Home » کالم » بھارتی جارحیت کا خطرہ

بھارتی جارحیت کا خطرہ

پلوامہ حملے کے بعد پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی میں کمی محسوس کی جارہی تھی لیکن دونوں ممالک کے درمیان صورت حال ابھی تک تناؤ کا شکار ہی ہے ۔پاکستان کی جانب سے بھارت کیلئے خیر سگالی اور پائیدار امن کی بار بار خواہش کے باوجود بھارت نے ہمیشہ جنگ کرنے کی ہی کوشش کی ہے۔انہی دنوں پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے میڈیا کو بتایا ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان میں 16سے 20اپریل کے درمیان کاروائی کا خدشہ ہے اور اس حوالے سے پاکستان کے پاس قابل بھروسہ اطلاعات ہیں کہ بھارت تیاری کر رہا ہے ۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا دنیا جانتی ہے پاکستان نے ذمہ دارانہ اور بھارت نے غیر ذمہ دارانہ رویہ اپنایا ،لائن آف کنٹرول پر مسلسل فائرنگ جاری ہے لیکن پاکستان بردباری سے معاملات کو سلجھانے کی کوشش کر رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ابھی بھارت میں انتخابات ہیں ۔الیکشن کے دوران بھارتی حکومت سے ہمت اور جرأت کا مظاہرہ مشکل ہے لیکن انتخابات کے بعد کشمیر سمیت تمام مسائل بیٹھ کر بات چیت سے حل کئے جا سکتے ہیں ۔پاکستانی وزیر خارجہ نے بھارتی جارحیت کے اقدامات کے پیش نظر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سمیت دنیا بھر کے ممالک کو اس ممکنہ جارحیت سے آگاہ کر کے اپنا فرض تو پورا کر دیا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اقوام متحدہ اگر اس قدر طاقتور اور بااختیار ادارہ ہوتا تو کشمیر کا مسئلہ 7دہائیوں سے اس طرح نہ لٹکا ہوتا ۔دراصل یہ ادارہ آزاد نہیں بلکہ بڑی طاقتوں کا غلام بنا ہوا ہے ۔اقوام متحدہ میں 7دہائیاں پہلے ہی کشمیر کے مسئلے کو پیش کیا گیا تھا اور اس نے فیصلہ دیا تھا کہ کشمیر کے مسئلے کو رائے شماری کے ذریعے حل کیا جائے ،اس فیصلے کا جو حشر ہوا اسے ساری دنیا جانتی ہے۔ بھارت میں عام انتخابات کا آغاز ہو چکا ہے ۔ان کے نتائج اگلے ماہ ،23مئی کو نکلیں گے ۔الیکشن کے نام پر اکثریتی ہندوؤں نے اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں اور مسیحیوں کا عرصہ حیات تنگ کر دیا ہے ، انہیں ڈرا دھمکا کر ووٹوں کا حصول ممکن بنایا جا رہا ہے۔بھارت کے کئی مقامات پر مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے لرزہ خیز مظالم کی ویڈیو کلپس دیکھ کر دل دہل اٹھتا ہے ۔انہی دنوں اتر پردیش (جہاں کا وزیر اعلیٰ یوگی ادیتہ ناتھ ایک کٹر ہندو اور بی جے پی کا ایک جنگجو سیاستدان ہے) میں ایک بزرگ امام مسجد کو ہندوؤں نے پکڑ کرزبردستی شراب اور گائے کا پیشاب پلانے کی مذموم حرکت کی ہے۔مسلمانوں کی پوری مارکیٹ جلا کر راکھ کر دی گئی ہے۔ان کا صرف یہی جرم تھا کہ وہ گوشت فروخت کرتے تھے ۔آسام میں ایک مسلمان قصاب شوکت علی کو ہندوؤں نے پکڑ کر بے پناہ تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر اسے خنزیر کا گوشت کھلانے پر مجبور کیا گیا ۔بھارتی وزیر اعظم اور برسر اقتدار جماعت ہر ہتھکنڈہ بروئے کار لا کر دوبارہ حکومت بنانے کیلئے کوشاں ہیں ۔مودی جی یہ الیکشن زندگی موت کا کھیل سمجھ کر لڑ رہے ہیں جس کا مقصد ہر حال میں جیتنا ہے ۔ان کی خوں آشامی سے کئی معتدل اور مہذب بھارتی بھی پریشان ہیں ۔مشہور بھارتی اخبار ’’دی ہندو‘‘ میں Ramin jahan leglooکے نام سے ایک آرٹیکل شائع ہوا ہے ۔مضمون نگار نے دکھ اور تکلیف کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ نریندر مودی نے بھارت میں جو پر خطر سیاسی اور سماجی حالات پیدا کر دیے ہیں ان میں اگر بھارت کے باپو گاندھی جی کو الیکشن لڑنا پڑتا تو وہ صاف انکار کر دیتے کیونکہ یہ حالات بھارتی ڈیمو کریسی کے عکاس نہیں ہیں ۔بھارتی ڈیمو کریسی دراصل موبو کریسی بن گئی ہے ۔کسی جماعت کا منشور ہی اس جماعت کی آئندہ حکمت عملی ،عزائم ،منصوبوں اور نیتوں کا عکاس ہوتا ہے ۔انتخابات کے آغاز سے تین دن پہلے مودی نے نئی دہلی میں اپنے جنگجو ساتھیوں امیت شاہ، راجناتھ سنگھ ،ارون جیٹلی اور سشما سوراج کی موجودگی میں بی جے پی کا جاری کردہ یہ منشور 45صفحات اور75اعلانات پر مشتمل ہے ۔دیگر باتوں کے علاوہ مودی نے خصوصاً یہ اعلان کیا ہے کہ دوسری بار اگر میں وزیر اعظم بن گیا تو (۱) ایودھیا میں (بابری مسجد کی جگہ )رام مندر بناؤں گا۔ (۲) قوم پرستی کوفروغ دوں گا۔(۳) بھارتی آئین میں موجود (مقبوضہ کشمیر) اور کشمیریوں کے بارے جو خصوصی شقیں ( آرٹیکل 370 اور 35 اے) ہیں ،ختم کر دوں گا ۔مودی جی کا جن سنگھی ہندو برہنہ ہو کر سامنے آ گیا ہے ۔ووٹ کی خاطر رام مندر کی تعمیر اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے بارے میں ان کے دیرینہ عزائم بھی بے نقاب ہو گئے ہیں ۔ان اعلانات سے بھارتی مسلمانوں اور کشمیریوں کے دلوں میں طوفان مچل رہے ہیں اور کشمیریوں کی اکثریت سخت رد عمل کا اظہار کر رہی ہے حتیٰ کہ وہ کشمیری لیڈرز جو نئی دہلی کی کٹھ پتلی بن کر ( مقبوضہ) کشمیر کے اقتدار پر براجمان رہے ہیں وہ بھی مقتدر مودی کے خلاف نکل آئے ہیں ۔ سابق کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداﷲ نے کہا کہ ’’ بی جے پی اور مودی کا یہ منشور کشمیریوں کو متفقہ طور پر کامل آزادی کے راستے پر گامزن کر دے گا‘‘۔کشمیر کی سابق کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا ’’ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا عندیہ دے کر نریندر مودی اور بھارتی دیت مقتدرہ دراصل آگ سے کھیل رہے ہیں ‘‘ ۔لیکن مودی کی عصبیت اور نفرت میں کمی نہیں آرہی۔پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ممکنہ بھارتی جارحیت کے حوالے سے بیان نے جہاں بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی توجہ حاصل کی وہاں ملک کے کئی حلقوں میں اس بیان کی حقیقت پر بحث چھڑ گئی ہے ۔وطن عزیز میں کچھ ناقدین اسے سیاسی تناظر میں دیکھ رہے ہیں ان کے خیال میں چونکہ پی ٹی آئی کی حکومت کو شدید مسائل کا سامنا اور مشکلات درپیش ہیں ،ملک کے معاشی حلات ابتر ہیں ،ٹیکس جمع نہیں ہو رہے ،مہنگائی میں تواتر سے روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے اور پلوامہ حملے کے بعد سے پاکستان پر بین الاقوامی دباؤ آ رہا ہے کہ وہ بھارت اور افغانستان میں مداخلت بند کرے تو ان تمام مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے پی ٹی آئی نے یہ شوشہ چھوڑا ہے جبکہ بھارت میں بی جے پی بھی یہی کام کر رہی ہے تاہم دونوں کے مقاصد مختلف ہیں ۔بعض پاکستانی تھنک ٹینکس کی یہ قیاس آرائیاں حقیقت کے قریب نظر نہیں آتیں ۔ یہ بات سب کے سامنے ہے اور ماضی بھی اس پر گواہ ہے کہ بھارت نے کنٹرول لائن سے لے کر پاکستان میں دہشت گردی کروانے تک پاکستان کے ساتھ جنگ چھیڑنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا لیکن ہر بار پاکستان کی جانب سے ہی جنگ کو ٹالا گیا ۔یہ اطلاعات اور خطرات غیر متوقع نہیں بلکہ اس کا پورا پورا امکان ظاہر کیا جاتا رہا ہے کہ بی جے پی کی جنونی قیادت انتخابات سے قبل محض انتخابات میں عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کیلئے پورے خطے کے امن کو بھاڑ میں جھونک سکتا ہے ۔بالا کوٹ میں حال ہی میں جو حماقت بھارت سے سرزد ہو چکی اور پاکستانی شاہینوں نے اگلے ہی روز جو جوابی کاروائی کی اس کے بعد بی جے پی کا گراف پست سے پست تر ہوتا جا رہا ہے ۔زخم خوردہ بھارتی فوج عوام کے سامنے جس قسم کی خجالت کا شکار ہوئی اسے مٹانے ،اس داغ کو دھونے اور اپنے طور حساب برابر کرنے کی سعی کے طور پر ان کی ممکنہ منصوبہ بندی کسی طور غیر متوقع نہیں ۔16سے20اپریل نہ آنے میں صرف ایک چیز ہی آڑے آتی ہے اور وہ ہے پاکستان کا ایٹمی قوت ہونا ۔یہ درست ہے کہ بھارت پاکستان کے مقابلے میں ایک بڑا ملک ہے ۔انسانی فطرت کے مطابق وہ پاکستان جیسے کمزور ملک پر حاوی رہنا چاہتا ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ پاکستان نے اپنی کمزوری کا ازالہ ایٹمی ہتھیار بنا کر کر لیا ہے ۔ایٹمی جنگ میں کسی متحارب ملک پر حاوی آنا مشکل ہے کیونکہ ایٹمی جنگ کا مطلب دونوں ملکوں کے لاکھوں بے گناہ عوام کا قتل عام ہے اور کوئی ملک اتنا بڑا رسک نہیں لے سکتا کیونکہ اگر ایٹمی جنگ چھڑ جاتی ہے تو وہ نہ ہندو دیکھے گی نہ مسلمان کو ۔اس کی پہنچ میں جو آئے گا وہ اسے جلا کر راکھ کر دے گی۔

About Admin

Google Analytics Alternative