Home » کالم » ایمنسٹی سکیم اورپاکستانی معیشت
adaria

ایمنسٹی سکیم اورپاکستانی معیشت

ایمنسٹی اسکیم کے حوالے سے حکمران جماعت کے درمیان وزراء کی آراء مختلف ہوگئی ہے۔ گزشتہ روز اسکیم کا اعلان کرنا تھا لیکن پی ٹی آئی کے کچھ وزراء نے اس کی مخالفت کردی جس کی وجہ سے اعلان موخرکرناپڑا ، پیپلز پارٹی نے بھی صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ایمنسٹی اسکیم کے نفاذ کی مخالفت کی تھی۔ نیز ماضی کی اسکیم کو دیکھتے ہوئے بھی اس مرتبہ یہ اقدام کوئی خاصی کامیابی سے ہمکنار ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا۔ شاید اسی وجہ سے اس پر مزید بحث کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے فی الحال اسے موخر کردیا گیا ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، ٹیکس کے نظام کو مزید پھیلانے اور ٹیکس ادائیگی کے حوالے سے بہت سے مسائل درپیش ہیں، نظام کو بھی درست کرنے کیلئے حکومت کو حتمی اقدام اٹھانے پڑیں گے۔ کپتان بھی مختلف چیزوں کو دیکھ ر ہے ہیں مگر چونکہ وہ پوری ٹیم کے کپتان ہیں انہیں خصوصی طورپر پنجاب اور کے پی کے کے مسائل بھی درپیش ہیں انہیں بھی حل کرنا وزیراعظم ہی کی ذمہ داری میں آتا ہے، ان سب چیزوں کو حل کرنے میں ٹیم کے دیگر کھلاڑی ممدو معاون نظر نہیں آرہے اسی وجہ سے حکومت کے متعدد منصوبوں کو اپوزیشن زبردست ہدف تنقید بناتی ہے۔ وفاقی کابینہ نے منی لانڈرنگ کے حالیہ کیسز میں شدید تحفظات کا اظہار کیا اور اس عزم کا اعادہ کہ کیسزکو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا سی ٹی ڈی کو انسداد منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے حوالے سے اختیارات دیدیئے گئے ہیں۔حکومت 1 سے 5گریڈ کی نوکریاں قرعہ اندازی سے دے گی جبکہ دیگر گریڈ کی نوکریاں ٹیسٹ نظام سے دیں گے ۔ اس بات کا فیصلہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا جوگزشتہ روز وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت ہوا۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا کہ ماضی کے حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک اقتصادی بدحالی کا شکار ہے۔ ماضی میں شریف خاندان اور زرداری نے منی لانڈرنگ اور کرپشن کی انتہا کی۔ شریف خاندان کے 95 فیصد اثاثوں کی ڈیکلریشن ٹی ٹی بیسڈ ہے۔ ٹی ٹی پیغامات کے ذریعے نواز شریف اور شہباز شریف کو پیسے باہر سے آتے رہے۔ حسن نواز، حسین نواز اور اسحاق ڈار عدالتوں کا سامنا نہیں کر رہے ہیں۔ متحدہ بانی، اسحاق ڈار، حسن اور حسین نواز پاکستان کے دیئے ہوئے تحفے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ برطانیہ انہیں واپس کرے۔ زرداری اور شریف خاندان اگر لوٹی ہوئی ملکی دولت واپس کر دیں تو ملک میں مہنگائی نہیں ہوگی۔ ماضی کی حکومتوں کے کابینہ ارکان بھی میگا سکینڈلز منی لانڈرنگ میں ملوث تھے۔ ہل میٹلز کے اکاؤنٹ سے ایک ارب 82 کروڑ روپے نواز شریف کو منتقل ہوئے۔ حمزہ شہباز کے 97 فیصد جبکہ شریف خاندان کے 95 فیصد اثاثے ٹی ٹی کے ذریعے بنے۔ اگر شریف خاندان 26 ملین ڈالر ظاہر کرکے پاکستان لاتا ہے تو سوچیں ان کا کتنا پیسہ باہر ہوگا؟ نیشنل ایکشن پلان کے بعد دہشت گردی کے واقعات میں کمی آئی ہے، نظام کی تبدیلی کی جنگ جاری ہے سب لوگ اپنے اپنے کام کر رہے ہیں، وفاقی کابینہ نے پی ٹی اے کے حوالے سے سفارشات تیاری کے لئے کابینہ کمیٹی کے قیام ، آڈیٹر جنرل آفس کی استعداد کار بڑھانے کیلئے ڈاکٹر عشرت حسین کو ٹاسک سونپنے،بھرتی کیلئے اراکین پارلیمنٹ کا کوٹہ ختم کر کے گریڈ ایک تا پانچ بھرتی کیلئے قرعہ اندازی کا نیا طریقہ کار اپنانے، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو ٹیسٹنگ سروسز کا جائزہ لینے، پاکستان سٹیل مل کے بحالی پلان ،پی ٹی ڈی سی اور متروکہ وقف املاک بورڈ چیئرمین کی تقرری کی منظوری دیدی ہے۔ کابینہ نے پاکستان پینل کوڈ میں ترمیم کی منظوری دیدی ہے جس کے بعد بیرون ممالک سے حوالے کئے گئے ملزمان کو سزائے موت نہیں دی جائے گی۔ بیرون ملک سے ملزم لانے کیلئے پینل کوڈ میں ترمیم ہوگی۔ حقیقت ہے کہ پاکستان کی عدالتوں، جیلوں اور پراسیکیوشن میں فرق ہے اس فرق کو دور کرنا ہے ،پی ٹی آئی نے حکومت تبدیل کی ہے اب نظام تبدیلی کی جنگ جاری ہے ، وزیراعظم کی کوشش ہے کہ امیروں اور غریبوں کے ساتھ ایک جیسا سلوک ہو ۔
پشاورمیں دہشت گردوں کیخلاف کامیاب آپریشن
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے پشاور کو بڑی تباہی سے بچا لیا ، جب انہیں پتہ چلا کہ ایک مکان میں دہشت گرد چھپے بیٹھے ہیں تو جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے لیا جس پر دہشت گردوں نے فائرنگ شروع کردی ، جوابی کارروائی کے دوران پانچ دہشت گرد مارے گئے جبکہ ایک اے ایس آئی نے جام شہادت نوش کیا۔ کوئٹہ ہزار گنجی، چمن کے بعد پشاور میں واقعہ کا رونما ہونا دہشت گردوں کیخلاف مزید گھیرا تنگ کرنے کی غمازی کرتا ہے۔ اگر خدانخواستہ پشاور میں بروقت کارروائی نہ کی جاتی تو کوئی بڑا واقعہ رونما ہوسکتا تھا۔ ہمارے امن و امان قائم کرنے والے ادارے پوری طرح چوکس ہیں اور دشمن کو اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیتے تاہم من حیث القوم ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے دائیں بائیں ایسے افراد پر نظر رکھیں جن کی حرکات و سکنات مشکوک ہوں ان کے بارے میں ہر شخص کو متعلقہ اداروں کو فوری اطلاع کرنے کی ضرورت ہے۔
پروگرام’’ سچی بات‘‘ میں ایس کے نیازی کی فکرانگیزگفتگو
پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روزنیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے روز نیوز کے پروگرام ’’سچی بات ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ بھارت کے ساتھ ہمارے معمولات شروع سے خراب ہیں،سب سے اہم مسئلہ کشمیر ہے اس کے بعد پانی کا مسئلہ بھی ہے،اللہ کرے کہ مودی وزیراعظم عمران خان کی امید پرپورا اتریں،پاکستانی فوج دنیا کی مانی ہوئی فوج ہے، پاکستان آرمی کی تو بھارت کاپی کررہاہے،ہمارے گانے کی بھی کاپی کی گئی،پاکستان آرمی پر تو ہم جان بھی قربان کرتے ہیں ، لوگوں کا بہت برا حال ہے،لوگوں کی طرف توجہ کی ضرورت ہے،پرائیویٹ سکولوں نے لوٹ مار مچائی ہوئی ہے، ہرگلی ہرمحلے میں سکول کھلے ہیں،لوگ گھروں سے نہیں نکل سکتے،گورنمنٹ کے سکول اچھے ہونگے تو آپ کامیاب ہونگے،پشاور میٹروبس کا ٹھیکہ غلط بندے کو دیا گیا ہے،بہتری کاراستہ سوچنا چاہیے، اس ملک کا حل ہی صدارتی پارلیمانی نظام ہے، روزنیوز کے پروگرام ’’ سچی بات ‘‘میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر رہنما پیپلز پارٹی قمر زمان کائرہ نے کہا کہ آج تک پاکستان میں احتساب کا نظام لوگوں کے بازومروڑنے کیلئے استعمال ہوا ہے،لوگوں نے فرضی اکاؤنٹس کھول رکھے ہیں جو غلط ہیں،کسی کاروباری شخصیت سے پوچھیں کہ آپ نے دولت کہاں سے بنائی تووہ نہیں بتاسکے گا،ہمارے دور حکومت میں نیب قانون نہیں بنے ،ہم نے اپنے دورحکومت میں ریکارڈ قانون سازی کی ،حکومت نے پچھلے 8ماہ سے کوئی قانون سازی نہیں کر سکی،اپوزیشن حکومت کو کہتی ہے کہ ہم تعاون کرنے کیلئے تیار ہیں،ملک مشکل حالت میں ہے،حکومت کو عوام کا سوچنا چاہیے۔

About Admin

Google Analytics Alternative