کہتے ہیں نا کہ” سانپ کی موت آتی ہے تو وہ سڑک پر نکل آتا ہے”۔اس دور کا یہود امریکا کی آشیر باد پر ظلم پر ظلم کرتے کرتے سڑک تو دور، شاہراہ پر آ نکلا ہے۔ اب مرنا اس کامقدر ہو گیا ہے۔ یہود کو اگر ہم سانپ تصور کریں، تو دو ہزار سالوں سے زیادہ مدت سے یہ دنیا میں بکھرے پڑے تھے۔ کہیں ان کے پاس خطہ زمین نہیں تھا۔ کہیں بھی یہود کی حکومت نہیں تھی۔ کہیں بھی ان کو بحیثیت قوم بننا نصیب نہیں ہوا تھا۔ جب بنی اسرائیل کی خرابیاں انتہا کو پہنچیں تو اصلاح کے لیے ،اللہ تعالی نے حضرت عیسیٰ کو مبعوث فرمایا۔ انہوں نے اصلاح کی کوشش کی۔ مگر انبیاء کو اعلانیہ قتل کرنے والے یہود نہیں مانے۔ بلکہ یہود نے انبیاء پر الزامات لگائے۔ اعلانیہ کہتے ہیں کہ عیسیٰ کو انہوں نے سولی پرچڑھایا ہے۔ جب کہ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ نے حضرت عیسی کو آسمان پر زندہ اُٹھا لیا ہے۔ وہ پھر ظہور فرمائیں گے۔ یہودیوں کی سازشیوں کی وجہ سے عیسائی ان کو اپنے ملکوں سے نکالتے رہے۔ہم نے ایک علیحدہ مضمون بعنوان” یہودی یورپ کے ملکوں سے کب کب نکالے گئے ”میں ساری تفصیل درج کی ہے۔ زمانہ قریب میں جرمنی کے عیسائی ہٹلر کی یہودیوں کو سزا سے تو دنیا واقف ہے۔ یہودیوں نے اسے ”ہولو کاسٹ” کا نام دیا ہوا ہے۔کچھ مدت ہوئی یہودیوں نے اتنی طاقت پکڑ لی ،کہ عیسائی جو ان کے دشمن تھے، مکاری سے اپنا ہم نوا بنا لیا۔ بلفور معاہدے کے تحت یہودی فلسطین پر قابض ہو گئے۔ فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے نکال کر یہودی بستیاں بسا دیں۔ اقوام متحدہ کے منع کرنے پر بھی نہیں روکے،اب بھی یہودی بستیاں بسارہا ہے۔ اس پر فلسفی شاعر، سر ڈاکٹر شیخ علامہ محمد اقبال نے اپنے ایک شہر میں فلسطینی عربوں سے مخاطب ہو کر کہا تھا:۔
تیری دَوا نہ جنیوا میں ہے، نہ لندن میں
فرنگ کی رگ جاں پنجہ یہود میں ہے
ترک عثمانی اسلامی خلافت میںیہودی امن سکون اور آزادی سے رہ رہے تھے۔ ان کے دانشور اپنی تحریروں میں خود لکھتے ہیں کہ دنیا میںیہود کو کہیں امن نصیب ہوا تو مسلمانوں کے اسپین اورترک سلطنت میں ہوا۔ مگر پھر بھی یہ آستین کے سانپ ترک حکومت اسلامی خلافت کیخلاف حسب عادت سازشیں کرتے رہے ۔ ترکی کے زوال کے دنوں میں قوم پرست اور سیکولر تنظیمیں بنائی۔ آزاد خیال ترک نوجوانوں کی” ڈونمہ ” نام سے تنظیم بنائی۔ ان میں دھوکے بازی سے بظاہر مسلمان بن کر یہودی شامل ہوئے۔ ترکی کی اسلامی خلافت کو یورپ کی جمہوریت تبدیل کرنے کی سازش کی جوکامیاب ہوئی۔ اُس وقت فلسطین ترکوں کی پونے چاربراعظموں قائم حکومت میں شامل تھا۔ ہرتزل تھیوڈر جو صہیونی تحریک کا بانی ہے۔عثمانی ترک خلیفہ کو پیسوں کی لالچ دی اور کہا فلسطین میں یہود کو آباد ہونے دو ۔مگر ترک عثمانی خلیفہ نے اس کے پیسوں کو ٹھکرا دیا تھا۔ جب ترکی سلطنت کو انگریزوں نے ختم کیا تو خلیفہ کو معزول کرنے کے لیے انگریزوں نے تھیوڈر ہرتزل کے اُسی نمائندے کو خلیفہ کی معزولی کا پروانہ دے کربھیجا تھا جو پہلے کبھی پیسے کی لالچ دے کر فلسطین میں آباد ہونے کی اجازت مانگتا تھا۔ یہ احسان فراموش یہود کی تاریخ میں لکھی ہے۔ جب ترکی کے پونے چار براعظموں پر قائم سلطنت کے انگریزوں نے حصے بخرے کیے ،تو فلسطین برطانیہ کے حصے میں آیا۔ یہود نے برطانیہ کے حکمرانوں کو پیسے دے کربلفور معاہدے کے تحت فلسطین میں قدم جمائے، جو ابھی تک جاری ہے۔ یہود یوں نے اپنی خاندانی سرشت کے مطابق فلسطین میں تیسرا فساد برپا کر رکھا ہے۔ جب حماس نے اس فساد کے خلاف ٧اکتوبر ٢٠٢٣ء اسرائیل کے اندر گھس کر اس کے ناقابل شکست ہونے کاغرور پاش پاش کیا۔دو ہزار یہودی ہلاک دو سو پچاس کو اپنے قیدی چھڑانے کے لیے یرغمال بنا لیا۔ یہودی اس شکست کا بدلہ حماس سے تو نہ لے سکا۔ غزہ کی بستی کو زمین بوس کر دیا۔نوے فی صد عمارتیں بلڈوز کر دیں۔غزہ کے لاکھوں لوگوں کو شہید کر دیا۔ ان میں محصوم بچے ،خواتین و مرد شامل ہیں۔ اب بھی غزہ کی نسل کشی میںجاری ہے۔ سیکڑوں ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔قرآن میں بنی اسرائیل سورة آیت نمبر ٤۔٨ کے مطابق اس سے قبل یہودی دو دفعہ، اللہ کی نافرمانی ،انبیا کا قتل، ظلم زیادتی اور فساد برپا کر چکے اور دو دفعہ اللہ نے بیرونی طاقتوں سے یہود کو سزا دی۔ تفاسیر کے مطابق پہلے بخت نصر سے اور دوسری بار رومی عیسائیوں کے ہاتھوں۔اب تیسرے فساد کی سزا مسلمانوں سے آخری جنگ میں پائیں گے۔ حدیث رسولۖاللہ کے مطابق فلسطین میں مسلمانوں سے آخری جنگ ہو گی۔ یہود اس جنگ میں مسلمانوں سے شکست کھائیں گے۔ ہر درخت اور پتھرکہے گا، اے مسلمان یہودی ہمارے نیچے چھپا ہوا ہے۔ اسے فلسطینیوں پر مظالم کے بدلے قتل کرو۔ صرف ایک درخت نہیں بتائے گا جس کا نام” غرقد”ہے۔ آپ نیٹ پر گوگل کر کے دیکھیں۔ یہ درخت اسرائیل کی شاہراہوں پر بے انتہا لگا ہوا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے ان کو اللہ سے خوف ہے ۔ رسولۖ اللہ کی اس حدیث کو بھی سچا مانتے ہیں۔ مگر اپنی سرشت کے مطابق شیطان کے چیلے بنے ہوئے ہیں۔ اللہ نے یہود کوآخری سزا دینے سے پہلے تنہا کرنا شروع کر دیا ہے ”گریٹا تھن بھرگ” انسانی حقوق کی عالمی علمبردار لڑکی نے کہا کہ مجھے اسرائیل سے نہیں، دنیا کے ملکوں سے شکایت ہے کہ ا نہوں انسانیت کو بچانے کے احساس کو ضائع کر دیا ہے۔ غزہ کی نسل کشی پر” عالمی عدالت انصاف” نے نیتن اور اس کے وزیر دفاع کو جنگی مجرم قرار دیا ہوا ہے۔ مملکتوں کو ان کو گرفتار کرنا حکم جاری کیا ہے۔ کئی یورپی ملکوں نے نیتن کو اپنی فضا استعمال کرنے سے منع کر رکھا ہے۔فلسطین کے حق میں اقوام متحدہ نے قراردادیں منظور کیں۔ یہود ہمیشہ ان قراردادوں کو ردی کی ٹوکری میں ڈالتا رہا۔زور زبردستی سے فلسطینیوں کو ان گھروں سے نکال کر قبضے کرتا رہا۔ مقبوضہ علاقوں میں یہودی بستیاں بساتا رہا ہے۔فلسطینیوںں کی نسل کشی کرتا رہا۔ ہزاروں فلسطینیوں کو قید کر رکھا ہے۔ اب قیدیوں کو سزائے موت دینے کا قانون پارلیمنٹ سے پاس کرایا ۔ پھانسی دینا شروع بھی کر دیا۔اخبارات میں رپورٹ جاری ہوئی کہ اسرائیل کی فوجی چھائونی کے اندر ایک جیل میں فلسطینی قید تھے۔ اسرائیلی فوجیوں نے ظلم و سفاکیت کی انتہا کرتے ہوئے پچاس فلسطینی قیدیوں کے بڑے پاخانے کے راستے میں ڈھنڈے ڈال ڈال کر اذیتیں دیں۔ جس سے وہ شہید ہوگئے۔ انتظامیہ نے مجرم فوجیوں کو گرفتارکیا۔ مگریہودی شہریوںکے ہجوم نے حملہ کر کے ان مجرم فوجیوں کو آزاد کرا لیا۔اسطرح یہودیوں نے غزہ جنگ کے دوران اسی(٨٠) سرکٹیںفلسطینیوں کی لاشوں کو ٹرک سے غزہ کی سڑکوں پر پھینک دیا۔ ظلم کی انتہا کہ ان کے رشتہ داروں کو ان لاشوں کے نام پتے بھی نہیں بتائے۔ امریکا ویٹو پاور کے تحت اسرائیل کی مددکرتا رہا ہے اور اب بھی کر رہا ہے۔ دنیا نے اسرائیل کے مظالم کی وجہ سے اسے انسانی برادری سے خارج کر دیا ہے۔ دنیا کے انصاف پسند عوام یہودیوں کے خلاف ہو گئے ہیں۔اقوام متحدہ میں نیتن کی تقریر پر اسی فیصد مملکتوں کے نمائندوں نے واک آئوٹ کیا اور نیتن کی تقریر نہیں سنی۔ نیتن نے صدی کا جھوٹ بول کر کہاکہ دنیا میں فلسطین نام کا کوئی ملک نہیں۔ میرا مذہبی فریضہ ہے کہ میں گریٹر اسرائیل بنائوں ۔جبکہ دنیا کے سا ٹھ فی صدی ملکوں نے فلسطین کو مملکت کے طور پر تسلیم کر لیا ہے۔ کئی ملکوں نے اپنے ہاں فلسطین کے سفارت خانے بھی کھول دیے ہیں۔ امریکی عوام اور دنیا نے اسرائیل کے حامی ٹرمپ کو بھی دنیا میں تنہا کر دیا ہے۔”ہیلری کلنٹن ”سابق امریکی وزیر خارجہ نے تو الیکشن کمپین کے دوران کہا تھا، ہم اپنے بچوں کی زندگیاں ایک پاگل ٹرمپ کے ہاتھ نہیں دے سکتے۔ اس کے ہاتھ میں امریکا کے ایٹمی کوڈ نہیں ہونا چاہیے۔نیٹو نے ٹرمپ کی ایران کے خلاف مدد سے انکار کر دیا۔
(……جاری ہے)
ایک بار پھر تنہا ہوتا اسرائیل

