بلوچستان: مسائل کی اصل جڑ کہاں ہے

15

چند روز قبل صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سبی کے تاریخی میلہ کی افتتاح کیا ۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ سبی ایک تاریخی شہر ہے، مجھے فخر ہے کہ میں ;200;ج بحیثیت صدر پاکستان سبی تاریخی میلے کا افتتاح کر رہا ہوں ، یہ وہ تاریخی میلہ ہے جسکی تقریبات میں بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح;231; بھی شرکت کیا کرتے تھے ۔ بلاشبہ سبی میلے کی تاریخ پرانی ہے اور ماہرین کا ماننا ہے کہ اس کے تذکرے چاکر اعظم کے دور کی شاعری میں ملتے ہیں ۔ سبی میلہ لوگوں کے میل جول اور بڑے پیمانے پر جانوروں کی خرید و فروخت کی وجہ سے ایک مارکیٹ بن چکا ہے ۔ یہ میلہ پہلے فصلوں کی کٹائی کے وقت منعقد کیا جاتا تھا بعد میں انگریز حکومت نے اس کی ایک تاریخ مقرر کردی ۔ تب سے فروری کے مہینے میں منعقد کیا جاتا ہے ۔ صدر مملکت نے بلوچستان کے معدنی وسائل سے استعفادہ کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہاں کاروبار کے وسیع مواقع بھی ہیں ، ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کیلئے اقدامات لینے کی ضرورت ہے، انہوں نے اقتصادی راہداری کو بلوچستان کی ترقی کا ضامن منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہ اس کا سب سے زیادہ فائدہ بلوچستان کو پہنچے گا،اور دنیا کے نقشے پر ایک ترقی یافتہ خطہ بن کر ابھرے گا، نوجوانوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے ۔ صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان دہشت گردی کے واقعات سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، لیکن سیکورٹی فورسز نے جانوں کے نذرانے پیش کرکے ملک کو امن کا گہوارا بنایا ہے ۔

متعلقہ خبریں

قطر میں پاکستانیوں کے لئے خوشخبری

موجودہ سب سے بہترین اور اسمارٹ موبائل فون

اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ بلوچستان بین الاقوامی سازش کا نشانہ بنا اور ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت اسے عدم استحکام سے دوچار کیا گیا ۔ بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ اور قدرتی وسائل سے مالامال ہے ، لیکن پسماندگی میں بھی سب سے ;200;گے ہے ۔ اگر پاکستان دشمن قوتوں کی سازشوں ایک طرف رکھ کراس کی پسماندگی کی بنیادی وجوہات تلاش کریں تو سب سے بڑی وجہ یہاں پر مسلط سرداری نظام ہے، 1876 میں جسکی بنیادرابرٹ سنڈیمن نے اسوقت رکھی جب وہ بلوچستان میں چیف کمشنر تھے ۔ رابرٹ سنڈیمن نے بلوچ عوام پر راج کرنے کے لئے سرداروں کے ہاتھ مضبوط کئے اور انہیں ایسے اختیارات سے نوازا کہ جسکے نشہ سے یہ سردار اب تک نکل نہیں پائے ۔ سرداری نظام کی پیداوار یہ قبائلی سردار صوبے کے وسائل پر قابض رہ کر لوگوں کی اکثریت کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھنا چاہتے ہیں ۔ اس پہ ظلم یہ کہ حکومت کے ایوانوں میں بھی سرداروں کے ڈیرے اور فیصلہ سازی میں حصہ دار بھی ہیں جو وسائل کی نچلی سطح تک منتقلی کی راہ میں رکاوٹ ہیں ۔ بڑے بڑے قبائلی قوم پرست سردار دانستہ طور پر بلوچوں کو تعلیم، ترقی اور بنیادی سہولتوں سے محروم رکھتے ;200; رہے ہیں ۔ صرف یہی نہیں بلکہ بعض قبائلی سردار سرداری سسٹم کی بقا کےلئے ملک دشمن عناصر کے ہاتھوں کھیلنے سے بھی نہیں چوکتے ۔ سرداری نظام میں بری طرح جکڑا ایک عام بلوچ ہر طرف سے مار کھا رہا ہے ۔ سردار کے بچے کےلئے بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کے مواقع اور وسائل ہیں جبکہ عام بلوچ کو ڈھنگ کا سکول بھی میسر نہیں ۔ ;200;ج بھی بلوچستان میں کئی سرداروں کے اوطاق اور جبری مشقت لینے والا نظام پورے طمطراق سے موجود ہے ۔ یہی سردار اپنے عوام کی پسماندگی کے نام پر طرح طرح کے اختیار اور وسائل مانگتے ہیں لیکن مجال ہے کہ عوامی فلاح و بہبود پر ٹکہ بھی خرچ کریں ۔ اس پر سونے پہ سہاگہ یہ کہ جب قومی سطح کا کوئی منصوبہ بلوچستان میں شروع ہونے لگتا ہے تو پھر سب سے بڑی رکاوٹ بھی بن کر سامنے ;200;تے ہیں ۔ ہر حکومت سرداری نظام کے خاتمے کا اعلان تو کرتی ہے مگر عملاً کوئی اقدام نہیں اٹھائے جاتے ۔ بھٹو سے مشرف تک یہ سلسلہ جاری رہا ۔ بلوچ عوام کے مسائل کی اصل جڑ کہاں ہے،یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی ہے ۔ چار و ناچار ایک عام پاکستانی یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ یہ قوم پرست لیڈر(سبھی نہیں )دراصل مفاد پرست ہیں ۔ انہیں بلوچ عوام کی محرومیوں سے کوئی سروکار نہیں ۔ حیران کن امر یہ ہے کہ غریب بلوچ عوام کے غم میں وہ بھی دبلے ہوتے رہتے ہیں جن کا جینا مرنا اب بلوچستان نہیں بلکہ یورپی ممالک سے وابستہ ہو گیا ہے ۔ اللہ نے بلوچستان کو بے پناہ وسائل اور بلوچ نوجوانوں کو بے مثل صلاحیتوں سے نوازرکھا ہے ۔ ان کی صلاحیتوں سے کیسے فائدہ اٹھایا جائے،یہ ایک اہم مسئلہ ہے جو ہمارے فیصلہ سازوں سے حل نہیں ہو پا رہا ۔ بیوروکریسی عام پاکستانی کے مسائل سے کوسوں دور رہتی ہے جبکہ خود حکمرانوں کی ترجیحات ذاتی مفادات سے ;200;گے نہیں نکل پاتیں ۔ تاہم افواج پاکستان نے محدود وسائل کے باوجود ہمیشہ کوشش کی ہے کہ معاشی اور معاشرتی ترقی کیلئے اپنا مثبت کردار ادا کرے ۔ بلوچستان کی ترقی در اصل پاکستان کی ترقی ہے اور پاک فوج اس حقیقت سے اچھی طرح ;200;گاہ ہے ۔ اپنے ;200;ئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے بلوچستان کی تعمیر و ترقی میں اس کا کردار مثالی ہے ۔ سب سے اہم تعلیم کا فروغ ہے جسکے لئے وہ اپنی بھرپور صلاحیتوں کے ذریعے شرح خواندگی کو بہتر بنانے کیلئے کوشاں ہے ۔ پاک فوج کی جانب سے اب تک بہت سے سکولوں کو جدیدتقاضوں کے مطابق اپ گریڈ کیا جاچکا ہے ۔ بیروزگاری ملک کے دیگر حصوں کی طرح اس صوبے کا بھی پریشان کن مسئلہ ہے، اس مسئلے کے حل کےلئے نوجوانوں کو ;200;رمی میں زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کئے جا رہے جبکہ حصول علم میں ;200;سانی اور بھر پور حوصلہ افزائی بھی کی جا رہی ہے ۔ جو لوگ بلوچستان اہم داریوں کے سلسلے میں ;200;تے جاتے ہیں جب ان سے کچھ معلومات اکٹھی کیں تو معلوم ہوا کہ پاک ;200;رمی بیشمار تکنیکی تعلیمی ادارے قیام میں لا چکی ہے ۔ مثلاًبلوچستان انسٹیٹیوٹ ;200;ف ٹیکنیکل ایجوکیشن اب تک بیشماربلوچ نوجوانوں کو ہنر مندی کی تربیت فراہم کر چکا ہے ۔ علاوہ ازیں ملٹری کالج سوئی، بلوچستان پبلک سکول سوئی ، انسٹیٹیوٹ ;200;ف میڈیکل سائنسز، گوادر انسٹیٹیوٹ ;200;ف ٹیکنالوجی، بلوچستان انسٹیٹیوٹ ;200;ف ٹیکنیکل ایجوکیشن، ;200;رمی انسٹیٹوٹ ان مینرولوجی، بلوچ یوتھ انوائرمنٹ ان ;200;رمی، ڈیرہ بگٹی ڈویلپمنٹ پروجیکٹ، ڈویلپمنٹ پروجیکٹ کوہلو اینڈ ناصر ;200;باد ڈویژن اور پاکستان ;200;رمی اسسٹنس ان ڈویلپمنٹ ;200;ف روڈ نیٹ ورک شامل ہیں ، اسی طرح گیس اور پانی کی مفت فراہمی ، سوئی میں پچاس بیڈوں پر مشتمل ہسپتال کی تعمیر، اور کئی دیگر منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر سول حکومتیں اپنی آئینی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے ادا کرتیں تو آج یہ سب کچھ ان کے کریڈٹ پر ہوتا ۔ تاہم ایشو کریڈٹ یا ڈس کریڈٹ کا نہیں بلوچستان کی پسماندگی کے خاتمے کا ہے،تاکہ غیرملکی طاقتوں کو اس آڑ میں بلوچستان میں مذموم کھیل کھیلنے کا موقع نہ ملے ۔