’’آٹابحران‘‘ ۔ سفاک مجرموں کو بے نقاب کیا جائے

4

ذخیرہ اندوزی کرنا،ملاوٹ کرنا، ناپ تو ل میں کمی، کسی خرید ارکو عیب والا مال بیچنا، جھوٹی قسم کھا کرمال بیچنا یاعمدہ چیز بتا کر گھٹیا چیز بیچنا یا کبھی کسی چیز یا جمع کیے گئے مال کوجسے کم پیسوں میں خریدا گیا ہوتا ہے لیکن مارکیٹ میں وہ چیز کم یا ب ہوجاتی ہے تو اس کو پھر نئی قیمت پر مہنگے داموں بیچا جاتا ہے جیسے اکثر پیٹرول وغیرہ پر ہوتاہے کہ رات میں دام بڑھ جانے کی توقع پر پرانا اسٹاک لوگوں کو اس وقت تک نہیں دیا جاتا جب تک نئی قیمت کی لسٹ نہیں آجاتی،پرانی چیز کو نئی کے ساتھ ملاکربیچ دینا’’ایکسپائر‘‘زائد المدت چیزوں کا لیبل ہٹا دیا جاتا ہے یا اس کو مٹا دیا جاتا ہے یہ اور اسی سے ملتی جلتی اورایسے لائق مذمت کاروباری معاملات پاکستان میں عام نظرا;63;تے ہیں ،مثلاً آج کل پاکستان میں ’’آٹے کا بحران‘‘پیدا ہوا اور اب تک کی اطلاعات کے مطابق ’’آٹے کے بحران‘‘ کے ذمہ داروں کی نشاندہی تک نہیں ہوسکی عوام ملک بھر میں آٹے کے حصول کے لئے یوٹیلیٹی اسٹورز کے سامنے لمبی لمبی لائنوں میں کھڑے ’’خوار‘‘ہی ہورہے ہیں اور آٹے کی قیمت آسمانوں سے باتیں کررہی ہے یہی حال کچھ دیگر ضروری اشیائے خوردنی کا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ایسے میں ہماری حکومت کہاں ہے;238;عوام کو بتایا کیوں نہیں جارہا کہ آخر ملکی پیداواری گندم کا اسٹاک راتوں رات کہاں غائب ہوگیا بڑے زمینداروں سے کیوں نہیں پوچھا جارہا آٹے کی قلت کیونکر پیدا ہوئی;238; حکومت کو لازمی طور پر اس کا فوری اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مستقل حل ڈھونڈنا چاہیئے میڈیا کے ذریعے عوام کوبتایا جانا چاہیئے کہ کیا کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ پارلیمنٹس میں بیٹھے منتخب نمائندوں میں جو بڑے زمیندار ہیں وڈیرے ہیں اْن کے مالی تعلقات اور مفادات اْن منہ زور مافیاز سے جڑے ہوئے تونہیں جو ملکی عوام میں اشیائے خوردونوش کا مصنوعی بحران پیدا کرکے ایک طرف تو وزیراعظم عمران خان کے احتسابی ویڑن کوناکام بنانا چاہ رہے ہیں دوسری جانب ’’خوراک کی مصنوعی کمیابی یا پھرعدم دستیابی‘‘ کے نام پرملکی سماج کے ہجوم کو سڑکوں پر لانے کی اندرون خانہ کوئی خفیہ سازش رچی تو نہیں جارہی;238; کیونکہ ایسے بدخواہ عناصرکی ہمارے ملک میں کمی نہیں جوہر چندروز بعد ملکی معاشرے میں مایوسی، انارکی اور خلفشار پیدا کرنے کے لئے کافی سرگرم ہوجاتے ہیں ،حکومت وقت کو بلاتاخیر اس سلسلے میں ٹھوس اور موثر اقدامات اْٹھانے کی اشد ضرورت ہے جس سے انکار نہیں کیاجاسکتا گندم کی بروقت ترسیل آٹے کے ملوں تک ہوسکی یا نہیں یا سننے میں یوں آرہا ہے کہ بڑی مقدار میں گندم کے ذخائر افغانستان اسمگل کردئیے گئے اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو حکومت کو اس بارے میں کسی قسم کی رورعایت برتنے کی ضرورت نہیں ، جوابدہی کے ہنگامی فیصلے اگر اب بھی نہیں ہونگے توپھر کب ہونگے;238; عوام کا یہ بنیادی حق ہے،عوام کو کون بتائے گا کہ ملک میں اچانک راتوں رات آٹے کی قیمتوں میں آخر اس قدر اضافے کی وجہ کیا ہے;238;اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ملک میں حالیہ دنوں میں آٹے کی قیمتوں میں اچانک بڑا اضافہ عوام کے سامنے آیا جس کی وجہ سے صوبہ پنجاب،سندھ،خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں لوگ بْری طرح سے متاثرہوئے ہیں اب تک اس بارے میں جوخبریں سنی گئیں اْن کے مطابق ’’فلور ملز ایسوسی ایشن‘‘ کے ترجمان کے مطابق ملک بھر میں یہ بحران گندم کی سپلائی بروقت نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے اگر ایسا ہوا ہے تو تب ہی ملک آٹے کی قیمتیں اچانک بڑھ گئیں عوام یہی تو حکومت کے ذمہ داروں سے سننا چاہا رہے ہیں اس بحران کا ایک سبب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ آمدورفت، توانائی اورپھرگندم کی قیمتوں میں اضافے کے اخراجات کی وجہ سے آٹے کی قیمتیں بڑھیں کیا یہ بات اپنی جگہ درست تسلیم کی جائے عوامی طبقات کاماننا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمتوں میں کم از کم 100 روپے کا اضافہ ہوا عام مزدوری دھاڑی دار طبقہ اور مڈل کلاس طبقے کے لئے20 کلو آٹے کے تھیلے پر100روپے کا اضافہ ایک ناقابل برداشت بوجھ ہے یہی نہیں بلکہ اس کے منفی اثرات ڈبل روٹی پر اور گندم سے بننے والی ہر اشیا تک جاپہنچتے ہیں ، جبکہ اس سلسلے میں ملک بھر کے فلورملز ایسوسی ایشن نے اپنا یہ موقف اختیار کیا ہے کہ یہ اضافہ اچانک نہیں ہوا بلکہ اس میں اور بھی’’ کئی عناصر‘‘ شامل ہیں کیا عوام کو حق نہیں کہ وہ ’’کئی عناصر‘‘کون سے ہیں ;238;’’مہنگائی سے انصاف ‘‘تک جب عوام کو کچھ نہیں ملے گا تویہ جان لیں وہ سیاسی جمہوری مقتدر طبقات کہ عوام یہ سمجھنے میں حق بجانب ہونگے کہ ’’اشیائے خوردونوش‘‘سے لے کر ’’روزگار کے ہر دروازے تک‘‘بلکہ ’’سر چھپانے کے لئے صرف ایک چھت‘‘ ڈھونڈنے تک ہر جگہ تحریک انصاف پاکستان کی حکومت کے اقتدار میں آنے کے باوجود ملکی قومی شعبہ ہائے زندگی پر ’’سِسیلین مافیا‘‘کے پنجے بہت مضبوطی کے ساتھ گڑھے ہوئے ہیں کیا وزیراعظم عمران خان ہمت کرپائیں گے کہ ’’اس بے انتہا پھیلے ہوئے آکٹوپس کی مانند کے سِسیلین مافیا‘‘کے بدنام زمانہ بے رحموں سے پاکستان کے پسے ہوئے طبقات کی جان ہمیشہ کے لئے چھڑادی جائے یقینا وزیراعظم خان کی نوٹس میں جب ’’آٹابحران‘‘کا معاملہ آیا تو اب تک اطلاعات کے مطابق اُنہوں نے ’’نوٹس‘‘تو لے لیا ہے کہ’’جہاں آٹا مہنگا ہو گا وہاں کی انتظامیہ ذمہ دار ہو گی 24 گھنٹوں میں رپورٹ دیں ‘‘وزیر اعظم کی ہدایت پر حکومت نے آٹے کے بحران سے نمٹنے کیلئے بڑے آپریشن کا فیصلہ کیا ہے چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز، کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو کارروائی کی ہدایت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ذخیرہ اندوزوں اور مہنگا آٹا بیچنے والوں کو فوری گرفتار کرکے گودام سیل کر دیئے جائیں چلیں اتنا توہوا کہ عوام کی آوازپر وزیراعظم نے لبیک کہا قوم کو یاد ہوگا کہ ’’وزیراعظم خان نے بارہا کہا ہے میرے خلاف سازشیں پہلے دن سے شروع ہو گئی تھیں مافیاز میرے خلاف متحد ہوگیاہے،نام نہاد لبرل اورانتہاپسند سب میرے خلاف ایک صفحہ پر ہیں روایتی میڈیا ان کی پشت پناہی کررہا ہے،مجھے دباوَ میں لانے کیلئے مختلف حربے استعمال کئے جارہے ہیں ‘‘جناب وزیراعظم،آپ بے خوفی اور جرات مندی کے ساتھ عوام سے کیئے گئے اپنے وعدوں کی ایفا کے لئے چٹان بن کر ڈٹ جائیں یہ پاکستان کی عوام ہے عوام آپ سب خوب سمجھتی ہے نئی نسل کی اولین تمنا اور خواہش ہے کہ پاکستان کی سیاست میں آنے والی کرپشنزکی آلودگی کو آپ صاف کرسکتے ہیں ’’ہمت مرداں مدد ِ خدا‘‘ انشاء اللہ ۔