Home » کالم » ایک سوال پوچھوں ۔ ۔ ۔
khalid-khan

ایک سوال پوچھوں ۔ ۔ ۔

پولیس کا بنےادی کام عوام کا تحفظ ہے ۔ ترقی ےافتہ ممالک میں پولیس تحفظ اور مددگار سمجھی جاتی ہے جبکہ پاکستان خصوصاً پنجاب میں پولیس کو دہشت اور خوف کی علامت سمجھا جاتا ہے ۔ پنجاب میں شرےف اور عام شہری تھانے کے سامنے سے گذرنے سے کتراتے اور خوف محسوس کرتے ہےں ۔ حالانکہ تھانے کو امن اور تحفظ کی جگہ محسوس ہوناچاہیے ۔ صوبہ پنجاب میں شرح خواندگی دےگر صوبوں کے نسبت زےادہ ہے لیکن اس کے باوجود پنجاب پولیس اور عوام کے درمیان خلیج زےادہ ہے ۔ پنجاب میں پولیس پر کوئی اعتماد نہیں کرتا ۔ اگر آپ پاکستان کے چاروں صوبوں کے پولیس کے رویے کے فرق کو چےک کرنا چاہیں تو آپ کسی درمےانی درجے کے گاڑی میں چاروں صوبوں کا سفر کرےں تو آپ پر چاروں صوبوں کے پولیس کا روےہ عےاں ہوجائے گا ۔ پنجاب پولیس کا عوام کے ساتھ روےہ بہتر کیوں نہیں ہے;238;اس کے متعدد اسباب ہیں ۔ جن میں سے صرف چند اےک ےہ ہیں ۔ (الف)برطانوی دور میں پولیس کاعوام کے خلاف غلط استعمال (ب)برطانوی دور کے کالے قوانےن (ج)جغرافےائی خدو خال اور علاقائی مزاج (د)مقتدر طبقے کا قانون شکنی (ر)پولیس ڈےوٹی کا ٹائم ٹےبل (ز)پولیس افسران کا ماتحت کے ساتھ روےہ (ذ)گزشتہ چند عشروں سے سےاست دانوں کا پولےس کو اپنے مخالفےن کےلئے استعمال ۔ حقےقت ےہ ہے کہ پنجاب میں عام طور پر سےاستدان اپنے مخالفےن کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کرواتے رہتے ہیں اور پولیس کے ذرےعے سے مخالفےن کو تنگ کرنا معمول ہے ۔ سےاست دانوں نے پولیس کو politicized کیا ہے ۔ پولیس کے ناروا سلوک کی وجہ سے عوام اور پولیس میں فاصلے بڑھتے گئے ۔ اب تک سےنکڑوں افراد پولیس کے جعلی مقابلوں اور تشدد سے ہلاک ہوچکے ہیں لیکن زےادہ تر واقعات رپورٹ نہیں ہوئے ےا منظر عام پر نہ آسکے ۔ رواں سال پنجاب پولیس کے تشدد سے زےر حراست 10 ملزم جان سے گئے ۔ آئی جی پنجاب عارف نواز نے اےسے واقعات روکنے کی بجائے پولیس ملازمین اور شہرےوں پر تھانے میں موبائل فون استعمال پر قدغن لگائی ہے ۔ نہ رہے بانس ، نہ بجے بانسری کے مترادف تھانے کی وےڈےوز باہر نہیں جائےں گی تو کسی کے پاس ثبوت نہیں ہونگے ۔ اےسا ظاہر ہوتا ہے کہ پنجاب پولیس کا نےا سلوگن وردی بدلیں گے لیکن روےہ نہیں بدلیں گے ۔ اےسا محسوس ہورہا ہے کہ پنجاب میں پولیس عوام کی تذلیل کو فرض سمجھتی ہے ۔ آئی جی پنجاب عارف نواز نے وقتی ماحول کو ساز گار بنانے کےلئے زبانی جمع تفرےق فارمولا نکالاکہ;34; ملزم پر تشدد ےا ہلاکت کا مقدمہ اےس اےچ او اور ڈی اےس پی کے خلاف درج ہوگا ۔ تشدد ےا ہلاکت پر اےس اےچ او بلیک لسٹ ہوگا اور وہ دوبارہ کسی تھانے کا اےس اےچ او تعےنات نہیں ہوگا ۔ ;34; تقرےباًہر واقعہ کے بعد پولیس کے چند ملازمین کو معطل تو کردےا جاتا ہے لیکن سزائےں کم دی جاتی ہیں ۔ تھانوں میں ٹچ موبائل کے استعمال روکنے سے مسائل اور واقعات کم نہیں ہونگے ۔ آئی جی پنجاب آصف نواز کو چاہیے کہ واقعات کو کم کرنے کی وجوہات تلاش کرےں اور ان کا تدارک کرےں ۔ وزےراعظم عمران خان جلسوں میں ےہ فرماےا کرتے تھے کہ ;34;اقتدار میں آکرسب سے پہلے پولیس کو ٹھےک کروں گا ۔ ;34;سال تو بےت گےا ہے لیکن پولیس کو کب ٹھےک کریں گے;238;کتنے صلاح الدےن ، کتنے عامر مسےح مزےدپولیس تشدد سے ہلاک ہونے کا انتظار ہے;238;وزےراعظم عمران خان صاحب! آپ کی پارٹی کا نام ;34;پاکستان تحرےک انصاف;3939;ہے ۔ آپ انصاف کےلئے عملاً کام کرےں ۔ پاکستان میں طبقاتی نظام کو ختم کرےں ۔ پاکستان سب کا ہے ، اس لئے پاکستان میں مسلم ہو ےا غےر مسلم، امےر ہو ےا غرےب، سفےد ہو ےا کالا ، افسر ہو ےا ادنیٰ ملازم سب کےلئے ےکساں انصاف ہو ۔ جرم کوئی بھی کرے ،ان کو فوری سزا کا نظام بنائےں ۔ پولیس نظام کو بہتر کرنے کےلئے اصلاحات نافذ کرےں ۔ پولیس کے تمام ملازمین قطعی غلط نہیں ہیں ۔ پولیس میں اچھے ملازمین بہت ہیں ۔ چند ملازمین کی وجہ سے محکمہ گندا اور بدنام ہوچکا ہے ۔ جن ملازمین کی وجہ سے محکمہ پولیس پر انگلیاں اٹھ رہی ہوں ،ان سے محکمہ کو پاک کرنا چاہیے ۔ محکمہ پولیس سےاست سے دور اور غےر جانبدار ہونا چاہیے ۔ پولیس میں سزا اور جزا کا موثر نظام ہونا چاہیے ۔ محکمہ پولیس کا چےک اےنڈ بےلنس تھرڈ پارٹی کے ذرےعے ہونا چاہیے ۔ افواج پاکستان کے رےٹائرڈ افسران اورملازمین کے ذرےعے ان کی مانیٹرنگ کاسسٹم ہوناچاہیے ۔ پولیس رویے کو بہترکرنے کےلئے بھی ٹھوس اقدامات اٹھانے چاہئیں ۔ تھانوں سے ٹاءوٹ ازم کا مکمل اور عملاً خاتمہ ہونا چاہیے ۔ پولیس کی تربےت اور پیشہ وارانہ ٹرنےنگ کا بہتر نظام ہوناچاہیے ۔ پولیس ملازمین کے مسائل کے حل پر توجہ دےنی چاہیے ۔ پولیس اور عوام کے درمیان فاصلوں کو سمیٹنے کےلئے تگ ودو کرنی چاہیے ۔ فرض شناس پولیس ملازمین کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے ۔ قارئےن کرام ! صلاح الدےن کی بات ہر شخص کے دماغ میں گونج رہی ہے کہ اےک سوال پوچھوں ;238; مارو گے تو نہیں ۔ تم لوگوں نے مارنا کہاں سے سےکھا;238;وزےراعظم عمران خان صاحب ! لوگ آپ سے بھی اےک سوال پوچھ رہے ہیں ، مارو گے تو نہیں ۔ آپ پولیس کو کب تبدےل کرو گے;238;آپ کے بقول خزانہ خالی ہے لیکن پولیس رویے کی تبدےلی کےلئے خزانے کی ضرورت نہیں ۔ قارئےن کرام!کیا صرف پولیس رویے سے حالات سدھر جائےں گے;238; نہیں بلکہ مقتدر طبقہ ،پولیس اور عوام تےنوں کے رویے کی بہتری سے حالات بہتر ہونگے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative