Home » کالم » بسمہ اور عوام
khalid

بسمہ اور عوام

ننھی بسمہ چلی گئی۔ مگر سوچ رہا ہوں کہ روزمحشر وہ کس کا گریبان پکڑے گی؟ ان مقدس لوگوں کا، جن کے پروٹوکول کی بھینٹ وہ ننھی جان چڑھ گئی یا ایک عدد نوکری اور چند ٹکوں کے عوض اپنا خون بیچ دینے والے اپنے باپ کا؟؟حیران ہوں کہ بیٹی کا لاشہ بانہوں میں اٹھائے جو باپ زاروقطار رو رہا تھا اور بلاول بھٹو زرداری اور سندھ کے سائیں کو کوسنے دے رہا تھا اور اپنی بچی کی موت کا ذمہ دار ٹھہرا رہا تھا چند ہی گھنٹوں بعد سائیں سے ملاقات کے بعد کس طرح مطمئن ہو گیا؟کیا روپوں کے عوض کچھ بھی خریدا جا سکتا ہے؟ کچھ بھی۔۔۔؟؟پنجابی میں محاورتاً کہتے ہیں کہ فلاں نے تو فلاں کی قبر کی مٹی بھی خشک نہیں ہونے دی اور یہ کر دیا مگر یہاں تو اس محاورے کی عملی تفسیر ہمارے سامنے آ گئی ہے۔ ابھی بیٹی قبر میں پہنچی ہی تھی کہ باپ ایک نوکری لے کر ’’گواہیاں‘‘ دینے لگ گیا کہ بلاول بھٹو زرداری نہیں، قائم علی شاہ نہیں ، کوئی بھی اس کی بیٹی کی موت کا ذمہ دار نہیں، بس اللہ کی یہی مرضی تھی، اس کے ’’نصیب‘‘ میں ہی مرنا لکھا تھا، اس کی زندگی ہی اتنی تھی۔۔۔!!
ہم بھی کیا لوگ ہیں کہ اپنے کرتوتوں کا موردِ الزام خدا کو ٹھہرانے سے بھی باز نہیں آتے۔ کوئی موٹرسائیکل پر ون ویلنگ کرتا ہوا حادثے کا شکار ہو اور مر جائے تو بس خدا کی یہی مرضی تھی۔ کوئی خودکشی کر لے تو بس خدا کی یہی مرضی تھی۔ کوئی کسی کا گلہ کاٹ کر مار ڈالے تو بس خدا کی یہی مرضی تھی۔ کوئی اس ملک کے مقدس لوگوں کے پروٹوکول کی بلی چڑھ جائے تو بھی بس خدا کی یہی مرضی تھی۔ آج تک کوئی عالمِ دین میرے اس سوال کا جواب نہیں دے پایاکہ ’’اگر دنیا میں سب کچھ خدا کی طرف سے ہم پر مسلط کیا گیا ہے اور ہم جو کچھ کرتے پھر رہے ہیں خدا کی مرضی سے ہے تو پھر قیامت کے روز خداہمیں ان کاموں کی سزا کیونکر دے سکتا ہے؟‘‘ جانتا ہوں میں بھی، کہ سب تقدیر میں لکھا ہوتا ہے مگر خدا وہ تقدیر اپنے علم کی بنیاد پر لکھتا ہے، وہ عالم الغیب ہے، وہ جانتا ہے کہ فلاں شخص فلاں وقت پر کیا کرے گا، پس وہ لکھ دیتا ہے کہ فلاں وقت پر فلاں شخص یہ کام کرے گا۔ یہ سب اللہ جل شانہ اپنے علم کی بنیاد پر لکھتا ہے، اپنی طرف سے انسان پر مسلط نہیں کرتا کہ ’’تم نے فلاں وقت پر فلاں کام کرنا ہے۔‘‘یہی کچھ یہاں بھی دیکھنے کو ملا۔ ڈاکٹرز نے کہا کہ اگر بسمہ کو 10منٹ پہلے ہسپتال پہنچادیا جاتا تو شاید اس کی جان بچ جاتی حالانکہ باپ ایک گھنٹے سے اسے لے کر سڑکوں پر دوڑ رہا تھا۔ مگر بعد میں وہی باپ کہہ رہا ہے کہ بس خدا کی یہی مرضی تھی، کسی اور کا کوئی قصور نہیں۔
بسمہ کے باپ نے تو سمجھوتہ کر لیا، وجہ غربت ہو یا کچھ اور۔ مگر اس وقت سوسائٹی اور عوام کو کیا کرنا چاہیے؟ ایک بات تو طے ہے کہ جب تک عوام خود نہیں سدھریں گے اور معاملات اپنے ہاتھ میں نہیں لیں گے اس ملک کی بگڑی نہیں بننے والی۔ جس طرح محبت اور ہوس میں ایک باریک سا فرق ہے اسی طرح بغاوت اور عوام کے معاملات اپنے ہاتھ میں لینے کے درمیان بھی معمولی سا فرق ہے۔ اس فرق کو ملحوظ رکھتے ہوئے عوام کو سرگرم ہونا ہو گا۔ کبھی بھی کوئی چوررضاکارانہ طور پر چوری سے تائب نہیں ہوتا۔ ہمارے یہ حکمران اور سیاستدان جنہیں پروٹوکول کا چسکا لگ چکا ہے کبھی بھی رضاکارانہ طور پر اس سے دستبردار نہیں ہوں گے خواہ بسمہ جیسی کتنی ہی ننھی جانیں کیوں نہ چلی جائیں۔ سڑکیں اسی طرح بند ہوتی رہیں گی۔ ایمبولینسیں اسی طرح سڑکوں پر پروٹوکول کے باعث پھنستی رہیں گی اور ان میں مریض دم توڑتے رہیں گے۔ مائیں اسی طرح بچوں کو رکشوں میں جنم دیتی رہیں گی۔ عوام ہی کو ’’اب نہیں‘‘ کہنا ہو گا۔ بڑھ کر ان حکمرانوں کا ہاتھ روکنا ہو گا اور نثار کھوڑو جیسے بے ضمیر انسان کو دکھانا ہو گا کہ عوام اپنا حق لینا جانتے ہیں، وہی نثار کھوڑو جس نے بسمہ کی ہلاکت پر لاپرواہی کے ساتھ کہا کہ ’’ہمارے لیے تو بلاول بھٹو زرداری سب سے زیادہ عزیز ہیں۔‘‘ یہ لوگ تو کھلے عام عوام کو للکارتے رہتے ہیں، آج بھی نثار کھوڑو نے للکارا کہ ہاں بسمہ کی کیا اوقات ہے، بلاول کے سامنے اس ننھی جان کی اوقات ہی کیا ہے۔ اب اگر عوام ہی بے شرمی اور بے حسی کی چادر اوڑھے دم سادھے تماشا دیکھتے رہیں تو اس میں ان حکمرانوں کا کیا قصور، کہ چور تو چور ہی ہوتا ہے اور سینہ زور، سینہ زور۔ عمران خان کو خیبرپختونخوا سے آغاز کر دیا ہے، اب وہاں کسی پروٹوکول کے باعث ٹریفک نہیں روکی جائے گی۔ مگر کیاپنجاب و دیگر صوبوں اور وفاق کے حکمرانوں میں اتنی اخلاقی جرأت ہے کہ وہ ازخود ایسا اقدام اٹھا سکیں؟ اگر ہوتی تو بسمہ ایسی بے بسی کی موت مرتی۔ فیصلہ عوام ہی کو کرنا ہے، آج کر لے یا کل کسی اور بسمہ کی لاش اٹھانے کے بعد کر لے۔ جب سڑکوں ہزاروں لوگوں پر مسدود کر دی جاتی ہے تو ان ہزاروں کو آگے بڑھ کر اس دیوار کو توڑ دینا چاہیے۔ اب ہمیں کسی کے پروٹوکول کے باعث سڑکوں پر کھڑے نہیں ہونا۔ہمیں اب سوچنا ہو گا کہ ایک بسمہ ہی کافی ہے یا ہمیں جاگنے کے لیے مزید لاشوں کی ضرورت ہو گی۔

About Admin

Google Analytics Alternative