14

اپوزیشن کو شکست،رسی جل گئی بل نہیں گئے

میر حاصل بزنجو نے کہا کہ صادق سنجرانی کو استعفیٰ دے دینا چاہئے،بلاول بھٹو نے کہا کہ صادق سنجرانی مستعفی ہو جائیں ورنہ انکو کل تو جانا ہی ہو گا،شہباز شریف نے کہا کہ ابھی تو ابتدا ہے آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا،فضل الرحمان نے کہا کہ حکومت مستعفی ہو جائے ورنہ دھرنا دے کر حکومت گرا دینگے ۔ جی ہاں یہ وہ دعوے تھے جو متحدہ اپوزیشن چیئرمین سینیٹ کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ سے ایک دن قبل تک کرتی رہی مگر ہوتا وہی ہے جو منظور خدا ہوتا ہے،اللہ تعالیٰ کی پاک ذات کو غرور پسند نہیں یہی وجہ ہے کہ متحدہ اپوزیشن کو چیئرمین سینیٹ پر عدم اعتماد کی تحریک کے معاملے پر منہ کی کھانی پڑی اورتحریک کی حمایت میں 64ارکان ہونے کے باوجود حق میں 50ووٹ پڑے جبکہ چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کیلئے 53ووٹ درکار تھے،چیئرمین سینیٹ پر عدم اعتماد کی تحریک کیخلاف 45ووٹ پڑے جبکہ حکومت اور اسکے اتحادیوں کے ووٹوں کی تعداد 32تھی ۔ عدم اعتماد کی تحریک کی ناکامی پر صادق سنجرانی ہی بطور چیئرمین سینیٹ فراءض سرانجام دیتے رہیں گے ۔ اسی طرح ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کیخلاف بھی عدم اعتماد کی حکومتی تحریک کامیاب نہیں ہو سکی،متحدہ اپوزیشن نے ووٹنگ کا بائیکاٹ کیا جبکہ حکومت اور اسکے اتحادیوں نے سلیم مانڈوی والا کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک کے حق میں 32ووٹ ڈالے ۔ کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے اتحادیوں کیساتھ اپنے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کو بچانے کیلئے اپوزیشن کو دھوکہ دیا اور ووٹنگ کے عین وقت انتخابی عمل کا بائیکاٹ کر دیا جس کا ڈائریکٹ فائدہ پاکستان پیپلز پارٹی کو ہواجبکہ کچھ حلقے یہ کہ رہے ہیں کہ مسلم لیگ ن کے اندر قائم 2بیانیے شکست کی وجہ بنے تاہم اپوزیشن کو شکست کے بعد بلاول بھٹو کی میڈیا گفتگو کے دوران غیر فطری غصہ بھی بہت سے سوالات کو جنم دے رہا ہے اور اسی پیراہے میں رہی کسر پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹرز کی پھرتیوں نے پوری کر دی اور کچھ ہی دیر کے بعد اپنے استعفے چیئرمین پی پی بلاول بھٹو کے حوالے کر دئیے ،اس عمل نے مزید شکوک و شبہات پیدا کیے ۔ چیئرمین سینیٹ کے معاملے پر متحدہ اپوزیشن کو بدترین شکست ہوئی ہے اور اس شکست نے اپوزیشن کے اندر تقسیم کا پردہ فاش کر دیا ۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اگر اپوزیشن چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے میں کامیاب ہو بھی جاتی تو کوئی فرق نہ پڑتا ،نہ تو روٹی کی قیمت میں فرق پڑنا تھا اور نہ پیٹرول کی قیمت میں کمی واقع ہو جانی تھی،نہ تو عوامی مسائل کا حل نکلنا تھا اور نہ ہی روزگار کے مواقع پیدا ہو جانے تھے،نہ تو غریب افراد کیلئے دودھ اور شہد کی نہریں بہنا شروع ہو جانی تھیں اور نہ ہی انصاف کا بول بالا ہونا شروع ہو جانا تھا،نہ تو تعلیمی معیار بہتر ہوناتھا اور نہ ہی صحت کی سہولیات میں بہتری آجانی تھی،نہ تو غریب کے بچے کو سرکاری نوکری ملنا شروع ہو جانی تھی اور نہ ہی میرٹ کا طوطی سر چڑھ کر بولنا شروع ہو جانا تھا،نہ تو پولیس نظام بہتر ہونا تھا اور نہ ہی عام آدمی کی عزت ہوجانا شروع ہونی تھی ۔ غرض چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی سے کسی بھی قسم کی تبدیلی نہیں آنی تھی ہاں اتنی تبدیلی ضرور آتی کہ اپوزیشن کی بلیک میلنگ میں تھوڑا اضافہ ہو جانا تھا جس کا وزیراعظم عمران خان کی صحت پر کوئی اثر نہ پڑتا بلکہ الٹا یہ ممکن تھا کہ وزیراعظم عمران خان احتسابی عمل مزید تیز کر دیتے ۔ آج جب متحدہ اپوزیشن کو شکست ہوئی تو اپوزیشن کو اخلاقیات اور ضمیر فروشی کی یاد ستانا شروع ہو گئی ہے ۔ بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ ہم ہار کر بھی جیت گئے اور حکومت بے نقاب ہو گئی،مایوس نہیں ہوں اس معاملے کی چھان بین کرینگے ،جن سینیٹرز نے پیٹھ میں چھرا گھونپا انکو نہیں چھوڑیں گے جبکہ صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف نے میڈیا گفتگو کے دوران کہا کہ بدترین دن کو پوری دنیا نے دیکھا،سلیکٹڈ حکومت ضمیر فروشی سے ایک بار پھر جیت گئی،ہارس ٹریڈنگ کو بے نقاب کرنے کیساتھ ساتھ 14لوگوں کو عوام کے سامنے لائیں گے،متحدہ اپوزیشن نے بغیر سبق سیکھے ایک بار پھر چیئرمین سینیٹ کو مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ میں کھلے عام حملہ ہوا چیئرمین سینیٹ اخلاقی طور پر مستعفی ہو جائیں ۔ یعنی ابھی بھی اپوزیشن اپنی ڈھٹائی پر قائم ہے اور عوام کے سامنے سینہ تان کر پھرعوامی توجہ اصل حقیقت سے ہٹانے کی بھونڈی کوشش کر رہی ہے جس میں سابق امیدوار چیئرمین سینیٹ میر حاصل بزنجو پیش پیش ہیں انھوں نے قومی اداروں کے متعلق زہر اگلنا شروع کر دیا اپنی غلطی ماننے کے بجائے قومی اداروں پر سارا ملبہ ڈالنے کی کوشش کی جس پر ترجمان پاک فوج نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ میر حاصل بزنجو کے قومی ادارے کے سربراہ کے بارے میں الزامات بے بنیاد ہیں ،معمولی سیاسی فائدے کیلئے جمہوری عمل کو بدنام کرنے کا رجحان جمہوریت کی خدمت نہیں ۔ قصہ مختصر یہ کہ اگر اپوزیشن کو فائدہ ہو تو سارا نظام شفاف اگر کہیں شکست ہو جائے تو شکست برداشت کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور پھر یہ قومی اداروں پر مداخلت کے الزام لگانا شروع ہو جاتے ہیں اور ملک دشمن بیان بازی شروع کر دیتے ہیں یہ اتنا بھی نہیں سوچتے کہ عالمی برادری پر کیا اثر پڑے گا،یہ مفاداتی ٹولہ ملکی مفاد کو پس پشت ڈال کر قومی اداروں کیخلاف وہ زہر اگلنا شروع ہو جاتے ہیں جو انکے اندر ہمیشہ سے موجود رہتا ہے،دراصل انھوں نے وہ زہر ہر صورت اگلنا ہی ہوتا ہے چاہے صورتحال کوئی بھی ہو،یہ ہر صورت کو قومی اداروں کو بدنام کرنے کے موقع میں تبدیل کرنے کے ماہر ہیں ۔ ان کو خدا کا خوف کرنا چاہئے کہ جس ملک نے ان کو عزت و شہرت بخشی یہ اسی ملک کو نقصان پہنچانے کے مواقعوں کی تلاش میں ہمہ تن مصروف رہتے ہیں ۔ مجھے نہیں معلوم ایسی شخصیات کا کیا حل ہے اور انھیں حرف عام میں کیا کہا جاتا ہے مگر قومی اداروں کو چاہئے کہ غلط بیانی پر ان کو فوری عدالتوں میں لے جایا جائے اور دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کیا جائے تاکہ آئندہ کوئی قومی اداروں کیخلاف بولنے سے پہلے ضرور سوچے ۔ اپوزیشن کو اپنی صفوں میں موجود بکاوَ مال کو ڈھونڈنا چاہئے اگر کوئی ہے تو یا پھر اپنے بیانیے اور طرز سیاست پر غور کرے جس پر انہی کے سینیٹر متفق نہیں ۔ یہ سچ ہے کہ مغرور اپوزیشن نے چیئرمین سینیٹ کیخلاف جلد بازی میں قدم اٹھایا اور گرم گرم دودھ پینے کی کوشش کی جس کے باعث انکی زبان جل گئی اگر اپوزیشن میں تھوڑی بھی سمجھ بوجھ ہو تو زبان کے بل ختم کر دے گی ورنہ یہ بل عوام میں گرتی ساکھ کو ایک اور دھکا دینگے ۔ اپوزیشن کو چاہئے کہ جمہوری انداز میں جمہوریت کی خدمت کرے ،جمہوری اصولوں کی آڑ میں ذاتی مفاد کے حصول کی کوششوں سے کسی کو فائدہ نہیں ہو گا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں