Home » کالم » ایل اوسی پر بھارتی بلا اشتعال فائرنگ، عالمی برادری نوٹس لے
adaria

ایل اوسی پر بھارتی بلا اشتعال فائرنگ، عالمی برادری نوٹس لے

بھارت نے خطے کو بالکل تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے ۔ اس کا جنگی جنون کسی طرح تھمنے میں نہیں آرہا ۔ آئے دن ایل او سی پر بلا اشتعال فائرنگ بھارتی معمول بن چکا ہے جب بھی پاک فوج منہ توڑ جواب دیتی ہے تو دشمن کی گولیوں کے دہانے خاموش ہو جاتے ہیں ۔ گزشتہ روز بھی جب پاک فوج نے بھارت کو ایل او سی پر بلا اشتعال فائرنگ کا بھرپور جواب دیا تو اس کے 9فوجی جہنم رسید ہوگئے اور پھر ان کی نعشیں اٹھانے کیلئے بھارتی بزدلوں کو سفید جھنڈے کا سہارا لینا پڑا ۔ جب اتنی ہمت نہ ہو تو بھارت کو ایسا اقدام نہیں اٹھانا چاہیے ۔ اس کو ہمیشہ منہ کی کھانا پڑتی ہے ۔ بین الاقوامی برادری بھی بھارتی جنگی جنون کو نوٹ کرے اور دیکھے کہ انڈیا کس طرح اس خطے کا امن تہہ و بالا کررہا ہے ۔ دونوں ممالک ایٹمی صلاحیت کے حامل ہیں ۔ ایسے میں کوئی بھی غلط اقدام پوری دنیا کیلئے کسی بڑی تباہی کا باعث بن سکتا ہے ۔ بھارت نے ہمیشہ شہری آبادی کو نشانہ بنایا ۔ فائرنگ کے تبادلے میں میں پاک فوج کا ایک سپاہی اور 5 شہری شہید اور پاک فوج کے دو جوان اور چھ شہری زخمی ہوگئے ، پاک فوج کی موثر جوابی کارروائی کے نتیجے میں 9بھارتی فوجی مارے گئے ،کئی زخمی اور دو بھارتی بنکرز تباہ ہوگئے پاکستانی دفتر خارجہ نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر گورو اہلوالیہ کو طلب کر کے ایل او سی کی خلاف ورزی اور شہادتوں کے واقعہ پر شدید احتجاج کرتے ہوئے خبر دار کیا ہے کہ ہم اپنے ملک کا دفاع کرنا جانتے ہیں ،شہادت ہے مطلوب و مقصود ہے مومن ،نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کے مطابق بھارتی افواج نے ایک بار پھر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جوڑا، شاہکوٹ اور نوشیری میں بلا اشتعال فائرنگ کر دی ، بھارتی فوج کی جانب سے شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بھارت مبینہ کیمپوں کے جعلی دعوءوں میں جان ڈالنے کےلئے معصوم شہریوں کو نشانہ بنارہا ہے ۔ بھارتی بلا اشتعال کارروائی کے باعث زخمی ہونے والوں کو ڈسٹرکٹ ہسپتال منتقل کر دیا گیا ۔ اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین برائے بھارت و پاکستان اور مقامی و غیر ملکی میڈیا نمائندگان کو آزاد کشمیر میں مکمل رسائی حاصل ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر میں انہیں یہ آزادی حاصل نہیں ۔ اقوام متحدہ کے مبصر مشن کے اراکین، عالمی و ملکی میڈیا ازاد کشمیر جا کر صورتحال کا جائزہ لے سکتا ہے ۔ میجر جنرل آصف غفور نے کہاکہ بھارتی فوج کو جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا ہمیشہ بھرپور جواب ملے گا ۔ ڈی جی آئی ایس پی نے بتایاکہ بھارتی میڈیاجھوٹے پروپیگنڈے میں مصروف ہوگیا،بھارتی میڈیانے مبینہ کیمپس کونشانہ بنانے کاجھوٹادعویٰ کیا ہے ۔ بھارت اخلاقی جرات سے پاک فوج کی جوابی کارروائی کے نقصانات سامنے لائے ۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں صورتحال تک رسائی دینے کی بھی جرات کرے ۔ بھارت کے تمام جھوٹے دعوے منطقی انجام تک پہنچ چکے ہیں ۔ بھارت کایہ جھوٹادعویٰ بھی اپنے انجام تک پہنچے گا ۔ بھارتی میڈیاپاکستانی میڈیاسے ذمہ دارانہ رپورٹنگ سیکھے ۔ ادھرمظفرآباد کے ڈپٹی کمشنر بدر منیر نے کہا کہ ;39; شیلنگ رات میں شروع ہوئی تھی اور بہت زیادہ تھی ۔ بھارتی فوج نے مارٹر

گولوں کا استعمال کیا اور شہری آبادیوں کو نشانہ بنایا ۔ نوسیری سیکٹر میں صوابی کے رہائشی 35 سالہ لیاقت خان اور ٹیکسلا کے رہائشی 30 سالہ فیصل لنک روڈ پر خیمے کے قریب شیل گرنے سے جاں بحق ہوئے، دونوں افراد پنجکوٹ روڈ پر مزدوروں کے طور پر کام کررہے تھے ۔ نوسیری سیکٹر کے گاؤں کنور میں 38 سالہ شبیر اور ان کی 60 سالہ والدہ جاں بحق ہوگئیں ۔ بھارتی شیلنگ کے نتیجے میں علاقے کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لیا جارہا ہے ۔ آٹھمقام میں پولیس عہدیدار فیض طلب نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ جورا گاؤں میں جاں بحق شخص کی شناخت لورالائی کے رہائشی ظفر خان کے نام سے ہوئی جبکہ اسلام پورہ گاؤں میں ایک خاتون اور 3 بچیاں زخمی ہوگئیں ۔ زخمیوں کو علاقے میں واقع ملٹری ہسپتال منتقل کیا گیا ۔ فیض طلب نے بتایا کہ بھارتی شیلنگ کے نتیجے میں 43 دکانیں ، 53 مکان، 6 گاڑیاں اور 3 موٹرسائیکلوں کو نقصان پہنچا ۔ ترجمان کے مطابق بھارتی فوج نے 19 اور 20 اکتوبر کو ایل او سی پر بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی ۔ طلبی ڈی جی ساوَتھ ایشیاء و سارک ڈاکٹر محمد فیصل نے کی ۔ بھارت کنٹرول لائن پر فائرنگ کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں اپنے مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے ۔ ترجمان نے بتایاکہ بھارت اقوام متحدہ کے امن مشن کوسلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کردارادا کرنے دے ۔ بھارت کی طرف سے2017سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں میں تیزی آئی ہے ۔ ترجمان نے کہاکہ بھارت کی جنگ بندی کی خلاف ورزی علاقائی امن و سلامتی کیلئے خطرہ ہے پاکستان نے بھارت پر زور دیا ہے کہ2003کی جنگ بندی مفاہمت کا احترام کرے ۔ بھارت اپنی افواج کو جنگ بندی پرمکمل عملدرآمد کی ہدایت کرے، لائن آف کنٹرول اورورکنگ باوَنڈری پر بھارت امن برقرار رکھے ۔ بھارتی فوج نے جان بوجھ کر شہری آبادی کو نشانہ بنایا، پاک فوج نے بھارتی اشتعال انگیزیوں کا منہ توڑ جواب دیا ،دوبھارتی بنکرز بھی تباہ ہوئے ،ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارتی فوج کو ہر سیز فائر خلاف ورزی کا موَثر جواب دیا جائے گا، پاک فوج ایل اوسی پر شہری آبادی کا تحفظ یقینی بنائے گی ۔ جبکہ وزیر اعظم عمران خان نے ایل او سی کی شہری ;200;بادی پر بھارت کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کی شدیدمذمت کی ہے ۔ و زیر اعظم نے بھارتی فائرنگ سے شہید ہونے والے شہریوں اورپاک فوج کے جوان کی بلندی درجات کی دعا کی اور بھارتی فورسز کو منہ توڑ جواب دینے اور جرات و بہادری پر پاک فوج کو سلام پیش کیا ہے ۔ بھارت پاکستان کی امن خواہش کو کمزوری نہ سمجھے بھارتی دہشت گردی اور ایل او سی پر آئے دن خلاف ورزیاں حد سے تجاوز کرچکی ہیں جیسے ہی بھارت میں کوئی انتخاب قریب آتا ہے تو مودی پاکستان کارڈ کو استعمال کرنا شروع کردیتے ہیں ۔ پہلے بھارت اپنی فضائیہ اور ایل او سی پر تعینات فوجیوں کی حالت دیکھ چکا ہے ۔ ابھی نندن کی یاد بالکل تازہ ہے جس نے کہا تھا کہ بھارت کسی بھی بات کا بتنگڑ بنا لیتا ہے ۔ وہاں پر صبر نام کی کوئی چیز نہیں ۔ کانگریس کی جانب سے بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں ۔ یہ مودی کی خام خیالی ہے کہ وہ پاکستان پر حملہ کرکے کوئی کامیابی حاصل کرلے گا ۔ پاکستان کی بری، بحری اور فضائیہ افواج مکمل طورپر چوکس اور دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں ۔ ترجمان پاک فوج نے بھی دشمن کو تنبیہ کردی ہے کہ کسی بھی طرح کی سرحدی خلاف ورزی کا بھرپور اور تگڑا جواب دیا جائے گا ۔

مولانا فضل الرحمن معاملات باہمی افہام و تفہیم سے حل کریں

اپوزیشن کا آزادی مارچ تاحال تو کامیابی سے ہمکنار ہوتا نظر نہیں آرہا ۔ فضل الرحمن تو ڈٹے ہوئے ہیں کہ ہر صورت میں آزادی مارچ اور دھرنا ہوگا ۔ لیکن (ن) لیگ اور پیپلزپارٹی کے پہلے دن سے تحفظات ہیں جوکہ ابھی تک قائم ہیں ۔ سندھ میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں پیپلزپارٹی فضل الرحمن سے ناراض ہے جبکہ مسلم لیگ بھی مارچ کی حد تک ساتھ دینے کا کہہ رہی ہے مگر دھرنے کے خلاف ہے ، اب یہ مسئلہ رہبر کمیٹی کے سپرد کردیا گیا ہے کہ وہ فیصلہ کرے گی دھرنا دینا ہے یا نہیں ۔ رہبر کمیٹی بھی ڈانواڈول ہے ۔ حکومت بھی متعدد بار مذاکرات کا کہہ چکی ہے بلکہ باقاعدہ اپوزیشن سے رابطہ بھی کیا لیکن مولانا فضل الرحمن اور ان کی جماعت نے قطعی طورپر انکار کردیا ہے جوکہ اچھا شگو نہیں وہ وزیراعظم کے استعفے پر بضد ہیں اگر استعفیٰ ہو جاتا ہے تو پھر مذاکرات کس بات کے ۔ جمہوریت کا حسن مخالفت ہے مگر وہ مخالفت برائے مخالفت نہیں ، مخالفت برائے تعمیر ہونا چاہیے ۔ ہٹ دھرمی کے نتاءج کبھی اچھے نہیں نکلتے ۔ اس سے نقصان کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا جب حکومت ہاتھ بڑھا رہی ہے تو مولانا فضل الرحمن کی اتحادی جماعتوں کو بھی چاہیے کہ وہ مذاکرات کی ٹیبل پر بیٹھیں اور باہمی افہام وتفہیم سے معاملات طے کریں کیونکہ حکومت اس وقت بیرونی دنیا میں مسئلہ کشمیر کا مقدمہ لڑ رہی ہے اور بھارت بھی جنگی جنون میں اندھا ہوچکا ہے ایسے میں اتفاق و اتحاد کی ضرورت ہے ۔ نفاق سے صرف اور صرف فائدہ دشمن کو ہوگا ۔ ہماری مولانا فضل الرحمن کو رائے ہے کہ احتجاج ضرور کریں ، یہ آپ کا جمہوری ہے اس سے دنیا کا کوئی قانون آپ کو روک نہیں سکتا لیکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں ۔

About Admin

Google Analytics Alternative