Site icon Daily Pakistan

برطانوی معاشرے کی انسانی قدریں

برطانیہ میں جو پاکستانی آکر آباد ہوئے وہ زیادہ تر 1950 کے بعد یہاں محنت مزدوری کرنے آئے دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانیہ کو نئی سڑکیں، نئے پل، مکمل انفراسٹرکچر کی ضرورت پڑی تو یہاں مزدورں اور فیکٹری ورکروں کو افریقی ممالک، انڈیا، پاکستان اور آئیر لینڈ وغیرہ سے لایا گیا ان تارکین وطن نے اس ملک کی تعمیر و ترقی میں عظیم کارہائے نمایاں سرانجام دیئے برطانیہ نے بعد ازاں ان تارکین وطن کو شہریت دی انہیں مکمل حقوق حاصل ہوئے انہیں اپنی فیملیز برطانیہ لانے کی اجازت دی گئی جن میں پاکستانی بھی شامل ہیں پھر پاکستانیوں نے بھائیوں، بہنوں رشتہ داروں، پڑوسیوں کے بچے یا اولادیں بھی اپنے بچے بناکر یہاں لائے پھر شادیوں کے لئے یہاں کے تارکین وطن پاکستانیوں نے پاکستان آزادکشمیر میں جاکر اپنے بچوں کی شادیاں کر وا کر اپنے رشتہ داروں کو یہاں لاتے گئے تاکہ زیادہ تر خاندانوں کے زرائع آمدنی کا بندوست ہو اور مزید خاندان سکھی ہوں یہ سلسلہ اب بھی کسی حدتک چل رہا ہے بردار عرب ملکوں میں پاکستانی 1970 کی دہائی کے بعد جانا شروع ہوئے لیکن ان ہیں میں بعض وہیں کے ہوکر رہ گئے لیکن انہیں شہریت اور مقامی لوگوں کے مقابلے میں حقوق نہیں ملے برطانیہ میں بعد میں بھی وزٹ ویزہ کے طور پر مخصوص حالات میں پاکستانی یہاں کام کاج یا طالبعلموں کی حیثیت سے آتے گئے اور سیٹل ہوتے گئے ہر کوئی اپنی قسمت آزماتا رہا اس عظیم معاشرے کے دامن میں اتنی کشادگی ہے کہ یہاں محنت کا پھل ملتا ہے اب پاکستانیوں کی چوتھی نسل پروان چڑھ رہی ہے فیکٹری اور مل مزدوروں کی یہاں جائیدادیں ہیں کاروبار ہیں انہوں نے یہاں مسجدیں تعمیر کیں جس سے اسلام کی تبلیغ اور عبادت کا سلسلہ شروع ہوا بعض شہروں میں تو چرچ خرید کر مسجدیں بنائی گئی ہیں اب یہاں تقریبا 15 لاکھ پاکستانی آباد ہیں جن کےلئے عبادت کے لئے ہرمسلک اور مزہب کےلئے مسجد اور عبادت گاہیں موجود ہیں اور آپنے آپنے طریقے اور عقیدے پر چلتے ہوئے عبادت کی پوری طرح اجازت ہے عیسائیت کے بعد اسلام یہاں دوسرا بڑا مزیب ہے ترقی کے لئے یہاں یکساں مواقع اور حقوق مقامی اور تارکین وطن کےلئے یکساں ہیں سیاست ،معیشت اور سماجی کاموں میں تارکین وطن اس ملک کی ترقی میں نمایاں نظر آتے ہیں تارکین وطن کی تیسری نسل یہاں کے اداروں میں ایسے ہی ہے جیسے مقامی لوگ ہیں یہاں تارکین وطن قانون اور انصاف کی چھتری میں ایسے ہی محفوظ ہیں جیسے قانون کی کتابوں میں لکھا گیا ہے کالا اور گورا قانون اور انصاف کی نظر میں برابر ہیں اس معاشرے میں کسی ہسپتال کی نرس بھی کسی کو پہلے اور کسی کو بعد میں اس کے رتبے، پیشے، رنگ و نسل اور مزہب کی بنیاد پر نہیں دوا دے سکتی یہ سب کچھ انسانی قدروں کی بنیاد پر ہوتا ہے مجھے اس ملک میں آئے ہوئے 34سال ہوگئے ہیں میں حلف دے کر کہہ سکتا ہوں کہ میں نے یہاں کبھی اب تک کسی کام کے لئے رشوت اور سفارش کا سہارا نہیں لیا اور نہ ہی یہاں یہ سب کچھ چلتا ہے کام جائز ہے تو کلرک بھی کردے گا جائز نہیں ہے تو مینیجر بھی نہیں کرسکتا یہاں سب کے لئے ایک ہی اصطلاح استعمال ہوتی ہے ورک یعنی کام -دفتر، پارلیمنٹ، مزدور، ہسپتال کا ڈاکٹر ،کالج میں پڑھانے والا پروفیسر، جوتیاں بنانے والا ٹیکسی چلانے والا مالک اور ملازم سب سے اگر پوچھا جائے کہاں ہو جواب دیں گے کام پر ہوں کوئی نہیں بولے گا کالج میں ہوں دفتر میں ہوں پارلیمنٹ میں ہوں بس کام کی اصطلاح استعمال ہوگی نہ کوئی احساس برتری میں ہے نہ کمتری میں ہے میرے ایک دوست جو پاکستان میں بینک میں ملازمت کرتے تھے یوکے آئے تو انہیں جو کام ملا اس میں باتھ رومز یا ٹائلیٹس صاف کرنا بھی شامل تھا جس شخص نے انہیں جاب دی اس نے انہیں جاب دیتے وقت یہ کہا کہ یہ ایک جاب ہے جو تمہیں دی جا رہی ہے لیکن یہ خیال رہے کہ یہ ایک جاب ہے اور جو بھی یہ جاب کرے گا وہ ایک انسان ہی کرے گا جب وہ پہلے دن جاب پر گیا تو اس کا مالک خود ٹائلٹس صاف کررہا تھا اس ملک میں ملازم کے حقوق کو تحفظ حاصل ہے تنخواہ کب، کتنی، کس طرح ملے گی مدت ملازمت کتنی ہوگئی چھٹیاں سال میں کتنی ہونگئیں پہلے سب کچھ طے کیا جائے گا اس سے باہر نہ ملازم نکل سکتا نہ مالک جاسکتا ہے یہاں کی ہزاروں مثالیں دی جاسکتی ہیں جسے اکثر پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اپنی تقاریر کے دوران دیتے رہتے ہیں لیکن اب جب میں یہ کالم لکھنے بیٹھا ہوں تو تازہ ترین واقعہ یہاں بیان کرنا بے محل نہ ہوگا لیبرپارٹی کی ممبر آف پارلیمنٹ ڈبیی ابراہیم جو ورک اینڈ پنشن کی شیڈو وزیر بھی رہ چکی ہیں انہیں ماضی میں پارٹی نے ان کے عہدے سے محض اس لیے فارغ کردیا تھا کہ انہوں نے اپنے سٹاف کے ساتھ ناروا سلوک تھا ناروا سلوک میں لفظ Bulling استعمال ہوا ہے جس کا اردو میں ترجمعہ غنڈا گردی بنتا ہے یہ دھونس یا گالی گلوچ بھی ہوسکتی ہے اب جب ہم اس معاشرے کے ملازمین کا اپنے ادارے یا کام والی جگہ کے ساتھ رویہ دیکھیں تو ایک عجیب حیرت ہوتی ہیں مثال کے طور پر مالک سر پر ہو یا نہ ہو ملازم ویسے ہی احساس ذمہ داری سے کام کرے گا مثال کے طور پر خزاں کے موسم میں درختوں کے پتے جھڑنا شروع ہوجاتے ہیں مقامی حکومتوں کی جانب سے سڑکوں پر سے جب صفائی کی جاتی ہے لیکن درختوں کے پتے فٹ پاتھوں پر آڑ رہے ہوتے ہیں تو مشین کی پہنچ سے دور ہوتے ہیں ایک بندہ ہاتھوں میں سبز تھیلا لٹکائے پتوں کے پیچھے بھاگ رہا ہوتا ہے اور پکڑ کر اس تھیلے میں ڈال رہا ہوتا ہے یہاں کچرا سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر پھنکنے کی اجازت نہیں لیکن بعض لوگ پیھنک دیتے ہیں مقامی حکومت کی جانب سے سگریٹ کے ٹوٹے اکھٹے کرنے کےلئے افراد چن چن کر اپنے ہاتھ میں لیے تھیلوں میں ڈال رہے ہوتے ہیں یہ ہے وہ احساس ذمہ داری اور ایمان داری جو یہاں رائج ہے ۔اب آتے ہیں قانون اور کی عملداری کی جانب ایک تاریک رات میں گریٹر لندن کی ایک ویران سڑک پر گاڑی چلاتے ہوئے رات دو بجے میں نے شارٹ کٹ لینے کی کوشش میں اپنی گاڑی بسوں کےلئے مختص لائن میں جو عام گاڑیوں کے لئے نو انٹری تھی موڑی تو پولیس نے مجھے سٹاپ کرلیا میرا خیال تھا کہ اس وقت چونکہ بسیں چل نہیں رہی ہیں تو شاید مجھے پولیس وارننگ دے کر چھوڑ دے گئی دونوں پولیس والے پولیس کار سے باہر نکلے ایک نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے پوچھا کہ آپ کو پتہ ہے ہم نے آپ کو کیوں روکا میں نے جواب دیا کہ ہاں میں نو انٹری میں گھس گیا ہوں جو بسوں کے لیے مخصوص ہے میں سوری کرتا ہوں لیکن رات کے اس پہر میں بس تو نہیں چل رہی ہے پولیس والے نے جواب دیا آپ نے میرا کچھ نہیں بگاڑا ہے مجھ سے سوری کرنے کی ضرورت نہیں ہے آپ نے قانون توڑا ہے آپ قانون کے مجرم ہو اور مجھے جو تنخواہ ملتی ہے اسی قانون کی حفاظت کرنے کی ملتی ہے آپ نے جب میرے سامنے قانون توڑا ہے تو میں تو قانون کا رکھولا ہوں میں نے منت سماجت کی لیکن ایک نہ چلی پولیس والوں نے کہا کہ آپ کو فائن ہوگا آپ کورٹ میں جائیں میں کورٹ میں گیا جج نے میرا موقف سننے کے بعد مجھے بشمول200پونڈز جرمانہ اور ڈرائیونگ لائسنس پر4پوائنٹس کا آرڈر جاری کیا آگر میں پولیس کے فائن پر 60پونڈز ادا کردیتا تو تو لائنس پر بھی تین پوائنٹس لگتے میری ایک نہ سنی گئی اور قانون نے اپنا راستہ بنایا ایسی ہزاروں مثالیں موجود ہیں اس معاشرے میں بھی برائیاں ہیں خرابیاں موجود ہیں اور یہ معاشرہ بھی نامکمل ہے لیکن قانون اور انصاف کے عملدراری کےساتھ ساتھ اس معاشرے میں احساس زمہ داری سب سے زیادہ ہے یہاں تارکین وطن یہاں کے باشندے بن چکے ہیں ان پر اس ملک سے وفاداری کو شک کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا نہ ہی قانون اور انصاف کی نظر میں انہیں سیکنڈ کلاس شہری کے طور پر ڈیل کیا جاتا ہے اکثر پاکستانیوں کا اگرچہ جینا مرنا اب یہاں ہی ہے پھر بھی ان پاکستانیوں کی پاکستان کے لئے محبت لازوال ہے اور برطانیہ سے وفاداری ان سے اس بات کی متقاضی ہے کہ وہ پاکستان کے استحکام کے لئے کام کریں لیکن پاکستان میں ان کی وفاداری کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے برطانیہ میں آباد پاکستانی اپنے مادر وطن ملک پاکستان کا اثاثہ اور بلامعاوضہ سفیر ہیں اور پاکستان میں رہنے والے پاکستانیوں سے زیادہ محب وطن ہیں یہاں پر آکر آباد ہونے والے پاکستانی اگر اپنے ملک میں انہیں نوکریاں ملتی اور ترقی کے مواقع انہیں حاصل ہوتے تو خوشی میں کوئی اپنا ملک نہیں چھوڑتا آج بھی نوجوانوں کی اکثریت اگر موقع ملے تو پاکستان سے باہر جانے کو ترجیح دیتی ہے۔

Exit mobile version