راقم الحروف پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر کو ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کا چیرمین مقرر ہونے پر مبارکباددیتا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر کی تعلیمی خدمات، تحقیقی بصیرت اور انتظامی تجربہ اعلیٰ تعلیم کے شعبے کیلئے ایک قیمتی اثاثہ ہے۔ ڈاکٹر نیاز احمد اختر کی قیادت میں ایچ ای سی پاکستان میں اعلیٰ تعلیم، تحقیق، جدت اور عالمی معیار کے فروغ کیلئے مزید مؤثر کردار ادا کرے گا۔ یہ تقرری نہ صرف پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر کی علمی و پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا اعتراف ہے بلکہ ملک کے تعلیمی مستقبل کیلئے ایک خوش آئند پیشرفت بھی ہے ۔ دعا ہے اللہ تعالیٰ انہیں اس اہم قومی ذمہ داری کی ادائیگی میں کامیابی، بصیرت اور استقامت عطا فرمائے اور ان کی قیادت میں پاکستان کا اعلیٰ تعلیمی نظام مزید مضبوط اور مؤثر ہو۔ ایچ ای سی اور جامعات کے مابین باہمی تعاون نئی بلندیوں کو چھوئے گا اور قومی ترقی میں اعلیٰ تعلیم کا کردار مزید نمایاں ہوگا۔وفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر پاکستانی تعلیمی میدان کے ایک ممتاز رہنما اور محقق ہیں جو 2018ء میں پنجاب یونیورسٹی کے پہلے مستقل وائس چانسلر مقرر ہوئے۔ 1962ء میں ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہونے کے بعد انھوں نے پنجاب یونیورسٹی سے کیمیکل انجینئرنگ میں بی ۔ ایس ۔ سی اور یونیورسٹی آف لیڈز سے ماحولیاتی مینجمنٹ میں پی ایچ ڈی مکمل کی۔ان کی قیادت میں یونیورسٹی نے مالیاتی اصلاحات، تحقیقاتی و تدریسی مراکز کے قیام، ملازمین کی ترقی اور بین الاقوامی ساکھ میں بہتری جیسے اقدامات کیے۔ انھوں نے تحقیق کو فروغ دیا، خصوصی بچوں کی تعلیم کی حوصلہ افزائی کی اور حکومت کی جانب سے ستارہ امتیاز سے نوازے گئے۔ 2023ء میں انھیں قائد اعظم یونیورسٹی کا وائس چانسلر مقرر کیا گیا، جہاں انھوں نے تعلیمی معیار اور انتظامی اصلاحات کو آگے بڑھایا۔ڈاکٹر صاحب پاکستانی پنجاب کے جنوبی حصے میں واقع ضلع ڈیرہ غازی خان میں 1962ء کو پیدا ہوئے۔انھوں نے 1977ء میں ملتان بورڈ سے میٹرک کا امتحان فرسٹ ڈویڑن کے ساتھ پاس کیا۔ دو سال بعد 1979ء میں پنجاب یونیورسٹی میں کیمیکل انجینئرنگ کے طالب علم کے طور پر داخلہ لیا۔ 1985–86 میں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے کیمیکل انجینئرنگ میں بی ایس سی مکمل کرنے کے بعد 1995ء میں یونیورسٹی آف لیڈز سے ماحولیاتی مینجمنٹ میں پی ایچ ڈی مکمل کی ۔ پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے تعلیمی قیادت اور انتظامی صلاحیتوں کے ذریعہ پاکستانی تعلیمی نظام میں نمایاں کردار ادا کیا ہے ۔ 2018ء میں پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر بننے کے بعد انھوں نے مختلف اصلاحاتی اقدامات کی ابتدا کی۔ ان کی قیادت میں یونیورسٹی کے مالیاتی انتظامات کو بہتر بنایا گیا اور خسارے پر قابو پایا گیا۔پنجاب یونیورسٹی کی تاریخ بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب کا کہنا تھا کہ پنجاب یونیورسٹی کے پہلے وائس چانسلر سر جیمز براڈ ووڈ لیال تھے اور اس وقت اس کا رقبہ 300 ایکٹر پر محیط تھا۔ جامعہ کا آغاز اورینٹل لرننگ کی ڈگریز سے ہوا۔شروع میں تو اورینٹل لرننگ لیکن بعد میں ہر طرح کی فیکلٹی جامعہ پنجاب کا حصہ بن گئی۔ اب تو یہاں کوئی ایسا مضمون نہیں جو نہ پڑھایا جاتا ہو ۔ ان کی زیرِ قیادت، پنجاب یونیورسٹی نے نئے تحقیقی و تدریسی مراکز قائم کیے یونیورسٹی کی بین الاقوامی ساکھ میں بہتری کیلئے پانچ سالہ پروگرام متعارف کرایا گیا۔ان کی صدارت میں تقریباً 1800 ملازمین کو ترقی دی گئی، جو پنجاب یونیورسٹی کی تاریخ میں سب سے بڑی پروموشن تھی۔یونیورسٹی میں مختلف کمیٹیاں فعال کی گئیں تاکہ تعلیمی امور اور تحقیقاتی پراپوزلز پر باقاعدہ نگرانی ہو سکے۔نیاز اختر نے تحقیق کو بھی اہمیت دی اور تحقیقاتی فنڈنگ میں اضافہ کیا۔ ان کی شائع شدہ بین الاقوامی کانفرنس پیپرز اور تحقیقی کام ان کے علمی معیار کی عکاسی کرتے ہیں۔سماجی خدمات کے حوالے سے ، انھوں نے خصوصی بچوں کی تعلیم اور فلاح کی اہمیت پر زور دیا۔ حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کو سراہا اور انھیں ستارہ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔2023ء میں قائداعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر مقرر ہوئے۔وائس چانسلر ڈاکٹر نیاز صاحب نے اپنی تقرری کے فوراً بعد یہ بات واضح کر دی کہ آئندہ یونیورسٹی میں ہر کام قانون، میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ کسی استاد کو ذاتی پسند یا ناپسند پر نہ ترقی ملے گی اور نہ عہدے ملیں گے۔ آئندہ ایک پروفیسر ایک ہی عہدے پر کام کرے گا۔ پنجاب یونیورسٹی میں قائم تمام شادی ہالز کو بند کر دیا گیا کیونکہ تعلیمی اداروں کی زمین کو کمرشل بنیادوں پر استعمال کرنا بالکل غلط ہے ۔ یونیورسٹی کو بین الاقوامی رینکنگ میں لانے کیلئے ٹھوس بنیادوں پر کام شروع کیا گیا۔
ایچ ای سی کے نئے چیئرمین کاتقرر

