Naghma habib 2

بابری مسجداوربھارت کی آزاد عدلیہ

بھارت اس وقت بہت ساری اچھی بُری چیزوں میں ترقی کر رہا ہے اُس نے سائنس میں بھی ترقی کی ہو گی ، طب میں بھی اور کمپیوٹر سازی میں بھی آگے نکلا ہو گا جن کا وہ ساری دنیا میں ڈھنڈورا پیٹتا ہے لیکن وہ اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ معاشرتی اقدار میں اُس کا انڈیکس پستی کی طرف جا رہا ہے اور مذہب کے نام پر تو اُس نے نریندرا مودی کی سر کردگی میں وہ وہ کارنامے سر انجام دیے کہ جس کی مثال کم ہی ملے گی ۔ اُس نے مذہب کے ہی نام پر گائے کو انسانوں پر برتری دی اور اپنے ہی ہم مذہب دلتوں کو جانوروں سے بھی کم تر بنا دیا ۔ جہاں بات آئی اقلیتوں کی تو،تو ان کے حقوق کو ضبط کرنا اور انہیں پستیوں میں دھکیلنا تو ایک مذہبی کا ر ثواب اور قومی کا رنامہ ٹھہرتا ہے ۔ ایسا ہی ایک سیاہ کارنامہ بھارت نے اس وقت سر انجام دیا ہے اور اُس کی ’’آزاد‘‘ عدالت عظمیٰ یعنی سپریم کورٹ نے 9 نومبر 2019کو بابری مسجد کے ستائیس سالہ پرانے مقدمے کا فیصلہ ہندءوں کے حق میں سنا دیا ۔ یہ فیصلہ پانچ رکنی بنچ نے چیف جسٹس رانجن گو گی کی سر براہی میں سنا یا کہ بابری مسجد کی جگہ پر ہندو اپنا مندر تعمیر کر سکتے ہیں اور مسلمانوں کو بدلے میں کسی اور جگہ پانچ ایکڑ زمین دی جائے ۔ یہی بابری مسجد ہے جس کو متنازعہ بنا کر بھارتیہ جنتا پارٹی اَسّی کی دہائی میں بام عروج پر پہنچی اور1984 میں اس کی پارلیمنٹ میں دو سیٹیں 1989 میں پچاسی سیٹوں میں تبدیل ہوئیں ، اور پچھلے دو انتخابات تو اسی مسلم دشمنی کی بنا پر ہی جیتے گئے اور اسی لیے جیتے گئے کہ بھارت کے مسلمانوں کو بھارت سے نکلنے پر مجبور کر دیا جائے یا خدا نخواستہ مذہب ہی تبدیل کروا دیا جائے یہ اور بات ہے کہ اُس کی ان میں سے ایک خواہش بھی پوری نہیں ہو سکتی نہ تو مسلمان اسلام چھوڑ سکتے ہیں نہ 20 کروڑ لوگ ملک ہاں یہ ممکن ہے کہ یہ بیس کروڑ لوگ اِدھر ہی ایک الگ ملک بنا لیں ۔ ابھی تو بھارت کی سپریم کورٹ نے فیصلہ ہی سنا یا ہے جب اس پر عمل کرنے کا وقت آئے گا تو تب کے حالات کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے ۔ 6دسمبر1992کو جب ویشوا ہندو پریشد اور بی جے پی کے غنڈوں نے مل کر بابری مسجد کے مینار پر چڑھ کر اُس کو توڑا تھا تو پورا بھارت فسادات کی زد میں آگیا تھا اور اُس ایک دن2000لوگوں کے ہلاک ہونے کی خبر آگئی تھی جس میں ہندو اور مسلمان دونوں شامل تھے اگرچہ اکثریت مسلمانوں کی تھی ۔ مینار پر چڑھ کر اسے توڑنے والے جو کبھی اپنے اس عمل پر فخر کرتے تھے اِن میں سے کئی اب اسے اپنا سب سے بڑا جُرم تصور کرتے ہوئے دائرہ اسلام میں داخل ہو چکے ہیں ۔ شیو پرشا دمحمدمصطفی بن چکا ہے بلبیر سنگھ جو شیو سینا کا ہر دلعزیز اور پُر جوش لیڈر تھا دل کی خلش سے مجبور ہو کر محمد عامر کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس وقت ایک پُر جوش مبلغ اسلام ہے ۔ یوگندرا پال محمد عمر بن کر 100مساجد کی مرمت اور تزئین و آرائش کر چکا ہے ۔ اس بار بھی ایسا ہی ہو گا یعنی اگر رام مندر کی بنیاد رکھی گئی تو بہت سارے ہندو عمر، علی اور عبداللہ میں تبدیل ہوں گے اور پھر ہزاروں بھارتیوں کا خون بہے گا چاہے وہ ہندو ہو ں یا مسلمان ۔ اس وقت بھی مسلمانوں کے جذبات کو دبایا گیا ہے کہ یہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے لہٰذا کسی کو کچھ کہنے کی اجازت نہیں اور اسدالدین اویسی نے جب اس فیصلے کے خلاف بیان دیا تو ہندءوں کی طرف سے انہیں مخالفت اور نفرت کا سامنا کرنا پڑا ۔ بابری مسجد کو ئی آج یا کل کی تعمیر شدہ نہیں ہے بلکہ شہنشاہ بابر کے دور ِ حکومت یعنی سولہویں صدی عیسوی میں اس کے ایک سپہ سالار میر باقی نے اسے تعمیر کیا اور تقریباََ تین سو سال تک یہ غیر متنازعہ طور پر مسجد ہی رہی ۔ پہلی بار1822 میں فیض آباد کے ایک سرکاری اہلکار نے یہاں رام مندر ہونے کا دعویٰ کیا ۔ 1855 میں اس پر پہلا ہندو مسلم فساد ہوا تو انگریز حکومت نے حالات قابو میں رکھنے کےلئے اس کے صحن میں جنگلہ لگا کر ہندءوں کےلئے جگہ الگ کر دی اور 1949 یعنی تقریبا ٌ ایک صدی تک ایسا ہی چلتا رہا لیکن ایک بار پھر ہندو سازشی ذہن بیدار ہوا اور یہاں رات کے وقت کچھ مورتیاں رکھ کر ایک دفعہ پھر دعویٰ کیا گیا کہ یہ رام کی جنم بھومی ہے اور یوں اس تنازعے کو دوبارہ زندہ کیا گیا جس پر ہندو ریاست نے مسجد کو تالا لگا دیا اور 1980تک یہ معاملہ پھر تھم گیا لیکن اَسّی کی دہائی میں اسے پھر زندہ کر دیا کر دیا گیا اور 6دسمبر 1992کو عظیم بھارت کی عظیم جمہوریت میں جو ہوا اس کا ایک ایک انداز کیمرے کی آنکھ میں محفوظ ہے اور یہ مکروہ فعل کرنے والے آج بھی زندہ ہیں اور بغیر کسی سزا کے زندہ ہیں اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ بھارت میں جو چاہے اقلیتوں کے ساتھ کر سکتے ہیں کیونکہ وہ ہندوہیں ۔ ان کا یہی شدت پسند رویہ اور ہندو تواہی بھارت کےلئے مصیبت کا باعث بنے گا بلکہ یہی رویہ ہے جس نے وہاں کئی علیحدگی پسند تحریکوں کو جنم دے رکھا ہے جن میں سے اگر چند ایک بھی کامیاب ہوگئیں توبھارت کے حصے بخرے ہونے کی ابتدا ء ہو جائے گی اور اور دنیاجو اب وہاں کے مسلمانوں کے مسائل سے آنکھیں بند کیے ہوئے ہے اسے معلوم ہو گا کہ بھارت کتنی بڑی جمہوریت تھا ۔ جمہوریت صرف انتخابات کا تسلسل نہیں ہو تا بلکہ اس میں ووٹ کے بدلے عوام کے حکومت پر کچھ حقوق بھی ہوتے ہیں اور یہی حقوق ہیں جو بھارت کی اقلیتوں کو نہیں مل رہے اور اس کے ثبوت کےلئے یہی کافی ہے کہ اس کی سپریم کورٹ تک نے مسلمانوں کی ایک بڑی اور قدیم مسجد کو صرف دیومالائی روایتوں پر قربان کر دیا گیا تو یہ ہے بھارت کی اصل حقیقت او ر اصلیت جسے اب دنیا کو سمجھ بھی لینا چاہیے اور اس کی مذہبی شدت پسندی کی روک تھام بھی کرنی چاہیے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں