بابا فرےد گنج شکر ۔ ۔ ۔ !

7

برصغےر پاک و ہند میں اسلام پھےلانے میں صوفےاء کرام کا اہم کردار ہے ۔ صوفےاء کرام نے لاکھوں افراد کو کلمہ طےب پڑھاےا اور ان کے قلب کو حضور کرےم ﷺ کی محبت سے سرفراز کیا ۔ ان کو اےک خدا کے سامنے جھکنا سکھاےا اورسنت النبی ﷺ کے مطابق زےست بسر کرنے کا ڈھنگ سکھاےا ۔ فرےد الدےن مسعود گنج شکر نامور صوفی بزرگ تھے ۔ فرےد الدےن مسعود گنج شکر چار اپرےل1179ء کو ملتان کے قرےب کھوتوال میں پےدا ہوئے تھے ۔ آپ کے والد کا نام جمال الدےن سلیمان اور والدہ کانام مرےم بی بی تھی ۔ جمال الدےن سلیمان کے تےن بےٹے اعزاز الدےن محمود، فرےدالدےن اور نجےب الدےن تھے ۔ فرےد الدےن مسعود;231; نے پانچ سال ملتان میں ابتدائی تعلیم حاصل کی ۔ ملتان میں آپ کی ملاقات معروف صوفی بزرگ قطب الدےن بختےار کاکی سے ہوئی جو بغداد سے دہلی جارہے تھے ۔ آپ کو بھی ساتھ دہلی لے گئے اور بعد ازاں قطب الدےن بختےار کاکی کے حکم پر آپ ظاہری تعلیم کےلئے قندھار ،غزنی، بخارا، سےستان، بدخشان اوربغدار میں تشرےف لے گئے،جہاں آپ نے تعلیم حاصل کی ۔ وہاں بغداد میں شےخ شہاب الدےن سہروردی،بخارا میں شےخ سےف الدےن باخرزی ، سےستان میں شےخ روحد الدےن کرمانی، شےخ اجل سنجری اورغزنی میں امام حداوی سمےت مختلف اکابر اولیا سے بھی ملاقات کی اور فےوض حاصل کیا ۔ آپ وہاں سے واپس دہلی آکر قطب الدےن بختےار کاکی;231; سے بعےت ہوئے ۔ شنشہشاہ غےاث الدےن بلبن کو آپ;231; سے بہت عقےدت تھی ۔ آپ ;231; کی شادی شہنشاہ غےاث الدےن بلبن کی بےٹی ہزےرہ بانو سے ہوئی تھی ۔ بلبن نے اپنی بےٹی کو جو سامان دےا تھا،وہ سب کچھ اللہ رب العزت کے راہ میں خےرات کردےا ۔ جب بادشاہ کو معلوم ہوا تو اس نے اسی مقدار میں دوبارہ مال و متاع بھےج دےا ۔ ہزےرہ بانو نے وہ بھی خےرات کردےا اورتےن سو باندےوں میں صرف دو باندےاں شارو اور شکرو اپنے پاس رکھ لیا اور باقی سب کو بادشاہ کے پاس واپس بھےج دےا ۔ اس کے بعدہزےرہ بانو نے عرض کی کہ اب ہمارا اس جگہ رہنا مناسب نہیں ہے کیونکہ جب میں فقر وفاقہ میں زندگی بسر کروں گی تو مےرے والد ےہ کس طرح برداشت کرسکتے ہیں کہ مےری خبر گےری نہ کرےں ۔ اسلیے بہتر ےہ ہے کہ کسی اےسی جگہ پر چلے جائےں ،جہاں ہ میں کوئی نہ جانتا ہو اور پھر ہم دل کھول کر عبادت کرےں گے ۔ وہاں سے ہانسی چلے گئے ،جہاں کچھ عرصہ قےام کے بعداجودھن تشرےف لے گئے ۔ جب آپ نے اجودھن میں سکونت اختےار کی تو لوگ بڑی تعداد میں آپ کے پاس آتے تھے ۔ آپ ان کے سامنے طرح طرح کے کھانے پیش کرتے تھے لیکن خود پیلو اور ڈےلہے کرےر کے پھل پر گزر بسر کرتے تھے ۔ وجہ تسمیہ گنج شکر ےہ ہے کہ آپ ;231; نے طے کا روزہ رکھا ۔ طے کے روزے میں کئی کئی روز تک نہ سحری اور نہ افطار کیا جاتا ہے ۔ چھ دن مسلسل روزے کی وجہ سے کمزور ہوگئے تو آپ نے سنگرےزے اٹھا کر منہ میں ڈالے تو شکر بن گئے ۔ اس عمل کو تےن مرتبہ دہراےا تو ہر باربار رزلٹ اےک ہی آتا تھا ۔ اس پر آپ کے مرشد حضرت خواجہ بختےار کاکی ;231; نے آپ کو ;34;گنج شکر ;34; کا لقب عطا کیا ۔ اےک اور رواےت ہے کہ اےک شخص اونٹوں پر شکر لادے جارہا تھا تو آپ نے پوچھا کہ اونٹوں پر کیا لے جارہے ہو;238; اس شخص نے بتاےا کہ نمک لے جارہا ہوں ۔ آپ ;231; نے فرماےا کہ نمک ہے تو نمک ہی سہی ۔ جب وہ شخص اپنے مقام پر پہنچا کر بورےاں کھولیں تو اس میں شکر کی بجائے نمک تھا ۔ بابا فرےد الدےن مسعود گنج شکر نے دنےاوی زندگی کی بجائے آخرت کی زےست کو ترجےج دی اور پوری زندگی اللہ رب العزت کی مخلوق کی خدمت کی ۔ بابا فرےد گنج شکر فرماےا کرتے تھے کہ توبہ چھ چےزوں کی ہے ۔ (۱) دل و زبان سے توبہ کرنا، (۲)آنکھوں کی، (۳) کان کی، (۴) ہاتھ کی ، (۵)پاءوں کی، (۶)نفس کی توبہ ۔ آپ نے فرماےا کہ چار باتوں کا خیال ضروری ہے ۔ (ا)آنکھ کو ناقابل دےد چےزوں کے دےکھنے سے روکے، (۲) کانوں کو ناقابل شنےد باتوں کے سننے سے روکے، (۳)زبان کو گونگا نہ بنائے(ذکر الٰہی سے تررکھے) ، (۴)ہاتھ پاءوں کو ممنوع اعمال سے روکے ۔ خاکسار کو بابا فرےد الدےن گنج شکر کے مزار پرعقےدت واحترام سے حاضری کا موقع نصےب ہوا اور سرور حاصل کیا ۔ جو اپنے لئے جےتے ہیں ،وہ مرنے کے بعد مر جاتے ہیں لیکن جو دوسروں کےلئے جےتے ہیں ،وہ مرنے کے بعد بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ جاوید رہتے ہیں ۔ حضور کرےم ﷺ کے سنت کی مطابق زندگی بسر کرنےوالے کامران ہوتے ہیں ۔ مخلوق کی خدمت سے انسان اعلیٰ درجے پر فائز ہوجا تاہے ۔ قارئےن کرام!پاکپتن میں لاکھوں افراد رہتے ہیں ، جن میں ارب پتی اور کروڑ پتی بھی رہتے ہیں ۔ بڑے جاگےر دار اور وزےرو مشےر بھی رہتے ہیں ۔ ان کو سب نہیں جانتے ہیں اور نہ سب ان کے ڈےروں پر جاسکتے ہیں لیکن بابا فرےد الدےن مسعودگنج شکر کو سب جانتے ہیں اور صدےوں سے ان کے ڈےرے پر لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے ۔ جب فرےد الدےن مسعود گنج شکر حےات تھے تو ان کے دربار میں آدھی رات تک لنگر چلتا تھا اور جب فانی دنےا سے پردہ کر گئے تو پھر بھی ان کے دربار پر صدےوں سے لنگر چل رہاہے ۔