہو جائے گا ۔مہنگائی بڑھتی ہی جارہی ہے ۔ تیل کی قیمت میں اضافہ سے اشیائے خورد و نوش سے لے کر جان بچانے والی ادویات تک مہنگی ہو گئی ہیں ۔سب سے اہم ترین چیز ادویات کا مہنگا کیا جانا ہے ۔ ایسی کیا آفت آئی کہ جس سے ادویات کی قیمتوں میں یکسر اتنا اضافہ کر دیا گیا ۔ عجیب ترین منطق پیش کی ہماری صوبائی وزیر نے کہ صرف ایسی ادویات کی قیمت میں اضافہ کیا گیا ہے جو آپریشن تھیڑمیں استعما ل ہوتی ہیں ۔ بھئی غریب آدمی تو پہلے ہی ادھ موا ہوتا ہے اور اس پر مرے کو مارے شاہ مدار کے مترادف اسے تو ہسپتا ل میں کوئی سہارا درکار ہوتا ہے ۔کجا کہ وہ کوئی اضافہ بوجھ اٹھانے کے قابل ہو ۔ وہ تو سفارش ڈھونڈ رہا ہوتا ہے کہ جیسے تیسے اگر اسے خون کی بوتل کی ضرورت پڑ جائے تو وہ اسے بلڈ بینک سے مفت میں مل جائے یا پھر وہ اپنے دوستوں عزیزوں کے ترلے منت کر رہا ہوتا ہے کہ وہ خون کی بوتل راہ خدا مریض کو عطیہ کریں ۔ ایسے ماحول میں جب انہیں معاشی سہارے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ غریب آدمی کے حالات سے اکابرین اچھی طرح واقف ہیں انہیں پتہ ہے کہ یہ اس قابل نہیں کہ اچھا علاج کرا سکیں ۔ یہ کچھ بیچیں گے تو شاید کسی بڑے مرض کا علاج کر اپائیں ۔ خان صاحب کو تو اچھی طرح اس درد کا احساس ہے کہ شوکت خانم ہسپتال میں وہ کینسر کے مریضوں کا مفت علاج کرتے ہیں ۔ انہوں نے شوکت خانم بنایا ہی اس لیے کہ غریب آدمی اور پاکستانی معاشرہ کے عام لوگ کینسر کے خلاف جنگ میں اس قابل نہیں کہ وہ کینسر کے مرض کے اخراجات اٹھا سکیں ۔ یہ جانتے ہوئے بھی انہوں نے اس سمری پر جانے کیسے دستخط کردئیے ہیں ۔ ڈالر مہنگا ہونے سے درآمدات کی رقم میں اضافہ اور برآمدی اشیاء کے ریٹ کم ہو نے سے تجارتی خسارہ بڑھ گیا ہے ۔ سونا مہنگا ہو نے سے بھی معاشرتی بوجھ میں اضافہ ہو ا ہے ۔ سونے کی قیمت بڑھنے سے شاید حکومت کو یہی فائدہ ہوا ہو کہ اس کے خزانے میں موجود سونے کے ذخیرہ کی قیمت میں اضافہ ہو گیا ہو ۔ حکومت عوام کی توقعات کے برعکس فیصلے کر رہی ہے ۔ جس سے عوامی مفادات بری طرح متاثر ہو رہے ہیں ۔ مہنگائی بیروزگاری کے ہاتھوں تنگ شہری اب تحریک انصاف کی حکومت سے نالا ں ہورہے ہیں ۔ انہیں نئے پاکستان کے ٰخواب کی تعبیر بھیانک لگ رہی ہے ۔ اب تو سیاسی کارکن ایک دوسرے کوپرانے پاکستان اور نئے پاکستان کا طعنہ دے رہے ہیں ۔ پرانے پاکستان میں کیا برا تھا جو نیا پاکستان بنانے پر تلے تھے ۔ اب نئے پاکستان کے مزے لو ۔ تحریک انصاف کا کارکن بری طرح شرمندہ اور حکومت کی پالیسیوں پر نالاں ہے ۔ وہ کھل کراپنی جماعت کی مخالفت بھی نہیں کر سکتا اور نہ ہی اس کی حمایت میں بول سکتا ہے ۔ وہ کیسے کہے کہ تیل کی قیمت بڑھانے میں تحریک انصاف کی حکومت تو ٹھیک ہے لیکن مسلم لیگ کی حکومت کو یہ حق دینا غلط ہے ۔وہ کیسے کہے کہ تحریک انصاف کے دور میں تو ڈالر کا ریٹ بڑھنے کا فائدہ عوام کو ہو رہا ہے وہ کیسے ثابت کرے کہ سونا مہنگا ہونے سے مہنگائی کا جو طوفان آیا ہے اس سے عام شہری کو فائدہ ہو رہا ہے ۔ وہ بیروزگاری اور بے انصافی کے بڑھتے ہوئے واقعات کو تحریک انصاف کی حکومت کی اچھائیاں کیسے ثابت کرے ۔ جھوٹ ہر دور میں اور ہر منہ پر جھوٹ ہی ہوتا ہے ۔خواہ وہ مسلم لیگ کا دور ہو یا پیپلز پارٹی کا یا پھر تحریک انصاف کا ہو جھوٹ جھوٹ ہی ہے ۔ عوام نے تحریک انصاف کو نئے پاکستان کی تشکیل کیلئے ووٹ دئیے ہیں ۔ عوام توقع رکھتی ہے کہ تحریک انصاف کے ماہرین ایسی پالیسیاں وضع کریں گے جس سے عوام پر معاشی بوجھ کم ہو ۔ وہ بیروزگاری کے عفریت کے پنجہ سے آزاد ہو سکیں ۔ ان کے بچے آسانی کے ساتھ تعلیم حاصل کر سکیں ۔ انہیں ہاری بیماری میں کوئی دیکھنے پوچھنے والا سہارا ہو ۔ حکومت کے وزیر اپنے زور بیان سے اقتدار کی بالادستی کو ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں ۔ آپ سے پہلے رانا ثنا اللہ اور مریم اورنگ زیب اینڈ کمپنی یہی فریضہ سرانجام دیتی تھی اور آج آپ یہی کام کررہے ہیں ۔ سب کو معلوم ہے کہ آپ اپنی وزارت کا حق ادا کررہے ہیں ۔ اس میں کوئی عوامی مفاد پوشید ہ نہیں اور نہ ہی حکومت نے کوئی ایسا کام کیا ہے جس سے یہ ثابت ہو کہ حکومت ہنی مون پیریڈ سے نکل کر زندگی کے حقائق کو سمجھ کر اب انہیں حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ کشکول توڑنے اور آئی ایم ایف تک نہ جانے کے وعدے ہوا ہو چکے ہیں ۔ اب کشکول بھی ہے اور آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کے ساتھ وہی بھکاری پن بھی ہے ۔ ملک کبھی بھی غیر ملکی سرمائے سے ترقی نہیں کرتے ۔ اگر ملک کو ترقی دینی ہے تو ملک میں صنعت و حرفت کو فروغ دینے کی کوشش کی جائے ۔ ڈیم بنائے جائیں اور ان سے توانائی حاصل کر کے صنعتوں کو دی جائے تاکہ وہ پیداوار حاصل کریں اور اپنی اشیاء کو مارکیٹ میں پھینک سکیں ۔ طلب و رسد کا توازن قائم ہو کر اجارہ داریوں اور غیر ذمہ دارانہ ذخیرہ اندوزی پر قابو پایا جائے تاکہ اشیاء سرف کی قیمتوں کو کنڑول کیا جا سکے ۔ اشیا ء صرف کی قیمتیں ہی حکومت کے کنڑول سے باہر ہیں ۔ کنزیومر رائٹس کمیٹیاں پتہ نہیں کہاں کب اور کیا فریضہ سرانجام دیتی ہیں ۔ تحریک انصاف کی حکومت نہ تو اپنے منشور سے انصاف کرنے میں کامیاب ہو رہی ہے اور نہ ہی وہ اپنے منصب کے ساتھ انصاف کرنے میں کامیاب ہیں ۔ وزراء چونکہ اس کاروبار میں نئے ہیں اس لیے انہیں وقت چاہیے کہ وہ اپنے کام کو سمجھ کر اس پر گرفت کر سکیں۔ انہیں اپوزیشن دوسری طرف مصروف رکھتی ہے جس سے وہ اپنے کام پر توجہ ہی نہیں پاتے اور اس وجہ سے اداروں میں تعمیر و ترقی کی بجائے جمود کی کیفیت ہے ۔ بیوروکریٹ مافیا ان نئے آنے والوں کو اپنی پسند کے مطابق ڈھالنے کے گرسے آشنا ہوتا ہے ۔ وہ انہیں کٹھ پتلی کی طرح استعمال کرتے ہیں ۔ پی اے کے ٹائپ رائٹر ہی اصل فیصلہ ساز اتھارٹی ہوتے ہیں ۔ اس پر چلنے والی انگلیاں کس دماغ کے زیر اثر ہیں وہی کچھ ٹائپ ہوتاہے ۔ اس وقت کے مطابق مفادات ہی مفادات کی آندھی کا زور ہے ۔ ہر کوئی اپنا مستقبل محفوظ بنانے کی تگ و دو کر رہا ہے ۔ ایسے میں کیسے ممکن ہے کہ عوامی مفادات کی نگہبانی کا حق ادا کیا جا سکے ۔ شاید موجودہ صاحبان اقتدار بھی اپنے ساتھ انصاف کرنے میں مصروف ہیں ۔ الیکشن میں صرف کیا گیا سرمایہ پورا کرنے اور اگلے الیکشن کیلئے سرمایہ اکٹھا کرنے کا یہ نادر موقع عوامی خدمت میں استعمال کرنے والا کون ہے ۔ ہر کوئی بس اپنے ساتھ انصاف کرنے کو انصاف گردانتا ہے ۔ ریل گاڑیاں چلا کر قوم کا مستقبل اور قومی خزانہ بھرنے کو انصاف کہنا قوم کے ساتھ بھونڈا مذاق ہے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative