بجلی کی لوڈشیڈنگ کاخاتمہ مستحسن اقدام

23

حکومت نے بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی نوید سنائی ہے اور اس ضمن میں وزارت پانی و بجلی نے 5297 سے زائد فیڈرز پر لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا اعلان کیا ہے وزیر پانی و بجلی اویس لغاری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مجھے آج انتہائی خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ موجودہ حکومت نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں ہر شعبے میں کامیابی حاصل کی ہے اور ساڑھے چار سال کی انتھک محنت اور جدوجہد سے نہ صرف ملک سے اندھیروں کا خاتمہ کیا ہے بلکہ ملک کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر حقیقی معنوں میں گامزن کر دیا ہے۔ جب 2013 میں ہماری حکومت برسراقتدار آئی تو ملک میں بجلی کی پیداوار، طلب اور رسد، اور لوڈشیڈنگ کی صورتحال کچھ اس طرح تھی۔ دسمبر 2013 میں بجلی کی پیداوار 9279 میگاواٹ تھی جب کہ ملک میں بجلی کی طلب 11799 میگاواٹ تھی اور 2520 میگاواٹ بجلی کی کمی کی وجہ سے کم از کم 8 سے 10 گھنٹے لوڈ شیڈنگ کا شکار تھے۔دسمبر 2017میں ہم نے 7465 میگاواٹ کی سطح سے بڑھا کر 16477 میگاواٹ اضافی بجلی پیدا کی ہے اور اس وقت طلب کے مقابلے میں 2727 میگاواٹ اضافی بجلی موجود ہے۔2218میگاواٹ 2013ء کے مقابلے میں بجلی کی طلب میں اضافے کے باوجود اس وقت سسٹم میں یہ 2727میگاواٹ اضافی بجلی موجود ہے ۔بجلی پیدا کرنے والے بہت سے منصوبے تکمیل کے مختلف مراحل میں ہیں اور ہم موسم گرما 2018 سے پہلے مزید تقریبا 4000 میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل کر دینگے۔وفاقی وزیر نے کہاکہ 2017ء کے موسم گرما میں 24000 میگاواٹ طلب کے مقابلے میں ہمارے پاس سسٹم میں 20000 میگاواٹ ریکارڈ بجلی پیدا ہوئی۔ جبکہ جاری منصوبوں کے مکمل ہوتے ہی یہ پیداوار 25000 میگاواٹ تک پہنچ جائے گی یہ واضح کرنا انتہائی ضروری ہے کہ ملک میں اضافی بجلی کے باوجود، بجلی چوری، بلوں کی عدم ادائیگی، بد انتظامی اور دیگر غیر قانونی عوامل کی وجہ سے ہمیں لاسسز اٹھانے پڑ رہے ہیں اور جن فیڈرز میں لاسسز زیادہ ہیں وہاں پرہمیں لوڈ شیڈنگ کرنی پڑ رہی ہے۔وفاقی وزیر نے کہاکہ بجلی چوری سے اور لائین لاسسز سے بچنے کیلئے نہ صرف ہم ڈیسکوز کی سطح پر سخت فیصلے لے رہے ہیں بلکہ صارفین کو بھی بجلی چوری جیسے عوامل کی حوصلہ شکنی کرنا ہوگی۔اویس لغاری نے بتایا کہ ملک بھر میں چار دسمبر سے5297 فیڈرز سے بجلی کی لوڈشیڈنگ مکمل طور پر ختم کرنے کا اعلان کرتا ہوں جسکے نتیجے میں کم از کم 14.915 ملین صارفین کو چار دسمبر رات 12بجے کے بعد لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ کردیا جائیگا۔ اس ضمن میں دیہات و شہر کی تفریق بھی ختم کر دی گئی ہے۔ ملک بھر میں اس وقت 2700 میگا واٹ سے زائد بجلی سسٹم میں موجو د ہے جسکے نتیجہ میں ان تمام فیڈرز سے لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جہاں لائن لاسز نہیں ہیں۔انہوں نے کہاکہ 4 دسمبر سے لیسکو کے 1227، گیپکو کے 748فیڈرز، فیسکوکے 896 ، حیسکو کے 204 فیڈرز، سیپکو کے 24 فیڈرز، کیسکوکے 61 فیڈرز، آئیسکو کے 710 فیڈرز، میپکو کے 763 فیڈرز، پیسکوز کے 309 فیڈرز ، اور ٹیسکوز کے 29 فیڈ رز بغیر کسی تعطل کے بجلی فراہم کریں گے۔ یہ اعلان موجود حکومت کے کیے جانے والے اس وعدے کی کڑی ہے جس میں ہم نے نہ صرف لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے کا عزم کیا تھا ۔اس وقت ملک بھر میں مختلف مقامات پر بجلی کی پیداوار کے کئی منصوبے زیر تکمیل ہیں جن سے 2018 کے موسم گرما تک 4000 میگا واٹ بجلی حاصل ہو گی۔ ان منصوبوں کے تحت ہم ملک بھر میں 24000 میگاو اٹ بجلی کی طلب کے نتیجے میں 2000 میگا واٹ بجلی حاصل کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔جن علاقوں میں بجلی چوری کے نتیجے میں خسارے کا تناسب 10 فیصد سے زائد ہے وہاں پر ڈیسکوز لوڈ شیڈنگ کے دورانیہ کا تعین خسارے کے تناسب سے کر ے گا۔ لیکن ان علاقوں کے صارفین اپنے علاقوں کے گرڈ سٹیشنز سے خسارے کا بوجھ کم کرنے کیلئے ڈسٹری بیوشن کمپنیز کے ساتھ تعاون کرکے اپنے علاقے میں ہونیوالے لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ کم یا مکمل ختم کروانے میں مدد دے سکتے ہیں۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ پر قابو پانا ایک مستحسن اقدام ہے، عوام کیلئے یہ اعلان اطمینان بخش ہے، حکومت کا یہ فرض قرارپاتا ہے کہ وہ عوام کو مسائل کے ان گرداب سے نکالے اور زیادہ سے زیادہ ریلیف بہم پہنچائے۔
اداروں کے درمیان محاذ آرائی نہیں ہونی چاہیے
چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے گزشتہ روز جاوید ہاشمی کی کتاب کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ا داروں کے درمیان محاذ آرائی وفاق کیلئے نقصان دہ ثابت ہوگی،پاکستان وارلارڈ ازم کا متحمل نہیں ہوسکتا ،ریاست کو جو اندرونی اور بیرونی خدشات لاحق ہیں اس میں لازم ہے کہ تمام ادارے ایک پیج پر ہوں ، تمام ادارے اپنا کردار آئین کے تحت دیے ہوئے دائرہ کار میں پورا کریں ، بدقسمتی سے ایک بار پھر مذہب کو سیاسی ایجنڈا آگے بڑھانے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے ، پاکستان کی بنیاد اسلام پر رکھی گئی ،آئین کے اندر آرٹیکل دوکہتا ہے کہ ریاست کا مذہب اسلام ہے ، جب آئین میں یہ بات درج ہے تو پھر اسلام کو پاکستان کے اندر خطرہ کس سے ہوسکتا ہے۔ جاوید ہاشمی اپنے طالبعلمی سے آج تک مسلسل جدوجہد میں رہے ہیں ، انہوں اصولی اور سچ کی سیاست کی ہے جس کے نتیجے میں ان کو تکالیف اور جیل کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑی ہیں وہ یقینی طور پر ان چند سیاستدانوں میں سے ہیں جن کا ماضی اور حال بے داغ ہے اور وہ یقینی طور پر نوجوانوں کیلئے ایک مثال ہیں ۔ چیئرمین سینیٹ نے بجا فرمایا ہے کہ اداروں سے تصادم جمہوریت کیلئے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے،جمہوریت کے تسلسل کیلئے ضروری ہے کہ سیاستدان تدبر اور بصیرت کا مظاہرہ کریں اور برداشت کے جمہوری کلچر کو فروغ دیں تاکہ جمہوریت مستحکم ہو اور ادارے ترقی کریں۔ وہی حکومت کامیاب قرارپاتی ہے جو سیاسی جماعتوں اور اپوزیشن کو اپنے ساتھ لیکر چلتی ہے۔ اداروں سے تصادم کی راہ خطرناک ہے اس سے ادارے غیر مستحکم ہوتے ہیں اور جمہوریت پر بھی سوال اٹھتے ہیں۔ اس وقت ریاست کو کئی اندرونی و بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے اس لئے حکومت کو چاہیے کہ وہ اداروں کے ساتھ ٹکراؤ کی پالیسی سے اجتناب کریں۔
بلوچستان میں تخریب کاری کا منصوبہ ناکام
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے بلوچستان کو تخریب کاری سے بچا لیا۔ اس ضمن میںآپریشن ردالفساد کے تحت کارروائی کی گئی جس کے نتیجہ میں کالعدم تنظیم کے 11دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا جبکہ ڈیرہ بگٹی ‘ دکی اور قلعہ سیف اﷲ سے اسلحہ‘ بارود اور آئی ای ڈیز برآمد کرلیں جبکہ قلعہ سیف اﷲ میں آپریسن کے دوران آئی ای ڈیز برآمد کرکے ناکارہ بنا دی گئیں۔ آپریشن ردالفساد اپنے اہداف پورے کرنے کیلئے جاری ہے، اور اس کے مقاصد پورے ہوتے دکھائی دے رہے ہیں جب تک دہشت گردوں کو ان کے منطقی انجام تک نہیں پہنچایا جاتا اس وقت تک ملک میں امن قائم نہیں ہوسکتا دہشت گردی کے خاتمے سے ہی ترقی و خوشحالی آسکتی ہے۔