صاحب کا احمد مبارک سے رشتہ دہائیوں پرانا تھا۔احمد صاحب سے رشتے کی ابتدا ملازمت کے اوائل سے ہی ہو گئی تھی. ہمارا نوجوان افسر ساہیوال تعینات ہوا تو ملک کے چند علاقوں میں زلزلے نے آفت مچائی ہوئی تھی. جواں سال افسر نے ریلیف کا کام اپنے ذمے لے لیا۔ڈسٹرکٹ کوآرڈنیشن آفیسر صاحب تجربہ کار افسر تھے۔بلوچستان ملازمت کا وسیع تجربہ رکھتے تھے۔بلوچستان سے محبت کرتے تھے اور ھر انسان سے بھی.وہ ریلیف کے کام میں ذاتی دلچسپی لے رہے تھے،روزانہ سامان کے ٹرک بھیجے جاتے تھے۔مختلف ایسوسی ایشنز متحرک تھیں،زیادہ تر کا رسپانس بہت اچھا تھا۔کبھی کوئی صاحب بد مزہ بھی کرتے لیکن اکثریت درد دل رکھنے والی تھی. اہلیان شہر ضلعی انتظامیہ کی توقع سے بڑھ کر اپنے آفت زدہ ہم وطنوں کی مدد کررہے تھے۔افسر کو حیرت رائس ملز ایسوسی ایشن کے عہدہ دارن کے رویے سے ہوئی ، حاجی صاحب اور چوہدری اقبال صاحب رائس ملز ایسوسی ایشن کے نمائندگان تھے۔اگر سو ٹن چاول بھیجنے ہوتے تو حاجی منیر صاحب اور چودری اقبال صاحب ڈیڑھ سو ٹن چاول کا بندوبست کرتے،کسی کسی کو اتنا دریا دل پایا .حاجی صاحب اللہ تعالی کے پاس پہنچ چکے ہیں ۔ سخی اللہ تعالی کی رحمت کے ہمیشہ ہ قریب ہوتا ہے۔انشااللہ ،حاجی صاحب پر اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی برکات کا نزول کرے گا۔حاجی صاحب کی اولاد سے بھی، امید ہے۔ان کے نقش قدم پر چل رہی ہوگی۔چوہدری اقبال صاحب سے ابھی تک ہمارے افسر کے روابط قائم ہیں ۔ افسر صاحب ٹرانسفر ہوتے رہے۔ ایک طویل عرصہ ساہیوال سے باہر گزارا مگر چوہدری اقبال اور احمد مبارک صاحب نے اپنی وضع داری نہ چھوڑی ۔ ان کی وضع داری اج بھی قائم ہے۔افسر کا دوبارہ ساہیوال آنا ہوا تو ملاقات کا سلسلہ دوبارہ باقاعدگی اختیار کر گیا ،رمضان شریف کی آمد آمد ہے،غریب افراد ضلعی انتظامیہ اور ڈویژنل انتظامیہ کے پاس اپنے تمام مسائل کے حل کے لئے آتے ہیں ،عوام اور افسران کے درمیان اعتماد اور پیار کا رشتہ قائم ہے ،افسران کی اکثریت درد دل کی دولت سے مالا مال ہوتی ہے ۔ رمضان میں حکومت کی پالیسی کے تحت راشن کی تقسیم کی جاتی ہے۔موجودہ حکومت غریب دوست اقدامات اٹھا رہی ہے ۔سول سوسائٹی نے بھی ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا ہے ۔ ہمارے لوگ یقین رکھتے ہیں کہ صدقہ اور خیرات تمام بلائیں ٹال دیتا ہے۔ دنیا بھر میں پاکستانی قوم صدقات اور خیرات کے حوالے سے ممتاز ہے۔اقوام متحدہ کو امن کیلئے دنیا میں کہیں فوج کی ضرورت ہو۔پاکستانی فوج سب سے پہلے فلاحی خدمات سرانجام دیتی ہے۔فوج اور عوام ایک ہیں ۔ پاکستانی عوام بھی ضرورت کی گھڑی میں دنیا بھر کے متاثرین کی مدد کرنے میں سر فہرست ہوتے ہیں۔ہمارے افسر کے پاس چند حاجت مند افراد تشریف لائے۔ زندگی کی ضروریات بڑھ گئی ہیں،بچوں کی تعلیم بھی مہنگی ہو گئی ہے۔تعلیم فیس کے علاوہ بھی کئی چیزوں کی متقاضی ہوتی ہے ۔ پہلے ہمارے ہاں مشترکہ خاندانی نظام کا رواج تھا۔کئی لوگوں کو وہ نظام بڑا راس تھا. بدقسمتی سے اب ہمارے ہاں مشترکہ خاندانی نظام ختم ہوتا جا رہا ہے ۔ ضروریات زندگی میں آئے دن اضافہ ہوتا رہتا ہے۔حکومت مہنگائی پر قابو پانے کے لئے جملہ اقدامات اٹھا رہی ہے لیکن پھر بھی چند سفید پوش لوگوں کو کافی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے. ایسے لوگوں کے مسائل کے حل کے لئے دعا بھی کرنی چاہیے اور ان کے لئے دوا بھی بننا چاہیے۔افسر نے شرماتے شرماتے احمد مبارک صاحب کو فون کیا.احمد صاحب نے اپنی روایتی اعلیٰ ظرفی کا ثبوت دیتے ہوئے کہا:-"یہ تو بہت اچھی بات ہے, آپ ہمیں نیکی کے کام میں شریک کر رہے ہیں بھائی مجھے بتائیے ,کتنے لوگ ہیں,کتنے چاول چاہیں؟ میں اس سے زیادہ یی بھجواں گا.مستقبل میں بھی اگر کوئی ضرورت مند ہو تو ہمیں ضرور بتائیے گا .”احمد کی گفتگو سے اطمینان ہوا .اللہ تعالیٰ نے ہمارے نوجوانوں کا دل بہت خوبصورت بنایا ہے .وہ اپنے بزرگوں کی روایات کو لے کر چل رہے ہیں۔مسلمان کو صدقہ خیرات کے بے بہا اجر کا خالق کائنات کی طرف سے وعدہ ہے۔کہا جاتا ہے ، روزہ کھلوانے والے کو بھی روزے دار کے برابر ہی ثواب ملتا ہے۔مقدس شخصیات رمضان کے مہینے میں پہلے سے زیادہ سخاوت کا مظاہرہ کرتی تھیں۔یہی رواج الحمدللہ ،امت مسلمہ میں آج پندرہ سو سال کے بعد بھی چلا آرہا ہے۔دنیا کے تمام ممالک میں رمضان شریف میں صدقہ خیرات کرنے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔مسلمان عموما اپنی زکو بھی رمضان کے مہینے میں ہی دیتے ہیں۔قرآن شریف میں بارہا صدقہ خیرات کرنیکی ترغیب دلائی گئی ہے ۔زکو کو مال پاک کرنے کا ذریعہ بتایا گیا ہے ۔ صدقہ خیرات کے بارے میں یہاں تک کہا گیا ہے ، اپنی ضرورت سے زائد ہر چیز صدقہ کر دینی چاہیے۔اسلامی تاریخ میں حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ایسی بے شمار شخصیات کا تذکرہ ملتا ہے جو اپنی ضرورت سے زائد ہر چیز خیرات کرنے پر یقین رکھتی تھیں. آج بھی ایسے افراد کی کمی نہیں ،جنہوں نے اپنی زندگی کا مقصد غربت کا خاتمہ بنایا ہوا ہے ۔ ایسے بے شمار افراد موجود ہیں جو انتہائی خاموشی سے صدقہ خیرات کرتے ہیں,جو اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اگر دائیں ہاتھ سے دیا جائے تو بائیں ہاتھ تک کو معلوم نہیں ہونا چاہیے ۔ صدقہ خیرات کی روح یہی ہے ، کسی مفلس کی انا مجروح نہ ہو ۔مسلمانوں کو اس لیے بہترین امت کہا گیا ہے ، وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں۔ نیکی کے کاموں میں تعاون کرنا ہماری صدیوں پرانی روایت ہے. زندگی کی ضروریات سے محروم افراد پنجاب حکومت کی ترجیح ہیں۔ہم میں سے ہر شخص جنت کا طلبگار ہے۔جنت کے حصول کا آسان ترین راستہ خدمت خلق ہے. اللہ تعالیٰ کے پاک پیغمبر صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زندگی کا ہر لمحہ خدمت خلق سے عبارت ہے ۔ اہل بیت کو خدمت خلق میں امتیازی مقام حاصل ہے۔اہل بیت کا روشن راستہ ہمارے لئے واجب تقلید ہے۔صحابہ کرام بھی خدمت خلق کیلئے ہر وقت کوشاں رہتے تھے۔ہمارے حکمران بھی ذاتی طورپر خدمت خلق کرنے والے تھے۔کسی کو رزق کمانے کے قابل بنانا ۔ سب سے اعلیٰ افعال میں سے ایک فعل ہے ۔ اللہ تعالی کے محبوب پیغمبر پر جب پہلی وحی اتری ،اللہ کے نبی گھر تشریف لائے،حضرت خدیجہ کو فرمایا:-"مجھے کمبل اوڑھا دو "-کتابوں میں مرقوم ہے ، حضرت خدیجہ نے آپ کی صفات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا :-آپ بے روزگاروں کو روزگار کے قابل بنانے میں ان کی مدد کرتے ہیں۔غریبوں کی مدد کرتے ہیں ، صلہ رحمی کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیشہ آپ کے ساتھ ہے”.اللہ تعالیٰ کی مدد ہمیشہ سخاوت کرنے والوں کے ساتھ ہوتی ہے .پیرنٹنگ کا اہم جز اپنے بچوں کو خیرات صدقات کی اہمیت بتانا ہے۔احمد مبارک صاحب کے بزرگ بھی اہل دل تھے۔وہ اپنے بزرگوں کی اعلیٰ روایات کی پاسداری کر رہے ہیں۔اپنی اولاد کی بھی انہی خطوط پر تربیت کر رہے ہیں ۔ رمضان کا مہینہ بخشش کا سنہری موقع فراہم کرتا ہے ۔ موقع ہاتھ سے مت جانے دیجئے,صراط مستقیم اپنائیے,بچوں کو بھی دینی احکامات بتائیے۔پاکستان کو مزیدخوبصورت بنائیے۔
بھائی!بتائیے کتنے لوگ ہیں؟

