Home » کالم » ایٹمی پروگرام ، بھارت اور اسرائیل کی پریشانی کا باعث

ایٹمی پروگرام ، بھارت اور اسرائیل کی پریشانی کا باعث

پاکستان کا ایٹمی پروگرام چار عشروں سے نہ صرف بھارت بلکہ اسرائیل اور دوسرے مغربی ممالک کےلئے سوہان روح بنا ہوا ہے کیونکہ ایک اسلامی ریاست کا نیوکلیئر صلاحیت حاصل کر لینا کسی کو گوارا نہیں ۔ چنانچہ وقتاً فوقتاً ہماری ایٹمی تنصیبات پر حملوں اور دباوَ کے حربوں کے ذریعے پاکستان کو ایٹمی صلاحیت سے محروم کرنے کی منصوبہ بندی سامنے آتی رہی ہے ۔ 1980ء کے عشرے میں پاکستان کو اسرائیل کی طرف سے ایسی ہی کارروائی کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں ، جیسی اس نے عراقی تنصیبات کے خلاف کی تھیں ۔ جبکہ 1998ء میں بھی اسرائیل اور بھارت کی ایسی ہی سازش منظر عام پر آئی تھی جس کے بعد پاکستان نے ایٹمی دھماکے کر کے اپنے نیوکلیئر ریاست ہونے کا اعلان کیا ۔ حال ہی میں پاک بھارت چپقلش اور فضائی جنگ میں اسرائیل بھارت گٹھ جوڑ بھی سامنے آیا ۔ اسرائیلی پائلٹوں نے بھارتی مگ اڑائے ۔ اس کے علاوہ بہاولپور اور کراچی پر حملہ کا مشترکہ منصوبے کا انکشاف بھی ہوا ۔ پاکستان کے خلاف بھارتی اور اسرائیلی گٹھ جوڑ اگرچہ نئی بات نہیں لیکن دونوں ملکوں کی طرف سے پاکستان کے خلاف افغان سرزمین کو سازشوں کا مرکز بنانا ضرور تشویش ناک ہے ۔ یہ معاملہ اس حوالے سے بھی خطرناک ہے کہ افغانستان میں امریکہ بنفس نفیس موجود ہے اور وہ پاکستان کے خلاف کی جانے والی سازشوں سے لاعلم نہیں ہوگا ۔ تو کیا یہ سمجھا جائے کہ جو کچھ ہو رہا ہے اس میں کسی نہ کسی طرح امریکہ بھی شریک ہے ۔ بھارت اور اسرائیل دونوں پاکستان کے دشمن ہیں اور انہیں پاکستان کا وجود بلکہ ترقی و خوشحالی، آزادی اور سلامتی گوارا نہیں ۔ اس لیے وہ زبانی کلامی امن و آشتی کا راگ الاپنے کے باوجود پاکستان کی جڑیں کھوکھلی کرنے، اسے سیاسی و اقتصادی عدم استحکام سے دو چار کرنے اور اس کے دفاع کی موَثر ضمانت ایٹمی پروگرام سے محروم کرنے کےلئے ریشہ دوانیوں میں مصروف ہیں ۔ بھارت اسرائیل تعلقات بہت عرصے سے قائم ہیں ۔ ماضی میں بھی بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ کی اطلاعات ملتی رہی ہیں اور خاص طور پر کہوٹہ پلانٹ پر حملے کے حوالے سے کافی افواہیں گردش میں رہی ہیں کہ بھارت اسرائیل کے تعاون سے پاکستان کی ایٹمی لیبارٹری پر حملے کا ارادہ رکھتا ہے ۔ کیونکہ پاکستان کا ایٹمی ٹیکنالوجی میں پیش قدمی کرنا دونوں ممالک کے لئے ناپسندیدہ ہے ۔ اسی طرح مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین کے حملوں سے بچنے اور ان کی کارروائیوں سے با خبر رہنے کےلئے اسرائیل نے بھارت کو فوجی اور افرادی امداد مہیا کی تھی اور اس کے ثبوت میں چند اسرائیلی کمانڈوز مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین کے ہاتھوں گرفتار اور مارے بھی گئے تھے لیکن بھارت نے اس بارے میں خاموشی اختیار کی اور ان اطلاعات کو جھٹلایا کہ اسرائیلی کمانڈوز مقبوضہ کشمیر میں سر گرم عمل ہیں ۔ پاکستان اسلامی جمہوریہ ہے جس کے بانی اور قائد نے قیام پاکستان سے قبل فلسطینی کاز کی حمایت کی ۔ اسرائیل کے قیام کو ناجائز قرار دیا ۔ اسرائیلی لیڈروں کی طرف سے پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات بنانے کےلئے مسلسل کاوش جاری ہے مگر دوسری جانب وہ بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان اور مسلمانوں کو کوئی نقصان پہنچانے کا موقع بھی جانے نہیں دیتے ۔ مقبوضہ کشمیر میں خوں ریزی اسرائیلی رہنمائی میں ہی جاری ہے اور بھارتی حکومت کو اسرائیلی لیڈروں نے کبھی پاکستان کی حمایت میں کسی عمل کا مشورہ نہیں دیا ۔ اسرائیل نے اپنی اسلام دشمنی کا بھارت کو بھی راستہ دکھایا ہے کہ جس طرح اسرائیل میں نوجوان فلسطینیوں کو شہید کیا جا رہا ہے اس طرح بھارت بھی مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں نوجوان مسلمانوں کو مسلسل شہید کرتا رہے ۔ اس طرح وہ مسلمانوں کی نسل کشی میں کامیاب رہے گا ۔ تحریک آزادی کشمیر کو دبانے کے لئے بھارت پہلے ہی اسرائیل کا تعاون حاصل کر رہا ہے ۔ مجاہدین کی نقل و حمل کا سراغ لگانے اور ان کی کارروائیوں کو روکنے کےلئے اسرائیل زمینی راڈار سمیت دوسرے ہتھیار بھی بھارت کو فروخت کر رہا ہے ۔ اسکے علاوہ اسرائیل کمانڈوز بھارتی کمانڈوز کو جدید تربیت بھی دے رہے ہیں ۔ یہود و ہنود کا گٹھ جوڑ اب تک کچھ مصلحتوں کی بناء پر درپردہ رہا مگر اب یہ کھل کر سامنے آگیا ہے ۔ قران پاک نے بھی ان دونوں قوموں سے مسلمانوں کو ہوشیار رہنے کی تلقین کی تھی ۔ اس جوڑ کا توڑ مسلم اتحاد اور مسلم ممالک کی اقتصادی و فوجی ترقی ہے ۔ پاکستان کو اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے اپنے دیرینہ دوست چین کے ساتھ معاونت ضروری ہے ۔ تاکہ دونوں ملک ان دونوں شیطانوں کے ممکنہ حملے سے محفوظ رہیں ۔ اسرائیل بھارت گٹھ جوڑ کی ایک بڑی وجہ اسرائیلی اسلحہ کی بھارت کو فروخت بھی ہے ۔ اسرائیل امریکہ کا اسلحہ استعمال کرتا ہے ۔ اسرائیل نے بھارت کو حال ہی میں اسلحہ کی پیش کش کی ہے اس طرح امریکہ اپنا اسلحہ اسرائیل کے ذریعے بھارت کو فروخت کرے گا ۔ بھارت کا طیارہ سازی کا پروگرام بالکل ختم ہو چکا ہے وہ اس کو اسرائیل کے تعاون سے دوبارہ شروع کرنا چاہتا ہے ۔ بھارت کے پاس مگ21 ساخت کے طیارے ہیں جو اپنی عمر پوری کر چکے ہیں اب ان کو اپ گریڈ کرنے کا مسئلہ ہے ۔ اسرائیل نے بھارتی فضائیہ کو اپ گریڈ کرنے کی حامی بھری ہے ۔ مزید اسرائیل بھارتی پائلٹوں کو اسرائیل میں تربیت دینے کےلئے بھی تیار ہے ۔ یہ حال میزائل سازی کا بھی ہے ۔ اسرائیل ماضی میں بھی بھارت کو اسلحہ کی کافی امداد دیتا رہا ہے ۔ کارگل میں آپریشن کے دوران اسرائیل نے بھارت کو بغیر پائلٹ کے جاسوس طیارے اور جدید فضائی نگرانی کے الات دیے ۔ اسی طرح بھارت کو جدید ترین فالکن طیارہ بردار راڈار فراہم کیے ۔ یہ تمام ہتھیار امریکی ساخت کے ہیں اور امریکی حکومت کی اجازت کے بغیر اسرائیل ان کو کسی ملک کو فروخت نہیں کر سکتا ۔ ماضی میں امریکہ اسرائیل پر بھارت کو یہ آلات فروخت کرنے پر پابندی لگاتا رہا لیکن اب امریکہ کی رضامندی سے یہ سب کچھ ہو رہاہے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative