وہ ماہ و سال اب قصہ پارینہ بن چکے جب عوام کو سال میں صرف ایک بار بجٹ کے روز ہی یہ معلوم ہوتا تھا کہ کون سی چیز سستی ہوئی اور کون سی مہنگی۔ اب تو عالم یہ ہے کہ گویا روزانہ ہی ایک نیا بجٹ غریب عوام پر مسلط کر دیا جاتا ہے، جہاں اشیائے ضرورت کی قیمتیں پلک جھپکتے ہی آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں۔ اگلے ہفتے ایک بار پھر سالانہ بجٹ پیش کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ پامال اور کچلے ہوئے عوام اب بھی اس بجٹ سے یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ شاید بڑھتی ہوئی کمر توڑ مہنگائی اور بے روزگاری کے اس بھیانک دور میں انہیں کوئی ریلیف مل سکے، مگر بجٹ کے آنے سے پہلے ہی جو خبریں گردش کر رہی ہیں، وہ غریب کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہیں پردہ کے پیچھے سے آنے والی خبریں بتاتی ہیں کہ آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہوئے بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافے کی تیاری ہے۔ حد تو یہ ہے کہ جو عوام گرانی کے ستائے گرین انرجی یعنی سولر پینل کی طرف راغب ہو رہے تھے، اب ان سولر پینلز پر بھی ٹیکس کی شرح 10 سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کا امکان ہے۔ یہی نہیں، بلکہ جنرل سیلز ٹیکس میں اضافے کے واضح اشارے دے کر مختلف النوع اشیا پر ٹیکسوں کے نئے دروازے واہ کیے جا رہے ہیں۔آج کا مڈل کلاس اور غریب طبقہ معاشی چکی کے دو پاٹوں میں بری طرح پس رہا ہے۔ آٹا، گھی، چینی اور دالیں تو اب خواب بنتی جا رہی ہیں، اوپر سے علاج معالجہ اور بچوں کی تعلیم کے اخراجات غریب کی پہنچ سے بالکل باہر ہو چکے ہیں اگر بات کی جائے تنخواہ دار طبقے کی، تو وہ بھی اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھنے کے لیے زندگی کی گاڑی کو گھسیٹ رہا ہے۔ مہنگائی جس رفتار سے بھاگ رہی ہے، سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اس کے مقابلے میں آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مجبور طبقہ ایک بار پھر اپنے جائز مطالبات اور بقا کی جنگ لڑنے کیلئے پارلیمنٹ کے ایوانوں کی طرف رخ کرنے پر مجبور ہو چکا ہے افسوس کی بات یہ ہے کہ حکمران وقت کو غریبوں کی اس آہ و بکا سے کوئی سروکار نظر نہیں آتا۔ انہوں نے پوری قوم کو آئی ایم ایف کی جھولی میں ڈال دیا ہے اور چند ارب ڈالرز کے قرضوں کے حصول کیلئے پوری قوم کو گروی رکھ دیا ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ حکومت اپنے ہی شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے آئی ایم ایف کے در پر سجدہ ریز ہے۔ ایسے مایوس کن حالات میں غریب عوام کیلئے اس بجٹ سے آسانیوں کی کوئی امید رکھنا محض ایک سراب ہے۔ آنے والے دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کے اشارے اس بات کا ثبوت ہیں کہ مشکلات کا یہ طوفان تھمنے والا نہیں ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ کسی جنگ زدہ ملک میں بھی معیشت کا ایسا بحران نہیں ہوتا جیسا ہمارے ہاں تاثر دے کر حکمران غریب کی جیبیں کاٹ رہے ہیں اور اپنی تجوریاں بھر رہے ہیں۔ملک میں بے روزگاری خطرناک حدوں کو چھو رہی ہے نوجوان طبقہ شدید ڈپریشن اور مایوسی کا شکار ہے ۔زیادہ تر صنعتیں بند ہیں سرکاری شعبے میں روزگار کے مواقع معدوم ہیں تو نجی شعبے میں حالات سازگار نہیں ہے ہم ان مقتدر حلقوں اور حکمرانوں سے صرف اپیل ہی کر سکتے ہیں کہ خدا کا خوف کریں اور اس پسی ہوئی عوام کا مزید امتحان نہ لیں عوام پہلے ہی مہنگائی اور کسمپرسی کے ہاتھوں مجبور ہو کر خودکشیاں کرنے اور اپنے جسمانی اعضا بیچنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ اگر حکمران واقعی ملک اور عوام کے ساتھ مخلص ہیں، تو انہیں غریبوں کا خون نچوڑنے کے بجائے اشرافیہ کی اربوں روپے کی مراعات کو ختم کرنا ہوگا اور اپنے شاہانہ اخراجات میں بے پناہ کمی کرنی ہوگی۔ ورنہ یاد رکھیے، جب بھوک حد سے بڑھتی ہے تو وہ کسی ضابطے کی پابند نہیں رہتی۔
بجٹ سے جڑے عوامی توقعات اور تلخ حقائق

