آپریشن ردالفساد،یہ امن اور سکون،پاک فوج کی قربانیوں کاثمر

14

ملک میں ;200;ج امن و امان کی صورتحال اگر بہتر ہو چکی ہے تو یہ پاک فوج اور ملک کے تمام سکیورٹی اداروں کی بے لوث قربانیوں کا نتیجہ ہے ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں انگنت قربانیوں کا یہ سلسلہ افغانستان پر امریکی حملے کے بعد سے شروع ہو گیا تھا لیکن ;200;پریشن ضرب عضب کے ;200;غاز ساتھ جو یکسوئی دیکھنے کو ملی اس کا سلسلہ ;200;پریشن ردالفساد کی صورت میں اب تک جاری ہے ۔ دہشت گردی اور شدت پسندی سے بلا تخصیص نمٹنے کے لئے شروع کئے گئے ;200;پریشن ردالفساد کو تین سال مکمل ہوگئے ہیں ، دہشت گردی کے خلاف اس ملک گیر;200;پریشن کا ;200;غاز22فروری 2017کو ہوا تھا ۔ اس سلسلے میں ;200;رمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے دہشت گردی کے بیانیے کو شکست دینے پر قوم کو سلام اورتمام شہداکو خراج عقیدت پیش کیا ہے ۔ چیف ;200;ف ;200;رمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ افواج پاکستان ملک کی خودمختاری اور سیکیورٹی کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے تیار ہے،دہشت گردی کے مکمل خاتمے سے پاکستان اور خطے میں امن و استحکام ;200;ئے گا ۔ انہوں نے انسداد دہشت گردی کی دو دہائیوں کی کامیابیوں کو مستحکم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ۔ ;200;ئی ایس پی ;200;ر کی جانب سے ہفتہ کو جاری سماجی رابطہ کی ویب سایٹ ٹویٹر پر اپنے ٹویٹ میں ڈی جی ;200;ئی ایس پی ;200;رمیجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ دہشت گردی سے سیاحت تک کے سفر میں سیکیورٹی فورسز کو قوم کی مکمل حمایت حاصل رہی ۔ اس جنگ میں کامیابی کے لئے جان و مال کی قربانی دینی پڑی ۔ ماضی کے تمام ;200;پریشنز کے فوائد کو مستحکم کرنے، دہشت گردی کے خطرات کے بلا امتیاز خاتمے اور پاکستان کی سرحدوں پر سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ;200;پریشن ردالفساد شروع کیا گیا تھا‘‘ ۔ اس عرصہ میں ہزاروں جوانوں اور افسران نے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر دشمن کے عزائم کو ناپاک بنایا، بلاشبہ ہمارے شہدا ہمارے ہیرو ہیں ۔ ;200;ئی ایس پی ;200;ر نے بھی اپنے بیان میں شہدا کو سلام پیش کرتے ہوئے لکھا کہ یہ ہمارے اصلی ہیروز اور ہمارا فخر ہیں ۔ بیان میں انتہا پسندوں کے نظریے کو شکست دینے اور مسلح افواج سے تعاون کرنے پر پوری قوم کو بھی سلام پیش کیا گیا ہے ۔ پاکستانی قوم بھی اپنے ہیروز اور افواج پاکستان کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے اور ہر امتحان میں کندھے سے کندھا ملا کر ساتھ کھڑے ہونے کا عزم کرتی ہے ۔ حکومت نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے شروع کیے گئے پاک فوج کے ;200;پریشن رد الفساد کے 3 سال مکمل ہونے پر اسے انتہا پسندی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے کامیاب ماڈل قرار دیا ہے ۔ تین سال قبل پاک فوج نے ملک بھر میں ;200;پریشن رد الفساد شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔ ;200;پریشن شروع کرنے کا فیصلہ ;200;رمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت لاہور میں سیکیورٹی اجلاس میں کیا گیا تھا ۔ اس آپریشن کو شروع کرنے کا مقصد ملک بھر کو اسلحہ سے پاک کرنا، بارودی مواد کو قبضے میں لینا،ملک بھر میں دہشت گردی کا بلا امتیاز خاتمہ اور سرحدی سلامتی کو یقینی بنانا تھا ۔ بلاشبہ اپنی نوعیت کا یہ نہایت اہم ;200;پریشن تھا جس نے دہشت گردی اور اس کا نیٹ اکھاڑ پھینکنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ ;200;پریشن کے اعدادوشمار کے مطابق انٹیلی جنس پر مبنی ایک لاکھ 49 ہزار سے زیادہ کارروائیاں کی گئیں ،3ہزار8سو سے زائد انتباہ جاری کیے گئے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے4سو کے قریب دہشت گرد حملوں کی وارننگز دی گئی تھیں ۔ ان کامیاب کارروائیوں کے نتیجے میں ہر سال دہشت گردی میں نمایاں کمی ;200;تی گئی ۔ اگر گزشتہ سال کا جائزہ لیا جائے تو اس حوالے سے سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (سی ;200;ر ایس ایس)کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق سال 2019 میں پاکستان میں دہشت گردی اور انسداد دہشت گردی سے ہونے والی اموات میں 31فیصد کمی ;200;ئی اور یہ سال2018 میں 980 سے کم ہوکر2019 میں 679رہی ۔ خودکش حملوں میں بھی نمایاں کمی ;200;ئی اور ان کی تعداد2018کے 26حملوں سے کم ہو کر2019 میں 9رہی ۔ عسکریت پسندی کو قابو میں لانے کی وجوہات میں سے ایک کالعدم تنظیموں سے وابستہ مجرمان کی گرفتاریاں اور انکو دی گئی سزائیں ہیں ۔ پاک افغان سرحد محفوظ بنانےکی طرف نمایاں پیشرفت ہوئی ۔ 2611 کلومیٹر طویل پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا منصوبہ کامیابی سے جاری ہے ۔ یہ ردالفساد ;200;پریشنزکا ثمر ہے کہ ;200;ج ملک میں کھیلوں کے میدان سج رہے ہیں ، انٹرنیشنل کرکٹ بحال اور پی ایس ایل کا پانچواں ایڈیشن مکمل پاکستان میں ہو رہا ۔ امریکہ اور یورپ اپنی ٹریول ایڈوائیزری پاکستان کے حق میں مثبت بتا رہے ہیں جبکہ اقوام متحدہ اسلام ;200;باد کو فیملی سٹیشن قرار دے چکا ہے ۔ مختصر عرصہ میں اتنی شاندار کامیابیوں پر پوری قوم اپنی پاک افواج کو سلام پیش کرتی ہے ۔

ڈیرن سیمی کے لئے ایوارڈ،احسن اقدام

حکومت نے ویسٹ انڈین کرکٹر اور پاکستان سپر لیگ میں حصہ لینے والی پشاور زلمی کے کپتان ڈیرن سیمی کو پاکستان کا اعلیٰ ترین سول ایوارڈ دینے کا اعلان کیا ہے ۔ ساتھ ہی انھیں پاکستان کی اعزازی شہریت دینے کا بھی اعلان کیا گیا ہے ۔ یہ ایوارڈ صدرِ پاکستان عارف علوی 23 مارچ کو ہونے والی تقریب میں انہیں دیں گے ۔ ڈیرن سیمی کو پاکستان کا اعلیٰ ترین سول ایوارڈ دیا جانا پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی میں ان کی خدمات کا اعتراف ہے ۔ دنیا میں بہت کم ایسی مثالیں موجود ہیں کہ کسی کھلاڑی یا کسی کھیل سے وابستہ کسی شخصیت کو کسی ملک نے اعزازی شہریت دی ہو ۔ اگرچہ اس ایوارڈ کا حقدار ہر وہ غیر ملکی کھلاڑی ہے جس نے مشکل حالات میں پی ایس ایل میں حصہ لیا لیکن ڈیرن سیمی وہ کھلاڑی ہے جس نے سب سے پہلے نہ صرف اعلان کیا بلکہ دیگر کھلاڑیوں کی بھی حوصلہ افزائی کی ۔ اس ایوارڈ سے دنیا کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ پاکستان کھیل اور کھلاڑیوں سے محبت کرنے والا پر امن ملک ہے اور اس کے لوگ ہر اس شخص کو سر ;200;نکھوں پر بٹھاتے ہیں جو یہاں امن کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتے ہیں ۔ اس اعلیٰ ترین ایوارڈ کے اعلان پر ڈیرن سیمی کا کہنا ہے کہ پاکستان کی شہریت ملنا اعزاز کی بات ہے، انہیں پاکستان سے محبت کیلئے یہاں کے پاسپورٹ کی ضرورت نہیں ، کراچی میں ایک پریس کانفرنس میں سیمی نے کہا کہ پاکستان میں آج کرکٹ کی جو واپسی ہوئی ہے اس میں ہر اس کرکٹر کا کردار ہے جس نے پچھلے3سال کے دوران پاکستان کا دورہ کیا، انہوں نے پاکستان کیلئے جو کچھ کیا وہ ان کی یہاں کے عوام سے لگاو اور یہاں سے ملنے والی محبت کا نتیجہ ہے ۔

ایران میں کرونا وائرس سے اموات،پاکستان الرٹ رہے

ایران میں کورونا وائرس سے اموات کی رپورٹس سامنے ;200;نے کے بعدوزیراعظم عمران خان کے حکم پر بلوچستان حکومت نے ایران سے ملنے والے اضلاع میں فوری طور پر ایمرجنسی نافذ کرکے بروقت اقدام کیا ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے بھی معاملے کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے بلوچستان کے وزیر اعلیٰ جام کمال سے فوری رابطہ کرکے وائرس کو پاکستان میں داخل ہونے سے روکنے کے مسئلے پر تبادلہ خیال کیا ۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ پر زور دیا کہ صوبے کی ایران سے ملنے والی سرحد پر تمام تر حفاظتی اقدامات کیے جائیں ۔ سرکاری ذراءع کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کے محکمہ صحت نے تفتان کے سرحدی علاقے میں ایمرجنسی سینٹر اور کنٹرول روم قائم کرکے تھرمل گنز کے ساتھ7ڈاکٹروں کی ٹیم کو تفتان میں تعینات کردیا ہے جو زائرین سمیت ایران سے ;200;نے والے دیگر افراد کی اسکریننگ کر رہے ہیں ۔ اس موذی وائرس سے بچنے کا واحد حل ہی قبل از وقت احتیاطی تدابیر ہیں ،اس معاملے میں کسی بھی قسم کی غفلت اور لاپرواہی ،تباہ کن ہو سکتی ہے، یہاں ان احباب سے بھی گزارش ہے جن کے بچے چین میں پھنسے ہوئے ہیں ان کو واپس بلانے میں تحمل سے کام لیں ،حکومت ا س معاملے میں الرٹ اور فکرمند ہے جوں ہی حالات تسلی بخش ہوتے ہیں ان کے پیاروں کو واپس بلانے میں دیر نہیں لگائی جائے گی ۔