Home » بزنس » آئی ایم ایف کی ٹیکس ریفنڈ سے متعلق شرط پوری نہ ہونے کا امکان

آئی ایم ایف کی ٹیکس ریفنڈ سے متعلق شرط پوری نہ ہونے کا امکان

 اسلام آباد: اس بات کا قوی امکان ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف کی شرط کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ٹیکس دہندگان کو 75 ارب روپے ریفنڈ نہیں کرپائے گا۔

آئی ایم ایف سے حاصل کردہ 6 ارب ڈالر کے قرضہ پروگرام کے تحت پاکستان کو رواں مالی سال میں بجٹ خسارہ 276 ارب روپے تک محدود کرنا ہے جو گذشتہ مالی سال میں 13.5 کھرب روپے تھا۔

آئی ایم ایف کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں بجٹ خسارے کا ہدف 102 ارب روپے ہے، اگر حکومت ٹیکس بقایاجات کی مد میں 75 ارب روپے ٹیکس دہندگان کو ریفنڈ کردے تو یہ ہدف ایک حد تک نرم کیا جاسکتا ہے۔

ایف بی آر کی جانب سے رواں ہفتے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی حکومت 75 ارب روپے کے بجائے ٹیکس بقایاجات کی مد میں صرف 22 ارب روپے ادا کرسکی ہے جو ہدفی رقم کا محض 30 فیصد ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر حکومت باقی ماندہ 53 ارب روپے جاری کرتی ہے تو اس کا 10.71 کھرب روپے کے آئی ایم ایف ہی کے متعین کردہ سہ ماہی ریونیو ہدف پر منفی اثر پڑے گا۔

واضح رہے کہ ایف بی آر نے جولائی تا ستمبر کے لیے ریونیو ہدف 11.11 کھرب روپے مقرر کیا ہے۔ ٹیکس ریفنڈز کی پست شرح کا سبب رواں مالی سال کے لیے مقرر کردہ 55 کھرب روپے کی آمدنی کا بڑا ہدف ہے۔ جولائی اور اگست کے لیے ایف بی آر نے 644 ارب روپے کا نسبتاً کم ہدف مقرر کیا تھا مگر ان دو ماہ میں ریونیو ہدف سے 64 ارب روپے کم ( 580 ارب ) رہا تھا۔

ایف بی آر کا منصوبہ تھا کہ پرومیسری نوٹس کے ذریعے مخصوص مقدار میں ریفنڈز ادا کیے جائیں۔ تاہم پرومیسری نوٹس کو بطور ضمانت تسلیم کرنے میں بینکوں کی ہچکچاہٹ کی وجہ سے یہ نوٹس تیز رفتاری سے جاری نہیں ہوسکے۔

ذرائع کے مطابق اسٹیٹ بینک بھی پرومیسری نوٹس کو بینکوں کے اسٹیچوٹری لکویڈٹی ریشو کا حصہ سمجھنے میں متامل تھا۔ اگر حکومت 30 ستمبر تک ریفنڈز کی مد میں 75 ارب سے زائد ریلیز کرتی ہے تو اسے 102 ارب روپے کے پرائمری بجٹ ہدف میں اتنی ہی رعایت مل جائے گی۔ تاہم یوں معلوم ہوتا ہے کہ حکومت نے اس رعایت یا ترغیب کا فائدہ نہ اٹھاکر صنعتکاروں کو ریلیف مہیا کرنے کا موقع گنوادیا ہے۔

About Admin

Google Analytics Alternative