بسنت کے شروعات کے موقع پر رنگ برنگی پتنگیں اڑائی جاتیں۔بو کاٹا کی آوازیں آتیں ہیں ، لوگ پیلے کپڑے پہنتے ، کیونکہ پیلا رنگ بہار اور سرسوں کے پھولوں کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ بسنت میں ڈھول، بھنگڑے اور لوک گیتوں کا اہتمام ہوتا خاص کھانے یعنی مکھن، کھیر، زردہ، اور سرسوں کا ساگ جیسے روایتی کھانے بنائے جاتے لوگ ایک دوسرے سے ملتے، رشتے دار اکٹھے ہوتے،ہنسی مذاق ہوتا اگر کہا جائے کہ بسنت زیادہ تر پنجاب کی تہذیب سے جڑی ہوئی ہے تو غلط نہ ہو گا۔بسنت سردیوں کے خاتمے اور نئی فصل کے آغاز کی خوشی میں منایا جانے والا تہوار ہے ۔ دوہزار پانچ میں بسنت پر پابندی لگی۔ یہ پابندی مذہبی وجہ سے نہیں لگی تھی بلکہ خالصتا انسانی جانوں کے تحفظ کی وجہ سے لگی۔ اس پابندی کی اصل وجوہات پتنگوں کی ڈور تھی جس سے موٹر سائیکل سواروں کی ہلاکتیں اور زخمی ہونا کی وجہ سے پابندی لگی۔ پتنگ بازی میں شیشے والی ڈور مانجھااستعمال ہونے لگا تھا ۔جس سے موٹر سائیکل سواروں کے گلے کٹنے لگے جس سے قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ بجلی کے حادثات پتنگیں ہائی ٹینشن تاروں میں پھنس جاتیں۔ پھر کرنٹ لگنے سے اموات ہوئیں ۔بڑے پیمانے پر بجلی بریک ڈاؤن ہوجاتا لوگ چھتوں سے گر کر جاں بحق ہوتے چھتوں سے گرنے کے واقعات نشے یا جوش میں حفاظتی انتظامات کے بغیر پتنگ بازی پرانی اور کمزور چھتوں سے گر کر ہلاکتیں ہوتی، قانون شکنی اور بدنظمی یعنی ہوائی فائرنگ جھگڑے ٹریفک کا نظام مفلوج ہونے لگا عدالتوں نے عوامی تحفظ کے پیشِ نظر پابندی برقرار رکھی۔ حکومتیں متبادل انتظامات نہ کر سکیں بسنت بذاتِ خود ایک ثقافتی تہوار ہے۔اب ایک بار پھر پنجاب حکومت کی چیف منسٹر کی ذاتی کوششوں نے بسنت منانے کی لاہور میں تین دن کے لے اجازت دی گئی تھی۔ لاہوریوں نے پنجاب حکومت کے بنائے گئے قانون پر عمل کرتے ہوئے یہ تین دن بڑے جوش و خروش سے منائے پاکستان بھر سے لوگ بسنت منانے لاہور آئے ۔بعض غیر ملکی سفارتی شخصیات نے بھی بسنت میں بھرپور حصہ لیا ۔ جس سے دنیا کو ایک اچھا پیغام ملا۔ اس بسنت سے پنجاب حکومت اور عوام کے خزانے کو فائدہ پہنچا۔ بزنس مین بہتری اور چہروں پہ رونق آئی۔ پچاس سال قبل سائیکل تو تھی موٹر سائیکل بہت کم تھی۔ اس موقع پر علاقے کے محلے گلیوں اور میدانوں میں دو قسم کی ٹولیاں بنتی۔ ایک وہ جو پتنگ اور ڈور خرید کر لاتے اور گھروں کی چھتوں یا کھلے میدان میں پتنگ آڑاتے، پیج لڑاتے اور بو کاٹا کے نعرے لگاتے۔یا پھر دل ہوا بو کاٹا گانے لگاتے اور دوسرے وہ ہوتے جو پتنکوں کو لوٹنے کا فن رکھتے تھیان کے ہاتھ میں لمبے ڈینگر ہوتے جس سے گڈے گڈی اور ڈور کو پکڑنے میں مدد ملتی ۔ پتنگ بازی ایک ٹیکنیکل چیز کا نام ہے۔ ہر کوئی پتنگ نہیں اڑا سکتا ۔لہذا پتنگ باز تجربہ کار ہوا کرتے تھے۔انہیں نہ صرف پتنگ آڑنی آتی تھی بلکہ پیج لڑانے کے فن سے بھی یہ آشنا ہوتے تھے ۔ پتنگ لوٹنے والے بھی تجربے کار ہوتے تھے۔ وہ کٹی پتنگ کو دیکھ کر پتنگ کے پیچھے بھاگتے اگر پتنگ کے ساتھ ڈور لمبی ہوتی تو وہ اس کی ڈور کو پکڑنے کی کوشش کرتے۔ آج کے بچے نوجوانوں کو تو یہ پتہ ہی نہیں کہ پتنگ کے کنے کیسے ڈالے جاتے ہیں۔ پتنگ کیسے اڑائی جاتی ہے۔پتنگ کا چپ سر پر رگڑ کر کیسے نکالا جاتا ہے ۔ پتنگ اور ڈور کا ہونا ہی ضروری نہیں تھا اس کی تکنیکی چیزوں کو سمجھنا اور جاننا بھی ضروری ہوتا تھا۔طویل عرصے کے بعد یہ بسنت کا تہوار واپس اس پنجاب حکومت کی چیف منسٹر مریم نواز کی کوششوں سے آیا ہے اس کا کریڈٹ محترمہ مریم نواز صاحبہ کوجاتا ہے لیکن یہ تہوار سارے پنجاب میں نہیں صرف لاہور میں ہی منایا گیا تھا۔ کہا جارہا ہے اس تہوار کا بزنس دو ارب روپے سے زیادہ کا ہوا۔ اس بسنت سے قبل ڈور یا تو کاغذ کے پنے بنتے یا پھر لکڑی کی چرخی پر لپیٹی جاتی تھی ۔ ڈور میں جو مانجھا ہوتا وہ گوند اور پسے ہوئے کانچ سے بنایا جاتا۔ اسوقت پتنگ بازی کے اتنی مشکل حالات نہ ہوا کرتے تھے جتنے اس بار دیکھنے کو آئے ہیں۔ ایسے رولز جرمانے نہیں ہوا کرتے تھے۔ اس بسنت کے رولز قانون کو دیکھ کر یہ قصبہ یاد آ گیا ۔ کسی شخص کو شیر بہت پسند تھا۔ وہ اپنے جسم پر شیر بنانے بازار گیا وہاں ٹاٹوز بنانے والے یعنی جو انسانی جسم کی کھال پر مورتیاں یا نام لکھا کرتے تھے۔یہ ان کے پاس پہنچا کہ میری پیٹھ یعنی کمر پر شیر کی تصویر بنا دو۔ آرٹسٹ نے بتایا اسکے لئے آپ کو تکلیف کا سامنا کرنا ہوگا۔ آپ اس کو بنواتے وقت اس کی تکلیف برداشت نہیں کر سکیں گے یہ مہنگا شوق ہے ۔کہا میں برداشت کر لونگا پھر اس نے اس کام کی رقم آرٹسٹ کو ایڈوانس میں دے دی اور قمیض اتار کر الٹا لیٹ گیا۔ اس نے منہ میں رومال رکھ لیا کہ تکلیف ہونے پردانتوں کو دباتا رہوں گا ۔ اب آرٹسٹ نے جب شیر بنانے کیلئے سوئی اس کے جسم پر لگائی تو اسے سوئی کی چھپن برداشت نہ ہوئی۔ اف کی آواز نکالی اور آرٹسٹ سے پوچھا شیر کا کون سا حصہ بنا رہے ہو۔ کہا شیر کے کان۔ کہا کیا شیر بغیر کانوں کے نہیں ہوتا۔ کہا جی ہوتا ہے ۔کہا میرے جسم پر بغیر کانوں والا شیر بنا ۔ آرٹسٹ نے سوئی دوبارہ اس کے جسم پر لگائی جس سے اسے پھر تکلیف ہوئی پوچھا اب شیر کا کون سا حصہ بنا رہے ہو کہا شیر کی دم۔ کہا کیا شیر بغیر دم کے نہیں ہوتا جواب دیا ہوتا ہے کہا پھر بغیر دم والا شیر بنا دو آرٹسٹ نے کہا جیسے آپ پسند کریں ۔ اس نے ایک بار پھر سوئی لگائی اسے اس بار بھی تکلیف ہوئی پوچھا اب کیا بنانے لگے ہو کہا شیر کی ٹانگ۔ کہا وہ شیر بنا جو بیٹھا ہوا ہو جس کی ٹانگیں نظر نہ آئیں۔کہا جیسے آپ کی مرضی۔ اس نے ایک بار پھر سوئی لگائی اسے پھر تکلیف ہوئی پوچھا اب کیا بنا رہے ہو کہا اس کی آنکھیں۔ کہا ایسا شیر بنا جو سو رہا ہو۔ یہ سن کر آرٹسٹ کو غصہ آیا کہا سر آپ جسم پر نہیں اپنی بنیان پر ہی شیر بنوا لیں وہی اچھا بھی لگے گا آپ کو تکلیف بھی نہیں ہو گی ۔ کہا واہ تم نے تو میرا مسئلہ ہی حل کر دیا ہے یوں اس نے شیر کی تصویر بنی بنیان پہن کر اپنا شوق پورا کیا۔پنجاب حکومت نے بھی لاہوریوں کی بسنت کا شوق ایسے ہی پورا کیا ہے اس قانون کے تحت پتنگ اڑاتے کیلئے ڈور نہیں دھاگہ کا استعمال کرایا موٹر سائیکل پر حفاظتی راڈ لگوائے۔ اب جو ہم نے بچپن میں پتنگ بازی کی تھی اس دور میں ایسی پابندیاں قانون نہیں تھے جیسے اس بار تھے۔اس زمانے میں پتنگ بازی کو ہی بسنت کا تہوار سمجھا جاتا تھا۔ مگر اس بار صرف بسنت ہی منائی گئی۔ سارا زور کھانوں پہ رہا ۔ اس روز شہریوں کے ہاتھوں میں پتنگیں کم مرغی کی چوڑیاں زیادہ تھیں۔ بسنت کیلئے تین چار دن کافی نہیں تھے پتنگ بازی کیلئے تو دو تین ہفتے بھی کم تھے۔ بسنت ایک روایتی تہوار پنجاب کے ثقافتی کلچر کا اہم حصہ رہا ہے بسنت پنجاب حکومت نے نئی پابندیوں اور قواعد کے تحت منا کر لاہوریوں کا شکریہ ادا کیا ۔کہا جاتا ہے یہ پتنگ بازی بسنت پورے پنجاب میں منانے کی اجازت نہیں تھی صرف لاہور تک معدود تھی۔ بسنت کے بڑے بڑے اشتہارات اخبارات میں چھپتے رہے۔میڈیا پربھی اشتہارات چلے۔ اس بسنت کے بجائے پنجاب سارے میں شکرگڑھ جیسے میلے لگتے تو عوام خوش ہوتے ۔ شکرگڑھ میلے میں ہارس اینڈ کیٹل شو ہوا مقامی مصنوعات کے سٹال لگے لوگ مقامی کھیل کھیلتے رہے اور بھنگڑے ڈانس بھی ہوئے۔ اس بسنت کو لاہوی بسنت کہا جائے تو غلط نہ ہو گا یہ ادھوری بسنت تھی ۔ ڈور کو مانجھا تو لگانے نہیں دیا گیا۔ پھر بو کاٹا کا مزہ خاک آیا ہو گا ۔ میڈم اپ اپنے ایڈورڈ بدلیں جو اشتہارات پر پیسہ خرچ کرواتے رہے۔ انہیں دل کے بو کاٹا کا شاید کچھ پتہ ہو لیکن پتنگوں کے بو کاٹا کا انہیں کچھ پتہ نہیں تھا ۔ یہ بسنت بھی بنیان کے شیر جیسے ہی منایا گیا ہے۔ پنجاب کے میلے بھی ثقافت کا درجہ رکھتے ہیں۔ ان میلوں کو منایا کریں جیسے اس سال شکرگڑھ میں میلہ سجایا گیا تھا اجتماعی شادیاں کرائی گئی۔ کھانے پینے کے سٹال لگے۔ اگر ایسے میلے نہیں لگانا تو پھر بسنت کو اشتہارات تک ہی رکھا جائے تو بہتر ہو گا بحرحال کچھ نہ کچھ کرنا نہ کرنے سے بہتر ہے۔

